قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارتی وزیر کا دورہ مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کا شدید ردِّ عمل 

جموں میں ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی امت شاہ کے دورے پر سخت منفی ردعمل سامنے آیا جہاں ڈوگرہ سیاسی و سماجی تنظیموں نے ان کے دورے کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کر کے ریاست کی سابقہ آئینی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست میں ڈوگرہ مہاراجہ کی حکومت بحال کی جائے اور غیر ریاستی افراد کو ملازمتیں نہ دی جائیں۔ اس سے ان کا استحقاق مجروح ہورہا ہے۔


بھارتی ظالم اور سفاک وزیر داخلہ امت شا ہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ناکام ترین دورہ کیا ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر بھارتی وزیر کا سیاہ جھنڈوں سے استقبال کیا۔ امت شاہ نے دورے کا آغاز جموں سے کیا۔ جموں میں ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی امت شاہ کے دورے پر سخت منفی ردعمل سامنے آیا جہاں ڈوگرہ سیاسی و سماجی تنظیموں نے ان کے دورے کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کر کے ریاست کی سابقہ آئینی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست میں ڈوگرہ مہاراجہ کی حکومت بحال کی جائے اور غیر ریاستی افراد کو ملازمتیں نہ دی جائیں۔ اس سے ان کا استحقاق مجروح ہورہا ہے۔ یوں مسلمانوں کے علاوہ جموں و پہاڑی علاقوں کے ڈوگروں نے بھی بھارتی حکومت کے منہ پر طمانچہ مار کر مرکزی وزیر داخلہ کو آئینہ دکھایا۔ دورہ کشمیر میں سری نگر اورضلع بارہ مولہ میں بھارتی وزیر امت شاہ نے  بڑے جلسوں سے خطاب کرنا تھا مگر کشمیریوں نے تاریخی ہڑتال اور بائیکاٹ کر کے بھاتی وزیر کے جلسوں کو جھنڈی دکھا دی۔ خالی کرسیوں کو دیکھ کر امت شاہ نے شدید غصے میں غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ۔کرسیوں پر بھارتی ظالم اور سفاک خونی اہلکاروں اور ریاستی پولیس کو سادہ کپڑوں میں بٹھا کر میڈیا شو کرنے کی کوشش کی گئی جن سے امت شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے کشمیر پر 70 برس حکومت کی وہ ہم سے کہہ رہے ہیں پاکستان سے بات کریں لیکن ہم پاکستان سے نہیں بارہ مولہ کے گجروں،بکر والوں، پہاڑیوں اور عام کشمیریوں سے بات کریں گے۔


دورے سے قبل مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے مودی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بحال کرے کیونکہ مذاکرات کے بغیر کشمیر کا حل ممکن نہیں، بہت خون بہہ چکا کشمیر میں ،انسانیت سسک رہی ہے اور دہلی سرکار اس جانب توجہ نہیں دے رہی۔


دورے سے قبل مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے مودی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بحال کرے کیونکہ مذاکرات کے بغیر کشمیر کا حل ممکن نہیں، بہت خون بہہ چکا کشمیر میں ،انسانیت سسک رہی ہے اور دہلی سرکار اس جانب توجہ نہیں دے رہی مگر بھارتی وزیر نے ایک بار پھر رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عجیب منطق اختیار کی کہ ہم کشمیر کے بکر والوں اور گجروں سے بات کریں گے۔ امت شاہ نے یہ بیان جل بھن کر دیا کیونکہ بھارتی ایجنسیوں کی دھمکیوں اور زور زبردستی کے باوجود کانگریس سمیت نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی دیگر بھارت نواز جماعتوں نے بھی بھارتی وزیر داخلہ کے دورے کا بائیکاٹ کر کے بی جے پی کی کشمیر دشمن پالیسیوں اور کشمیر کی آئینی و خصوصی حیثیت کے خاتمے پر غم و غصے اور نفرت کا اظہار کیا۔ یہ تو چلیں ان جماعتوں کی سیاسی مجبوری ہے کیونکہ انہوں نے ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ اس طرح کم از کم انہوں نے انگلی کٹا کر شہیدوں میں اپنا نام درج کرانے کی سیاسی کوشش کی تاکہ کل کلاں وہ اپنے ووٹروں کو کہہ سکیں کے ہم نے امت شاہ کے دورے کا بائیکاٹ کیا اور کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت کی بحالی اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی۔ بہرحال یہ سب ڈرامے بازی اپنی جگہ خود امت شاہ کو بھی اندازہ ہو گیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں ابھی حالات اتنے سازگار نہیں ہیں جتنا وہاں کے بی جے پی کے رہنمائوں نے مرکز کو بتائے اور اپنے نمبر بڑھائے۔
بھارت سمجھتا ہے کہ جب بھی وہ مذاکرات کے ٹیبل پر سنجیدگی سے بیٹھے گا اسے کشمیری چاہے بکروال ہو،گجر ہو،کوشر ہو یا پہاڑی، اسے دلائل اور حقائق کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ناکام کر دے گا۔کشمیریوں کو برادری، قبائل اور زبانوں کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی سازش پھر ناکام ہوچکی ہے۔ بھارت اسی وجہ سے میز سے بھاگ رہا ہے۔ جب بھی مذاکرات ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کی کھلی آفر پر ہوئے مگر بھارتی انتہا پسند اور متعصب اسٹیبلشمنٹ نے وہ مذاکرات ناکام کیے۔ کانگرس کے کئی وزرائے اعظم اور خود بی جے پی کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے مذاکرات کیے مگر بھارتی حکمران ہر مذاکراتی دور میں کسی نتیجے پر پہنچے سے قبل ہی راہ فرار اختیار کر جاتے کیونکہ کوئی مذاکرات ایسے نہیں ہوئے جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را ''کے یہ متعصب اور انتہا پسند موجود نہ ہوں اور ہر بار پروپیگنڈا بھی پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف کیا گیا، اس لیے ہمیں امت شاہ کی حالیہ گفتگو پر ایک فیصد بھی یقین نہیں ہے کہ وہ کسی کشمیری سے بات کریں گے۔بھارت نے اگر بات چیت کرنی ہوتی تو چالیس سالوں میں اڑھائی لاکھ کشمیریوں کا قتل عام نہ کرواتا۔1947 سے لے کر اب تک انتہا پسند تنظیموں آر ایس ایس ،بی جے پی،بجرنگ دل اور دیگر فسادیوں کے ذریعے جموں کے مسلمانوں اور پھر 5 اگست 2019 کے بعد کے واقعات میں قتل عام نہ کیا جاتا مگر ہر بار گولی اور گالی کے ذریعے خطہ ٔکشمیر کو پراگندہ کیا گیا۔ اس بار بھی بی جے پی کا یہ خطرناک مہرہ کشمیر میں کوئی بہت بڑی خون ریزی کے لیے آیا ہے اور کشمیریوں نے اسی وجہ اس کی آمد پراحتجاج کیا ہے۔اس بار امت شاہ نے ایک بڑی چال چلی ہے کہ سرینگر اور دیگر شہری علاقوں کو چھوڑ کر اس نے ایل او سی پر آباد کشمیریوں کے قریب جا کر جلسے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ عوام ہیں جن پر 1989سے لے کر تاحال بھارت نے وہ انسانیت سوز مظالم ڈھائے جن کی مثال کشمیر کے کسی علاقے میں شاید نہیں ملتی اور اسی وجہ سے 36ہزار کشمیری وہاںسے ہجرت کر کے آزاد کشمیر میں پناہ گزین ہیں۔اب بھارت کو خیال آیا کہ ایل او سی پر آباد پہاڑی، کشمیری،گجر اور بکر والوں سے ہمدردی جتائے گا،مگر وہ باشعور لوگ ہیں دس لاکھ سے زائد کشمیری اس وقت مقبوضہ کشمیر کے سرحدی دیہاتوں میں آباد ہیں جن کی زندگی نہایت مشکل حالات میں گزر رہی ہے۔بڑے ہسپتال، کالجز، ہائی سکولز،صحت کی سہولیات، سڑکوں، انٹرنیٹ بجلی و دیگر بنیادی انسانی ضروریات سے یہ لوگ محروم رکھے گئے ہیں کیونکہ بھارت ہمیشہ دراندازی کا ذمہ دار ان لوگوں کو ٹھہرا کر ان کو شہید کرتا رہا اور مجاہدین کی مدد کے الزامات لگا کر ایل او سی کے قریب بسنے والے شہریوں کو شہید کیا گیا، ان کی خواتین پر مظالم ڈھائے، جائیدادیں ضبط کیں ،ان کے بچوں کو جیلوں میں ڈالا اور ان کی لاشیں گمنام اجتماعی قبروں سے ملیں۔ ان کو تمام سرکاری ملازمتوں اور حکومت سازی سے دور رکھا۔ آج امت شاہ ان کا خیر خواہ بن کر کس منہ سے ان کے پاس آیا ہے ، جموں کے جلسوں میں جنہیں کارنرمیٹنگ کہنا زیادہ مناسب ہے، امت شاہ نے ڈوگری پہاڑی گجر اور بکر والوں کو پیسے دے کر ان کے ثقافتی طائفوں کو بلا کر خوب ناچ گانا کروایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مزدور پیشہ ہیں اور اکثر معاش کے لیے پوریبھارت کا سفر کرتے ہیں۔ جنہیں پرکشش پیکج کا لالچ دے کر بلایا گیا۔ خوب ڈھول باجے بجائے گئے مگر یہاں بھی حاضری کم رہی جس کے بعد غیر حاضر سرکاری ملازمین کو جرمانہ اور معطلی کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ اس دورے کو عوامی دکھانے کے لیے جموں میں امت شاہ ہندوئوں کے مندروں میں گئے تاکہ مذہبی طبقہ خوش ہو وہاں پوجا پاٹ میں حصہ لیا۔ سڑکوں، تفریح گاہوں، سنیمائوں، تجارتی سنٹر کھولنے کی باتیں کیں وہ بھی سیاسی بیان بازی کی حد تک ،عملی طورپر کوئی پروگرام نہیں دیا۔
 اصل وجہ یہ ہے کہ آئندہ سال 2023 میں کشمیر میں بھارت کی جانب سے ڈھونگ الیکشن ہو رہے ہیں ۔اس سے قبل بی جے پی کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے۔بی جے پی نہایت کم ہندو ووٹ کی وجہ سے پریشان ہے اور اب کشمیرکی غالب اکثریتی مسلم آبادی اپنی طرف مائل کرنے کے لیے مودی نے یہ کھیل کھیلا ہے اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر یہ بھارت کی پرانی چال ہے اس نے ہمیشہ پہاڑی کشمیری گجر اور بکروال پتے کھیلنے کی کوشش کی تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو قوم، مذہب، برادری، ذات پات اور زبان کی وجہ سے تقسیم کیا جائے مگر سلام ہے کشمیریوں کو جنھوں نے بھارت کے ظالمانہ ، جابرانہ، توسیع پسندانہ اور اس کے منافقانہ، فرقہ وارانہ عزائم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کشمیر کی اصل قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر حریت پسند قائدین اور ان کی جماعتیں ہیں۔ بی جے پی ، کانگریس یا پی ڈی پی کسی صورت مسلمانوں اور کشمیریوں کی حامی اور خیر خواہ نہیں لہٰذا مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہاڑی اور سرحدی علاقوں کے کشمیریوں نے مودی کے مہرے کے سینے پر لات مار کر ہر پیکج، ہر آفر پھر مسترد کردی ہے۔ نریندر مودی چاہتا ہے کہ آئندہ کشمیر کا حکمران ہندو ہو اور اس کا تعلق بی جے پی سے ہو۔ اس کا یہ خواب کسی صورت میں پورا نہیں ہو گا کیونکہ تمام کشمیریوں نے ہر قسم کے لالچ، نوکری اور سکیموں کی پرکشش آفرز کو لات مارتے ہوئے بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے تلے ہونے والے ڈھونگ انتخابات کو مسترد کردیا ہے اور بھارت کا منصوبہ خاک میں ملادیا ہے۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ کشمیریوں کی انتھک جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک طویل عرصے بعد امریکہ نے بھارت کی ناراضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دورہ مظفرآباد باغ ، راولاکوٹ پر آزاد ریاست کے لیے ''آزاد جموں و کشمیر'' کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس پر بھارتی حکمران تلملا اٹھے ہیں اور یہ عین اس وقت ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ مقبوضہ ریاست کے دورے پر تھا اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے بھی انہی دنوں کا انتخاب کیا۔ یہ سب کچھ کسی بدلتے ہوئے منظر کی دھندلی سی تصویر ہے کیونکہ اس سے قبل رائے عامہ یہی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت  کے بعد سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ ہے، اگر وہ چاہے تو بھارت کو مشرقی تیمور اور دارفر کی طرح آسانی سے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری پر آمادہ کر سکتا ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں منظور شدہ ہیں اور دنیا کی بڑی طاقتیں اصولی طور پر متفق بھی ہیں۔ 
امت شاہ کے دورہ جموں و کشمیر پر جہاں حریت کانفرنس کی کال پر مقبوضہ جموں سے وادی تک مکمل ہڑتال رہی وہاں آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کے غیر قانونی طورپرزیرقبضہ جموں وکشمیر کے دورے کے خلاف احتجاج کے لیے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کا اہتمام پاسبان حریت جموں کشمیر نے کیا تھا۔ ریلی لال چوک اپر اڈہ سے برہان وانی شہید چوک تک نکالی گئی، ریلی میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ امت شاہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کیخلاف لوگوں نے سیاہ جھنڈے لہرا کر اور بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بینرز، کتبے اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ''کشمیری عوام نے امت شاہ کے دورے کو مسترد کردیاہے، بھارت کشمیر کی سرزمین پر اپنی شکست دیکھ رہا ہے، گو انڈیا گو بیک،قاتل قاتل مودی قاتل ،قاتل قاتل امت شاہ قاتل''جیسے نعرے درج تھے۔ انہوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ 5اگست 2019کو بھارتی لوک سبھا میں جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا بل پیش کرنے والا سفاک شخص آج ہزاروں فوجیوں کے پہرے میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام بھارتی حکمرانوں، فوجیوں اور نظام حکومت سے سخت نفرت کرتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے امت شاہ کے دورے کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کویہ جان لینا چاہیے کہ کشمیری عوام اس کے غاصبانہ قبضے اور فوجی دہشتگردی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔مظاہرین نے اس موقع پر امت شاہ کا پتلا بھی نظر آتش کیا۔


امت شاہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے خلاف آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ باغ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے بھارتی وزیر داخلہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔



امت شاہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے خلاف آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ باغ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے بھارتی وزیر داخلہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ بھارتی وزیر داخلہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے خلاف آزاد کشمیر کے اضلاع حویلی اور کوٹلی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے عالمی برداری کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں کی جانب مبذول کرائی۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلوانے کے لیے بھارت پر دبائو بڑھائے۔ ||


کالم نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگار ہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے بڑے روزنامہ  کے ایڈیٹر اور سینٹرل پریس کلب مظفرآباد کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 124مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP