قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کی عوام دشمنی

بھارت خطے کا ایک ایسا بدنصیب ملک ہے جس کی قیادت نے نہ کبھی اپنے عوام کی بھلائی کا سوچا اور نہ پڑوسی ممالک کی آزادی کا احترام کیاہے۔ کشمیری عوام تو روزِ اول سے ہی اس کے مذموم نشانے پر ہیں، 80لاکھ کشمیری بھارتی قیادت کی تنگ نظری کا شکار ہیں، میں نے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی مسلمانوں کے لئے کوفہ بنادیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں لکھا کہ جموں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، آرٹیکل 370 نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں بھارت کسی قسم کی ترمیم کرنے کا مجاز ہے۔5 اگست2019 کو کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کا اعلان بھارتی سینٹ میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے کیا تھا۔ سینٹ کے اجلاس سے پہلے دہلی میں ایک خصوصی اجلاس میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے آرٹیکل370 کے خاتمے کی منظوری دی تھی جبکہ بھارتی صدر اس سب کارروائی سے پہلے ہی ترمیمی بل پر دستخط کرچکے تھے۔ اسمبلی کارروائی دکھاوا تھی۔ یوں کشمیریوں کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کو دوسال ہو چکے۔370 آرٹیکل کے خاتمے سے ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کردیا گیا تھا، آرٹیکل 370 کے خاتمے سے مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہ رہا اب وہ دونوں علاقے بھارت کے زیرِ کمان ہیں، دہلی کی طرف سے ایک لیفٹیننٹ گورنرنظام چلا رہا ہے۔ ایک علاقہ جموں وکشمیر اور دوسرا لداخ ہے، جموں میں قانون ساز اسمبلی تو ہے مگر لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہے، وہ براہِ راست دہلی کے کنٹرول میں ہے۔ ایک منصوبے کے تحت لداخ، بٹالک اور کارگل کے علاقوں میں بھارتی شودر، بے روز گار ہندو اور تیسرے چوتھے درجے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقوں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کے بسایا جارہا ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ ملکیتی زمین خرید کر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر کی نیشنیلٹی حاصل کرچکے ہیں۔ فوجی چھائونیاں بنائی جارہی ہیں۔ کئی بلاک تیار ہوئے جہاں سابقہ فوجی بسائے گئے۔ اس سارے مذموم کھیل کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ آرٹیکل 35A کی موجودگی میں کوئی بھارتی یا غیرکشمیری مقبوضہ کشمیر میں نہ تو جائیداد خرید سکتا تھااور نہ ہی انڈسٹری لگا سکتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر خطے کے اعداد و شمار اور افرادی لحاظ سے اکثریت و اقلیت کا جائزہ لیں تو1925 میں کشمیرمیں83 فیصد مسلمان آبادی تھی چونکہ برصغیر کے اس خطے میں جہاں بعد میں پاکستان اور بھارت وجود میں آئے، یہاں 562 آزاد ریاستیں تھیں جن میں ریاست کشمیر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی کہ خطے میں پانی کا دارو مدار یعنی زندگی کی روانی کشمیر سے وابستہ تھی، اُمیدوں کے سوتے کشمیر سے پھوٹتے تھے، دھیرے دھیرے جب سکھوں کی مخبریاں اور مغرب کی چالیں اُلٹی پڑنے لگیں تو دور اندیش ہندو نے کشمیر کی طرف آباد کاری شروع کرا دی ۔ یوں1941کی مردم شماری میں کشمیر میں مسلمانوں کی شرح 77.11 فیصد تھی، جبکہ 1982 کی مردم شمار میں65.25 فیصد تک آگئی تھی اور اس کے تین سال بعد1985 کے اندازے کے مطابق مسلمان کشمیر میں63 فیصد تھے اور 2011 میں 55 فیصد مسلمان آبادی شمار کی گئی تھی۔ گزشتہ  دس برسوں میں حالات مخدوش تو تھے ہی 5 اگست2019 کے بھارتی نریندر مودی کے اقدام سے بھارتی آئین1954 کے حکم نامے کا آرٹیکل 370 منسوخ قرار دینے سے گزشتہ دو برسوں میں جس تیزی سے مقبوضہ کشمیر میں غیر مسلم آباد کاروں کو بسایا گیا ہے،وہ مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔ ایسے میں اگر اقوامِ متحدہ کو بھولی بسری کشمیرکی قرار دادیں یاد آجائیں تو استصوابِ رائے کا نہرو کا مطالبہ پورا کرنے کو تیار ہو جائے تو کشمیریوں کی 74 برسوں کی محنت پر پانی پھر جائے گا، آج جب کشمیر میں ریفرنڈم کی پیش کش ہو رہی ہے تو اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض چیزیں دکھائی نہیں دیتیں مگر وجود رکھتی ہیں۔ کچھ باتیں بظاہرسطحی ہوتی ہیں مگر ان کے معنی بہت دور رس ہوتے ہیں۔
بھارت نے ان گزرے دو برسوں میں80 لاکھ کشمیری تو لاک ڈائون میں رکھے سو رکھے بھارت میں بھی 10 جنوری2020 سے متنازع شہریت ترمیمی قانوں Citizenship (Amendment) ACT,2019کے نفاذ سے بھارت میں مقیم 18 کروڑ مسلمانوں کے لئے شدید مشکلات پیدا کی جاچکی ہیں۔ دکھ اس بات کا اور بھی زیادہ ہے کہ ہر قسم کی ترمیم سے مسلمانوں کی زندگی مسلسل تنگ کردی گئی ہے اور پھر جب ان تمام ترامیم کے بعد مزید ترمیمی بل یواے پی اےUnlawful Activities Prevention Act (UAPA)کولاگو کیا تو تب مسلمان سڑکوں پر نکلے۔ UAPAَ کی ترمیم سے بھارت کی مرکزی حکومت کو اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو جب چاہے مقدمہ چلائے بغیر دہشت گرد قرار دے سکتی ہے۔
اس غیر انسانی UAPAقانون کے تحت ہی 27 سالہ حاملہ صفورا زرگر کو10 فروری 2020کو گرفتار کیاتھا۔ کرونا کی وجہ سے ساری دنیا گھر وں میں بند تھی، بھارت بھی کرونائی لاک ڈائون کی لپیٹ میں تھا مگر صفورا زرگر کو اس الزام میں گرفتار کیاگیا تھا کہ اس نے طلباء کے ایک جلوس کی قیادت کی ہے، حالانکہ وہ یونیورسٹی کاکام بھی گھر سے آن لائن کیاکرتی تھی۔ چونکہ صفورا زرگر جو مؤرخ  و محقق اور جامعہ ملیہ میں ایم فل کی طالبہ ہے، وہ جموں ڈویژن کے ضلع کشتواڑکے بشیر حسین زرگر کی دختر ہیں۔ اس لئے مقبوضہ کشمیر میں صاحبِ حیثیت کشمیریوں کو زچ کرنے کے لئے بھارت مسلمانوں کے ساتھ اوچھے ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔ بھارت کی قیادت جوئے میں ہارے ہوئے اُس شخص جیسی ہے جو اپنی عزت بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پلوامہ میں خود ہی اپنے فوجیوں کو مار کے موردِ الزام پاکستان کو ٹھہرادیا۔ اسی قسم کا ڈرامہ بالاکوٹ میں سٹیج کیا ہر چند کہ بھارت کے سارے حربے غلط ثابت ہورہے ہیں مگر دنیا کے منصف کہاں ہیں   مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی تذلیل اور مسلسل نظربندی پر ان کی آنکھیں کیوں نہیں کھل رہیں۔
آج کل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مورکھوں نے کم ہمتی اور بزدلی کا نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ گھر میں گھس کر نوجوانوں، اور خواتین کو شہید کرتے ہیں اور جب وہ اپنے جنازے قبرستان کی طرف لے جانے لگتے ہیں تو بھارتی فوجی ان پر آنسو گیس اور ڈائریکٹ گولیاں برساتے ہیں۔ یہ سب ڈھکا چھپا نہیں، دنیا گلوبل ویلج ہے کچھ بھی چھپایا نہیں جاسکتا۔ ڈیجیٹل میپنگ کا زمانہ ہے، سوشل میڈیا بھی فعال ہے، سب کچھ سامنے ہے مگر اس کے با وجو نریندر مودی اور اس کی غنڈہ فورس دندناتی پھرتی ہے اور اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے بڑے بھی روزِ روشن میں سارا کچھ دیکھ رہے ہیں اور چپ  ہیں۔ یہی آج کا المیہ ہے!! بھارت کو اس کے کالے کرتوتوں کی دلدل میں دیکھا جائے!! ||


مضمون نگارایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 105مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP