شعر و ادب

ظلم رہے اور امن بھی ہو

ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو
 
ہنستی گاتی، روشن وادی
تاریکی میں ڈوب گئی
بیتے دن کی لاش پہ اے دل
میں روتا ہوں تو بھی رو
ظلم رہے اور امن بھی ہو
 
ہر دھڑکن پہ خوف کے پہرے
ہر آنسو پر پابندی
یہ جیون بھی کیا جیون ہے
آگ لگے اس جیون کو
ظلم رہے اور امن بھی ہو
 
اپنے ہونٹ سیئے ہیں تم نے
میری زباں کو مت روکو
تم کو اگر توفیق نہیں تو
مجھ کو ہی سچ کہنے دو
ظلم رہے اور امن بھی ہو
     حبیب جالب

یہ تحریر 44مرتہ پڑھی گئی۔

TOP