معیشت

بجٹ۔۔٢٠١٩

یوں تو سالانہ میزانیہ بنانا اور پیش کرنا ایک حکومتی معمول ہے لیکن رواں سال 2019-20 کے بجٹ کے ساتھ غیر معمولی توقعات، اندیشے اور تنقید کا چولی دامن کا ساتھ رہا۔ گزشتہ سال نئی حکومت کے قیام سے قبل نگران حکومت اور پھر نئی حکومت کے قیام کے مراحل میں معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ لیول پر رہا۔ حکومت کا مالیاتی خسارہ ایک بار پھر تشویشناک حدوں کو چھونے لگا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی اور معاشی نمو میں ایک بار پھر الٹی قلابازی نے پوری معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ چار سال کے لگ بھگ کرنسی کی قیمت ایک ہی مقام پر رہنے کے بعد بار بار ڈی ویلیوایشن کے ہاتھوں دیکھتے ہی دیکھتے روپے کی قدر میں چالیس فی صد تک کمی ہوئی۔ اس پسِ منظر میں گزشتہ سال نئی حکومت کو آغاز ہی میں نازک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ 



ان نازک حالات میں بار بار دو نکات معیشت کے مباحث پر حاوی رہے۔ اوّل: ملکی معیشت پر قرضوں کا ناقابل برداشت مگر تیزی سے بڑھتا ہو١ بوجھ، دوم: قومی پیداوار میں سالانہ شرح نمو پونے چھ فیصد کے متوقع ہدف سے گر کر تقریباً آدھی رہ گئی۔ دونوں نکات کئی دِہائیوں کی اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل اور Inefficient معاشی ڈھانچے کے لازمی نتائج تھے اور سنجیدہ بحث اور طویل المدت اپروچ کے متقاضی تھے۔ مگر سیاسی میدان کی پولرائزیشن نے ان پیچیدہ معاملات کو باہمی الزام تراشی اور دشنام طرازی کے غبار میں جھونک دیا۔ 
 نئی حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد آئی یم ایف کے پاس جانا چاہئے تھا یا نہیں؟ یہ اہم مگر مختلف آپشنز کا معاملہ تھا مگر اس نکتے پر بھی زیادہ تر بحث اس کے بنیادی میرٹ کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر ہو گئی۔ تجارتی خسارے اور کرنٹ اکائونٹ کا ضخیم حجم ، سست معاشی نمو، قرضوں اور سود کی ادائیگیوں اور حکومت کے ٹیکس محاصل میں کمی نے فنانشل ایمرجنسی کے سے حالات پیدا کر دیئے۔ اس دوران دوست ممالک سے نئے قرضوں اور مالی امداد کی صورت میں ساڑھے نو ارب ڈالرز کے حصول کے بعد معیشت کی دھڑکنیں کچھ بہتر تو ہوئیں مگر مالیاتی ایمرجنسی کے سائے چھٹنے کی نوبت نہ آئی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہوئے تو سخت شرائط کی خبروں نے پہلے سے موجود تشویش میں مزید اضافہ کیا۔ اس دوران حکومت نے اچانک اپنی معاشی ٹیم میں تبدیلی کر دی۔ نئی معاشی ٹیم نے جو اہداف سامنے رکھے وہ سخت اور قلیل مدت میں معیشت کے لئے بھاری بھر کم لگے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر مشیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ معیشت پر قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ حکومتی اخراجات میں کمی کی بھی ضرورت ہے اور حکومتی محاصل بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے تلخ مگرناگزیر فیصلے کئے بغیر چارہ نہیں۔ ان چند ناگزیر فیصلوں میں تجارتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کو قابو کرنے کے لئے روپے کی قدر میں مزید کمی اور بہت حد تک روپے کی قدر کو آزادانہ طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مجموعی ڈیمانڈ میں کمی لانے کے لئے مارک اپ یعنی شرح سود میں مزید اضافہ ضروری جانا گیا۔ 
روپے کی قدر میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں مسلسل کمی کی وجہ سے روپے کی صورت میں واجب الادا قرضوں میں دو ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مزید اضافہ ہو گیا یوں قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان اقدامات سے افراطِ زر یعنی مہنگائی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ حکومت نے اپنے وسائل پر بجلی، گیس اور مختلف سبسڈیز کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری سمجھا تاکہ بجلی اور گیس کی پیداوار اور ترسیل کی مکمل لاگت وصول کی جا سکے۔ ان فیصلوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن بقول حکومتی معاشی ٹیم یہ مشکل فیصلے ان کی مجبوری تھے لیکن انہیں یقین ہے کہ ان کے پالیسی اقدامات سے ڈیڑھ دو سال میں اقتصادی حالات میں نمایاں بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔ 
اس پسِ منظر میں رواں مالی سال 2019-20کا بجٹ پیش کیا گیا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط اور مشکل اقتصادی حالات کی موجودگی میں پیش کئے گئے اس بجٹ کا محور معاشی بہتری اوراستحکام یعنی Economic Consolidation and stabilisationتھا۔ بجٹ کا کل حجم سات ہزار ارب روپے سے زائدرکھا گیا جو گزشتہ سال سے تیس فی صد زائد تھا۔ ایف بی آر کو رواں سال ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے جمع کرنے کا ہدف دیا گیا۔ بجٹ خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے تناسب سے 7.1% لگایا گیا۔ 
 محاصل کے اس ضخیم ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے دو طرح کے ٹیکس اقدامات تجویز کئے گئے۔ اوّل: پانچ برآمدی شعبوں کو دی گئی سیلز ٹیکس زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لے لی گئی، تنخواہ دار ٹیکس گزار وں کو گزشتہ سال دی گئی مراعات واپس لینے کا فیصلہ ہوا۔ کئی شعبوں کے درآمدی ، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹیوں میں ردو بدل کیا گیا جن میں چینی، گھی جیسی اشیائے ضروریہ بھی شامل تھیں۔ دوم: ٹیکس نیٹ سے باہر اور ٹیکس گزاری سے گریزاں طبقات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ایسے طبقات کو ایک آخری موقعے کے طور پر ایک ایمنسٹی اسکیم بھی متعارف کروائی گئی ، جس کے بعد ٹیکس گزاری سے گریز پا لوگوں کے گرد شکنجہ کسنے کی تیاری کے حکومتی عزم کا اعلان کیا گیا۔ 
ان اقدامات کے نتیجے میں معاشی شرح نمو مزید کم ہونے کی توقع ہے۔ ورلڈ بنک کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق مالی سال 2019-20 میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 2.4 %رہے گی جو سائوتھ ایشیا میں نمایاں ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ معیشت میں اس قدر معمولی شرح افزائش کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کی توقع کم ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ اس مشکل معاشی منظر نامے کی مجبوری ہو گا۔ حکومت نے ان مشکلات میں ممکنہ کمی کے لئے بجلی اور گیس کے لائف لائن صارفین کے لئے قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل سیفٹی نیٹ کے طور پر مختص رقوم اور نوجوانوں کے لئے روزگار، قرضوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ برآمدی شعبے کے لئے بجلی اور گیس کی فراہمی کے موجود رعایتی نرخ اور ایکسپورٹ پیکیج کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے محاصل جمع کرنے کا ٹارگٹ اس بجٹ کا سب سے بڑا Ambitious  ٹارگٹ ہے۔ ایف بی آر کے لئے یہ ایک مشکل چیلنج ہو گا۔ 
ان مشکلات کے پیشِ نظر دفاعی اداروں نے ازخود اپنے بجٹ میں روپے کی قدر میں کمی کے باوجود سالانہ اضافہ نہ لینے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا۔ قومی سلامتی پر کوئی بھی سمجھوتہ کئے بغیر ان اداروں نے انہی وسائل کے ساتھ اگلے سال کی پلاننگ کرکے دیگر حکومتی مشینری کی کوششوں میں ہاتھ بٹایا کہ مشکل وقت میں ایک جان ہو کر آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا جائے۔ 
حکومت کی پہلی ترجیح بقول اس کے، اپنے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانا تھا۔ آئی ایم ایف معاہدہ اور دوست ممالک کی امداد سے یہ خطرہ کچھ وقت کے لئے ضرور ٹل گیا ہے لیکن ہمارے اقتصادی نظام کی بنیادی اسٹرکچرل خامیاں اور کمزوریاں ہمیں جلد ہی اس مقام پر لا کھڑا کر سکتی ہیں جس سے چھٹکارا پانے کے لئے ان دلیرانہ ٹیکس اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا ہے اور ٹیکس محصولات ٹارگٹ رکھا گیا ہے ۔ موجودہ معاشی ڈھانچے کی مکمل تنظیمِ نو کے بغیر یہ خطرہ مستقل طور پر ٹلنے والا نہیں۔ 
سالہا سال سے جاری معیشت میں  De-industrialization کے عمل کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاری سے مجموعی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات کے لئے بہتر ویلیو ایڈیشن کی مصنوعات دستیاب ہوں ، روزگار میں اضافہ ہو اور حکومتی محصولات میں اضافہ ہو۔ زراعت کے شعبے میں گزشتہ بیس پچیس سالوں سے اوسط شرح نمو بہت معمولی ہے، پیداوار عالمی معیار سے کہیں کم ہے۔ برآمدات میں بھی زرعی مصنوعات کا حصہ بڑھ نہیں پایا۔
بجلی اور گیس سیکٹر میں لائن لاسز اورخورد برد اور چوری نے سالہا سال سے سرکلر ڈیٹ کا پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے۔ انرجی سیکٹر میں اصلاحات کے عمل کو نئے سرے سے ایسے انداز میں شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ بہتر پیداواری مکس اور ترسیل شدہ گیس اور بجلی کی کل لاگت وصول ہو سکے۔ پبلک سیکٹر اداروں کے خسارے اور قرضوں کا بوجھ بھی قومی خزانے پر ہرسال بڑھ رہا ہے۔ ان اداروں کی تنظیمِ نو اور نج کاری کے اقدامات پر قومی اتفاق رائے کے ساتھ ایک مستقل پالیسی اور ارادے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ 
سالہا سال سے غیردستاویزی اور بلیک اکانومی کا حجم بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں کئی بار کی نیم دلانہ کوششوں کے باوجود یہ شعبے ٹیکس نیٹ سے بھی باہر رہے اور بلیک اکانومی کی صورت پھیلتے رہے۔ ٹیکس جی ڈی پی کی قومی شرح شرمناک حد تک کم ہے۔ اس بجٹ میں اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی سنجیدہ کوششیں دکھائی دے رہی ہیں۔اگر پیہم کوششیں عزم و ہمت کے ساتھ بے لاگ انداز میں جاری رہیں تو کامیابی کے امکانات موجودہ ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ پھیلائو کی صورت برآمد ہو سکتے ہیں۔ 
سالانہ بجٹ 2019-20گیم چینجر ثابت ہو گا یا پچھلی روٹین کا تسلسل، اگلے چند ماہ کے عملی اقدامات بجٹ اور معیشت کی سمت کا تعین کر نے کے لئے اہم ترین ثابت ہوں گے۔


 مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 228مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP