ہلال نیوز

ایک دن ''اپنی فوج'' کے ساتھ

دنیا کی کوئی بھی فوج اپنی عوام کے تعاون کے بغیر کامیابی کا خواب پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی قطع نظر وہ خود کو جتنا بھی مضبوط تصور کرتی ہو۔ پاکستان کے عوام اور فوج کا رشتہ ہمیشہ سے محبت اور اعتماد کے ستونوں پر قائم ہے۔ پاک فوج نے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ جب دشمن اس قوم کو پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کے ساتھ شکست نہ دے سکا تو اُس نے ففتھ جنریشن وار فیئر کے ذریعے اسے نشانہ بنانا شروع کردیا۔ جنگ کی اس صورت میں دشمن عوام، فوج اور دیگر اداروں کو تقسیم کرنے والے ہر حربے کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کو شکست دینے کا عزم رکھتا ہے۔ حال ہی میں انڈین کرونیکلز نے ان مذموم عزائم اور حرکات کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کردیا ہے۔ عوام کو ایک طویل مدت سے بے بنیاد اور جھوٹی اطلاعات کے ذریعے فوج سے متنفر کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ انٹرنیٹ اور سائبر سپیس ان کے پھیلائو کے لئے ایک کلیدی میڈیم ہیں۔ ان حملوں کا سب سے بڑا نشانہ ہماری نوجوان نسل ہے اس لئے اس امر کو ضروری گردانہ گیا کہ فوج اور نوجوان نسل کے ذہنوں کا ربط بڑھایا جائے۔ اس سلسلے میں 16 ( ابابیل) ڈویژن نے بالائی سندھ کے سات اضلاع کے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے لئے ''ایک دن فوج کے ساتھ'' کا سلسلہ مرتب کیا۔ اس پروگرام کے تحت متعدد اداروں کے اساتذہ اور طلباء کو پنو عاقل کینٹ اور مشقی علاقے کا دورہ کرایا گیا۔



اس پروگرام کے تحت جن یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات نے دورے کئے ان میں آئی بی اے یونیورسٹی سکھر، غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر،گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، گورنمنٹ ڈگری کالج پنو عاقل، مہران پبلک سکول اور کالج پنو عاقل،گورنمنٹ مراد ہائی سکول گمبٹ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، آئی بی اے کمیونٹی کالج جیکب آباد، گورنمنٹ ڈگری کالج جیکب آباد، بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کیمپس نوشہرو فیروز، یونیورسٹی آف سندھ کیمپس نوشہرو فیروز، شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور، گورنمنٹ ڈگری کالج شکارپور، گورنمنٹ کمپوزیٹ ڈگری کالج، کے ایس کے، گورنمنٹ ڈگری کالج، کے ایس کے،گورنمنٹ ڈگری کالج (بوائز) گھوٹکی، گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج فار ویمن سکھر، گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج فار ویمن سکھر، گورنمنٹ ڈگری کالج لاڑکانہ اور آرمی پبلک سکول پنو عاقل کینٹ شامل ہیں۔
دو ہفتے سے زائد پر محیط اس پروگرام میں تقریبا دو ہزار طلباء نے ایک دن فوج کے ساتھ بسر کیا۔ دن کا آغاز پاکستان چوک میں یادگار شہداء پر سلامی سے کیا گیا۔ طلباء نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ملک کی سلامتی کے لئے دعا کی۔ اس کے بعد جنرل آفیسر کمانڈنگ 16 ڈویژن میجر جنرل غلام شبیر ناریجو نے طلباء سے فوج کے کردار، تربیت اور تیاری کے بارے میں بات چیت کی۔ ملک میں دہشت گردی، بدامنی اور مایوسی کے پھیلائو کی وجوہات اور سکیورٹی فورسز اور دیگر اداروں کی انہیں شکست دینے میں لازوال قربانیوں کو اُجاگر کیا۔ دشمن کی ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں اور کاوشوں پر اپنا عمیق تجزیہ پیش کیا۔ خطے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور بین الاقوامی طاقت کی سیاست اور اس کے پاکستان پر اثرات پہ روشنی ڈالی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ نے ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر فرد کے کردار کو اہم قرار دیا خصوصاً قوم کی ترقی و سا  لمیت میں نوجوانوں کے کردار کی اہمیت بھرپور طریقے سے اجاگر کی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے فوج کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا بے نقاب کیا اور ان کے پس منظر اور خطرناک عزائم سے طلباء کو آگاہ کیا۔ آخر میں شرکاء کے سوالات اور خیالات کو تفصیلاً زیر بحث لایا گیا۔



 دریں اثناء طلباء کے دو گروپس کو صالح پت فیلڈ فائرنگ رینج پر فوجی مشق بھی دکھائی گئی۔ 3 مارچ 2021 کو لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم، کمانڈر 5 کور نے بھی مشقی علاقے میں اپنے دورے کے دوران طلباء سے ملاقات کی۔ دن کے آخری حصے میں طلباء کو عسکری ہتھیاروں، ٹینکوں، گاڑیوں اور دیگر سازو سامان کی نمائش دکھائی گئی۔ اس دوران پنو عاقل سلیکشن و ریکروٹمنٹ سینٹر کا معلوماتی ڈیسک طلباء کی توجہ کا خاص مرکز بنا رہا۔ طلباء نے تجسس کے ساتھ زمانہ جنگ اور امن میں سپاہیوں کے معمول کے بارے میں استفسار کیا اور مادرِ وطن کو درپیش ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے کے جذبے کو تہہ دل سے سراہا۔ طلباء نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو شکست دینے میں پاک فوج تنہا نہیں بلکہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ طلباء نے اس دن کو اپنی زندگی کا یادگار دن قرار دیا، فوج سے اپنی محبت کا والہانہ اظہار کیا اور اس طرح کے پروگرامز کے باقاعدگی سے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا۔
بلاشبہ یہ را بطہ قائم اور مضبوط کرنے کی جو ضرورت اب ہے شاید ہی کبھی پہلے تھی۔ ان اذہان کو آلودہ کرنے کی جو سازش دشمن رچا رہا ہے اسے شکست دینے کا سب سے بڑا ہتھیار فوج اور عوام کا بلاتعطل رابطہ ہی ہے۔
 

یہ تحریر 166مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP