متفرقات

ایک مزدور کی زندگی 

گاڑیوں کے آگے پیچھے بھاگ کرکباب تکوں کا آرڈر لینے والے بچے، گھروں میں ٹیوشن پڑھاکر خرچہ چلانے والے نوجوان، کسی پرائیویٹ فرم میں سیلز مین کی ملازمت کرنے والے افراد ، دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور  یا تندور پر روٹیاں لگانے والے محنت کش۔۔۔۔۔۔۔یہ اور اس طرح کے کروڑوں لوگ اس ملک میں روزانہ صبح اپنے گھروں سے نکلتے ہیں ، اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لئے خون جلاتے ہیں ، آندھی ہو یا طوفان یہ لوگ کسی قسم کی چھٹی افورڈ نہیں کرسکتے کیونکہ اگر یہ چھٹی کریں گے تو زندگی سے ہی ان کی چھٹی ہو جائے گی ، یہ بیمار ہونے کی عیاشی بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی جیب  انہیں نزلہ زکام سے زیادہ کسی بیماری کی اجازت نہیں دیتی۔ جس دن ان کے جسم میں توانائی نہیں رہے گی ، جس دن ان کا مالک انہیں کسی بھی وجہ سے کھڑ ے کھڑے نوکری سے فارغ کر دے گا ، جس دن انہیں دہاڑی نہیں ملے گی یاجس دن یہ کسی بیماری کی وجہ سے کام کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ، اس دن  انہیں کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ اب گزر بسر کیسے ہوگی ، بیماری کا خرچہ کون اٹھائے گا ، بچوں کی فیس کون دے گا ، زندگی کی چکی کیسے چلے گی ! کیونکہ بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں جہاں ہر برس چالیس لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں  اور جو بہت جلد سب سے زیادہ آبادی والے ملک کا تاج اپنے سر پر سجا لے گا ، ریاست کے پاس اتنے روپے نہیں  ہیں کہ وہ ان کروڑوں لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے بارے میں سوچے ۔ ایسے میں یہ لوگ کہاں جائیں ! اگر ان سب کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینکنا ممکن ہوتا تواب تک اس ملک کی اشرافیہ یہ کام کر چکی ہوتی لیکن اس کام کے لئے بھی چونکہ پیسہ چاہئے سو اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔تو ان حالات میں کیا ایسا کوئی طریقہ ممکن ہے جسے بروئے کار لا کر ریاست ان لوگوں کی بنیادی ضروریات کا تحفظ یقینی بنا سکے ؟ایک طریقہ ہے ۔



ایک ایسے نوجوان کے بارے میں فرض کریں جو ایک ریستوران میں ویٹر کا کام کرتا ہے ، اس کا کام گاڑیوں کے آگے پیچھے بھاگ کر آرڈر لینا ہے ، مالک نے اس کی تنخواہ بارہ ہزار مقرر کر رکھی ہے ، جو اسے روزانہ کی بنیاد پر ملتی ہے ، یعنی جس روز اس کی چھٹی اس روز تنخواہ کی بھی چھٹی ، البتہ گاہک اگر  بخشیش وغیرہ دیں تو وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یوں کل ملا کر وہ مہینے میں سترہ اٹھارہ ہزار کما لیتا ہے بشرطیکہ مالک اس کی تنخواہ نہ روکے ، وہ کسی روز بیمار نہ ہو اور کوئی چھٹی نہ کرے۔اس قسم کے بندو بست میں وہ غریب اپنی روزی تو کما رہا ہے مگر اسے کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ۔ اس قسم کے کروڑوں لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت ایک کام ایسا کر سکتی ہے جس میں پیسے سے زیادہ ریاست کی عملداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ، اور وہ کام ہے لیبر قوانین کا نفاذ۔اس وقت ملک میں بھانت بھانت کے لیبر قوانین لاگو ہیں ، آئین پاکستان بھی مختلف قسم کی ضمانتیں دیتا ہے جن میں جبری مشقت کی ممانعت ، چودہ برس سے کم عمر بچوں سے کام لینے کی پابندی ، مزدوری کے اوقات کا تعین ، کم سے کم  اجرت کا قانون، ورکر ویلفیئر فنڈ سے ملازمین کے علاج معالجے اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کا قانون ، لیبر عدالتیں اور نہ جانے کیا کیا۔ لیکن ریاست کے ہر ادارے اور اس ملک کے ہر شہری کی آنکھوں کے سامنے ان قوانین کی دھجیاں روز اڑتی ہیں ، فیکٹریوں دکانوں میں بچے کام کرتے ہیں ، کم سے کم اجرت پر۔ عمل کرنے کا حال یہ ہے کہ  یہاں دنیا کی سب بڑی برگر کمپنی کی چین بھی اپنے ملازمین کو وہ اجرت نہیں دیتی جو ریاست نے مقرر کر رکھی ہے اور  اس کا طریقہ انہوں نے یہ نکالا ہے کہ براہ راست بھرتی کرنے کے بجائے یہ اور اس نوع کی دیگر کمپنیاں کسی دوسری کمپنی سے لیبر کی فراہمی کا کنٹریکٹ کر لیتی ہیں تاکہ ان پر کسی قسم کی ذمہ داری عائد نہ ہو، اور رہی بات سیٹھ کمپنیوں کی تو وہاں حال یہ ہے کہ سیٹھ صاحب کسی کی بیاہ شادی یا غمی کے موقع پر اپنی جیب   سے امداد کر دیتے ہیں تاکہ ملازمین کہہ سکیں کہ صاحب دل کا بہت اچھا ہے مگر سیٹھ یہ پیسے مزدور کو اس کے حق کے طور پر دینے کو تیار نہیں ، ویسے بھی امداد کو زکوٰة کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے ، لیبر لاز پر عمل کرنے کا کیا خاک فائدہ! اب اسی نوجوان ویٹر کے بارے میں دوبارہ فرض کریں کہ اس کا مالک اسے قانون کے مطابق کم از کم اجرت پندرہ ہزار  روپے ماہانہ ادا کرتا ہے ، اس کے علاوہ اسے سال میں کم از کم چودہ دن کی paid leaveکی سہولت بھی میسر ہے ، اگر وہ بیمار  ہو جائے تو اس کی انشورنس کمپنی ایک لاکھ روپے تک کا خرچہ برداشت کرتی ہے ، ملازمت سے برخاستگی کی صورت میں اسے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جاتی ہے اور بیس برس کام کرنے کے بعد اس کے پاس اتنے روپے جمع ہو جاتے ہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی عزت سے کھا سکے توکیا اس نوجوان اور اس جیسے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب نہیں آ جائے گا! دو اقدامات کرنے سے یہ انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ، پہلا، حکومت لیبر قوانین پر پوری ریاستی قوت کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنائے ، کوئی بھی شخص جو کہیں بھی مزدوری یا ملازمت کرتا ہو، دکان ہو یا فیکٹری ، سیٹھ ہو یا کمپنی، اس کا ایک کھاتا سوشل سکیورٹی کے محکمے کے پاس کھل جائے جہاں سے اسے سوشل سکیورٹی نمبر جاری کر دیا جائے ، اس کی ماہانہ تنخواہ سے دس فیصد کٹوتی کرکے ایک فنڈ میں ڈال دیا جائے اور آجر بھی اس فنڈ میں دس فیصد حصہ ڈالے ، یوں ہر ماہ تنخواہ کی بیس فیصد بچت ہو ۔ دوسرا کام حکومت یہ کرے کہ بیمہ کمپنیوں سے معاہدے کرے ، ہر تنخواہ دار بندے کی یہ بیس فیصد بچت انشورنس کی مد میں جائے جس کے عوض اسے بیماری کے خلاف تحفظ ملے ، حادثاتی موت کی صورت میں اس کے پسماندگان کو بھاری معاوضہ ادا ہو یا پھر پندرہ بیس برس کی مخصوص مدت کے بعد اسے اس کی بچت بمع منافع وصول ہو جائے ۔ پاکستا ن میں بے شمار بیمہ کمپنیاں دین کے اصولوں کے مطابق یہ سہولت فراہم کر رہی ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سہولت کو غریب مزدور کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے ۔ یہ درست ہے کہ ملک میں اس وقت ورکر ویلفیئر فنڈ اور سوشل سکیورٹی کے ادارے قائم ہیں مگر وہ اس طرح مربوط انداز میں کام نہیں کر رہے اور نہ ہی ہر ملازمت پیشہ مجبور آدمی ان سے استفادہ کر سکتا ہے ۔ یہ نظام پورے یورپ میں رائج ہے اور وہ اس کے ثمرات نہایت کامیابی سے عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی ہر کام کی مکمل ذمہ داری حکومت نہیں نبھا سکتی ، اس کے لئے نجی شعبے کا تعاون درکار ہوتا ہے ۔ پاکستان میں بیمہ کمپنیاں اور سوشل سکیورٹی کا محکمہ اگر یہ نظام اپنالے تو عوام کے ایک بڑے طبقے کے دلدر دور ہو سکتے ہیں ۔ اس ضمن میں علمائے کرام بھی اپنا کردار ادا کریں اور آجروں کو وہ  حدیث یاد دلائیں جس میں رسول اللہ  ۖنے مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم دیا ہے ۔ جو لوگ رسول اللہۖ کے اس واضح حکم پر عمل نہیں کرتے ،کیا  ان کی نماز اور حج  قبول ہو سکتا ہے ؟ہے کوئی عالم دین جو اس پر روشنی ڈالے!


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP