خصوصی رپوٹ

بارڈر پر عید کا چاند

عیدکی آمد آمد تھی۔ میں اپنے بھائی کے لئے عید کا جوڑا لینے اپنی پسندیدہ دکان پر پہنچی۔ہمارے گھر ہمیشہ سے عید کا اہتمام کچھ زیادہ ہی ہوا کرتا تھا۔ جب اماں ابا تھے تب تو ہر بچے کی پسند کے جوڑے، جوتے،ہر چیز الگ الگ الماریوں میں سجادی جاتی تھیں۔ میرے ایک بھائی کو فوج میں جانے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا بس چلتا تو عید کے دن بھی فوجی کپڑے پہن کر پریڈ کرتا رہتا۔ لیکن بدقسمتی سے نوعمری ہی میں اس کا ایکسیڈنٹ ہوا ، سر میں چوٹ آئی تھی۔ فوج میں نہیں جاسکا۔ بہت آرٹسٹک مزاج کا تھا۔ بہترین تصویریں اور سٹیچو بناتا تھا۔ لیکن فوج میں نہ جانے کا غم عمر بھر رہا۔
آج کپڑے خریدتے ہوئے مجھے سعید( اپنے بھائی) کا خیال آگیا اور میںنے بچوں کی دکان سے ایک فوجی ڈریس خریدا اور ایک بچے کو دیا کہ تم پہن لینا اور بعد میں پاکستانی فوجی بننا۔ وہ اتنا خوش ہوا جیسے پتہ نہیںکتنی بڑی نعمت مل گئی ہو اُسے۔ اس عید پر وہ یقیناً وہ ڈریس پہن کر اپنے دوستوں پر رعب ڈالے گا۔
رات کو مجھے اچانک خیال آیا کہ میں فوج کے لوگوں سے اتنا ملتی ہوں مگر میںنے یہ کبھی نہیں پوچھا کہ بھلا کیا عید پرتمام فوجی جوانوں کو چھٹی ملتی ہوگی، وہ گھر جاتے ہوں گے، عید کے کپڑے پہن کر نماز کو جاتے ہوں گے؟ پھرگھر آکرامی کے ہاتھوں سے شِیر خورمہ کھاتے ہوں گے، سب لوگ عیدی دیتے ہوں گے؟پتہ نہیں کیوں یہ فکر اتنی بڑھی کہ میںنے فوج میں اپنے جاننے والوں کو فون کرنا شروع کئے۔''عارف عید پر گھر آئے گا؟'' اس کی امی نے آہستہ سے کہا:' 'نہیں بیٹی وہ کیسے آسکتا ہے ڈیوٹی چھوڑ کر۔ سوچو گھر کے دروازے کھلے چھوڑ کر سب خوشیاں منانے چلے جائیں تو گھر تو لُٹ جائیں۔ عارف کی ڈیوٹی مشرقی سرحد پر ہے۔ ایسے دنوں میں تو ہمارے جوانوں کو اور زیادہ الرٹ ہونا پڑتا ہے۔' '''اوہ'' میرا دل بیٹھ سا گیا۔ حالانکہ وہ بڑی خوشی اور فخر سے کہہ رہی تھیں مگر لہجہ کچھ اور کہہ رہا تھا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔
ایک اور دوست جن کے شوہر اور دیور فوج میں ہیں، سے پوچھا تو وہ ایک دم چپ ہوگئیں۔ پھر یونہی بہانے سے کسی بچے کو ڈانٹنے لگیں۔' 'مت شور کرو،ہاں ہاں آج بازار چلیں گے'' میں سمجھ گئی یہ الجھی ہوئی ہے۔ میںنے یونہی کہاکہ مصطفی بھائی عید پر نہیں آئیں گے۔چلو میں آجا ئوں گی؟ وہ ہنس پڑی ''یاروہ کیسے آسکتے ہیں۔ سرحدوں کے پاسباں پاسبانی تو نہیں چھوڑ سکتے۔'' اس کے لہجے میں تلخی بالکل نہیں تھی۔ صرف دُکھ تھا۔ میںنے ٹالنے کو کہا کہ ''خیر تم نے کپڑے تو زبردست بنوائے ہوں گے اُن کے لئے۔'' وہ ہنستی رہیں ''ہاں وہ تو بنوالئے ہیں تم کو پتہ ہے ان کوعید پر ہمیشہ چکن کاری کے سفید ململ کے کرتے اچھے لگتے ہیں۔ وہی بنوائے ہیں۔ سفید تنگ پاجامہ اور سلیم شاہی چپل۔'' جس سے بھی بات کی کچھ ایسے ہی جواب ملے۔ سوائے ایک چھوٹی بہن کے جس کے ماں باپ نہیں تھے صرف ایک ہی بڑا بھائی تھا، جو فوج میں تھا۔ وہ ایک دم رو پڑی۔ '' میں بھائی کے بغیر عید کے کپڑے بالکل نہیں پہنوں گی۔ جب وہ آئیں گے تب پہنوں گی۔ ''میںنے پوچھا ''تم نے اُن سے بات کی؟ اس نے بتایا ''یس ذرا دیر کو۔ کہہ رہے تھے۔ ''دیکھو بھئی گھرتو سب لوگ ہی عید مناتے ہیں، ہم تو سرحد پر منا کر دیکھیں گے اور میں کوئی اکیلا تو نہیں ہوں پوری پلاٹون ہے اور کچھ لڑکوں نے گھر سے کپڑے بھی منگوا لئے ہیں۔ رات کو تاروں کی روشنی میں ان کا پروگرام ہے کہ یہیں بیٹھ کر مشاعرہ کریں گے، گانے گائیں گے۔ خوشی پر پابندی تھوڑی ہے۔اپنا ملک ہے، اپنی سرحد ہے، اپنی عید ہے۔ پھر رات کو اپنی منی بہن سے بھی بات کروں گا۔ عید ی میںنے بھیج دی ہے تم کو مل جائے گی۔'' وہ پھر رو پڑی۔۔۔ میں کیا کہتی، فون بند ہوگیا تھا۔
ہماری مشرقی سرحد بہت طویل ہے۔ فوج کے جوان جگہ جگہ پہرے پر کھڑے ہوں گے۔ مغربی سرحد پر بھی فوج ڈیوٹی دے رہی ہے۔لیکن فاصلوں کے باوجود سب آپس میں رابطہ رکھتے ہیں۔
آدھی رات تک میں یہ ساری کہانیاں جمع کرتی رہی ۔ دل اتنا دکھاکہ بار بار آنکھوں میں آنسو آئے۔ غصہ بھی آرہا تھا۔ یہ کیسے پڑوسی ہیں ہمارے۔ ان کا اپنا ملک ہے۔ اپنے گھرہیں۔ اپنی خوشیاں  پھر دوسرے ملکوں پر بُری نظریں کیوں لگائے رہتے ہیں۔
دوسرے دن میںنے ایک اور دوست کو فون کیا جو مغربی سرحدپر تعینات تھا۔ مغربی سرحد کا مسئلہ تو اور بھی سمجھ نہیں آتا یہ تو ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ آج کراچی میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ گھر ہیں، کاروبار ہیں، ہم نے تو انہیں پناہ دی تھی کتنے عرصے تک ان کی پرورش کرتے رہے تھے۔ اب یہ ہمارے دشمنوں سے مل گئے ہیں۔
مجھے اپنے بچپن کاایک واقعہ بہت اچھی طرح یاد ہے ہمارے گھر کے برابر ایک بڑی سی حویلی تھی جس میں بہت سے افغان بھائی رہا کرتے تھے۔ ہم بچے جب پارک میں کھیلنے جاتے تو اکثر یہ لوگ مل جاتے۔ بہت پیار کرتے، مزے مزے کی کہانیاں سناتے۔ جیب سے میوہ اور ٹافیاں نکال کر کھلاتے۔ کبھی کبھی اپنی حویلی میں بھی لے جاتے۔ میں، میرا بھائی، میری بہن اور ایک کزن سب وہاں جا کر بہت خوش ہوتے۔ بڑی خوبصورت چیزیں جمع کر رکھی تھیں۔ ایک طرف ایک بڑا تنور بنا تھا جس پر گز گز بھر کی لمبی روٹیاں پکاتے تھے۔  دوسری طرف دیگ میں گوشت بنتا تھا،بہت مزیدار۔ پھر دستر خوان بچھا کر کبھی کبھی ہماری دعوت کرتے۔ ہماری یہ دوستی بالکل خفیہ تھی، اماں کو پتا نہیں تھا۔ جیسے ہی اماں کو معلوم ہوا، ایسی ڈانٹ پڑی کہ  آنکھوں کے آگے ستارے چمک گئے۔ اماں اُن سے ڈرتی تھیں۔ حالانکہ جب فسادات شروع ہوئے تو وہ سب ابا کے پاس آئے اور کہنے لگے:''بڑے صاحب آپ بالکل بے فکر رہئے گا، اس طرف سے کسی کو قدم رکھنے کی مجال نہیں ہوگی۔ جو بھی آئے گا ہماری لاش کے اوپر سے گزر کرآئے گا اور کسی بچے کا بال بیکا نہیں ہوگا۔'' ابا نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا کہ بھائی ہمارا تو ٹرانسفر ہوگیا ہے پاکستان، ہم جا رہے ہیں۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ روز آتے۔ تسلی دیتے۔ ان کے پاس بڑی بڑی بندوقیں ہوتی تھیں ہمارے لئے میوے کے تھیلے لاتے تھے۔ بعد میں کئی سال بعد کراچی میں ان سے ایک صاحب نے مجھے پہچان لیا۔اتنے خوش ہو کر ملے، جیسے کوئی بڑا بھائی ملتا ہے۔ میں گھبرا گئی کہ اماں خفا ہوں گی۔اس لئے جلدی جلدی انہیں ٹال کر گھر چلی گئی۔مگر سوچتی ہوں کہ وہ لوگ ہمارے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں؟ بڑا جی چاہتا ہے کہ ٹی وی پر جا کر انہیں یاد دلائوں کہ آپ تو ہمارے دوست تھے، ہمیں گود میں لے کر سڑک کراس کراتے تھے ہمیں ٹافیاں اور میوے کھلاتے تھے۔ آج آپ غیروں کے کہنے میں کیوں آگئے؟ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ مسلمان، مسلمان کے خلاف ہوجائے۔ جان لے لے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو مارتا ہے تو پوری انسانیت کو قتل کردیتا ہے۔ ہم انسان ہیں۔ پھر مسلمان ہیں۔ یہ مذہب تو انسانی فطرت پر ہے اسے جانوروں کی فطرت پر کیوں لارہے ہیں؟
ذرا سوچئے! عید کے دن ہمارے جوان اور افسران تپتی دھوپ میں یونیفارم پہنے سرحدوں کی حفاظت کررہے ہوں گے اور ان کے ماں باپ، بھائی بہنیں، بچے سب کے سب گھروں میں انتظار کی اس کیفیت میں ہوں گے کہ شاید۔۔ ذرا سی دیر ہی کو وہ گھر آجائیں، شکل دکھانے کو۔ گلے لگانے کو، کتنے گھروں کی عید۔۔۔ عیدنہیں رہے گی۔ کتنے دل ویران ہوں گے۔ کتنی آنکھوں میں آنسو ہوں گے۔ لیکن وہ جو سرحدوں پر کھڑے ہوں گے ، ان کے ذہن میں صرف ایک خیال ہوگا۔ کوئی غیر قوم ہماری زمین پر بُری نظر نہ ڈال سکے۔ کسی میں اتنی جرأت نہ ہو کہ وہ اس لکیر کو پار کرسکے۔ورنہ نہ وہ رہیں گے، نہ ہم رہیں گے ۔جوان ہنستے ہنستے کہتے ہیں کہ یار وطن ہے تو ہم ہیں وطن نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اور جب تک جان میں جان ہے خوشیاں منالیں۔ اس مقدس زمین کی آبرو بڑھادیں پھر جو اﷲ کو منظور ہوگا۔۔ اچانک وہ چپ ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک کو گھر اور گھر والے یاد آتے ہیں۔ مگر کوئی ذکر نہیں کرتا۔۔۔ ہنس کر ٹال جاتے ہیں۔ یہ ہیں ہمارے غازی۔۔۔!
آج عید ہے ہمارے کسی جوان کی پیشانی پر شکن نہیں۔ وہ آوازیں دے دے کر اپنوں کو بھی اور دوسروں کو بھی عید مبارک کہہ رہے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ پشت پر کتنی ہی توپیں اور مشین گنیں لگی ہیں ،کسی وقت بھی کوئی بھی جدا ہو سکتا ہے۔ ہوتا رہا ہے جیسے ایک روز قبل اچانک ہی پشت سے ایک گولی آئی اور ایک جوان ہمیشہ کی نیند سوگیا۔اس کی ماں سکتے میں ہے۔ ماں باپ تو ہر لمحہ اپنے بچوں کی خیر کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ مگر جب ان کے دروازوں پرپرچم میں لپٹے ہوئے بیٹے پہنچتے ہیں تو وہ اُف بھی نہیں کرتے۔ بیٹے کی شہادت کی بے عزتی ہوگی۔ خاموشی سے اسے گود میں لے لیتے ہیں اور شکر کرتے ہوئے خدا کے حوالے کردیتے ہیں۔
میرا دل بہت گھبرا رہا تھا۔ پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا۔ اب اندازہ ہوا تو جیسے دل ٹوٹ رہا ہے، وہ بچے تو ہمارے ہی ہیں، وہ افسر تو ہمارے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ کس کے لئے کررہے ہیں اور ہم چین سے خوشیاں منا رہے ہیں۔میں نے ایک دوست کو فون کیا کہ پلیز ذرا اِک چکر لگا کر آئو دیکھو یہ جوان کیاکررہے ہیں۔ کیا حال ہے ان کا۔
رات کو  مجھے بہت بڑا سا میسج ملا''جب عید کا چاند نکلا تو سرحدوں پر ہلچل مچ گئی۔ جوانوںنے آواز لگا کر ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ دعائیں مانگیں۔  ہمارے پڑوسی بھی جانتے ہیں کہ ہمارے جوان نماز بھی باری باری پڑھتے ہیں۔ ایک دستہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو دوسرا مستعد کھڑا ہوتا ہے کہ نجانے کب دشمن وار کربیٹھے۔ یہ خوف آپ کو ہماری طرف سے کیوں نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم امن پسند ہیں۔ امن کے خواہاں ہیں۔ دوسروں کی خوشیوں کو کبھی خراب نہیں کرتے۔ کبھی بلاوجہ حملہ نہیں کرتے۔ ہاں دوسرا وار کرے تو جواب دینے سے گھبراتے بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ زندہ رہ گئے تو غازی کہلائیں گے۔ چلے گئے تو شہادت کا درجہ ملے گا۔ یہ تو ان جوانوں کو اس وقت سے معلوم ہے جب انہوںنے فوجی بننے کے لئے پہلا قدم اٹھایا تھا۔ یہاں تو بڑی مزیدار عید چل رہی ہے۔ سرحدوں پر فوجیموقع پا کردوسرے جوانوں اور افسروں کو مبارک باد دے رہے ہیں۔ پوچھتے ہیں۔ ''بھائی غفور سویاں کھائی ہیں یا نہیں'' غفور جو چوکس کھڑا ہے ہنستا ہے ''ہاں بھئی خوب کھائیں ۔ گائوں سے ایک مائی نے بالٹی بھر سویاں بھجوائی تھیں۔ ہماری تو عید ہوگئی۔'' 
پورا میسج پڑھ کربھی میرا دل اُداس ہے۔ میںنے تاریخ پڑھی ہے ۔ قبل مسیح کی جنگ میں بھی جب جنگ روکنا ہوتی تو سفید پرچم لہرایا جاتا اور دونوں طرف امن ہوجاتا۔ جب تک یہ جھنڈے درمیان میں گڑے ہوتے نہ تو تلوار چلتی نہ بندوق، نہ توپ کا دہانہ کھلتا۔ جنگ کا اصول تو اب بھی وہی ہے سفید جھنڈا امن کے لئے ہوتا ہے۔ مگر اب درندگی بڑھ گئی ہے۔ خون بہا کر خوش رہتے ہیں۔ چاہے بچے کا خون ہو، آدمی کا یا عورت کا۔ انسان کتنا بدل گیا ہے۔ کشمیر کو دیکھ لیجئے، عراق، برما، اوراُن کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں کے نام لے لیجئے۔ خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔روز تصویریں آرہی ہیں۔
 میری صرف اتنی سی استدعا ہے کہ ہر چیز کے، ہر کھیل کے، ہر بات کے کچھ اصول مقرر ہیں جو توڑے نہیں جاسکتے۔ کیا آپ کرکٹ یا بیس بال کے اصول توڑ کر جیت سکتے ہیں۔ اس طرح جنگ کے بھی اصول ہیں۔ ہمارے مذہب میں جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کو مارنا منع ہے۔ یہاں آپ بغیر جنگ کے بھی عورتوں اور بچوں کا خون بہا رہے ہیں۔کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ کب ہم مہذب لوگوں کی طرح بیٹھ کر آپس میں فیصلے کریں گے۔ بات یہ ہے کہ آپ سارے مسلمان کشمیریوں کو ماردیجئے تب بھی کشمیر آپ کا نہیں ہوگا۔ پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو کیا آپ بچ جائیں گے؟ آپ بھی تباہ ہوں گے۔


مضمون نگار ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔

یہ تحریر 99مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP