متفرقات

بابا جانی

 چڑیوں نے آج بھی غلام نبی سے پہلے جاگ کر چہچہانے کی ناکام کوشش کر کے دیکھ لی تھی لیکن غلام نبی کی عبادت کو وہ شکست نہ دے سکی تھیں کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح جائے نماز پر بیٹھا اللہ کے حضور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا گو تھا اس کی التجا اور دعائیں اللہ اور اس کا معاملہ تھا۔ وہ کسی سے بھی اپنے دل کی بات کبھی بھی نہ کہتا تھا، بس ایک اس کی جیون ساتھی ہاجرہ ہی تھی جو اس کے من کو سمجھتی تھی اور خاموش رہتی تھی شاید اس کو بھی خاوند کا پردہ مقصود تھا۔ یہ چھوٹا سا گھرانہ ایک چھوٹے سے گائوں جہان پور میں اپنی زندگی خوشگوار طریقے سے گزار رہا تھا کیونکہ اپنی زمینیں اور اپنے کھیت کھلیان ہونے کی وجہ سے کسی بھی طرح رزق کی کوئی کمی نہ تھی بلکہ سال بعد پورے گائوں میں گندم کی بوریاں تقسیم کی جاتیں اور جن گھروں میں روٹی پکنا بھی محال ہوتا، ان گھروںمیں خاموشی سے راشن کا بندوبست بھی کر دیا جاتا تھا۔ نہ صرف غلام نبی بلکہ اس کا اکلوتا جوان بیٹا حنان بھی سخی دل واقع ہوا تھااور وہ سخی کیوں نہ ہوتا اس کویہ تربیت اس کے ماں باپ کی طرف سے ہی ملی تھی اور وہ اپنی اس تربیت کو اپنی اکلوتی بیٹی پری کے خون میں بھی شامل کر رہا تھا۔ ننھی پری جس کی عمر بہ مشکل چارسال ہوگی، وہ اپنے دادا، دادی اور بابا حنان کی طرح خوش مزاج اور کھلے دل کی مالک تھی۔ وہ اپنے کھلونے اپنے ساتھ کھیلنے والے گائوں کے بچوں میں بانٹ کر خوش ہوتی۔ اس کی ان ادائوں پر دادا تو واری جاتا اور حنان مسکرا کر اس کو دیکھنے لگتا تھا کہ اس میں قربانی کا کتنا جذبہ ہے ۔
''  با با جانی !میں آپ کے جوتے پالش کر دوں؟'' پری جب بھی یہ سوال کرتی تو حنان اس کو گود میں اٹھا کر اپنا گال اس کے آگے کر دیتا کہ وہ اس کے ایک پیاری سی'' مِٹھی'' کرے اور پری کے ایسا کرنے پر وہ خوش ہوتا اور کہتا ، ''بیٹیاں تو بابا کی جان ہوتی ہیں یہ بھلا اچھی لگتی ہیں کہ بابا کے جوتے پالش کریں ؟ '' وہ مسکرا کر بابا سے لپٹ جاتی۔
زندگی اپنی ڈگر پر چلتی چلتی ایک دم سے بے ترتیب ہو گئی۔ ایک فون کال پر حنان کو گائوں چھوڑ کر پورے ملک کی حفاظت کے لئے بلا لیا گیا وہ سپیشل فورس کا کمانڈو تھا۔ اس کی چھٹیاں ابھی باقی  تھیں لیکن بگڑتی ملکی صورت حال کے پیش نظر سب کو ہائی الرٹ کی وجہ سے واپس اپنی پوزیشنوں پررپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔ حنان رات کو اپنے کپڑے پیک کر رہا تھا، پری اس کو بغور دیکھ رہی تھی اس سے رہا نہ گیا وہ ایک شرٹ لے کر ٹھنڈی استری سے ہی اس کو پریس کرنے میں مگن ہو گئی تو حنان نے اس کو گود میں اٹھا لیا ، '' یہ کیا کر رہا تھا میرا بیٹا  ؟''  پری نے حنان کی گال پر اپنی محبت بھری معصوم سی مٹھاس چھوڑی اور بولی ، '' بابا جانی مجھے آپ کے کام کرنا اچھا لگتا ہے ۔ ''  حنان نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس کو اپنی گود سے نیچے اتارتے ہوئے اپنی زوجہ سے بولا ، '' میری بیٹی کا خیال رکھنا۔'' رافعہ نے چونک کر حنان کی طرف دیکھا اور بولی ، '' ہم دونوں بلکہ سب مل کر اس کا خیال رکھ رہے ہیں او ر پھر آپ بھی تو اگلے سال چھٹی پر آئیں گے!!'' حنان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ، '' اگلا سال ۔۔۔۔ '' اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور پھر کہا ، '' زندگی بہت بے اعتبار چیز کا نام ہے ....ایک سانس کی بھی خبر نہیں ہے کہ پھر آئے گی کہ نہیں اور بیگم صاحبہ ایک آپ ہیں کہ پورے ایک سال کی لمبی تاریخ ہی ڈال دی ہے ۔'' 
 دونوں ہی ہنس دیے مگر رافعہ کی ہنسی میں جو دکھ اور غم تھا وہ اس کی آنکھوں سے چھلک کر باہر نکل آیا ۔ حنان نے آگے بڑھ کر اس کو تسلی دینے والے انداز میں اس کا ہاتھ پکڑا اور بولا ، '' پری دیکھے گی تو پریشان ہو جائے گی، میں نے تو بس ایک سر سری سی بات کی تھی۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا میں لوٹ کر آئوں گا، ان شاء اللہ سر خرو ہو کر آئوںگا ، ''
اگلی صبح حنان کے لئے بہت بھاری تھی۔ وہ پری کو اپنی گود سے اتارتا تھا لیکن وہ ضد کر کے دوبارہ اس کی گود میں چڑھ جاتی ، غلام نبی اور ہاجرہ کے ساتھ ساتھ رافعہ بھی اس کو سمجھا رہی تھی لیکن وہ اس شرط پر گود سے نیچے اتری کہ حنان جلدی واپس آئے گا۔ وہ معصوم اپنے ننھے منے ہاتھ حنان کے آگے بڑھا کر بولی۔ '' بابا جانی وعدہ کریں کہ جلدی واپس آئیں گے۔ '' حنان نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر ایک محبت بھرا بوسہ دیا اور بولا ،'' میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی پری سے ملنے جلدی آئوں گا۔ '' پری کو اس کی بات پر شائد یقین نہ آیا تھا۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیلتی رہتی تھی۔ اس نے اپنے تئیں اپنے بابا کو پابند کرنے کے لئے کہا  ''ایسے نہیں آپ اللہ کا وعدہ کریں ۔ ' ' اچھا بھئی ٹھیک ہے کہتے ہوئے حنان نے پری کو بھینچ کر سینے سے لگایا اور اللہ حافظ کہہ کر اپنا سامان اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گیا ۔ غلام نبی بیٹے کے پیچھے گیا اور اس کو گلے لگا کر اس کے کان میں کچھ کہا تو حنان نے باپ کو گلے لگا کر ہاتھ چومے اور پیچھے کھڑی ماں کو سلام کیا اور گاڑی گائوں سے نکل کر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی ۔
حنان کو گئے تیسرا روز تھا کہ حقہ پیتے ہوئے غلام نبی نے پری کو اپنے پاس بلایا، وہ بھاگی چلی آئی دادا کی گود میں بیٹھ کر اس نے پہلا سوال یہی پوچھا ، '' دادا جی ! آپ کی بابا جانی سے کوئی بات ہوئی۔ ؟ '' غلام نبی نے حقے کی گڑ گڑاہٹ میں اس کو چھیڑتے ہوئے کہا ، '' ہاں ہاں ...میری بات ہوئی ہے اپنے بیٹے سے ...'' غلام نبی نے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا، وہ پری کے چہرے کے تاثرات دیکھنا چاہتے تھے، وہ سوگواری اور غصہ سے بولی ، '' اپنے باپ سے بات کرلی ہے بابا جانی نے لیکن اپنی لاڈلی سے بات تک نہیں کی .... میں ناراض ہوں، میں نہیں بولوں گی ان سے بس کہہ دیا میںنے .....''  غلام نبی کو اس لمحہ پری پر بہت پیار آیا تھا وہ ہاتھ نچا نچا کر سیانوں کی طرح حنان کو خیال ہی خیال میں ڈانٹ رہی تھی ۔ لیکن غلام نبی کی طبیعت میں بے چینی عود آئی اور اُسے بھی اپنے بیٹے کی یاد ستانے لگی۔ وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتے اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی پری کے ساتھ باتوں میں لگ جاتے ۔ ابھی دادا پوتی کی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ گھر کے باہر آکر رکنے والی ایمبولینس نے سب کے دل دہلا دیئے ۔غلام نبی حیرت کے جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تو رافعہ اور ہاجرہ بھی گھر کے صحن میں آ گئیں۔ وہ بھی آنے والی ایمبولینس اور ساتھ میں گائوں والوں کے جم غفیر کو دیکھ کر حیران تھیں ۔حنان کا جسد خاکی ایک تابوت میں رکھا گیا تھا۔ چار فوجی جوان اس کے تابوت کو غلام نبی کے سامنے لاتے ہوئے رکھ کر سلامی پیش کر کے ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے تو ہاجرہ بھاگ کر بیٹے کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھی۔ رافعہ کا دوپٹہ سر سے اتر گیا تھا وہ سہا گن سے بیوہ ہو گئی تھی۔ پری خوف زدہ نظروں سے گھر کے سہمے ہوئے ماحول کو دیکھ کر تابوت کے پاس پہنچی تو اس کی نظر تابوت کے اندر سوئے ہوئے مسکرا تے ہوئے حنان پر پڑ گئی لیکن پری کی ہنسی گم ہو گئی تھی وہ یتیم ہو گئی تھی۔ اس کا بابا جانی وطن پر قربان ہو چکا تھا۔ بوڑھا غلام نبی لرزتے کانپتے ہاتھو ں کو تابوت پر پھیر رہا تھا، ہاجرہ کو جیسے ہوش آ گیا ہو، وہ بیٹے کی لاش دیکھ کر زارو زار رونے لگی، رافعہ کو اپنے ننگے سر کا خیال آیا تو وہ دوپٹہ سر پر درست کرتی ہوئی حنان کے پائوں کی طرف تابوت کے پاس بیٹھ گئی۔ پری کو جیسے سب کچھ سمجھ آ گیا تھا۔ وہ آگے بڑھی اور حنان کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے لئے اس کے تابوت کے شیشے پر اپنے ننھے منے ہونٹ رکھ دیئے اور چیخیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ اس کو پتہ چل گیا تھا کہ اس کا بابا جانی اس کے ساتھ اللہ کا کیا ہوا وعدہ نبھانے کے لئے جلدی آ گیا ہے مگر کس روپ میں آیا ہے یہ تو پری نے کبھی چاہا بھی نہ تھا .''  بابا !.... بابا جانی .... پیارے بابا جانی ... مجھے آواز دیں ، میں آپ کو بلا رہی ہوں ... پلیز بابا جانی پلیز... مجھے آواز دیں  ...بابا جانی ....''آن کی آن میں پورا گائوں غلام نبی کے گھر میں جمع ہو گیا تھا۔ مساجد میں اعلان ہو چکا تھا کہ حنان شہادت کا اعلٰی درجہ پاکر عزت و آبرو کے ساتھ سرخرو ہو کر گائوں لوٹا ہے ۔ پری کی آہ و بکا نے سب کے دل دہلا دیئے تھے ۔ 
 پری رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی اس کو غلام نبی دلاسہ دے رہا تھا۔ غلام نبی نے ایک طرف جا کر اللہ کے حضور اپنے سر کو سجدہ کرنے والے انداز میں جھکا دیا اور بولا ۔'' اللہ کریم میں تیری رضا پر راضی ہوں کہ اب میں روز محشر تیرے سامنے ایک شہید کا باپ بن کر فخر سے کھڑا ہو سکتا ہوں ، تیرا شکر ہے میرے مالک کہ تو نے مجھے ایک شہید کا باپ بنادیا ۔'' ا س کا وجود ہولے ہولے ہل رہا تھا وہ اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا جبکہ پری اپنے بابا جانی کے چہرے کو اپنے آنسوئوں سے دھو رہی تھی ۔ 


 [email protected]


 

یہ تحریر 299مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP