قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت میں اقلیتوں  کا  ہندوتوا استعمار سے چھٹکارا کیسے

یکم جون 1984 کو امرتسر میں سکھوں کی مرکزی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر بھارتی  فوج کے 9 ویں ڈویژن کی چڑھائی ناقابلِ یقین اور انتہائی حیران کن واقعہ تھا۔ گولڈن ٹیمپل پرڈویژن کی نفری و استعداد کے ساتھ حملے کو بھارت میں بعض مبصرین نے چیونٹی کو مارنے کے لیے ہاتھی کے استعمال کے مترادف قرار دیا جو بھارت میں حکومتی اشرافیہ اور فوج میں اقلیتوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور ان کے خلاف قوت کے استعمال میں سفاکیت ظاہری کرتی ہے کہ ہندو بھارت کے اندر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو جینے کا حق دینے کو تیار نہیں۔ آپریشن بلواسٹار کے نام سے سکھوں کے خلاف آپریشن کا بنیادی مقصد سکھوں کے لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اور اس کے مسلح ساتھیوں کو ٹھکانے لگانا تھا جو گوردوارے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ بھارت سے خالصتان کی آزادی کی تحریک اس وقت تک اتنی بھی مؤثر نہیں تھی کہ جسے کچلنے کے لیے بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کو پیدل فوج،ٹینکوں اور توپ خانے کی ضرورت پیش آگئی۔ جرنیل سنگھ کسی گنجان جنگل یا دشوار گزار پہاڑوں میں روپوش نہیں تھا گوردوارے کی ناکہ بندی اور بجلی و پانی کی ترسیل کے نظام کو معطل کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ بے ہوش کرنے والی گیس کو بھی بروئے کار لایا جاسکتا تھا۔ اس کے ساتھ بات چیت کے ذریعے گورد وارے میں پھنسے ہوئے سکھ یاتریوں، خاص طور پر بوڑھوں، عورتوں، بچوں کو باہر نکالنے کی سبیل کی جاسکتی تھی۔ محاصرے میں پھنسے گروہوں کے اعصاب توڑنا کوئی مشکل سائنس نہیں، ہاںاس کے لیے محاصرہ کرنے والی فوج کی نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔گولڈن ٹیمپل میں بھی سکھوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ اندرا گاندھی وہاں بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کی خواہشمند تھی تاکہ بھارت میں سکھ ہندوئوں کی غلامی سے آئندہ انکار کی جرأت نہ کرسکیں۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے آپریشن میں صرف گوردوارہ ہی نہیں، اردگرد کے گلی محلوں کو بھی بے دردی سے گولہ باری کا نشانہ بنایاگیا، نہ کوئی گھر سلامت رہا نہ وہاں کے مکین زندہ بچ پائے۔ ان آبادیوں میں سات بازار ایسے تھے جہاں سکھ یاتری گوردوارے میں چڑھاوے کے لیے چادریں و دیگر سامان کی خریداری کے علاوہ  واپس احباب و اہلِ خانہ کے لیے سوغات اور تبرکات لے جانے کے لیے خرید کرتے، یہ سب کچھ بربادہوگیا۔ صرف اس لیے کہ سیکولرازم و جمہوریت کی علمبردار اندرا گاندھی سکھوں کو ہندوئوں کے مقابل برابری دینے کو تیار نہیں تھی۔


ہندوتوا کی پیروکار نریندر مودی حکومت نے سکھوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے وہی حربہ آزمانے کی کوشش کی جسے وہ مسلمان اقلیت کے خلاف برسوں سے کامیابی کے ساتھ آزماتی چلی آرہی ہے۔ مشرقی پنجاب کے مختلف شہروں میں ہندو انتہا پسندوں کی ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندو انتہا پسندوں کے جتھے موٹرسائیکلوں ، کھلی جیپوں اور منی ٹرکوں پر سوار ہوکر جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلتے۔ یہ تلواریں، ترشول، ہاکیاں اور ڈنڈے لہراتے ہوئے بازاروں سے گزرتے۔



آپریشن بلواسٹار  نے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بھارت میں سکھوں کے اندر شدت کے ساتھ یہ احساس بیدار کردیا کہ کاش1947میں تقسیمِ ہند کے وقت اگر ان کے لیڈر مکار دھوکے باز ہندو لیڈروں کے بہکاوے میں آکر بھارت سے جڑے رہنے کا فیصلہ کرنے کے بجائے قائداعظم محمدعلی جناح کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے دو قومی نظریے کے تحت سکھوں کو ہندوئوں سے الگ مذہب رکھنے اورجدا تہذیب اور رسم و رواج کی بنیاد پر الگ  وطن کا مطالبہ نہ سہی پاکستان میں شمولیت کو ترجیح دیتے تو آج وہ بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کے ہاتھوں پہلے جون 1984 اور پھر31 اکتوبر کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد چار روز تک دہلی کے علاوہ بھارت کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے سکھوں کی یاد میں زندگی بھر ماتم نہ کرتے۔ دنیا میں شاید ہی کہیں حکومتی وزراء اور پولیس نے اپنی نگرانی میں اقلیت کا اتنے منظم انداز سے قتل عام کرایا ہو جس کا مظاہرہ بھارت میں31 اکتوبر1984 سے لے کر 3 نومبرتک دیکھنے میں آیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں اور رکشوں سے سکھ مردو خواتین کو کھینچ کر باہر نکالا گیا۔انہیں ڈنڈے مار کر قتل کیاگیا۔ بعض کو تیل چھڑک کر زندہ جلا یاگیا۔ خواتین کو سڑکوں پراجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایاگیا۔ میونسپل اداروں سے سکھوں کے گھروں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔ الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹیں منگوا کر ہندوئوں کے حوالے کی گئیں۔ انہیں پولیس کے ٹرکوں میں سکھوں کی آبادیوں تک پہنچایاگیا۔ ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ وہ سکھ مرد و خواتین جنہوں نے جان بچانے کے لیے گہرے دوست سمجھے جانے والے ہندو گھرانوں میں پناہ لی، وہ اپنی جان و عزت دونوں گنوا بیٹھے۔ بھارت کے بڑے اخبارات کے رپورٹر و فوٹو گرافر جو سڑکوں پر گلیوں میں سکھوں کے قتل عام کی عکس بندی کرتے رہے، سکھوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھتے رہے۔ اس حوالے سے بھارت میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی تحقیقاتی ٹیم کودیئے گئے انٹرویو کے دوران دھاڑیںمار کر رو پڑے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مناظر کو رپورٹ کرنا یا اس پر بات کرنا ان کے بس میں نہیں کہ کیا کوئی انسان اتنا ظالم اور بے درد بھی ہوسکتا ہے جو زندہ انسان پر تیل چھڑک کر آگے لگائے اور پھر تڑپتے ہوئے انسان کے گرد قہقہے لگائے؟
لیکن بھارت کے ہندو رسم و رواج میں جہاں بیوہ کو اس کے مردہ خاوند کی چتا پر بٹھا کر اس کے زندہ جلانے کو مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہو، جہاں نومولود بیٹیوں کے منہ میں ریت بھر کے اسے قتل کرنے کو مردانگی کہا جاتا ہو، وہاں سکھوں پر انہیں کیوں اور کس لیے تر س آئے گا۔ اندر گاندھی کے قتل پر اس کا بدلہ لینے کے لیے سکھوں کی نسل کشی کی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا گیاکہ بھارت کی وزارتِ داخلہ نے سکھوں کے زیادہ سے زیادہ قتلِ عام کے لیے جیلوں سے سیکڑوں ہندو قیدیوں کو غیر قانونی طور پررہائی دلوائی۔ دس روز تک جاری رہنے والے آپریشن بلوسٹار کے دوران بھارتی فوج میں سکھ فوجیوں کی بغاوت کا ذکر بھی ضروری ہے جسے بھارت سرکار اور فوج کی قیادت نے طویل عرصہ تک چھپائے رکھا۔ یہ ساری تفصیلات ہندوتوا کے لیڈر اور ہندو انتہا پسند دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ(RSS) کے پیروکار نریندر مودی کے2014میں برسرِاقتدارآنے کے بعد نومبر میں پبلک کردی گئیں۔ وجہ یہ بنی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی روزِ اول سے آپریشن بلوسٹارکی آڑ میں سکھوں کے قتلِ عام اور اندرا گاندھی کے قتل کے بدلے سکھوں کی منظم نسل کشی کو لے کر کانگریس جماعت کی مخالفت  اور اقتدار ملنے پر دونوں بڑے واقعات میں ملوث کانگریس جماعت کے علاوہ قتلِ عام میں ملوث دیگر ہندوئوںکو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنے کا دعویٰ کرتی چلی آرہی تھی۔ نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تو سکھوں نے بی جے پی کے دعوے پر عملدرآمد کا دعویٰ کردیا۔ نریندر مودی یا اس کے پیروکار ہندو انتہا پسندوں نے سکھوں کے دبائو کو کم کرنے کے لیے سکھ فوجیوں کی جون 1984 میں بغاوت کی تفصیلات میڈیا کے حوالے کرکے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی۔  ایک تو  یہ  ثابت کیاگیا کہ بھارتی فوج میں سکھ جوان و افسر بھارت کے ساتھ وفادار نہیں، یہ مستقبل میں بھارت کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس اقدام کو بی جے پی میں شامل سکھ سیاستدانوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سکھوں کو بھارت میں مزید دیوار سے لگانے کے مترادف قرار دیا۔ لیکن ہندوتوا کے پیروکاروں کو اقلیت کی کسی سیاستدان کی حمایت درکار نہیں تھی۔ وہ1925 سے بھارت کو ہندو دیش بنانے اور اسے دیگر مذاہب والوں سے پاک کرنے کا جو مشن لے کر نکلے تھے وہ منزل ان کے قدموں کے نیچے تھی۔ فروری2015 میں انڈین آرمی چیف دلبر سنگھ چوہان کو کہہ کر انڈین ملٹری انٹیلی جینس سے فوج میں سکھ افسروں اور جوانوں سے متعلق ایک رپورٹ تیارکرائی گئی جس میں امکان ظاہر کیاگیا کہ بھارتی فوج میں سکھوں کی اکثریت ''خالصتان'' سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے اور خالصتان کی آزادی کی تحریک کے زور پکڑنے پر یہ سکھ اپنی وفاداریاں تبدیل کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی تاہم جب اس رپورٹ کی بنیاد پر سکھ فوجیوں، خاص طور پر افسران کے زیرِ استعمال موبائل ٹیلی فونز کی نگرانی کے علاوہ افسران کے اہلِ خانہ اور ان کے رابطوں پر نظر رکھنے کے لیے بھارتی وزارتِ دفاع نے احکامات جاری کیے تو سکھوں سے متعلق انڈین ملٹری انٹیلی جینس کی رپورٹ کے مندرجات بھی خفیہ نہ رکھے جاسکے اور بھارتی پرنٹ میڈیا کی زینت بن گئے۔


راشٹریہ سیوک سنگھ  متعدد بار اس امر کا اعلان کرچکی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ان کے لیے تین راستے ہیں۔ مسلمان بھارت سے نکل جائیں، ہندومت اختیار کرلیں یا پھر مرنے کے  لیے تیار رہیں۔ اپنی اس دھمکی پر عملدرآمد کے لیے مسلمانوں کے لیے نماز پڑھنامشکل بنا دیاگیاہے


1984میں سکھوںکے قتلِ عام کے بعد رونما ہونے والے دو اقعات کے بعد تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال سکھوں کی بہت بڑی تعداد بھارت چھوڑ کر امریکہ، کینیڈا اور مغربی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئی۔برطانیہ میں تقسیمِ ہند سے قبل کے ادوار سے سکھوں کی بڑی تعداد برطانیہ میں سکونت اختیار کرچکی تھی۔ انہوں نے ہجرت کرکے آنے والے سکھوں کو ہاتھو ں ہاتھ لیا۔ ذہین اور محنت کش ہونے کی وجہ سے سکھوں نے جس مغربی ملک کو بھی اپنانیا مسکن بنایا، وہاں بہت جلد نام بنانے میں کامیاب ہوگئے۔اکتوبر2007 میں امریکہ میں مقیم سکھوں نےSikhs for Justiceکے نام سے امریکہ میں خالصتان تحریک کی بنیاد رکھی اور تین ماہ کے اندر لاکھوں سکھوں نے تنظیم میں اپنا نام رجسٹرکرالیا۔ ممبران کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کینیڈا اوربرطانیہ میں بھی تنظیم کے دفاتر کھول لیے گئے جو بعد ازاں پورے یورپ کے علاوہ آسٹریلیااور نیوزی لینڈ تک پھیل گئے۔بھارت نے تنظیم پر پابندیاں  لگوانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے منہ کی کھانی پڑی۔ کیونکہ امریکہ و کینیڈا سمیت سکھوں کے خلاف کسی بھی ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اس کے برعکس سکھوں کی تنظیم ہر جگہ انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی وجہ سے خاصی مشہور اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔(SFJ) Sikhs for Justiceنے2016 میں خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم کا نعرہ لگایا تو اس نعرے کو ملنے والی پذیرائی نے سکھوں کے حوصلے بلند کردیئے۔ پہلے 2018 کو ریفرنڈم کا سال قرار دیاگیا۔مگر پھر اسے2020 تک مؤخر کردیاگیا۔ ریفرنڈم میں بھارت کے اندر سکھوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی سرکار نے SFJ پر بھارت میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر جولائی2019 میں سکھوں کی اس بین الاقوامی تنظیم کو عدالت کے ذریعے دہشت گرد قرار دلوا کر اس پابندی عائد کردی۔ اس پابندی نے دنیا بھر میں سکھوں کے جوش میں مزید اضافہ کردیا تو ساتھ ہی بھارت کے اندر بغیر اعلان کیے سکھ نوجوانوں کی پکڑ دھکڑمیں بھی اضافہ ہوگیا۔ دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وبا کی وجہ سے سکھوں نے ریفرنڈم کو کچھ عرصہ کے لیے مؤخر کرنے کے بعد2021میں بھرپور طریقہ سے اس پرووٹنگ کا آغاز کردیا۔ کینیڈا، امریکہ ، برطانیہ اور سویٹزر لینڈ جہاں کہیں ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل کیا گیا، سکھوں کی طرف سے ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے۔جنوری 2022 میں برطانیہ کے چار شہروں میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ کا اہتمام کیاگیا۔ بھارت نے سفارتی سطح پر بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح ریفرنڈم نہ ہوسکے۔SFJکو بھارتی عدالت کی طرف سے دہشت گرد جماعت قرار دیئے جانے کا فیصلہ بھی برطانیہ کے حوالے کیاگیا لیکن بھارت اپنے مقصد میں ناکام رہا، جس کے بعد بھارت میں سکھوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئے۔
ہندوتوا کی پیروکار نریندر مودی حکومت نے سکھوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے وہی حربہ آزمانے کی کوشش کی جسے وہ مسلمان اقلیت کے خلاف برسوں سے کامیابی کے ساتھ آزماتی چلی آرہی ہے۔ مشرقی پنجاب کے مختلف شہروں میں ہندو انتہا پسندوں کی ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندو انتہا پسندوں کے جتھے موٹرسائیکلوں ، کھلی جیپوں اور منی ٹرکوں پر سوار ہوکر جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلتے۔ یہ تلواریں، ترشول، ہاکیاں اور ڈنڈے لہراتے ہوئے بازاروں سے گزرتے۔ ان کا خیال تھا کہ اول تو سکھ ان سے الجھنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اگر ان کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر ان کو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ آئندہ وہ ہندوئوں کی ریلی دیکھ کر گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے لیکن 30 اپریل2022 کو اَن ہونی ہوگئی، پٹیالامیں انتہا پسند  ہندو  تصور ہی نہیں کرسکتے تھے کہ سکھ ''راج کرے گا خالصہ'' کے نعرے لگاتے ہوئے ہندوئوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔ کیونکہ لگتا تھا کہ جیسے سکھوں کا صبر جواب دے گیا ہو۔ سکھ تلواریں لہراتے ہوئے ہندوئوں کی طرف سے لپکے تو ہندواپنے جوتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ پولیس بھی سکھوں کے اس اچانک ردِ عمل کے لیے تیار نہیں تھی۔ جان بچانے کے لیے ہندو انجان لوگوں کے گھروں میں جا گھسے تو وہاں الگ سے ان کی درگت بنائی گئی۔ دکانوں میں پناہ لینے والے ہندوئوں کی سکھوں نے دل کھول کر ٹھکائی کی۔ بہت سے ہندوئوں نے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مالٹائی رنگ کے جھنڈے اور گلے میں پڑے ہوئے مفلر اُتار پھینکے۔ اس طرح کی مضحکہ خیز ویڈیوز بھی بھارت میں وائرل ہوئیںجس میں ہندو اپنے ماتھے پر لگے ہوئے تلک اور شناخت کے لیے کھینچی ہوئی لکیر یں دھوتے ہوئے دکھایا۔ سکھوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہ انہوں نے '' لے کر رہیں گے خالصتان'' کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ سکھوں نے اس کے باوجود ان کی دھنائی کرڈالی۔اس سب کے باوجود سکھوں نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ کسی ایک بھی ہندو کو جان سے نہیں مارا۔ ایک گھنٹے کے اندر پورا پٹیالا شہرفساد کی لپیٹ میں آگیا۔ہندوئوں کی طرف سے لگائی ہوئی  چنگاری نے خالصتان کے حق میں سکھوں کے نعروں کی صورت میں پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکومت نے فسادات پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کردیا جو فساد زدہ علاقوں تک نافذ رہا۔ انٹر نیٹ اور موبائل فون سروس بند کردی گئی۔ ابھی بھارتی پنجاب کے شہروں میں صورت حال گھمبیرتھی کہ 9مئی کو ہماچل پردیش کے ریاستی دارالحکومت دھرم شالہ میں ریاستی اسمبلی کی عمارت کی دیواروں اور مرکزی دروازے پر رات کے وقت کسی نے خالصتان کے جھنڈے اور خالصتان کی آزادی کے نعرے پینٹ کردیئے۔ حالانکہ عمارت کیچاروں طرف لگے برقی قمقموں کی روشنی میں رات کو دن کا گمان ہوتا ہے۔ وہاں سکیورٹی کا بھی مؤثر نظام موجود ہے۔اس کے باوجود خالصتان کے پینٹ کیے گئے نعروں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ ایک دو افراد کا کام نہیں ۔ علاوہ ازیں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ لازمی طور پررات کو سکیورٹی پر تعینات افراد خالصتان کے حامیوں کے ساتھ شامل رہے ہوں گے جنہیں تفتیش کے لیے حراست میں لے لیاگیا اور اب بھارت میں صورت حال یہ ہے کہ سکھوں کی تنظیم SFJ نے8 جون کو بھارت میں خالصتان کے لیے ریفرنڈم کا اعلان کردیاہے جس کے بعد پورے بھارت میں خالصتان کے حامی سکھوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔


اسی طرح دلتوں کی اچھی خاصی تعداد  بھارت میں بہت سی کاروباری کمپنیوں کی مالک ہے اور صنعتیں تک لگا چکی ہے۔ ہندو دھرم اس کی اجازت نہیں دیتا کہ دلت برہمن زادوں کے برابر بیٹھ سکیں۔کاروبار کرسکیں یا پولیس و فوج میں افسرہوں۔


اب آیئے بھارت میں مسلمانوں کی حالتِ زار کی طرف ۔ 2011 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی بھارت میں آبادی 20کروڑ40لاکھ ہے جبکہ بھارت کے ہندو انتہا پسند اپنی تقاریر میں بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 30 کروڑ سے زیادہ بتا کر نریندر مودی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ مسلمانوں کی بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ اگر20 کروڑ کی آبادی ہی مان لی جائے تو اتنی بڑی تعداد میں آبادی کو بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بے بسی اور دن رات ملنے والی ذلت حیران کن ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں سکھوں کی آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 2 کروڑ80 لاکھ ہے۔ اتنی کم تعداد کے باوجود سکھوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ آئندہ بھارت میں سکھوں کے قتل عام کے لیے ہندوئوں کو1984 کی تاریخ نہیں دہرانے دیں گے۔ بھارت میں نچلی ذات کے اچھوت ہندو اور دلت بھی الگ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ بھارت ادارہ برائے مردم شماری صرف دلت کی آبادی 20 کروڑ بتاتا ہے۔ ان میں اچھوت ہندو شامل نہیں ہیں۔ نریندر مودی کی وزارتِ عظمیٰ میں راشٹریہ سیوک سنگھ  متعدد بار اس امر کا اعلان کرچکی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ان کے لیے تین راستے ہیں۔ مسلمان بھارت سے نکل جائیں، ہندومت اختیار کرلیں یا پھر مرنے کے  لیے تیار رہیں۔ اپنی اس دھمکی پر عملدرآمد کے لیے مسلمانوں کے لیے نماز پڑھنامشکل بنا دیاگیاہے۔ مسلمان طالبات پر حجاب کے نام پر تعلیم کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف فساد برپا کرکے ان کے قتلِ عام کاسلسلہ ایک ریاست میں ختم ہوتا ہے تو دوسری میں شروع ہوجاتا ہے۔آسام و ناگا لینڈ میں گزشتہ پانچ برس میں 20 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو بے گھر کیا جاچکا ہے۔بھارت میں نریندر مودی حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے قوانینCitizenship Amendment Act (CAA) ,National Register of Indian Citizens (NRIC) اور National Population Register (NPR) اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جسے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ تک مسترد کرچکے ہیں۔ اس میں مسلمانوں سے 1950سے ان کی بھارت میں پیدائش اور ان کے والدین کے نکاح نامے طلب کیے گئے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس دور میں نکاح نامہ رجسٹرڈ کرانے کا رواج نہیں تھا۔ نہ ہی پیدائش کا اندراج کرایاجاتا تھا۔ ان ثبوتوں کی فراہمی میں ناکامی کی صورت میں بھارت کے مسلمان غیرملکی قرار پائیں گے۔ اسی طرح دلتوں سے ان کی مذہبی شناخت مانگی جارہی ہے۔ کیونکہ سیکولرنظام کے تحت دلتوں کی بہت بڑی تعداد پڑھ لکھ کر بھارتی انتظامیہ کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح دلتوں کی اچھی خاصی تعداد  بھارت میں بہت سی کاروباری کمپنیوں کی مالک ہے اور صنعتیں تک لگا چکی ہے۔ ہندو دھرم اس کی اجازت نہیں دیتا کہ دلت برہمن زادوں کے برابر بیٹھ سکیں۔کاروبار کرسکیں یا پولیس و فوج میں افسرہوں۔ دلت اگر شہریت کے نئے قوانین کے مطابق خود کو دلت لکھتے ہیں تو انہیں حاصل شدہ عہدوں، کاروبار اور محل نمابنگلوں سے ہاتھ دھو کر اسی سطح پر آنا ہوگا۔ ہندو دھرم جس کا حکم دیتا اور بھارت میں دلتوں کی اکثریت جس کے تحت رہ رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان و سکھ اقلیت اور دلت انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار رہیں۔ اس سے بچائو کا ایک ہی حل ہے کہ بھارت میں اقلیتیں ہندو انتہا پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور متحدہ ہو کر اپنے حقوق کا تحفظ کریں۔ سکھ اپنے مستقبل کا تعین کرچکے ہیں اس کے باوجود ہندوتوا کے پیروکار انہیں آسانی سے کامیاب نہیں ہونے دیں گے لیکن یہ جانتے ہوئے کہ سکھ ہوں یا مسلمان، بھارت میں ہندوئوں کی غلامی کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تو اپنی نسلوں کی بقا اور بھارت میں تحفظ کے لیے ان کا ہندوتوا کے خلاف متحدہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ||


مضمون نگارمعروف صحافی وتجزیہ کار ہیں۔
[email protected] 

یہ تحریر 166مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP