قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کا ہتھیارجمع کرنے کا جنون ، ایس400میزائل نظام معاہدہ اور خطے میں طاقت کا بگڑتاتوازن

بھارت کاہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کے ڈھیر لگانے کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی بین الاقوامی دباؤ کوخاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہے۔14اپریل کو بھارتی وزیردفاع نرملا سیتارمن نے بیان دیا: '' بھارت پُرامید ہے کہ اسے روس سے میزائل نظام ایس-400کی خریداری پر امریکہ کی جانب سے پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکہ نے پانچ ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے پر نئی دہلی کے مؤقف کو سنا اور سمجھا ہے اور ہمارے مؤقف کو سراہا ہے۔'' واضح رہے کہ امریکہ اس سے پہلے روس سے یہی ایس400 میزائل سسٹم خریدنے پر چین کے فوجی ادارے پر پابندیاں عائد کرچکا ہے ،جبکہ اس نے ترکی کو بھی اس کی خریداری سے خبردار کیاتھا اور خلاف ورزی کی کوشش پرامریکی جیٹ پروگرام میں اس کی شمولیت معطل کردی تھی لیکن اب بھارتی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کواس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے کہ بھارت کو مضبوط شراکت دار رہنے کے لئے روس اور دیگر ممالک سے تعاون چاہئے۔اس سے یہ واضح اشارہ مل رہا ہے کہ امریکہ اب ایک مرتبہ پھر اپنی روائتی دوغلی پالیسی اختیار کرکے اس معاہدے پر اپنے اعتراضات ختم کردے گا اور بھارت کو یہ معاہدہ تکمیل تک پہنچانے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے گی۔بھارت دفاعی سازوسان اور ہتھیار جمع کرنے کی دوڑ میں کتناسرپٹ دوڑ رہاہے ،اس کا اندازہ گزشتہ سال جولائی میں اس کے وزیرمملکت برائے دفاع کے پارلیمنٹ میں اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے ایوان زیریں لوک سبھا کو آگاہ کیا تھاکہ بھارت نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں کل 182دفاعی معاہدے کئے ہیں،جس میں بحریہ کے لئے62، بری فوج کے لئے79اور فضائیہ کے لئے 41معاہدے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت بھارت کا دفاعی بجٹ 66.5بلین ڈالرہے، اور اس طرح وہ دفاع پر اخراجات کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈیا پچھلے کئی برسوں سے فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی پالیسی(ملٹری ماڈرنائزیشن پالیسی)  پر بھی گامزن ہے۔ اس پالیسی میں اس کی زیادہ توجہ اپنی تینوں طرز کی افواج کے لئے جدید اسلحہ اور دفاعی سازوسامان حاصل کرنے پر مرکوز ہے اور اس عمل پر ہرسال اربوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔ 



اسی ملٹری ماڈرنائزیشن پالیسی کے تحت بھارت نے پہلے 'پرتھوی ائیر ڈیفنس'اور 'ایڈوانس ائیر ڈیفنس'پر مشتمل دوہرے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ پر کام شروع کیا اور پھر'آکاش میزائل سسٹم 'کے بعد اسرائیل کے اشتراک سے 'باراک میزائل نظام 'بنایا ۔اس طرح وہ اب  چند برسوں میںیہ کثیرالنوع میزائل نظام آپریشنلائز کرکے پاکستان پر پہلے بھرپور حملہ کرنے یا اچانک ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتاہے۔اس کے علاوہ اگر وہ روس سے ایس400میزائل نظام حاصل کرلیتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا توازن واضح طور پر بھارت کی جانب جھک جائے گا۔واضح رہے کہ یہ نظام ہدف کی طرف آنے والے میزائلوں، اسٹیلتھ لڑاکا طیاروںاور ڈرونز کو 400کلومیٹر کے فاصلے سے مار گراسکتا ہے۔ اس میں ایسے ریڈارز بھی نصب ہوتے ہیں جو ہدف تک گامزن سیکڑوں ہتھیاروں کی بیک وقت اطلاع دے سکتے ہیں۔یہ نظام 4800میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آنے والے میزائل کو بھی مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی اب تک یہ کوشش رہی ہے کہ بھارت یہ نظام خود اس سے خریدے اس لئے وہ بھارت پر روس سے یہ معاہدہ نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے ،لیکن اس کی یہ بھی خواہش ہے کہ بھارت کے پاس یہ نظام ہر حال میں ہو، تاکہ اس معاملے میں خطے میں چین کی برتری کا خاتمہ کیا جاسکے،اسی لئے ٹرمپ انتظامیہ واقعتاً بھارت کو روس سے معاہدہ کرنے کے لئے گرین سگنل دے سکتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیردفاع کا مذکورہ بیان ایک بڑی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ پہلے ہی بھارت کے ساتھ سول نیوکلئیر تعاون اور نیوکلئیرسپلائرز گروپ میں بھارت کی رکنیت کی حمایت کرکے پاکستان کو خود سے دور کرچکا ہے اور اب اس کی جانب سے بھارت پر مزید نوازش کو یہاں امتیازی سلوک کے ایک اور مظاہرے کے طور پر دیکھاجائے گا۔بھارت کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے کے باعث پاکستانی فضائیہ بہت آسانی سے اس میزائل نظام کی زد میں آسکے گی۔ بڑی جنگ چھڑنے کی صورت میں بھارت اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ ایس400 میزائلوں سے پاکستانی فضائی حدود کے اندر ہی نو فلائی زون قائم کرلے اور یوں پاکستانی طیاروں کے لئے جوابی کارروائی بہت مشکل ہوجائے گی۔ فروری میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپوں میں بھارت کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا،اس کے بعد بھارتی حکومت پرفوج کی جانب سے فضائیہ کی جنگی استعداد میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لئے زور ڈالا جارہا ہے ۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لئے اب ضروری ہوگیاہے کہ وہ اپنے دفاعی فضائی نظام میںمزید جدت لائے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کو سٹیلتھ لڑاکا طیاروں، طویل فاصلے تک فضاسے زمین تک مار کرنے والے میزائل اور فضا سے داغے جانے والے کروز میزائل حاصل کرنے کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ واضح طور پر لگ رہا ہے کہ اب خطے میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔

یہ خطہ ایک ایسے ماحول میں خطرناک اسلحے کے گودام میں تبدیل ہورہا ہے جب یہاں کے اکثر ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر کشمیر کا سلگتا ہوا تنازعہ ہے جہاں کسی بھی وقت ایک چنگاری پورے خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتی ہے

 ایس400میزائل نظام کے حصول کو پورے خطے میں بھارت کے اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ میں بھی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے، کیونکہ یہ میزائل طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت اسے بحرہند کے پورے خطے میں استعمال کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اس وقت خطے پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ بحر ہند پر بھی اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے چکر میں ہے، تاکہ یہاں کاروباری اور تزویراتی سمیت کئی مفادات پورے کرے۔اس وقت بحر ہند میں بھارت کے 140جنگی جہاز لنگر انداز ہیں اور وہ 2027تک یہ تعداد198تک بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔ بھارت خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خاطر بحر ہند میں  اپنی طاقت بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیراہے۔ سب سے پہلے وہ چاہتا ہے کہ بحرہند کے ممالک سری لنکا، مالدیپ، ماریشئیس کے ذریعے وہ چین کے اثرورسوخ کو کم کرے ،کیونکہ ان ممالک میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے سے وہ ان کے پانیوں میں کاروباری مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے راستوں تک چین کی رسائی محدود کرسکنے کی پوزیشن میں آجائے گا اوراس سے جڑے اپنے مفادات حاصل کرسکے گا۔ بھارت بحیرہ میں انڈیمان اور نکوبار جیسے جزائر پر اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط کر رہا ہے، یہ جزیرے آبنائے ملاکا تک ہونے والے بحری سفر پر نگاہ رکھنے کے لئے عمدہ جگہیں ہیں۔ بھارت نے یہاں بڑے سمندری گشتی طیاروں کے لئے وسیع میدان قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلحے کے گودام بنائے ہیں اور بڑے جہازوں کے لئے لنگراندازی کی بہترین سہولت کا بندوبست کرلیا ہے۔بھارت نے بحرہند میں بھی امریکہ کے ساتھ مکمل گٹھ جوڑ کر لیا ہے اور اس کی فورسز   Communications Compatibility and Security Agreement کے تحت امریکی فوج کے ساتھ سمندر میں مشترکہ آپریشنزاور سالانہ مشقیں کرتی ہیں ۔ بھارت اور امریکہ دونوں اس بحیرہ میں چین کا اثرورسوخ محدود کرنے کا مشترکہ مقصد رکھتے ہیں اور بھارت بحر ہند میں چین کی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لئے بحیرہ جنوبی چین میں 'ایکٹ ایسٹ' پالیسی کے تحت چین کے خلاف اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔ وہ یہ سب امریکہ کے ایماء پر کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اسے ابھرتے ہوئے چین کو قابو میں رکھنے کا اچھا آلہ سمجھتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی سطح پر ہر معاملے میں اس کی حمایت کرتا ہے چاہے وہ ہتھیاروں کے معاہدے ہوں یاکوئی اور متنازعہ ایشو۔ ایس400میزائل نظام کی خریداری پر امریکہ کی جانب سے نرمی کا مظاہرہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 
اس کے علاوہ بھارت رواں سال اپنے دفاعی نظام میں دس بڑے ہتھیارشامل کرنے کا پروگرام رکھتا ہے جس میں5000کلومیٹر تک مار کرنے والا اگنی5میزائل، ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی آبدوز آئی این ایس ایریگھات،جدید میزائلوں سے لیس رافیل لڑاکا طیارے، دنیا کے مہلک ترین ہیلی کاپٹرز میں شمار ہونے والا اپاچی اے ایچ64ای، فوج، توپ خانہ، جنگی سازوسامان اور ایندھن لے جانے کے لئے استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر چنوک سی ایچ47ایف (1)اورہلکے وزن کے ایم777اور k9 وجرا ہووٹزرقابل ذکر ہیں۔یہ طرزعمل واضح طور پر خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی لائے گا۔ بدقسمتی سے یہ خطہ ایک ایسے ماحول میں خطرناک اسلحے کے گودام میں تبدیل ہورہا ہے جب یہاں کے اکثر ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر کشمیر کا سلگتا ہوا تنازعہ ہے جہاں کسی بھی وقت ایک چنگاری پورے خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔ 


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 151مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP