قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کی جانب سے افغانستان میں پاکستان مخالف پرو پیگنڈا اور سازشیں

بھارت نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ افغانستان پر توجہ مبذول کررکھی ہے ، اشرف غنی حکومت پر کی جانے والی اربوں کی سرمایہ کاری کی تلافی یوں کرنے کی کوشش کی جارہی کہ طالبان کو ناکام کیا جائے ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مغربی دنیا میں اگر طالبان کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ نئی دہلی کا اثر ورسو خ بھی ہے ، عالمی میڈیا میں  بھارت کا وسیع نیٹ ورک  ہے جو چین اور پاکستان کے بعد اب طالبان کے خلاف متحرک ہے، مودی سرکار طالبان کو دباؤ میں رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جس کے اثرات خطے کے لیے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔


 نائن الیون کے بعد جنوبی ایشیائی خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو پڑوسی ملک بھارت نے اس کو غنیمت جانتے ہوئے افغانستان میں اپنے ڈیرے جمالئے۔ اس حوالے سے انہیں اس وقت کی افغان حکومت اور وہاں موجود فورسزکی معاونت بھی حاصل تھی۔ بھارت نے متعدد قونصل خانے قائم کرلئے جن میں پیشتر پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب قائم کئے گئے جہاں دہشت گردوں کی تربیت کرکے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا۔ بھارت نے ترقیاتی کاموں کی آڑ میں بھی افغانستان میں تخریب کاری کو ترویج دی جس کا نقصان پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو ہوتا رہا۔ بہر طور امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء اور طالبان کی کابل آمد کے بعد خطے کی بدلتی صورت حال سے بھارت سٹپٹا کررہ گیاہے۔ یوں لگتا ہے بھارت اس کے لئے تیار نہیں تھا۔   بظاہر یہ حیران کن ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست ایسی دور اندیشی کا اندازہ نہ کرسکی جس کی بجا طور پر ضرورت تھی ۔ بادی النظر میں وجہ یہ ہوئی کہ بی جے پی (BJP)کی اکھنڈ بھارت کی پالیساں اسے محدود دائرے سے نکل کر سوچنے اور سمجھنے پر آمادہ نہ کرسکیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اسلام ، پاکستان اور مسلمان سے نفرت کی بنیاد پر ہی کئی دہائیوں سے اپنی سیاست چمکائے ہوئے ہے چنانچہ افغانستان کے معاملے پر  انتہاپسند ہندو تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کی تہہ تک نہ پہنچ سکے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان دشمنی کا فروغ بھارت کے لیے یوں لازم ہوچکا کہ وہ خطے میں اپنے حریف چین کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے درپے ہے ، چانکیہ سیاست کے پیروکار بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ سالوں میں پاکستان اور چین کی قربت میں اضافہ ہوا ، سی پیک کو لے کر دونوں دوست ملک یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے معاشی اہداف کا حصول باآسانی ممکن ہوسکتا ہے، ادھر بھارت سی پیک کا بد ترین مخالف بن کر سامنے آیا۔ بھارتی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر سی پیک کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا تو اس کے نتیجے میں اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہوجائے گا ، اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ چین تیزی کے ساتھ جنوبی ایشیاء میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے۔ پاکستان ہی نہیں ایران، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور بھوٹان کے ساتھ بھی بیجنگ نے تعلقات بہتر کئے ہوئے ہیں۔ یقینا یہ سب کچھ نئی دہلی کے لیے قابل قبول نہیں۔ بھارت کی چین دشمنی کی ایک اور نمایاں وجہ واشنگٹن ہے۔ امریکہ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر مودی سرکار کی حوصلہ افزائی کررہاہے کہ وہ خطے میں چین کے سیاسی اور معاشی عزائم روکنے کے لیے آگے بڑھے۔یوں کہا جاسکتا ہے نئی دہلی امریکی اشاروں پر ناچنے کا فریضہ بھرپور انداز میں سرانجام دے رہا ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں کہ دشمن کا دشمن دوست ہوا کرتا ہے ،ایک طرف اگر امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے خائف ہے تو دوسری طرف بھارت کی علاقائی چودھراہٹ بیجنگ کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہوچکی ہے ، درپیش حالات میں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا میں بالخصوص اور علاقائی سطح پر بالعموم ایک اور سرد جنگ زور وشور سے جاری ہے ، ماضی کے برعکس بڑی طاقتوں کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے مگر اہداف میں اختلاف کی گنجائش موجود نہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا ہے ۔ ملکوں کے باہمی تعلقات مفادات پر مبنی ہوا کرتے ہیں، ریاست معاشی اور سیاسی اعتبار سے کم حجم کی حامل ہو یا پھر وہ وسیع و عریض  علاقہ اور آبادی رکھتی ہو، بنیادی ترجیح اس کا  قومی مفاد ہوا کرتا ہے ، دنیا میں دو ملکوں میں تعاون اسی وقت فروغ پذیر ہوا کرتا ہے جب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں ان کے اہداف میں مماثلت پائی جائے ، اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور بھارت کا مفاد یہ ہے کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات مثالی نوعیت کے نہ ہوں۔ مثلاً ایک طرف طالبان کی تشکیل اور پھر عروج میں اسلام آباد کو ہدف بنانے کی پالیسی پر عمل کیا جائے جبکہ دوسری جانب طالبان کو  باور کروانے کی کوشش  جاری رہے کہ وہ پاکستان کو  لے کر اپنی''خود مختاری'' پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرے، بھارت  اور امریکہ کی مشکل یہ بھی ہے کہ وہ طالبان کو بیجنگ کی طرف رخ کرنے سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔ ادھر طالبان کا معاملہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طویل مسلح جدوجہد اب  اقوام عالم میں ان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ماضی کے خودکش حملے ،بم دھماکے،خواتین پر پابندیاں اور دیگر پرتشدد کاروائیاں  طالبان حکومت کے لیے عالمی سطح  پر عملًا مشکلات کھڑی کرچکی ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ طالبان چونکہ اسلام کے علمبردار ہیں ، ان کے فہم اسلام کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں عین شریعت کے مطابق تھیں چنانچہ مغرب کے دل میں ان کے خلاف پایا جانے والا ''شک ''  ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ معاملہ کچھ  بھی ہو مگر طالبان حکومت کے ذمہ داران ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا حکومتی نظام شریعت کی روشنی میں ہی ترتیب دیا جائے گا، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی ان کی رائے ہے کہ جو حدود و قیود دین نے طے کیں، اسی کے مطابق آگے بڑھا جائیگا۔ اس پس منظر میں  مغربی ممالک تواتر کے ساتھ طالبان سے تقاضا کررہے کہ وہ اپنے ہاں انسانی حقوق ہی نہیں خواتین کو ان کا ''جائز مقام '' دینے کے لیے ٹھو س اقدامات اٹھائیں۔ بصورت دیگر ان کی معاشی اور سیاسی مدد نہیں کی جائے گی۔ یقیناآج طالبان حکومت کو کئی چیلنج درپیش ہیں، کئی دہائیوں سے جاری جنگ نے افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے رکھ دیا ،  معیاری تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی افغان عوام کے لیے بدستور خواب سے کم نہیں،یہی سبب ہے کہ پڑھے لکھے افغانوں کی بڑی تعداد یا تو ملک چھوڑ چکی یا پھر پردیس نکل جانے کی کوشش میں ہے ،ادھر طالبان ہیں کہ وہ اپنی بنیادی آئیڈیالوجی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، کچھ مبصرین کے مطابق ماضی میں نائن الیون کے بعد بھی اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے نہ کرکے ایسی ہی غلطی کی گئی جس کا خمیازہ طالبان نے ہی نہیں افغان عوام اور پاکستان نے بھی بھگتا ،بلاشبہ طالبان کو خواب اور حقیقت کا فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا، زمینی حقائق کو پیش نظر رکھے بغیر طالبان کا کوئی بھی فیصلہ ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے ۔ موجودہ صورت حال طالبان کے مخالفین کے لیے مثالی ہے ، مثلاً بھارت نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ افغانستان پر توجہ مبذول کررکھی ہے ، اشرف غنی حکومت پر کی جانے والی اربوں کی سرمایہ کاری کی تلافی یوں کرنے کی کوشش کی جارہی کہ طالبان کو ناکام کیا جائے ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مغربی دنیا میں اگر طالبان کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ نئی دہلی کا اثر ورسو خ بھی ہے ، عالمی میڈیا میں  بھارت کا وسیع نیٹ ورک  ہے جو چین اور پاکستان کے بعد اب طالبان کے خلاف متحرک ہے، مودی سرکار طالبان کو دباؤ میں رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جس کے اثرات خطے کے لیے تباہ کن ہوسکتے ہیں، یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں مستقل بدامنی رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا فائدہ جہاں سات سمندر پار امریکہ کو ہو گا وہیں پڑوس میں براجمان بی جے پی سرکار بھی اس سے'' مستفید'' ہو گی۔بہرطور افغانستان میں سیاسی استحکام ہی جنگ زدہ ملک میں امن اور ترقی میں معاون ہوسکتا ہے ، یہ بات طے ہوچکی کہ پاکستان ، چین ، روس اور ایران جیسے اہم ممالک جنوبی ایشیاء میں جنگ وجدل کے حق میں نہیں ، سی پیک کی شکل میں بیجنگ ایسے منصوبہ کو آگے بڑھا رہا  جو چین ہی نہیں علاقائی ممالک کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے مگر اب تک کی پیش رفت سے یہ نتیجے اخذکرنا غلط نہیں کہ نئی دہلی تعمیری کردار پر آمادہ نہیں، خوش آئند ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کی اکثریت نہ صرف بھارتی عزائم سے آگاہ ہیں بلکہ ان  کا توڑ کرنے کے لیے بھی تیار دکھائی دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس ضمن میں چین کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے ، بلاشبہ آج چین اور بھارت آمنے سامنے آچکے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب سرحدوں کے تعین کے معاملہ پر دونوں پڑوسی ممالک میں ایسی مسلح جھڑپیں ہوئیں کہ وہ عملًا جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ، اس ضمن میں اطلاعات ہیں کہ بھارت نے چین کے سامنے سرنڈر کیا تاکہ معاملہ کو مزید ''پیچیدہ'' ہونے سے بچایا  جاسکے ۔  پاکستان کے حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمیں خطے میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ریاستوں کے مفادات پر جاری کشمکش میں غیرجانبدار اور ملک کے مفاد میں بہتر سے بہتر خارجہ پالیسی اور صرف اور صرف  اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ طاقت کے کھیل میں دوستی اور دشمنی کی اہمیت نہیں ہوتی ، کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست بنتے دیر نہیں لگاتے، تیزی سے تبدیل شدہ صورت حال ہم سے سنجیدگی اور بھرپور تیاری کا مطالبہ کررہی ہے یعنی کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان آئندہ کئی سالوں تک خطے کے ممالک کے لیے چیلنج بن کر رہ سکتا ہے ،جس میں صف بندی یوں  ہے کہ ایک طرف جنگ سے تباہ حال ملک میں بھارت آگ لگانے والی اور دوسری جانب پاکستان آگ بجھانے  والی ریاست کے طور پر متحرک رہے گا۔ ||


مضمون نگار سینئر صحافی ہیں اور ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بطوراینکر وابستہ ہیں۔
 

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP