متفرقات

بلتستان اورجشنِ نوروز

  دنیا کی ہر قوم میں اپنے تہوار ہوتے ہیں اور ان تہواروں کو قومی جذبہ کے تحت منایا جاتا ہے۔  بلتستان کے تہواروں میں ''نوروز''کو عوامی سطح پر مقبول اور اہم ترین تہوار سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایرانی الاصل تہوار کہلاتا ہے اور ایران میں  جشن نوروز بڑی شدومد کے ساتھ منایا جاتا ہے جو ان کے ہاں سال کا پہلا دن ہوتا ہے۔  نیز اس دن سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے۔ایران میں یہ تہوار جمشید بادشاہ کے عہد سے بھی بہت پہلے سے رائج چلا آرہا ہے۔ ابو ریحان البیرونی نے نوروز کی تاریخ، اس سے متعلق روایات اور رسوم کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن یہاں طوالت کے خوف سے ان تمام روایات کا تذکرہ ممکن نہیں ہے۔
ایران کے علاوہ یہ تہوار دنیا کے مختلف ملکوں افغانستان، آذربائیجان، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان میں سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ مغل بادشاہوں کے عروج کے دور میں برصغیر میں بھی نوروز کا تہوار بہت مقبول رہا ہے اور مغلوں میں بیضہ نوروز مشہور تھا۔ان کے علاوہ البانیہ، چین، بھارت اور عراق میں بعض قبائل بھی جزوی طور پر نوروز کا تہوار مناتے آئے  ہیں۔ پاکستان میں بھی بلوچی، پشتون، بلتی اور گلگتی جشن نوروز مناتے چلے آرہے ہیں۔ بالخصوص بلتستان میں چودہویں صدی عیسوی میں ایرانی مبلغین کے ہاتھوں جب اسلام کا نور پھیلا تو دیگر بہت سی ایرانی ثقافتی اقدار کے ساتھ یہاں نوروز کا تہوار بھی متعارف ہوا۔ تب سے بلتستان میں21 مارچ کو یہ تہوار روایتی شان و شوکت سے منایا جاتا رہا ہے۔ اب 2010 سے بین الاقوامی ادارہ یونیسکو نے نوروز کو(inrangible) یعنی غیر محسوسیت کا انسانی ثقافتی ورثہ قرار دے کر عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری دی ہے۔
      بلتستان ایک سرد علاقہ ہے جہاں سردیوں کے موسم میں سارے پہاڑ برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور تند و تیز ہوائیں جسم و جان کے لئے تیر و نشتر بنتی رہتی ہیں۔ دریا اور ندی نالے یخ بستہ ہوجاتے ہیں اور ہر چیز جامد ہوجاتی ہے۔ یوں چاروں طرف اداسی ہی اداسی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے لیکن مارچ کے مہینے سے یہاں بہار کا آغاز ہوجاتا ہے اور یہ موسم عجیب رنگینی و دلکشی کا حامل ہوتا ہے۔ باد نسیم کے لطیف جھونکے چلنے لگتے ہیں۔زمین سے سبزہ اگنے لگتا ہے اور بادام و خوبانی کے درختوں پر کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ یوں بہار کی آمد سے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کے دلوں میں خوشی و شادمانی کے نغمے گونجنے لگتے ہیں۔ یوں دلوں میں سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بقول شاعر:
روز نوروز آمد گل درچمن شاداب شد
داخل برج حمل خورشید عالمتاب شد
نوروز کے اس پر مسرت موقع پر یہاں گھروں میں ہر قسم کے لذیذ کھانوں سے دسترخوان کو سجایا جاتا ہے جن میں کلچہ، ازوق، نمکین چائے اور خصوصی طور پر میٹھے آٹے سے بنائی گئی کھیر ''بت'' شامل ہوتی ہیں۔ اس دن کے لئے خصوصی طور پرنئے کپڑے تیار کئے جاتے ہیں اور نئے کپڑوں میں ملبوس لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں عید ملنے جاتے ہیں۔ اس دن ہاتھوں میں مہندی لگانا، نئے کپڑے پہننا اورخوشبو لگانا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے سبھی نوروز آنے کے منتظر رہتے ہیں۔  بلتستان میں نوروز کی مناسبت سے رنگے ہوے انڈے بطور عیدی دیئے جانے کی روایت عام ہے اور اس دن خوب انڈے کھائے جاتے ہیں۔ داماد اور سسرال کے مابین انڈوں اور پکے ہوئے کھانوں کے تبادلے بھی ہوتے ہیں۔ نوروز کے موقع پر بلتستان میں یہاں کا قومی کھیل پولو ضرور کھیلا جاتا ہے۔تیر اندازی اور نیزہ بازی جیسے مقامی کھیلوں سے بھی لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں دور راجگی سے لے کر نصف صدی قبل تک راجہ کے محل میں نوبت بجا کر جشن نوروز کا اعلان کیا جاتا تھا۔ نوروز عجم کے نام سے ایک خاص دھن بھی بجائی جاتی تھی۔ اس دھن کے بجتے ہی لوگ جوق در جوق راجہ کے محل کے سامنے جمع ہوجاتے ہیںاور رقص و سرود کی محفلیں جمتی ہیں۔ اب امتداد ِزمانہ کے ہاتھوں وہ نوبت خانے ویران ہوگئے ہیں۔ اب نہ نوروز عجم ہے اور نہ ہی نوبت کی دھنیں۔
     بلتستان میں بیضہ نوروز اور رنگے ہوئے انڈوں کا کھیل بڑا مقبول رہا ہے جسے انڈے لڑانا اور انڈے لڑھکانا کہتے ہیں۔ پکے ہوئے انڈوں کو بڑی فنکاری کے ساتھ لڑا کر ٹوٹنے والا انڈا فاتح کو مل جاتا ہے۔ اسی طرح کسی ڈھلوان جگہ پر انڈوں کو باری باری لڑھکا کر انڈے دوڑانے کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ بچے اور نوجوان ان کھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔اب سبک رفتار زندگی کی مصروفیات اور جدت زمانہ کے ہاتھوں جشن نوروز کی گہما گہمیوں اور کیف و سُرور کی تقریبات ماند پڑ رہی ہیں۔ خوشیوں کے شادیانے خاموش ہورہے ہیں۔ تاہم بلتستان کے ممتاز شاعر پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کی یہ رباعی جشن نوروز کا تعارف یوں پیش کرتی ہے:
کہتے ہیں ''بہاروں کا، یہی دن  ہے، نیا''
لے  لو ! نئے کھانوں کا، لباسوں کا  مزا
کہلاتی ہے، عیدوں میں یہ،  عید ِ نوروز
اس کی ہے خوشی، دہر کی خوشیوں سے جدا ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں پرائڈ آپ پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔
[email protected]
 

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP