متفرقات

اے میری زمیں

میرے وطن!تیرے سبزہ زاروں کی خیر
تیرے چٹیل میدانوں، تیرے کہساروں کی خیر
تیرے گلشن،تیری بہاروں کی خیر
تیرے پھولوں،تیرے گلزاروں کی خیر
ابا!آپ ہمیشہ یہی گانا کیوں گنگناتے ہیں___کہیں بہت قریب سے اک آواز ابھری_____شاہنواز چوہدری نے گھبرا کے سر اٹھایا تو مڈ گارڈ پہ ننھا سا بچہ بیٹھا ٹریکٹر چلاتے چوہدری شاہ نواز سے پوچھ رہا تھا۔
او میرے شیر پتر !یہ گانا کہاں ہے، یہ تو دل کی دعا ہے___چوہدری شاہ نواز نے ہنس کے ننھے ازلان چوہدری کی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
ابا !میں بڑا ہو کر فوج میں جاؤں گا تو پھر آپ کو یہ ٹریکٹر بھی نہیں چلانے دوں گا____کوئی کام نہیں کرنے دوں گا۔
حد نگاہ تک پھیلی زمینوں میں شاہ نواز چوہدری کا بے ساختہ قہقہہ گونجا۔
او میرے کملے پترا !ٹریکٹر چلانا کام تھوڑی ہے یہ تو مٹی کی محبت ہے___دھرتی کا عشق ہے___اور یہ کہتے ساتھ ہی شاہنواز چوہدری پھر سے لہک لہک کے گنگنانے لگا___
میرے وطن !تیرے جاں نثاروں کی خیر
میرے وطن !تیری سرحد کے پہرے داروں کی خیر
میرے وطن! تیری آبرو کی حفاظت کے لئے کوشاں
تیرے بیٹوں، تیری آہنی دیواروں کی خیر
پتر !دھرتی سب کو نہیں پکارتی____بہت ہی کم خوش بخت ہوتے ہیں جنہیں یہ مٹی بلاتی ہے____کبھی جو دھرتی آواز دے تو میرے شیر پتر سوچنا مت، بس چل پڑنا____پھر دیکھنا یہ مٹی تجھے کیسے کیسے بھاگ لگا دے گی____بڑے چوہدری کی کھوئی کھوئی پرجوش آواز ابھر رہی تھی____یوں جیسے وہ کسی اور جہان کی سیر میں محو ہو____یہاں ہو کے بھی یہاں نہ ہو!
اور ننھا ازلان چوہدری یوں محو ہو کر سن رہا تھا جیسے سب کچھ جذب کر رہا ہو آنے والے کل کے لئے____
چل آج میں اپنے شیر پتر کو ایک کہانی سناتا ہوں___اپنی کہانی___ہم پانچ بھائی تھے___ہمارے ابا کو مٹی سے عشق تھا____وہ بھی زمینوں کا سا را کام خود کرتے تھے____وہ اکثر کہتے تھے کہ زمین کو کسی اور ہاتھ کی عادت ہو جائے تو پھر اس میں محبت کی فصل نہیں اگتی اسے رقابت کی ہوا اجاڑ دیتی ہے___اپنی مٹی کو سدا اپنا لمس دو تا کہ اسے کسی غیر کی عادت نہ ہو سکے ورنہ وہ تمہیں پہچانے گی بھی نہیں____لیکن تب میرے ننھے دماغ میں یہ سب نہیں آتا تھا جیسے آج تیرے دماغ میں نہیں آتا____تب میں بھی تیری طرح سانس روکے انہیں ایسے ہی دیکھے جاتا تھا____تب وہ ہنس کہ کہتے کہ چل تجھے ذرا آسان کر کے سمجھاتا ہوں___دیکھ عاشق اور محبوب کے بیچ کوئی تیسرا آ جائے  تو رقیب ٹھہرتا ہے___  اگر تو چاہتا ہے کہ تیری محبت بس تیری ہی رہے تو عاشق بن جا، اتنا پکا عاشق کہ رقیب کا گزر نہ ہو سکے___مٹی کا عاشق بن جا____دھرتی کو محبوب بنا لے لیکن پھر کسی رقیب کا گزرنہ ہونے دینا____دھرتی کو اپنا لمس اتنا دینا کہ ایک دن وہ خود تجھے پکارے____تیری محبت مقبول ہو جائے____اور تب سے مجھے مٹی سے عشق ہونے لگا____دھرتی کی محبت میری رگوں میں لہو بن کے دوڑنے لگی____سب بھائی پڑھ لکھ  کے شہر میں بڑے افسر لگ گئے اور پھر ہمیشہ کے لئے شہر کے ہو کر رہ گئے لیکن میں کبھی اس مٹی کو چھوڑ ہی نہ پایا ____پہلے پہل ان سب نے بہت زور لگایا کہ ابا جی کی وفات کے بعد میں زمین بیچ کر ان کے ساتھ شہر جا بسوں___لیکن میں کیسے چلا جاتا____اپنی مٹی، اپنے ماں باپ کی قبروں کو چھوڑ کر____اور پھر رفتہ رفتہ انہوں نے مجھے کہنا چھوڑ دیا بلکہ مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیا____اور تب سے میں بہت خوش ہوں____روز سویرے سویرے اماں ابا کی قبروں پر جاتا ہوں، دل کی ساری باتیں کرتا ہوں____پھر زمینوں پر آ جاتا ہوں اپنی محبت اپنے عشق کا ثبوت دینے___
اے وطن !ہے آرزو کہ
زیست میں تیرے کسی کام آ سکوں
تو اک بار پکارے اور
میں سو بار آ سکوں
میرا پتر بس تو ایک وعدہ کر مجھ سے____شاہنواز چوہدری نے ننھے ازلان چوہدری کے ہاتھ پکڑ کے آنکھوں سے لگا ئے اور بولا____کبھی جو مٹی نے تجھے پکارا تو تو سوچے گا نہیں بس چل پڑے گا____شاہنواز چوہدری کی آنکھوں میں ادھوری خواہشوں کی لو بہت تیز تھی___جی ابا وعدہ____ننھے ازلان چوہدری نے معصومیت سے وعدہ کیا۔ 
چوہدری صاحب!ساتھ والے گائوں کے نمبردار صاحب آئے ہیں ____کرم دین کی آواز چوہدری شاہنواز کو یادوں کے جنگل سے بڑی حویلی کے صحن میں کھینچ لائی تھی____آں ہاں ہاں بٹھا انہیں میں آتا ہوں___چوہدری شاہنواز نے شیشے کے چوکور ٹکڑے پہ بوسہ دیا اور مردانے  کو چل پڑے۔
ذہن کے پردے پہ اک اور یاد نے انگڑائی لی۔ بڑے چوہدری نے چھوٹے چوہدری کو شہر پڑھنے بھجوا دیا____شہر کی رنگینیوں میں بھی ازلان چوہدری کو وعدہ نہیں بھولا تھا____بڑے چوہدری ہر چھٹی پر اسے گائوں بلا لیتے اور حسب عادت زمینوں پر لے جاتے___شاید یہی وجہ تھی کہ ازلان چوہدری مٹی کی محبت بھول نہ پایا  ____
لوگ آ رہے تھے___ہجوم بڑھتا جا رہا تھا____مبارک ہو چوہدری صاحب____اور یہ لفظ سنتے ہی شاہنواز چوہدری کے ذہن میں ایک اور عکس ابھرا____
سیکنڈ لیفٹیننٹ ازلان چوہدری سر____چھ فٹ سے بھی نکلتا ہوا قد____چوڑا سینہ____شہد رنگ آنکھیں____سیاہ بال____کشادہ پیشانی____وردی میں ملبوس اس کڑیل جوان کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں چوہدری شاہنواز نے نظر اتاری تھی____اور اسے گلے لگانے سے پہلے اپنے اونچے شملے کو سر پہ پھر سے جمایا تھا جس کی اکڑ میں اچانک خوامخواہ ہی اضافہ ہوگیا تھا____میرے شیر پتر تو نے مجھے پھر سے جوان کر دیا ہے____چھوٹے چوہدری کو گلے لگاتے ہوئے بڑے چوہدری کی آنکھوں میں خوابوں کی تکمیل کی لو تھی۔
بڑی حویلی میں لوگوں کا ہجوم تھا اور بڑے چوہدری صاحب کے دماغ میں یادوں کا_____ذہن کے پردے پہ ایک کے بعد ایک نقش ابھرتا چلا جا رہا تھا_____سب کچھ ایسے یاد آ رہا تھا جیسے پھر کبھی یاد نہ آنا ہو۔
ابا !میری پوسٹنگ وزیرستان میں ہو گئی ہے___مٹی نے مجھے پکار لیا ہے ابا____میری محبت مقبول ہو گئی ہے ابا____میرا عشق سچا تھا ابا____دعا کرنا____چھوٹا چوہدری بڑے چوہدری کے ہاتھ تھامے قدموں میں بیٹھا چمکتی آنکھوں سے پرجوش لہجے میں کہہ رہا تھا۔
میرے محبوب وطن!
میری محبت
میرے شوق کا کبھی
امتحان تو لے!
سلامت رہ میرے شیر پترا____پر اگر کوئی ایسا وقت آ گیا کہ دھرتی کی سلامتی اور اپنی سلامتی میں سے کسی ایک کو چننا پڑا تو دھرتی کی سلامتی چننا میرا پتر____دھرتی سب کو نہیں پکارتی____اور اگر مٹی نے تجھے پکارا تو فوراً چل پڑنا، سوچ میں پڑ گیا تو دھرتی روٹھ جائے گی___بڑے چوہدری نے چھوٹے چوہدری کی پیشانی پہ مہرِ محبت ثبت کرتے ہوئے کہا۔
فون کی گھنٹی جانے کب سے بجتی ہی جا رہی تھی____بڑے چوہدری کا دل کل رات سے دھڑک دھڑک جاتا تھا____کرم دین کدھر مر گیا ہے فون کیوں نہیں اٹھا رہاکہنے کے ساتھ ہی بڑے چوہدری خود فون کی جانب لپکے____
چوہدری صاحب چھوٹے چوہدری کے افسر آئے ہیں آپ سے ملنے____کرم دین کی آواز پر چوہدری شاہنواز کے فون کی جانب بڑھتے قدم رک گئے اور دل نے یک لخت صدا دی____مولا خیر___چل تو فون دیکھ میں مردان خانے جاتا ہوں
السلام علیکم چوہدری شاہ نواز صاحب____میں لیفٹینٹ کرنل شجاع ہوں____کیپٹن ازلان چوہدری کا یونٹ آفیسر۔
ست بسم اللہ کرنل صاحب بیٹھیں بیٹھیں____بڑے چوہدری کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے لیکن پھر بھی مہمان افسر کی شایانِ شان مہمان نوازی جاری تھی____
ازلان گزشتہ دو سال سے میرے ساتھ تھا____''تھا'' کا لفظ سن کے باپ کا دل کانپ اٹھا____میرا مطلب ہے کہ____کرنل صاحب نے فوراً بات سنبھالی___آہ !کتنا دشوار ہوتا ہے کسی باپ کو اس کے اکلوتے جواں سال بیٹے کی شہادت کی خبر دینا____کرنل شجاع نے بہت سے آنسو دل میں گرائے اور پھر سے لفظ جوڑنے لگے____
چوہدری صاحب چائے تیار ہے اور کھانا بس تھوڑی دیر میں تیار ہو جائے گا____کرم دین کی آمد نے نا محسوس انداز میں دونوں نفوس کو اذیت ناک لمحوں سے وقتی رہائی دی____
نہیں چوہدری صاحب بس چائے کافی ہے، کھانے کا تکلف مت کریں مجھے جلدی جانا ہے____کرنل صاحب نے کہا۔
نہیں نہیں کرنل صاحب! آپ میرے ازلان کے افسر ہو، کیسے ہو سکتا ہے کہ حویلی سے کچھ کھائے پیئے بغیر جانے دے دوں____بڑے چوہدری کے لہجے میں بیٹے کی محبت کے سمندر نے کرنل صاحب کے لفظوں کو مزید توڑ دیا تھا____
چوہدری صاحب وزیرستان آپریشن کے لئے ازلان نے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا تھا____کرنل صاحب نے بات شروع کرنے کی ایک اور کوشش کی____اور یہ یقینا اس کی وطن سے محبت کی انتہا تھی ہمیں اس پہ فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا_____

کرنل صاحب بہت محتاط ہو کر بات کر رہے تھے لیکن باپ کے دل کو تو الہام ہو جاتا ہے اور یہ الہام تو چوہدری شاہ نواز کے دل کو کل رات ہی ہو گیا تھا____جب مورچہ سنبھالے دشمن پہ دیوانہ وار قہر بن کے ٹوٹتے کیپٹن ازلان چوہدری کی پیشانی پہ سنائپر کی گولی لگ کر دماغ کے پچھلے حصے کے پار ہوئی تھی تو عین اس لمحے چوہدری شاہنواز اپنے کمرے کے اک کونے میں بچھی جائے نماز پر سجدے میں گرے بیٹے کی سرخروئی کی دعا مانگ رہے تھے____وہ لمحہ قبولیت کا تھا____دعا مجسم ہو گئی تھی____اور ایک باپ کے دل کو اسی لمحے الہام ہو گیا تھا____
ان عنایات کے صلے میں
اور کچھ نہیں تو
میری جان ہی لے!
کرنل صاحب میرے بیٹے کو گولی سینے پہ لگی ہے یا پیٹھ پہ____وہ لڑتا ہوا شہید ہوا ہے یا جان بچا کے بھاگتے ہوا مارا گیا____چوہدری شاہ نواز نے کرنل صاحب کی جانب عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کرنل صاحب باپ کے دل کو اچانک تکلیف سے بچانے کے لیے لفظ جوڑتے رہ گئے اور باپ نے شفقتِ پدری کو مٹی کی محبت پر قربان کر دیا____
وہ بہادری سے لڑا چوہدری صاحب___اس نے وہ کیا جو کوئی اور نہ کر پاتا___اس نے اپنی پیشانی پہ گولی کھا کے وطن کا سر جھکنے سے بچا لیا ____
بڑے چوہدری کے منہ سے بے اختیار نکلا ''الحمدللہ''____شکر کے دو آنسو چوہدری شاہنواز کی پلکوں کے بند توڑ کر نکلے اور دامن میں جذب ہو گئے____صد شکر میری مٹی نے میری محبت قبول کر لی!
کرنل صاحب جتنے بھاری دل کے ساتھ آئے تھے اس سے کہیں زیادہ حوصلہ لے کر جا رہے تھے____جس دیس کے ایسے جری والدین ہوں اس دیس میں کیپٹن ازلان چوہدری جیسے بیٹے ہی پیدا ہوتے ہیں!
بڑی حویلی میں لوگوں کا ہجوم بڑھتے بڑھتے زمینوں تک پھیل گیا تھا____بالکل ویسے ہی جیسے بڑے چوہدری صاحب کے دل و دماغ میں یادیں پھیلی تھیں____
ایک باوردی افسر بازوئوں پہ سبز ہلالی پرچم اٹھائے چوہدری شاہنواز کے سامنے کھڑا ماضی سے حال میں کھینچ لایا تھا____چوہدری صاحب نے بڑی محبت بڑے حوصلے سے وہ پرچم تھاما اور چوم کے آنکھوں سے لگا کر سینے سے لگایا____اور سامنے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا اک جسدِ خاکی تھا____جو مٹی کی محبت میں سونا ہو گیا تھا!
باوردی دستہ سلامی دینے کو تیار کھڑا تھا____لوگوں کا اک سمندر تھا جو سنبھلتا نہ تھا____اور چوہدری شاہنواز کی زمینوں کے عین وسط میں سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے پرچم میں لپٹا کیپٹن ازلان چوہدری شہید محو آرام تھا____مٹی کا عشق جیت گیا تھا____دھرتی کی محبت کا حق ادا ہو گیا تھا!
زندگی تجھ پہ نثار کروں
مجھے یہ اعزاز ہی دے
اک بار ہی سہی
مجھے آواز تو دے
مجھے آواز تو دے____!!!


[email protected]

یہ تحریر 79مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP