قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کا داخلی بحران اور پاکستان دشمنی کا ایجنڈا

بھارت کی مجموعی سیاست اور بالخصوص اگر اس کی انتخابی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس میں پاکستان اور مسلم دشمنی کا پہلو بہت زیادہ نمایاں نظر آتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مئی ٢٠١٩میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ہی بھارت کی سیاست پاکستان دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے ۔بھارت اگرچہ اپنے دستور میں ایک سیکولر سیاست کا علمبردار ہے ٫لیکن عملی طور پر بھارت کی ریاست میں ہندو انتہا پسندی کی سیاست کا پہلو کافی مضبوط نظر آتاہے ۔بالخصوص بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عملی طو رپر بھارت کو ہندوتوا کی سیاست کی بنیاد پر آگے بڑھایا ہے اور ان کا ماضی او رحال دونوں ہی انتہا پسندی سے جڑ ئے ہوئے ہیں۔ مودی سرکار کو چند ماہ قبل بھارت کی پانچ ریاستوں کے انتخابات میں عملًا اپنے سیاسی مخالفین جن میں کانگریس اور علاقائی جماعتیں شامل ہیں، میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص عام انتخابات سے قبل مودی سرکار کو راجستھان، مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ میں شکست سے بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔



بہت سے سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ مودی سرکار کو عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا خاصا مشکل نظر آتا ہے ۔کیونکہ وہ اس وقت عملًا بھارت کی داخلی سیاست میں ایک بڑے بوجھ کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ مودی حکومت معاشی ترقی کی بنیاد پر اقتدار میں آئی تھی مگر وہ کیسے انتہا پسندی کی سیاست کا شکا ر ہوگئی ۔ہمیں مودی کی ناکامی کی چھ بڑی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا ۔ اول مودی سرکار نے جو اقتدار میں آکر کرنسی کی تبدیلی کا عمل شروع کیا اس کے پیچھے اصل سوچ دہشت گردوں کے فنڈ کو روکنا، جعلی نوٹوں اور کالے دھن کو روکنا تھا مگر عملی طور پر اس کا نتیجہ عدم روزگار اور معاشی عدم تحفظ کی صورت میں نکلا۔ معاشی امور کے ماہرین کے بقول یہ سب کچھ عجلت اور مشاورت کے بغیر کیا گیا ۔دوئم مودی سرکار بھارت میں عملًا معاشی ترقی کے ایجنڈے سے ہٹ کر ہندوتوا کی سیاست کا شکار ہوگئی ۔ ان کے اردگرد وہ تمام انتہا پسند عناصر قابض ہوگئے جو بھار ت میں سیکولر ریاست کے مقابلے میں ہندوتوا پر مبنی ریاست کے حامی تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سرمایہ دار جو مودی کے حامی تھے او رجنہوں نے ان پر عملی طو رپر بھاری سرمایہ کاری کی، وہ بھی مایوسی کا شکار ہوئے ۔سوئم کسان او رمزدور دشمن پالیسی نے وہاں پر بہت سی ریاستوں میں کسانوں کو خود کشی پر مجبور کیا اور ان برسوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے غربت سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔چہارم ہندوتوا کی سیاست کی بنیاد پر جو نفرت کا بیج مودی سرکار نے بویا اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ان کی رائے عامہ بنانے والے اداروں اورافراد میں عملًا مخالفت بڑھ رہی ہے اور بڑی شخصیات اپنا سخت ردعمل دے رہی ہیں ۔پنجم کشمیر میں مودی سرکار کی پالیسی نے ان پر تنقید کو بڑھایا ہے اور وہاں جس طاقت کے انداز میں مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس نے حالات کی بہتری کے بجائے زیادہ بگاڑ پیدا کیا ہے ۔ ششم میڈیا میں اپنی اجارہ رادی کو قائم کرنا او ران کو اپنی حمایت پر مجبور کرنا، معاشی اعداد وشمار کی بنیاد پر ترقی کے غلط دعوے کرنا، رافیل سودے بازی کے معاہدے سمیت پارلیمنٹ کو کمزو رکرکے آرڈنینس کی مدد سے قانون سازی کرنا شامل ہے ۔اسی طرح مودی سرکار کی ایک ناکامی بی جے پی کو بطور جماعت مضبوط نہ کرنا ہے ۔ عملی طور پر میڈیا میں جماعت کے مقابلے میں ہمیں مودی کی تشہیر زیادہ نظر آتی ہے اور ان کی حکمرانی کے اندازمیں بھی غیر جمہوری اور شخصی حکمرانی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے اپنی مختلف ناکامیوں کو پس پشت ڈالنے کے لئے وہی ماضی کی سیاست کا کارڈ کھیلا ہے جو عملاً پاکستان دشمنی کی بنیاد پرجڑا ہوا ہے ۔پلوامہ میں ہونے والی دہشت گردی کو بنیاد بنا کر مودی حکومت نے پاکستان پر سیاسی چڑھائی کردی ہے۔ ان کے بقول پلوامہ کے واقعے میں پاکستان براہ راست ملوث ہے ۔مودی حکومت نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کو اپنی سیاسی حکمت عملی سے سیاسی میدان میں تنہا کردے گا بلکہ بڑا سبق بھی سکھایا جائے گا ۔اس وقت بھارت کا مجموعی موڈ جنگی جنون کا منظر پیش کررہا ہے اور خاص طور پر میڈیا کا رویہ بہت زیادہ منفی او راشتعال انگیزی پر مبنی ہے ۔ نریندرمودی کا خیال ہے کہ وہ جنگی جنون کی سیاست کو پیدا کرکے عملًا انتخابات کے نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرسکتے ہیں ۔
نریندر مودی یہ بھول رہے ہیں کہ داخلی سیاست میں ان کی مخالفت مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین بلکہ رائے عامہ بنانے والے اہم افراد او راداروں میں بھی ان کوتنقید کا سامنا ہے ۔ شاعر، ادیب، دانشور، فن کار اور کاروباری طبقہ سب ہی سمجھ رہے ہیں کہ مودی کی پالیسیوں نے ان کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں مودی کی طاقت کی بنیاد پر اختیار کی جانے والی حکمت عملی او وہاں انسانی حقوق کی بدترین پامالی نے مودی کا سیاسی مقدمہ اور زیادہ کمزور کردیا ہے ۔یو این او کی ٢٠١٨کی کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والی رپورٹ اور یورپین پارلیمنٹ میں ہونے والی کشمیر او رانسانی حقوق کی گفتگو نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر میں جو بڑا سخت ردعمل مزاحمت اور جنگجو یت کی بنیاد پرسامنے آیا ہے اس کی وجہ مودی کی غلط پالیسی ہے ۔فاروق عبداللہ او رمحبوبہ مفتی نے بھی مودی کی کشمیر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بقول مسئلے کا حل طاقت یا جنگ نہیں بلکہ کشمیر کے مسئلے پر اب وقت آگیا ہے کہ ہم کشمیریوں او رپاکستان سے بامقصد مذاکرات کریں ، وگرنہ کشمیر میں آنے والے وقت میں بھارت کو اپنی ہی داخلی پالیسیوں کے باعث سخت اور بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔محبوبہ مفتی نے دہلی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر حالات کی سنگینی کو محسوس نہ کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کو نئی جہت ملے گی او راس کی بڑی ذمہ داری مودی سرکار کی ہوگی ۔
مودی کی سیاست عملی طو رپر پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہے ۔ سی پیک کا منصوبہ ہو، افغانستان کے حل میں پاکستان کا بڑھتا ہو ا مؤثر کردار ہو یا معاشی ترقی کے عمل میں پاکستان کی مثبت کوششیں ہوں یا دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی ہو، یہ سب بھارت کو قبول نہیں ۔کیونکہ عملًا مستحکم پاکستان اس کے مفاد میں نہیں ۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کھل کر کہہ چکے ہیں وہ سی پیک منصوبے سمیت کسی بھی مسئلے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو قبول نہیں کریں گے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے تواتر کے ساتھ مذاکرات کی دعوت کو بھی بھارت کسی بھی طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔بھارت ہمیشہ یہ الزام لگاتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت بھارت دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے اور وہ ہی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ حالانکہ ایک سے زیاد ہ مواقع پر خود فوجی قیادت کا بھارت کو مذاکرات کی دعوت دینا او رسکھ برادری کو کرتار پور راہدری کھولنے میں معاونت کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ فوجی قیادت نہیں بلکہ یہ خود مودی کا اپنا مسئلہ ہے جو مذاکرات کے بجائے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ڈیڈ لاک پیدا کرکے انتہا پسند سیاست کو طاقت فراہم کرکے اپنے ذاتی مفاد کو بالادست کرنا چاہتا ہے ۔


نریندر مودی یہ بھول رہے ہیں کہ داخلی سیاست میں ان کی مخالفت مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین بلکہ رائے عامہ بنانے والے اہم افراد او راداروں میں بھی ان کوتنقید کا سامنا ہے ۔ شاعر، ادیب، دانشور، فن کار اور کاروباری طبقہ سب ہی سمجھ رہے ہیں کہ مودی کی پالیسیوں نے ان کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے


اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت نے بھارتی انتہا پسندی اور جنگی جنون یادشمنی پر مبنی سیاست کا جواب منفی انداز میں دینے کے بجائے تحمل او رمفاہمت کا راستہ ختیار کیا ہے ۔ کیونکہ بھارت تو چاہتا ہی یہ تھا کہ پاکستان جوابی طورپر اسی شدت پسندی کا مظاہرہ کرے جو اس نے اختیار کیا ہے تاکہ وہ داخلی سیاست میں نفرت کے اس کارڈ کو کھیل کر سیاسی فائدہ اٹھاسکے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی پالیسی تقریر اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر بھارت کو دعوت دی ہے کہ وہ جارحیت یا طاقت پر مبنی سیاست کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھار ت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ماضی کی سیاست سے باہر نکلے او رایک نئے پاکستان میں جودوستی کے مواقع مل رہے ہیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے ۔پاکستان کی جانب سے دہشت گردی سمیت تما م معاملات پر بات چیت کی دعوت ظاہر کرتی ہے کہ کون امن چاہتا اورکون جنگ ۔بھارت کو خوش فہمی یہ ہے کہ مذاکرات پاکستان کی مجبوری بن چکے ہیں کیونکہ وہ عالمی سیاست میں تنہا ہورہا ہے ۔ حالانکہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان امن کو صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ بھارت سمیت خطے کی سیاست کے لئے بھی اہم سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک تعلقات کو بہتر بنائیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں ہی کہا تھا کہ بھارت اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے ۔
لیکن لگتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بار بار بھار ت کو مذاکرات کی دعوت کو پاکستان کی کمزوری سمجھا جارہا ہے ۔اب اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھنا ہے تو فوری طور پر یہ ممکن نہیں۔ اب اگر دونوں ملکوں کے درمیان حالات نے بہترہونا ہے تو اس کا عملی نتیجہ عام انتخابات اوراس کے نتیجے میں بننے والی حکومت سے ہوگا۔دیکھنا ہوگا کہ مودی اور گاندھی خاندان میں سے کس کے سر پر اقتدار کا نیا تاج سجے گا۔ایک بات واضح ہے کہ انتخابات کے بعد سیاسی ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہوسکتا ہے کیونکہ بھارت موجودہ داخلی صورتحال میں ڈیڈ لاک کی کیفیت کو بہت آگے تک نہیں لے کر جاسکتا۔ خود عالمی دنیا سے بھی بھارت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتری کی طرف لے کر آگے بڑھے ۔
اب بھارت کی سیاسی قیادت اور وہاں کے اہل دانش سمیت رائے عامہ بنانے والے افراد او راداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ہی حکومت یا ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھائیں کہ جنونیت کی بنیاد پر سیاست بھارت سمیت خطے کے مفاد میں نہیں ۔خود پاکستان کو بھی اپنی سطح پر ایک بڑی جنگ بھارت کے تناظر میں سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہوگی ۔ کیونکہ دنیا کو بھارت کے حالیہ کردار یا طرز عمل پرباور کروانا ہوگا کہ اس کی جارحیت یا انتہا پسندی کا رویہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں بڑی رکاوٹ ہے ۔بالخصوص کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر ہمیں عالمی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا ۔کیونکہ بھارت اب بھی سفارتی محاذپر پاکستان مخالف ایجنڈے کی بنیاد پر کام کرے گا او رعالمی دنیا کو یہ باو رکروائے گا کہ پاکستان کی ریاست خود دہشت گردی کی براہ راست حمایت کرتی ہے ۔کیونکہ اب جنگیں سفارتی محاذ پر ہی لڑی جاتی ہیں اور جو بھی ریاست سفارت کاری کے محاذ پر مؤثر حکمت عملی اختیارکرے گی دنیا میں اسی کے مؤقف کو زیادہ پذیرائی ملے گی ۔سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھارت کی جارحیت یا جارحانہ سیاست سے نمٹنے کے لئے اپنی داخلی سیاست او رمعاشی صورتحال میں بہتری پیدا کرکے ایک بڑے استحکام کی طرف بڑھنے کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگی ۔کیونکہ داخلی استحکام کی مدد سے ہی ہم خارجی استحکام کی بنیاد کومضبوط قوت فراہم کرسکتے ہیں اور یہی پاکستان سمیت خطے کے مفاد میں بھی ہے ۔


منصف ملک کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں اور دہشت گردی ، جمہوریت سمیت پانچ اہم کتابوں کے مصنف اور کئی اہم تھنک ٹینک کے رکن ہیں.
[email protected]

یہ تحریر 68مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP