متفرقات

ایف سی بیتی 

مزاح نگاری پاک فوج کے لکھنے والوں کی محبوب صنف رہی ہے ۔ فوجی بیرکس میں بھی کچھ ایسے زندہ دل کردار ہوتے ہیں جن کی چلبلی حرکتوں سے ان کے ساتھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور گھروں سے دوری کے اس ماحول میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے ۔ فرنٹیئر کور بلوچستان ملک کی سب سے بڑی سول آرمڈ فورس ہے ۔ ایف سی کے جوانوں کی پیشہ ورانہ زندگی بھی پاک آرمی کے جوانوں سے قریب تر ہے ۔ ایف سی کے ایک جوان کی یادداشت پیش خدمت ہے۔ اس کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ آرمی اور ایف سی کا ماحول اور کردار ملتے جلتے ہیں ۔ بیان کیے گئے کرداروں کے نام فرضی ہیں ۔
فوجی زندگی کے پہلے ہی دن اشفاق سے ایسا لطیفہ سرزد ہوا کہ پھر لطائف کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ چل پڑا ۔ وہ نئی نویلی مائع لگی استری شدہ وردی زیب تن کیے فالن میں کھڑا تھا ۔ جب سامنے کھڑے سی ایچ ایم کی نظر اس کی نیم پلیٹ پر پڑی ۔ "سردار اشفاق احمد خاں لغاری" اردو میں کنداں تھا ۔ "اوئے نمونے! کہاں سے شکل اٹھائے آگیا ہے؟ تجھے پتا نہیں وردی کی نیم پلیٹ ہمیشہ انگریزی میں لکھی ہوتی ہے اور صرف سنگل نام ہوتا ہے؟" ۔سی ایچ ایم (کمپنی حوالدار میجر) نے اپنے مخصوص لہجے میں ڈائیلاگ بولا ۔ " آئی ایم اشفاق فرام ڈی جی خان سر! مجھے پتا نہیں تھا ۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی"۔ اشفاق نے ادھر ہی کھڑے کھڑے وردی کی جیب کا بٹن کھول کر دوسری نیم پلیٹ نکالی اور تبدیل کر دی۔ جس پر انگریزی میں سردار لکھا تھا ۔ یہ دیکھ کر سی ایچ ایم طیش میں آگیا اور اشفاق کو فال آئوٹ کر کے ڈڈو(frog) چال کیری آن کر دیا ۔ اس خاطر تواضع کے بعد سی ایچ ایم نے اسے ہدایت دی کہ نیم پلیٹ پر اصل نام کا پہلا یا دوسرا حصہ لکھوا سکتے ہیں اور قوم، قبیلہ، لمبا نام اور اردو لکھائی نہیں ہوتی ۔
اشفاق کا گھر چار صوبوں کے سنگم ڈیرہ غازی خان کے ایک گائوں میں تھا۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی تو روزگار کی تلاش شروع کردی۔ گائوں کے رہائشی زیادہ تر لوگوں نے فرنٹیئر کور(ایف سی) بلوچستان میں ملازمت اختیار کر رکھی تھی۔ اشفاق بھی ان سے متاثر ہو کر ایف سی بلوچستان میں بھرتی ہو گیا۔ ٹریننگ سینٹر لورالائی میں فوجی تربیت مکمل کرنے کے بعد اشفاق کو ایف سی ای ایم ای(ورکشاپ)میں الیکٹریشن ٹریڈ ملا۔ پاک ایران سرحد کے قریب ایک یونٹ خاران رائفلز میں اس کی پہلی تقرری ہوئی۔
 خاران رائفلز کا ہیڈ کوارٹر نوکنڈی میں تھا ۔ یہ وہی یونٹ تھی جس کی فیملی کالونی میں اشفاق کے بچپن کے کچھ سال گزرے تھے۔ اس کے والد اس یونٹ کے بی ایچ ایم(بٹالین حوالدار میجر) رہ چکے تھے ۔ یوں ایف سی اشفاق کی خاندانی فورس تھی ۔ پاسنگ آئوٹ کے بعد ملنے والی چھٹی کے بعد اشفاق گھر سے یونٹ روانہ ہوا ۔ سپاہی اشفاق نے چھٹی کے دوران پیشہ ورانہ زندگی کے لئے تیاری مکمل کر لی تھی۔ صرف وردی کے اوپر چھاتی پر سجانے کے لئے نیم پلیٹ کی کمی تھی ۔ وہ اپنے شہر میں موجود نیم پلیٹیں تیار کرنے والی ایک دکان پر گیا ۔ اس نے دو مختلف نیم پلیٹیں تیار کروالیں ۔
 طویل سفر طے کرنے کے بعد جب وہ یونٹ پہنچا تو ایف سی کی روایت کے مطابق اس کا خوب خیر مقدم ہوا ۔ بہت سے سینیئرز جو اس کے والد کے ساتھ رہ چکے تھے انہوں نے اشفاق کے لیے ٹی بریک اور کھانے کا اہتمام کیا ۔ اب وہ ریکروٹ سے پکا سپاہی بن چکا تھا ۔ کچھ دن ریکروٹ بیرک میں گزارنے کے بعد وہ ورکشاپ چلا گیا ۔ انوکھی حرکتوں کی وجہ سے اشفاق جلد ہی مشہور ہو گیا تھا۔ ایک دن گاڑی پر کام کے دوران حوالدار نے اشفاق کو بتایا ۔ "ٹول باکس سے دس کا پانا(سپانر) لے آ" ۔ اشفاق نے اپنے  جواب میں کہا۔  "اگر دس کا نہ ملے تو پانچ پانچ کے دو لے آئوں"؟  حوالدار نے جواب میں فوجی طریقہ استعمال کرتے ہوئے پہلے اشفاق کو گیراج کی دیوار کے ساتھ لیگز اپ کیا اور پھر اشفاق کو سپانرز کے نمبر سمجھائے ۔
کچھ عرصے بعد اشفاق ابتدائی پیشہ ورانہ کورسز کے لئے ای ایم ای سینٹر کوئٹہ روانہ ہو گیا ۔ ایک سال بعد یونٹ واپسی ہوئی تو اس کا تبادلہ ٹریننگ سینٹر لورالائی کی ایل اے ڈی ورکشاپ میں ہو چکا تھا ۔ ہانڈی والی سسٹم ایف سی کی پرانی روایت ہے ۔ اشفاق کی نئی ہانڈی والی میں بلیک سمتھ ٹریڈ کا ایک نائیک رفیق تھا۔ جو سخت فوجی طبیعت کا آدمی تھا اور اشفاق ٹھہرا تھا ڈاجر سپاہی ۔ ادھر سینٹر میں ایک جی ڈی حوالدار لطیف تھا ۔ جو کیٹیگری سی تھا ۔ دن رات فارغ ہوتا تھا اور چغلی اور لگائی بجھائی اس کا من پسند مشغلہ تھا ۔ سردیوں کی ایک شام اشفاق سی او ہائو س کے سامنے ڈیوٹی پر کھڑا تھا ۔ لطیف ادھر آ دھمکا اور اشفاق سے رفیق کے متعلق پوچھنے لگا ۔ "اشفاق میاں! سنائو رفیق تنگ تو نہیں کر رہا" ۔ اشفاق نے دانستہ طور پر جان چھڑانے کے لیے گلے میں ڈالی جی تھری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "ایسا ویسا تنگ کر رہا ہے ۔ دل تو کرتا ہے اس جی تھری سے فائر مار دوں۔" یہ سننا تھا کہ لطیف وہاں سے کھسک گیا ۔ وہ سیدھا رفیق کے پاس پہنچا اور اسے اشفاق سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ۔ رفیق نے یہ سنتے ہی ایس ایم(صوبیدار میجر) صاحب کو رپورٹ پیش کر دی ۔ ایس ایم صاحب نے رپورٹ ونگ کمانڈر صاحب کو فارورڈ کر دی ۔ ونگ کمانڈر ( میجر صاحب) نے ایس ایم صاحب، جے اے صاحب، بی ایچ ایم اور آر پی حوالدار پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی اور ہدایت کی گئی کہ انتہائی احتیاط سے اشفاق سے ہتھیار لے کر کوارٹر گارڈ میں بند کر دیا جائے ۔ باقی کارروائی صبح ہو گی ۔ادھر پلاٹون کے ایک سپاہی نے فون پر اشفاق کو سارے معاملے سے آگاہ کر دیا ۔
 اسی اثنا میں سی او صاحب معمول کی چہل قدمی کے لیے بنگلے سے باہر آئے اشفاق نے ٹھک کی آواز سے پائوں زمین پر مارا اور سیلوٹ کیا ۔ "ہاں بچو! کوئی خاص بات ہے؟" ۔ اشفاق نے ساری صورت حال سے مختصرا آگاہ کیا ۔ تو سی او صاحب نے یقین دلایا کہ تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔ اشفاق اور سی او صاحب کا مکالمہ جاری ہی تھا کہ ونگ کمانڈر صاحب بھی پہنچ گئے ۔ لیکن سی او صاحب نے کمان کے کمال ٹیکٹس استعمال کرتے ہوئے اشفاق کے ساتھ جاری گفتگو کا رخ اچانک موڑ دیا ۔ انہوں نے میجر صاحب کے سامنے یہ ظاہر کیا وہ گویا اشفاق والے معاملے سے بے خبر ہیں ۔ میجر صاحب کے بتانے پر سی او صاحب نے کہا ۔ "کوارٹرز گارڈ میں بند ہر گز نہ کریں ۔ البتہ اشفاق کو ڈیوٹی سے کلوز کر لیجیے اور صبح اشفاق اور رفیق دونوں کو میرے دفتر میں پیش کیا جائے"۔
 سی او صاحب کی ہدایات کے مطابق اشفاق کی جگہ پر دوسرا سنتری آگیا اور وہ ہتھیار جمع کروانے کے بعد آرام سے اپنے کمرے میں جا کر سو گیا ۔ اگلے دن صبح سپاہی اشفاق اور نائیک رفیق تیار ہو کر سی او صاحب کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے ۔ سی او صاحب نے دونوں کو اندر بلا بھیجا ۔ ساتھ ہی ونگ کمانڈر صاحب اور صوبیدار میجر صاحب بھی موجود تھے ۔ سی او صاحب نے باری باری دونوں سے جھگڑے کی وجہ دریافت کی ۔ پہلے نائیک رفیق کی باری تھی اس نے شکایت کی کہ اشفاق بلا اجازت بازار گیا تھا ۔ واپس آیا تو میں نے سرزنش کی تو یہ بھڑک گیا ۔ اس کے بعد جب اس نے گارڈ ڈیوٹی کے لیے ہتھیار نکالا اور مجھے قتل کی دھمکی دے بھیجی۔ "
اشفاق نے باری آنے پر بتایا " سر! بازار میں اور لانس نائیک عادل دونوں گئے تھے ۔ قانونی طور پر میں استاد رفیق کو جواب دہ نہیں تھا ۔ انہوں نے عادل سے پوچھنے کی بجائے میری سرزنش کی ۔ جہاں تک دھمکی کا تعلق ہے وہ بات بھی درست نہیں ہے ۔ دراصل میں کیٹیگری سی حوالدار لطیف کو چیک کر رہا تھا ۔ یہ شخص سرکاری فرائض کے لیے کیٹیگری کا سہارا لیتا ہے اور کہتا ہے میرا دماغ کمزور ہے مگر شرارت اور فساد کے لیے اس کا دماغ ٹھیک ہے ۔ ثابت ہوا کہ اس نے بہانہ بنا رکھا ہے" ۔
 اشفاق کی بات سن کر سی او صاحب نے حوالدار لطیف کی کیٹیگری سی ختم کر دی اور نائیک رفیق کو بھی وارننگ جاری کردی اور اشفاق کو شاباش دی ۔ اب اشفاق این سی او بن چکا ہے ۔ وہ اور اس کے ساتھی آج بھی گزرے ہوئے ان پرانے واقعات کو یاد کرتے ہیں تو جی بھر کے ہنستے ہیں ۔ ||

یہ تحریر 1045مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP