متفرقات

بچوں کے جارحانہ روئیے اور اس کا حل

اگرچہ آج کے جدید دور نے سائنس وٹیکنالوجی سمیت دیگر علوم وفنون میں خاصی ترقی اور مہارت حاصل کرلی ہے،اس کے باوجود انسانی معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار نظر آتا ہے۔ انتہائی بے دردی سے انسانی قدروں کی پامالی ہو رہی ہے۔اگران سب  برائیوں کی وجہ تلاش کی جائے تو دماغ تربیت کے فقدان کی جانب جائے گا۔اگر انسان کی بچپن سے ہی اچھی تربیت ہوگی تو معاشرے میں سکون اور اطمینان پیدا ہوگا۔
بچوں کی اچھی تربیت کرنے سے قبل ان کی نفسیات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ظاہر ہے اس کی ذمے داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کی ہر خواہش کو پورا نہ کریں۔ کچھ خواہشات کی فوری تکمیل کو یقینی نہ بنائیں بلکہ جان بوجھ کر تاخیری مراحل میں ڈال دیں تاکہ اس میں سب کچھ حاصل کرنے کی بے اطمینانی نہ رہے اور صبر کا مادہ پیدا ہو۔ اگر والدین اپنے بچوں کو جیب خرچ دیتے ہوئے کچھ پیسے اضافی یہ کہہ کر دیں کہ یہ کسی ضرورت مند کی امداد کے لئے ہیں تو بچہ نفسیاتی طور پر خدمت خلق کی جانب گامزن ہوگا۔ یہاں مرحوم ایدھی صاحب کی ہی مثال لے لیں۔اُن کی والدہ انہیں ہمیشہ ایک آنہ زیادہ دے کر نصیحت کر تی تھیں کے اس سے کسی ضرورت مند کی مدد کرنا۔ ان کا یہ طرز عمل اپنے بچے میں صلہ رحمی پیدا کرنے کے لئے تھا تو دیکھ لیں آج ایدھی صاحب انسانیت کا استعارہ بن گئے ہیں۔ 
بچوں کی نفسیات سمجھنے والے ماہرین کے مطابق کم سن ذہنوں کو شدت پسندی اور جارحیت کی جانب گامزن کرنے میں اہم کردار ویڈیو گیمز اور ٹی وی پر نشر ہونے والے پرتشدد مناظرکا بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی نوعمرتشدد آمیز گیمز کھیلے اور ایسے مناظر ٹی وی اسکرین پر دیکھے تو ذہن جارحیت پسندانہ انداز میں کام کرنے لگ جاتا ہے۔
جنوری 2007 میں 10 سالہ سرجیو پلیکو نے امریکی شہر ہوسٹن میں صدام کی پھانسی کی ویڈیو دیکھنے کے بعد خود کو پھانسی پر لٹکا لیا تھا۔ صدام کی پھانسی کے بعد دنیا بھر میں ایک ہفتے کے اندر کم از کم 7 بچوں نے خود کو مار دیا تھا۔ ان میں 9 سالہ مبشر علی بھی تھا جس نے رحیم یار خان میں صدام کی موت کی نقل کرنے کی خاطر اپنی 10 سالہ بہن کی مدد سے خود کو پنکھے سے لٹکا کر مار لیا تھا۔
کچھ عرصہ قبل ترکی میں11سالہ بچے نے اپنے 13 سالہ بھائی کو چھریوں کے پے در پے وار سے مار دیا۔اس اندوہناک واقعے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ بڑے بھائی نے ٹی وی کا چینل تبدیل نہیں کیا تھا جس پر چھوٹا بھائی مشتعل ہوگیا اور یہ سفاک اقدام کر بیٹھا۔
اس زمرے میں میڈیا کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ بم دھماکوں،خونی عکس بندی اور آہ وزاری کے مناظر کو بڑھا چڑھا کر دکھانے میں احتیاط برتیں۔اس قسم کے مناظر کو دیکھ کر بچے جارحانہ برتائو کرنا شرو ع کردیتے ہیں۔ جیسے غصہ، چیزیں پھینکنا، چھوٹے بہن بھائیوں کو مارنا یا بے جا ضد کرنا۔
بچوں میں جارحیت اگر مستقل صورت اختیار کر جائے تو اضطراریت، بے چینی، ذہنی خلفشار، عدم برداشت، غصے کی زیادتی، جذباتیت اور ناپختگی ان کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایسے بچے جذباتی مسائل کا بھی شکار رہتے ہیں اور   پھرانہیں تنقید، مایوسی، ناکامی، محرومی یا پھر شکست کو برداشت کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
فلم یا ڈراموں کے منفی کردار بھی بچے کی شخصیت کو توڑ دیتے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ بچوں کو ٹی وی اور موبائل سے دور رکھیں۔ان کے مسائل سن کر ان کا حل بتانا چاہئے۔ان کے ساتھ صحت مند تفریح جیسے کرکٹ، ہاکی یا فٹ بال سمیت بھاگ دوڑ کے کھیل انجوائے کرنے چاہئے۔مختلف قسم کے سوالات پوچھ کر ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہئے۔
اگر والدین کے درمیان ناچاقی ہوگی تو اس کا براہ راست اثر بچوں کی ذہنی نشوونما پر پڑے گا۔کم سن ذہن گالم گلوچ، مار پیٹ اور تلخ جملوں کے تبادلے کو ایک عام بات سمجھتے ہوئے جارحیت کی جانب چلا جائے گاجس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔
اساتذہ کا زیادہ تر واسطہ اور رابطہ عموماً بچوں اور نوجوانوں سے ہوتا ہے۔ استاد کس طرح بچوں کی ذہنی نشوونما میں اہم کردارادا کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ایک سکول میں تجربہ کیا گیا۔ ایک جماعت میں سارے بچے اچھی لگن سے اپنا کام کرتے تھے کیونکہ ان کی کلاس  ٹیچر انہیں ہر وقت یہ احساس دلاتی تھیں کہ وہ بہت اچھے بچے ہیں۔ دوسری طرف اسی طرح کی ایک کلاس کے بچے کچھ سست واقع ہوئے تھے، کیوں کہ ان کی ٹیچر کہتی تھیں کہ تم کچھ کرہی نہیں سکتے۔ تجربے کے طور پر پہلی ٹیچر کو دوسری کلاس کے بچے  دیئے گئے اور دوسری ٹیچر کو پہلی کلاس کے بچے ۔ کچھ عرصے کے بعد پتہ چلا کہ اچھا کام کرنے والے بچوں نے ٹیچر بدلنے کے بعد پڑھائی پر توجہ دینا کم کر دی جس سے وہ ہر ٹیسٹ میں بری طرح ناکام ہونے لگے جبکہ دوسری طرف صورت حال کچھ یوں تھی کہ نالائق بچے ٹیچر کی طرف سے حوصلہ افزائی کے باعث بہترین نتائج کا مظاہرہ کرنے لگے۔ اس تجربے کی روشنی میں اس بات کا خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک استاد کی حوصلہ افزائی بچوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر استاد اپنے شاگرد کا دوست بن کر ان کو اپنے سے قریب کرکے ان کے نفسیاتی پہلوؤں کو سمجھتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کو تلاش کرنے میں ان کا ساتھ دے تو اس تربیتی اقدام سے معاشرے میں پھیلی جارحیت پر بھرپور طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ 
اگر ہم نوعمر بچوں کے علاوہ  بلوغت کی جانب جاتے  ہوئے بچوں کی باتوں پر غور کریں تو یہ جان کر دکھ ہوگا کہ آج کے بچے کو اپنے مستقبل کی تفکرات بھی لاحق ہے۔ ظاہر ہے بچے جب گھر میں باپ یا چچا کو ڈگری یافتہ ہوکر بے روزگار دیکھیںگے تو انہیں اپنے کل کی فکر لاحق ہوگی۔ یہی سوچ کم عمر ذہن کو جرائم کی جانب اکساتی ہے لہٰذامعاشرے کو بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہئے اور منصفانہ طریقے سے حقدار کواس کے حقوق فراہم کرنے چاہئیں۔


 [email protected]

یہ تحریر 145مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP