متفرقات

بُزدل بہادر

علی مراد نے لکڑی کے تابوت میں جب آخری کیل کو ٹھونکا تو عقیدت کے طورپر تابوت کے مکین کو اپنے قیمتی آنسوئوں کا نذرانہ پیش کرنا بھی نہ بھولا تھا۔ یہ اس کا معمول تھا وہ ایک بڑھئی تھا لیکن پورے کشمیر میں اس کے کام کی دھوم تھی وہ اپنے کام کا بہت ہی ماہر گردانا جاتا تھا۔ لکڑی سے متعلقہ کوئی بھی کام ہوتا تو لوگ اس کے گھر کا ہی رخ کرتے تھے کیونکہ اس کاگھر بھی اس کی دکان کا کام دیتا تھا۔ وہ اپنی بیوی اوراکلوتی بیٹی حرمین کے ساتھ با عزت زندگی گزارنے کی تگ و دو میں اپنے کام میں انتہائی خلوص سے جتا رہتا تھا لیکن وہ پورے کشمیر میں سب سے زیادہ اپنی بیٹی سے اور پھر اپنے کشمیر سے پیار کرتا تھا۔ کوئی بھی کشمیری جب دشمن سے آزادی مانگتا ہوا شہادت کا پرچم اپنے خاکی بدن پر سجاتا تو وہ تابوت بنا کر بڑی عاجزی سے پیش کر دیتا تھا۔ اس نے آ ج تک کسی بھی تابوت کی مزدوری نہ لی تھی چاہے اس کے گھر میں  فاقے ہی کیوں نہ ڈیرہ جما کر بیٹھے ہوں ۔



وہ اللہ کی حمدو ثنا بیان کرتا اور اپنی بیٹی کی تعلیم پر توجہ دیتا ہوا اپنی بیوی کو بھی یہی تلقین کرتا کہ اللہ کی رضا میں ہی ہم انسانوں کی رضا شامل ہو تو اللہ کریم بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اپنے بندوں کو بہت ہی قیمتی انعامات سے نوازتا ہے۔ اس کی بیوی بھی بہت صابر و شاکر عورت تھی ان دونوں کی دنیا بس ان کی بیٹی حرمین اور کشمیر کی آ زادی کی تحریک تھی۔ وہ ہر جلسے جلوس میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتا اور واپسی پر ساری کارروائی حرمین کے اصرا رپر اس کے سامنے بیٹھ کر اس کو سناتا لیکن وہ اس بات پر بڑا حیران ہوتا تھا کہ حرمین اس کی ساری باتیں سنتی جاتی اور ساتھ ساتھ ایک کاغذپر لکھتی بھی جاتی تھی۔ وہ حرمین کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن جنت نظیر وادی کے حالات اس بات کی اجازت نہ دیتے تھے کہ کشمیری بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ آئے روزبھارتی فوج کے کریک ڈائون نے پورے کشمیر کو کرفیو سٹیٹ بنا کر رکھ دیا تھا۔ پورے ہندوستان کی فوج اپنے بے پناہ اسلحے کے ساتھ نہتے کشمیریوںپر اپنا ظلم و جبر آزمانے کو آن پہنچی تھی ۔ہر روزنام نہاد تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چن چن کر شہید کیا جا رہا تھا پیلٹ گنز استعمال کر کے کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے کی جو پلاننگ بزدل بھارت نے شرو ع کی ہوئی تھی، اس نے نوجوانوں کے اندر ایک نئے جوش اور ولولے کو جنم دے دیا تھا لیکن افسوس کہ عالمی سطح پر اور اسلامی سطح پر ابھی تک سوائے پاکستان کے کوئی بھی ایسی آواز نہ اٹھی تھی جونہتے اور مظلوم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتی یا پھر بزدل بھارت کو اس بات کی غیرت او ر شرم دلاتی کہ کئی لاکھ فوج کے ساتھ جن انسانوں پر حکومت کرنے کی تم نے پالیسی بنائی ہے وہ لوگ کوئی عام لوگ نہیں ہیں ان کو اللہ کی مدد اور نصرت نے اس قابل بنا دیا ہے کہ ایک نہتا کشمیری بھی ہاتھ میں پتھر لے کر اسلحہ بردار بھارتی فوجی کے سامنے کھڑا ہو جائے تو اس کی سانس بھی لمحہ بھر کے لئے رُک جاتی ہے کیونکہ بے ایمانی اور ظلم و جبر کی جو تاریخ ہندو بنیا کشمیر میں لکھنا چاہ رہا ہے وہ نہ تو اس کے زیر قلم  آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی مؤرخ اس کی 'بزدل بہادری' کو لکھنے پر راضی ہو رہا ہے۔ 
حرمین نے تابوت میں سوئے ہوئے اپنی دوست کے جوان بھائی کو بہت قریب سے گولیوں سے چھلنی ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کی آ نکھوں کے سامنے سے وہ منظر اوجھل ہی نہ ہو رہا تھا جب رمضان نے ایک بھارتی کو للکار کر اس کے منہ پر تھوکا تھا۔ اپنی ذلت برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے رمضان کو اپنی جدید گن کی گولیوں سے بھون دیا تھا۔ حرمین اس وقت سکول سے آ رہی تھی۔ ایسے بہت سے منظر اس نے اپنے ابا اور اماں سے سن رکھے تھے لیکن آ ج اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اس کے آنسوئوں نے نمکین پانی کے بجائے خون بہانا شروع کر دیا تھا۔ اس کاخون کھولنے لگا تھا۔غصے میں وہ اپنے ہونٹوں کو بھینچتی ہوئی، ہاتھوں کی مٹھیوں کو کبھی کھولتی اور کبھی بند کر رہی تھی وہ ابھی ابھی گھر لوٹی تھی۔ رمضان کے جنازے میں پورا شہر ہی امڈ آ یا تھا، وہ کتنا خوش نصیب تھا کہ ہزاروں لوگوں کے جھرمٹ میں اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہونے جا رہا تھا اللہ کریم نے انسان کواپنا خلیفہ بنا کر اس کو بہت سی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ ایسے انعامات سے بھی نواز دیا کہ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح اور کیسے بہت بڑے انعام کا حقدار بن کر اللہ کے حضور اس کے دربار میں پیش ہو رہا ہے کہ اللہ کے مقرب فرشتے بھی اس کے انعام کو حاصل کرنے کے لئے انسان بننے کی التجا کرنے لگتے ہیں ۔ 
حرمین گھر کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھی ہوئی تھی اس کی کاپی اس کے سامنے پڑی ہوئی تھی وہ خلاف توقع کچھ بھی لکھنے کے بجائے کاپی کے سادہ کاغذ کو گھورے جارہی تھی۔ اس کے آنسو اس کے گالوں پر جم کر رہ گئے تھے یوں لگ رہا تھا کہ کسی نے کشمیری سیب پر پانی کی لکیریں کھینچ کر کسی بہت ہی پیارے شاہکار کو تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی اس حالت کو دیکھ کر علی مراد اور سلمٰی بھی پریشان تھے وہ کسی بھی بات کا جواب نہ دے رہی تھی بلکہ خاموشی سے  چھت کو گھورنے لگتی ۔ اس کی یہ حالت پریشانی کا باعث تھی۔ علی مراد نے سلمٰی کی طرف دیکھا تو اس نے آ نکھ کے اشارے سے کہا کہ وہ اب بات کر کے دیکھے علی مراد بارہ سالہ پڑھی لکھی بیٹی سے بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کر رہا تھا اس نے سلمٰی کی طرف دیکھا اور ایک لمبی سانس بھرتا ہوا اپنی چارپائی سے اٹھا اور حرمین کے سامنے جا کر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے حرمین کی کاپی اٹھائی اور ایک ورق پلٹ کر اس کو اس انداز میں دیکھنے لگا کہ پڑھنے کی کوشش کررہا ہو اس نے کنکھیوں سے روئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھا اور یونہی پڑھنے لگا : 
'' حرمین ایک اچھی بچی ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی لاڈلی اور پیاری ہونے کا فائدہ اٹھا کر ان کو خوب تنگ کیا کرتی تھی ۔ ایک دن اس کے بابا نے کہا کہ اگر حرمین نے اب ہمیں تنگ کیا تو وہ اللہ کے پاس چلے جائیں گے اور۔۔۔۔۔ ''  علی مراد اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی اوردھاڑیں مارتی ہوئی رونے لگی اور علی مراد کی گود میں اپنا سر رکھ دیا۔ علی مراد روتا ہوا س کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ سلمٰی نے آ گے بڑھ کر ا س کو اپنی گود میں لینا چاہا تو علی مراد نے سر کے خفیف سے اشارے سے اس کو منع کر دیا اور اپنے ہونٹو ں پر انگلی رکھ کر سلمٰی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اس گھر میں تینوں ہی رمضان کی شہادت پر رو رو کر اللہ کی خوشنودی میں خوش ہو رہے تھے ۔ 
  '' کیا ہو ا میری جان کو .... کیوں اداس ہے آج ....؟ ''  جب رو رو کر حرمین ہلکان ہو کر خامو ش ہو گئی تو علی مراد نے اس کے ماتھے پر اپنی محبت بھری مہر ثبت کی اور پوچھا تو وہ سرخ آنکھوں سے باپ اور ماں کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔ ''کیا چھوٹی سی بیٹی بھی شہید بن سکتی ہے ؟ '' اتنا سن کر دونوں میاں بیوی سکتے کی کیفیت میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے جب کئی ساعتیں ایسے ہی خاموشی سے گزر گئیں تو حرمین علی مراد کی گود سے اٹھی اور اپنی کاپی اٹھا کر اندر کمرے کی جانب چلی گئی لیکن جاتے جاتے علی مراد اور سلمٰی کے دماغوں کی چولیں تک ہلا گئی تھی۔
سکول جاتے ہوئے حرمین نے ایک اور منظر دیکھا تھا۔ ایک تیرہ چودہ سالہ بچہ ہندوستانی فوجی کے بوٹ صاف کررہا تھا اگر وہ انکار کرتا توفوجی اس کو تھپڑ مارنے لگتا تھا وہ روئے جاتا اور اپنے غصہ کو قابو میں کرتا ہوا اس کے بوٹ بھی صاف کر رہا تھا۔ اس نے حرمین کی طرف دیکھا تو رعونت سے بولا  '' اے لڑکی ! ادھر آ اور میرے بوٹ صاف کر ۔ '' حرمین نے پہلے تو گردن گھما کر اپنے پیچھے دیکھا کہ اسی کو پکارا گیا ہے یا پھر اس کے پیچھے کسی اور لڑکی کو آواز دی گئی ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔ اسی اثنا میں فوجی کی ایک اور گرج دار آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی : '' نواب زادی تم نے سنا نہیں، میں نے تمہیں بلایا ہے، ادھر آئو۔ ''  اس بار اس فوجی نے انگلی کے اشارے سے حرمین کو اپنی طرف آ نے کا کہا تھا۔ حرمین نے اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر اس لڑکے کو دیکھا جو فوجی کے بوٹ صاف کر رہا تھا تو اس کو لڑکے نے ایک نا معلوم سا اشارہ اپنی آنکھوںسے دیا تھا۔ وہ چونک کر فوجی اور پھر لڑکے کی طرف دیکھتی ہوئی ان کی جانب بڑھی، پورے بازار میں یہ تماشا دیکھا جا رہا تھا۔ ایک معصوم لڑکا اور معصوم لڑکی ایک ہٹے کٹے فوجی کے سامنے کھڑے تھے اور وہ طاقت اور غرور کے نشے میں مدہوش انگلی کے اشارے سے اس کو اپنے پائوں میں جھک کر اس کے بوٹ صاف کرنے کو کہہ رہا تھا۔ لڑکے نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حرمین کو گرین سگنل دیا تو توقع کے خلاف فوجی اور پورے بازار کو حیرت انگیز حرکت دیکھنے کو ملی۔ حرمین نے آگے بڑھ کر فوجی کے منہ پر تھوک دیا تھا اور ایک زور دار تھپڑ بھی مارنے کی کوشش کی اور اپنی پوری طاقت سے بازار میں ایک طرف بھاگ گئی فوجی کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ اس کے ساتھ دونوں بچے کیا ہاتھ کر گئے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذلت اور بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے جب بھاگ کر حرمین کو پکڑنے لگا تو وہ منہ کے بل اپنے ہی زور سے گر گیا کیونکہ لڑکے نے اس کے دونوں بوٹوں کے تسمے آپس میں باندھ دیئے تھے اور مغرور فوجی کو ان معصوموں کی واردات کا علم ہی نہ ہو سکا تھا۔ اس کے منہ اور ناک سے خون بہنے لگا تھا۔ پورے بازار نے قہقہوں کی برسات کر دی تھی اور فوجی کی آنکھیں انگارہ بنی ہوئی ان سب کو دیکھ رہی تھیں جو اس کے زمین چاٹنے کے منظر کو بڑی محویت سے دیکھ رہے تھے اور کچھ لوگ تو اپنے موبائلز سے اس کی وڈیو بھی بنانے میں مصروف تھے۔ آن کی آن میں بھارتی فوج اس فوجی کے گرد اس طرح جمع ہو گئی تھی جس طرح ایک کوے کے مرنے پر بہت سے کوے اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ 
اگلا دن اس علاقے کے لئے اذیت اور ظلم و تشد دکی نئی داستان لے کر ایک نئے سورج کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔ گھرگھر تلاشی کے دوران بہت سی عورتوں کو بالوں سے پکڑ کراور گھسیٹ کر ان کے گھروں سے نکالا جا رہا تھا۔ ان کے دوپٹوں اور چادروں کے تقدس کو ہندوستانی فوجی اپنی بندوقوں اور بوٹوں سے پامال کرتے ہوئے ان کو ایک بازار میں جمع کر رہے تھے۔ ان کی گریہ زاری پر وہ قہقہے لگاتے اور اگر کوئی نوجوان آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ روکتا تو وہ اس کو بندوقوں کے بٹ مار مار کر یا تو زخمی کر دیتے یا پھر پیلٹ گن سے فائر کر کے اس کو بینائی سے محروم کر دیتے تھے۔ اس ظلم و ستم سے ایک آہ و بکا برپا ہو گئی تھی پھر ایک فوجی پورے مجمع کو مخاطب کرتا ہوا سپیکر میں بولنے لگا تھا : '' ہمیں اس سارے کام پر مجبور مت کرو اور نہ ہی ہمیں کوئی شوق ہے کہ ہم تم پر بلاوجہ ظلم کریں'' اس کی بلا وجہ والی بات سن کر بہت سے نوجوان اپنی جگہ پر تلملا کر رہ گئے تھے۔ کشمیری خواتین اور بیٹیاں بیچ چوراہے میں اپنے سروں کو اپنے ہاتھوں سے چھپاتی ہوئی سہم کر ان درندوں کو اس انداز میں دیکھ رہی تھیں کہ جیسے کوئی ہرنی شکاری کے جال میں پھنس جانے کے بعد اپنی رہائی کے لئے شکاری کی طرف منت بھری نظروں سے دیکھتی ہے وہ پھر بولا:
  '' ہمیں کل والی وہ چھوٹی بچی چاہئے جس نے اتنی جرأت کی کہ ہندوستا ن کی فوج سے اکیلے ہی ٹکرانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ہم اس چھوٹی بچی کو ایک بہترین انعام دینا چاہتے ہیں ۔ '' سبھی کشمیری جانتے تھے کہ وہ کس انعام کی با ت کررہا ہے۔ یہ ہندوستانی تھا وہ ہندوستانی جس کی کئی حکومتیں مذاکرات کی میز سے بھاگ گئی تھیں اور کئی بار اپنے وعدوں سے مکر گئی تھیں لیکن حرمین کا پتہ کوئی بھی کشمیری بتانے پر تیا ر نہ تھا۔ وہ سب حرمین سے بہت پیار کرتے تھے۔ '' میں آخری بار وارننگ دے رہا ہوں ورنہ ان عورتوں کو ایک ایک کر کے بے لباس کرنا شروع کر دیں گے۔ '' یہ اس کی تربیت تھی جو اس کی زبان سے ایسے الفاظ ادا ہوئے تھے کہ جن کو سن کر ہر مرد و زن کانپ کر رہ گیا تھا ، لیکن پھر بھی کوئی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ لیکن ان سب کی حیرت دو چند ہو گئی جب حرمین  طمطراق سے چلتی ہوئی ایک طرف سے نکلی اور چوراہے میں آ کر کھڑی ہوگئی اور پورے زور سے چلائی ۔ '' میں ہوں حرمین .... کل والی وہ لڑکی جس نے تمہارے پورے ہندوستان سے ٹکرانے کی جرأت کی ہے ۔'' ان فوجیوں میں وہ بھی شامل تھا جس کے منہ پر کل حرمین نے تھوکا تھا وہ غصہ سے پھنکارتا ہوا آگے بڑھا اور حرمین کو سر کے بالوں سے پکڑتا ہوا گھسیٹ کر چوراہے میں لے آیا تو حرمین کی چیخیں نکل گئیں وہ کچھ دیر کے لئے سہم گئی لیکن پھر بڑے اطمینان کے ساتھ فوجیوں کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی اور بولی ۔ ''  تمہارے پورے ہندوستان میں اگر کوئی مجھ جیسی بہادر اور دلیر حرمین ہے تو اس کو بلائو میں بھی تو دیکھوں کہ ہندوستانی مائیں کتنی بہادر بیٹیاں پیدا کر رہی ہیں۔ '' اس کی آوا ز میں گھن گرج سن کر سبھی اَش اَش کرنے لگے تھے لیکن ہندوستانی فوجیوں پر ایک سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ وہ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکی سے خوف زدہ نظر آنے لگے تھے لیکن ایک بار پھر حرمین کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا گو کہ ابھی تک اس کے سر کے بال فوجی کے ہاتھ میں ہی تھے لیکن اس کا لب ولہجہ اور انداز اتنا دبنگ تھا کہ سبھی اس کی طرف متوجہ تھے ۔ '' کوئی بھی ماں اتنی بہادر بیٹی کو پیدا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ بزدل بیٹوں کو پیدا کرکے فوج میں بھرتی کروانے کو ہی فخر سمجھتی ہیں۔ ''  اتنی ذلت آمیز باتیں سن کر بزدل بہادروں کو غصہ آنا لازمی امر تھا فوجی نے حرمین کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تو وہ تیورا کر دور جا کر گر گئی لیکن اس کے ہونٹوں پر زہریلی اور طنزیہ مسکان سجی ہوئی تھی۔ علی مراد آگے بڑھا اور فوجیوں کی منتیں سماجتیں کرنے لگا کہ اس کی بیٹی نادان ہے وہ اس کی غلطی کو معاف کر دیں لیکن حرمین اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی علی مراد کے پاس پہنچی اور باپ سے مخاطب ہو کر بولی ۔'' آپ سامنے سے ہٹ جائیں ابا جان .. .. میں بھی تو دیکھوں کتنا بارود ہے ان کی بندوقوں میں اور کتنا زور ہے ان کے گندے بازوئوں میں ۔ ''  اس سے پہلے کہ علی مراد کوئی بات کرتا بزدل ہندوستانی فوجی نے غصہ اور طیش میں آ کر گولیوں کا پورا برسٹ معصوم حرمین کے سینے میں اتار دیا وہ علی مراد اور آسمان کی جانب مسکرا کر دیکھتی ہوئی زمین پر گری اور اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی ۔  علی مراد اور سلمٰی حرمیں کی لاش سے لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے بھارتی بزدل فوجی معصوم بچی کو شہید کرکے اپنی ''بہادری'' دکھا کر جا چکے تھے۔ پورے بازار پر ایک سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ علی مراد نے بہادر بیٹی کی لاش کو اپنے بازوئوں میں اٹھایا او ر اس کے چہرے پر پیار اور محبت کے بوسے دیتا ہوا گھر کی جانب چل دیا۔ آج اس کو اپنی ہی معصوم بیٹی کا تابوت بنانا تھا۔ اس کو سمجھ ہی نہ آ رہی تھی کہ وہ لکڑی کا فرش لگائے یا پھر پھولوں کا وہ فرش بچھا دے جس کی خوشبو سے پورے کشمیر کی جنت نظیر وادی مہک جائے ، حوریں اور فرشتے اس ننھی شہید کو اپنی بانہوں میں لینے کے لئے بے چین و بے قرار تھے اور وہ مسکراتی ہوئی اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو چکی تھی اور اللہ سے شہادت کا انعام ملنے پر اس کے حضور سجدہ ریز ہو گئی تھی ۔ 
 علی مراد نے حرمین کا بستہ کھولا اور اس کی کاپی نکال کر چومنے لگا تو سلمٰی نے چونک کر کہا ، '' آپ کسی سے یہ تو پڑھنے کو کہیں کہ حرمین اپنی کاپی پر کیا لکھتی رہتی تھی ؟ '' سلمٰی کی بات سن کر علی مراد بھی چونک کر رہ گیا وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا کاپی پکڑکر باہر کی جانب بھاگا اور قریبی ماسٹر کے گھر میں جاپہنچا۔ سلمٰی بھی چند قدم کے فاصلے کے بعد اس سے آن ملی تھی علی مراد نے روتے ہوئے کاپی ماسٹر صاحب کی طرف بڑھا دی او رعاجزی سے بولا ، ''  ماسٹر صاحب  !یہ پڑھ کر تو سنا دیں کہ ہماری حرمین اس کاپی پر کیا لکھتی رہتی تھی ؟''  ماسٹر صاحب نے روئی ہوئی آنکھوں سے علی مراد کی  طرف دیکھا اور کاپی لے کر پڑھنے لگے ۔ 
''  ابا جان اور اماں جان !یہ بات آپ اور پورا کشمیر اچھی طرح ذہن نشین کر لے کہ ہندوستان کی پوری مائیں مل کر بھی ایک میجر عزیز بھٹی پیدا نہیں کر سکتیں ۔ یہ بزدل فوج اللہ تعالیٰ نے ہمیں شہادت کا انعام دینے کے لئے کشمیر میں بھیجی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ کے پیارے بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ محض بہادری کا ڈرامہ کررہے ہیں، ان کی فطرت میں ہی بزدلی اور دھوکا شامل ہے اور کوئی بھی بزدل اور دھوکے باز کبھی بھی کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ ہم کشمیری ہیں، اللہ کے مجاہد ہیں ہماری مدد میں اللہ کی رضا اور اس کے پیارے محبوب ۖ کی خوشنودی شامل ہے۔ اس لئے اس بات کو پورے کشمیری ذہن میں بٹھا لیں کہ فتح ہماری ہی ہوگی ، کشمیری ایک دن آزادی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے ان شا ء اللہ!''  
 علی مراد بیٹی کی لکھی ہوئی تحریر کو چومے جا رہا تھا اور آنسوئوں کے نذرانوں میں اس کی جبیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئی تھی ۔


 [email protected]
 

یہ تحریر 55مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP