متفرقات

بلتستان میں ایگری ٹورازم 

ایگری ٹورازم کا فلسفہ کوئی جدید فلسفہ نہیں بلکہ یہاں قدیم زمانے سے یہ فلسفہ چلا آرہا ہے۔ لوٹس کے پھول کو بدھ دھرم میں مقدس سمجھ کر چٹانوں اور عمارتوں میں کندہ کاری کے ذریعے منقش کرنا بھی ایگری ٹورازم کا فلسفہ ہی تو پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ قدیم بلتی گیتوں میں پھولوں کے کھلنے اور مرجھا جانے کا فلسفہ آج سے صدیوں پہلے بیان ہوا ہے۔ درحقیقت زمین کی رونق اور حیات بخش ماحول کا انحصار رنگا رنگ نباتات پر ہے۔ انسانی معاشرے کی بیشتر ضروریات پوری کرنے میں نباتات کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ ماحول کو فضائی آلودگیوں سے پاک رکھنے اور گیسوں کو متوازن رکھنے کا دارومدار نباتات پر ہے۔  
اسی فلسفے کی بنیاد پر  بلتستان کے عظیم فاتح علی شیر خان انچن (1588ء تا1625ئ) کے ہاتھوں کھرپوچو قلعہ کے گرد و نواح میں نانگمہ ژھر، غورو ژھر، رگیاژھر اور مقپون ژھر جیسے سرسبز و شاداب باغات حسن و دلکشی کا منظر پیش کرتے تھے۔ چہار باغ اور ہلال باغ میں کھلنے والے پھولوں کی مہک بلتی لوک روایات اور لوک گیتوں میں آج بھی سونگھنے کو ملتی ہے۔ تاریخ  بلتستان میں مذکورہ یہ باغات ایگری ٹورزم کے مظہر نہیں تو اور کیا ہیں؟ اسی طرح خپلو محل کے سامنے چمن ژھر اور را ژھر دونوں پودوں اور پھولوں سے لدے ہوئے باغات تھے۔ جن میں ڈیڑھ سو سال پہلے کشمیر سے لائے ہوئے رنگ برنگے گلاب کے پھول اور پھلدار اشجار اہل نظارہ کی آنکھوں کو طراوت دیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کو انسان کے لئے مسخرکردیا ہے اور ساتھ ہی اس کو اپنی ضروریات زندگی کے لئے استعمال کرنے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔ 
 وطن عزیز پاکستان کو اُس ذات پاک نے جہاں گلیشیئرز، دریائوں، جھیلوں، سمندروں اور پانی کے دوسرے وافر منابع عطا کئے ہیں وہاں سونا اگلنے والی زرخیز زمینوں سے بھی نوازا ہے۔ بالخصوص خطۂ  بلتستان مملکت خداداد کے لئے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سطح سمندر سے ساڑھے سات ہزار فٹ سے ساڑھے آٹھ ہزار فٹ تک کی بلندیوں پر واقع اس خطے کی زمین سے انتہائی شیریں پھل پیدا ہوتے ہیں۔ لذیذ سبزیاں اُگتی ہیں اور اچھی فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔  بلتستان کی صدیوں پر محیط سماجی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہاں منگولیائی قبائل کا تعلق کاشتکاری کے شعبے سے تھا۔ جب کہ آریائی قبائل کا پیشہ گلہ بانی رہا ہے۔ جن قبائل نے زرعی زمینوں سے اپنا ناتا جوڑ کر کاشتکاری کا پیشہ اختیار کیا انہوں نے پہاڑوں کے سینے چیر کر نہریں نکالیں، بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کیا اور اس علاقے کو نہ صرف سرسبز و شاداب بنایا بلکہ انسانی غذا اور حیوانوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے نہایت محنت و مشقت کے ساتھ کام کیا۔۔ بیر،سفیدے اور بید کے لاکھوں پودے نصب کئے۔ کشمیر سے چنار کے پودے لاکر  بلتستان کے طول و عرض میں نصب کرکے اس کی گھنی چھائوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
یہاں خوبانی اور توت کے لاکھوں درخت لگائے گئے۔  بلتستان کا زرعی کلچر بہت قدیم اور دلچسپ ہے اور صدیوں تک یہ علاقہ دنیا سے منقطع رہنے کے باعث یہاں کے لوگوں کی گزر اوقات مقامی زرعی پیداوار اور پھلوں پر ہی ہوا کرتی تھی۔ گندم، جو، باقلہ، مٹر، کنگنی، باجرہ اور ترنبہ اس علاقے کی اہم اجناس میں سے ہیں۔ دیگر بہت سی پیداوار کے علاوہ خوبانی اس علاقے کی تاریخ میں اہم ترین پیداوار ہے۔ پہلے پہل شگر میں راجہ حیدر خان (اول) 1535ء تا 1650ء کے دور حکومت میں  بلتستان اور یارقند کی سلطنتوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے بعد یارقند سے یہاں خوبانی، آڑو، انگور، سیب اور اخروٹ کے پودے لائے گئے اور  بلتستان بھر میں لگائے گئے۔ رفتہ رفتہ یہاں خوبانی کے درختوں کی اتنی افزائش ہوئی کہ اہل کشمیر  بلتستان کو ''سوری بوتان'' یعنی خوبانیوں کی سرزمین کہنے لگے۔1968ء میں ایک سرکاری سروے کے مطابق  بلتستان میں خوبانی کے درختوں کی تعداد613، 42، 6 بتائی گئی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق فی درخت اوسط15سیر خشک خوبانی اور 2سیر گیری کی آمدن ہوتی تھی۔ اس طرح  بلتستان میں کل خشک خوبانی 240980 من اور  گیری 130 30,من ہوتی تھی۔ 1990ء میں ایک سروے رپورٹ کے مطابق  بلتستان میں خوبانی کے درخت کے اعداد و شمار11,07,747بتائے گئے ہیں۔ یوں یہاں خوبانی کے درختوں کی تعداد دوگنی ہوگئی تھی۔
توت بھی  بلتستان کے پھلوں میں ایک اہم پھل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی دماغ کے لئے مفید اخروٹ بھی اس علاقے کی اہم پیداوار میں سے ہے۔ خوبانی، توت اور اخروٹ کے بوڑھے درخت رفتہ رفتہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
بلتستان میں کواردو، قمراہ اور روندو کے انگور جبکہ سکردو آستانہ اور کریس گون کے خربوزے دیکھ کر ہی انسان کے منہ سے رال ٹپکنے لگتی تھی۔ سکردو تھورگو سے لے کر کچورہ تک انگوروں کی ٹہنیوں سے ٹہنیاںملے ہوئے گھنے جنگل کے تذکرے آج بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔
چیری کی آپ بیتی اور اس کی اپنی سیاحت بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ تین سو سال قبل مسیح کے دور میں یونان میں پایا جانے والا یہ درخت معلوم نہیں کن کن ملکوں کی سیر کرتے ہوئے سولہویں صدی عیسوی میں برطانیہ پہنچا۔ پھر انگریزوں نے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے سہارے برصغیر میں اپنے قدم جمائے تو وہ اور بہت سارے پھلوں کے ساتھ چیری بھی اپنے ساتھ یہاں لے آئے۔ برصغیر پاک و ہند سے کشمیر میں اور ڈوگرہ دور کے آخری دور میں کشمیر سے  بلتستان میں آنے والے چیری کے درختوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ اب گزشتہ تیس چالیس سالوں میں محکمہ زراعت نے اس پودے کو وسیع طریقے سے یہاں پھیلایا ہے۔ چیری سرد اور خشک آب و ہوا کاپھل ہے اور اس پھلدار درخت کے لئے  بلتستان سے بہتر آب و ہوا والی جگہ کہاں میسر ہو سکتی ہے۔
بلتستان میں پالک، شلجم، گاجر، لوبیا، بینگن، ٹماٹر اور آلو جیسی سبزیاں کاشت ہوتی رہی ہیں۔1800ء سے 1840 کے دوران سکردو کے راجہ احمد شاہ نے انگریز پولیٹیکل ایجنٹ لدھیانہ ہندوستان کیپٹن ویڈ کو خط لکھ کر پہلی دفعہ آلو کے بیج منگوائے تھے۔ ان سبزیوں میں شلجم کو آج سے چالیس پچاس سال قبل تک لوگوں کی خوراک میں کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ اب گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں آلو کی پیداوار نے علاقے کی معیشت پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں۔
بلتستان قدرتی نباتات اور مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں کے حوالے سے ایک خوبصورت گلستان کی حیثیت رکھتا ہے۔ راولپنڈی گارڈن کالج کے امریکی نژاد پروفیسر آر۔ آر۔ سٹیوارڈ نے 1912-17کے دوران گلگت  بلتستان، لداخ اور کشمیر کا دورہ کرکے پچاس ہزار جڑی بوٹیاں جمع کی تھیں۔ اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ جہاں گلستان ہو اور اس گلستان میں گلاب، چنبیلی، سوسن، نرگس، لالہ اور پری چہرے کے پھول کھلے ہوں وہاں نہ صرف بلبل، طوطے، ہزار داستان اور انواع و اقسام کے پرندے اترتے ہیں بلکہ اس مقام پر انسان کا جمالیاتی شعور بھی خود بخود بیدار ہو جاتا ہے۔ جہاں سیب، ناشپاتی اور چیری کے باغات ہوں وہاں بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والے سیاح بھی کشاں کشاں پہنچ جاتے ہیں۔
آج الحمدللہ  بلتستان جدید زرعی کلچر کی طرف پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اسے ایگری ٹورزم سے مربوط کرنے کے لئے حکمت عملیاں وضع ہو رہی ہیں۔ محکمہ زراعت  بلتستان نے انٹرپرینیورشپ کے تحت جو کام اس خطے میں کیا ہے، وہ قابل قدر ہے اور اس فارمولے کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔


[email protected]
 

یہ تحریر 18مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP