متفرقات

ایرو ماڈلنگ کا جنون

 مِلیئے ناصر اقبال سے جنہیں پاک فضائیہ کا فائٹر پائلٹ بننے کا شوق ائیرو ماڈلنگ کی طرف کھینچ لایا

اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو ہمہ جہت ، لچک دار ، ایک ہی وقت میں کئی محاذوں کا سپاہی بنایا ہوتا ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ ایک ہی وقت میں کئی زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں یعنی ہم ایک ہی وقت میں کسی روزگار کے ملازم ، ایک آرٹسٹ ، ایک لکھاری اور ایک اچھے شیف بھی ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہمارا شوق ہو وہی ہمارا روزگار بھی بن جائے، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو ہمارا شوق ہو وہ کمائی کا ذریعہ بھی ہو ۔ اس لئے کچھ شوقین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے روزگار کے جھمیلوں سے پرے اپنے خواب اور اپنے شوق کو زندہ رکھتے ہیں ۔ 



اس فلسفے کا اصل مقصد آپ کو اس کردار سے ملوانا ہے جو کہ پاکستان ائیر فورس کے پائلٹ بنناچاہتے تھے، بن صحافی گئے ۔ یہ اسلام آباد کے نہایت سینیئر صحافی ناصر اقبال ہیں۔ ناصراقبال نے اوروں کی طرح اپنے پیشے کے سامنے شوق کو مرنے نہ دیا۔ وہ فائٹر طیارے اڑا نہ سکے مگر ان طیاروں کے ایرو ماڈلز بنانے لگے، یہ ان کے لئے شوق سے ایک درجہ اوپر یعنی جنون کی حد تک کا معاملہ ہے، وہ جنگی طیاروں اور کمرشل جہازوں کو ایسے بناتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔بطور صحافی تو ناصر اقبال کو سب ہی جانتے ہیں ، مگر کمرشل اور فائٹر طیاروں کی سکیل ماڈلنگ ان کا دوسرا حوالہ ہے۔
سکیل ماڈلنگ دراصل کسی بھی شے کا منی ایچر تیار کرنا ہوتا ہے جس میں اس شے کے اصل سائز سے مطابقت رکھتا ہوا چھوٹا سائز،ساخت،نوعیت اور ظاہری شناخت بالکل اوریجنل کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ ائیرو ماڈلنگ دراصل  سکیل ماڈلنگ کی ہی ایک قسم ہے جس میں کمرشل و جنگی طیاروں کے منی ایچر ماڈلز تیار کئے جاتے ہیں۔
ناصر اقبال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ کلاسیکل انگریزی گانے ملیں گے ، سکیل ماڈلز، ائیرو ماڈلز بنانے کی وڈیوز یا پھر پاک فضائیہ کی نئی پرانی ہر قسم، ہر رنگ و نسل ہر زمانے کی وڈیوز ۔ میرا خیال ہے کہ انہیں خواب میں بھی جنگی طیارے یہاں وہاں اڑتے نظر آتے ہوںگے اور شاید پائلٹ سیٹ پر وہ خود کو دیکھتے ہوںگے۔
ائیرو ماڈلنگ اور ایوی ایشن آرٹ کے لئے صرف شوق کافی نہیں ہوتا ، اس کے لئے خاصی تحقیق کرنا پڑتی ہے، ریفرنس کی کتابیں پڑھنا ہوتی ہیں ، طیاروں کی مکمل تفصیلات کے لئے انٹرنیٹ کھنگالنا پڑتا ہے، ساتھ ساتھ دوسرے ائیرو ماڈلرز سے بھی رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ 
مجھے اور آپ کو شاید یہ کھلونا جہاز لگے ، مگر ایک ماڈل پر پندرہ سے بیس ہزار روپے کا خرچ آجاتا ہے جسے ناصر اقبال اپنے انداز میں کہتے ہیں ورتھ اٹ ۔ ائیرو ماڈلنگ کے لئے جہاز کے بالکل اصل کی طرز کے پر پرزے الگ الگ ملتے ہیں ، کوئی پرزہ نہ ملے تو پورا ماڈل ادھورا رہ سکتا ہے اس لئے شوقین لوگ بیرون ملک سے اس کا خاص سامان منگواتے ہیں۔ 
بات صرف طیارے کے پرزوں کی ہی نہیں ہوتی، اس پر ہونے والا رنگ و روغن ، کمپنی یا برانڈ یا کسی ملک کے جھنڈے کا نہایت چھوٹے سائز کا سٹیکر اور انہیں آپس میں جوڑنے کے لئے ایڈ ہیسیو کیمیکلز یعنی چپکانے والے محلول، غرض کہ انہی باریکیوں سے مل ملا کر ایک سکیل ماڈل بنتا ہے ۔ ناصراقبال کا شکوہ ہے کہ پہلے ائیرو ماڈلز کا لگ بھگ سارا سامان ، کٹس وغیرہ پاکستان میں بآسانی مل جاتی تھیں ، اب نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں۔جو یہاں کوئی آئٹم نہ  ملے تو باہر ممالک سے آنے والے یار دوست سے منگوانا ہوتی ہے۔ناصراقبال کہتے ہیں گوروں کے ملکوں میں توسکیل ماڈلنگ کی ہر چیز مل جاتی ہے مگر ہمارے لوگ بھی کسی سے کم نہیں، اگر کوئی پرزہ ، اسٹیکر یا کیمیکل نہ بھی ملے تو کوئی دیسی ٹوٹکا نکال ہی لیتے ہیں۔ جیسا کہ ناصراقبال نے اپنا بنایا ایک ائیرو ماڈل طیارہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس کا انٹینا وائر بنانے کے لئے انہوں نے اپنی بیگم کے سر کا بال تک استعمال کیا ہے۔
کمرشل اور فائٹر جہازوں کی سکیل ماڈلنگ آرٹ ، سائنس اور ایوی ایشن انجنیئرنگ کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ناصراقبال اپنے ہاتھوں سے بنائے ایف سکس فائٹر طیارے کے ماڈل کو ہاتھ میں لئے مجھے ائیرو ماڈلنگ سمجھانے لگے۔ میں نے آگے بڑھ کر طیارہ ہاتھ میں لینا چاہا توانہوں نے اس جانب اشارہ کردیا جہاں چھوٹا سا بورڈ لگا تھا'' ڈو ناٹ ٹچ'' ہم، ''ہاتھ لگانا منع ہے'' کی اس تختی پر احتجاج کرنے لگے تو ناصراقبال کی بیگم نے پیچھے سے لقمہ دیا کہ یہ تو گھر والوں کو اپنے جہازوں کے قریب بھی نہیں آنے دیتے ، مجھے تو ناصر نے اس کمرے کی صفائی سے بھی منع کررکھا ہے جہاں یہ ماڈلز رکھے ہیں۔ ناصراقبال کے بقول ائیرو ماڈلز بہت ہی نزاکت و نفاست سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ ماڈلز اتنے مضبوط یا عام کھیلنے کے لئے نہیں ہوتے کہ ہر کسی کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں۔ یہ صرف دور سے دیکھنے اور ایوی ایشن آرٹسٹ کو داد دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ ان کی ہینڈلنگ اور کیئر پروفیشنل انداز میں کی جاتی ہے۔سو ہم نے بھی دور سے ہی واہ واہ کرنے میں عافیت جانی۔
ائیرو ماڈلنگ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہ خود کو پاک فضائیہ کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ ناصراقبال پاک فضائیہ کے تمام طیاروں کا پورا فلیٹ تیار کرچکے ہیں۔ جن میں اے فائیو فائٹر ، ایف سیون، پی جی ، میراج تھری ای پی،کے ایٹ ٹرینر شیر دل اسکواڈرن ، ٹی تھرٹی سیون شیر دل اسکواڈرن ، ایف سولہ اور حال ہی میں بنایا گیا فخر پاکستان جے ایف سیونٹین تھنڈر طیارہ شامل ہے جبکہ پاکستان کے کمرشل طیاروں میں اب تک وہ پی آئی اے کا سیون زیرو سیون بوئنگ ، اور سیون ٹو سیون بوئنگ طیارہ بنا چکے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ طیاروں میں اسکائی ہاک ، ایف سولہ تھنڈر برڈز ، ڈاکوٹا ، ہاکر ٹائیفون ، ایف اٹھارہ بلیو اینجلز ، رافیل اور مگ طیاروں کی پوری سیریز شامل ہے۔ناصراقبال کا اگلا پراجیکٹ ایف86 سیبرکا ہے جو کہ پاک فضائیہ کے مایہ ناز فائٹر پائلٹ ایم ایم عالم کا مشہور زمانہ لڑاکا طیارہ تھا۔
 ائیرو ماڈلنگ کے بہت سے شوقینوں نے اپنی کمیونٹی بنا رکھی ہے، واٹس ایپ گروپس ہیں جہاں اسکیل ماڈلنگ، ائیرو ماڈلنگ کے ماہرین ، پاک فضائیہ اور پاکستان کی کمرشل ائیر لائنز کے ایروناٹکس انجنیئرز ، سابق پائلٹس وغیرہ شامل ہیں۔ ائیرو ماڈلنگ کے لئے پاکستان میں گنتی کے چند ایک مقابلوں اور نمائش کا اہتما م بھی کیا جاتا ہے جن میں سب سے نمایاں پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغر خان ، رسالپور میں ہونے والی ائیرو ماڈلنگ اینڈ ایوی ایشن آرٹ کی نمائش ہے۔
اسکیل ماڈلنگ ایک دلچسپ مگر صبرآزما اور وقت طلب شوق ہے،یہی تو اس کی خاصیت ہے۔ ناصراقبال نے اس شوق کے جو فائدے بتائے وہ واقعی ناقابل تردید ہیں۔ ناصراقبال اپنے لڑکپن سے ہی ائیرو ماڈلنگ کے اس شوق سے جڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بچپن میں وہ اپنی عیدی کے پیسے جمع کرکے اسکیل ماڈلز کی کٹ خرید لیا کرتے تھے۔ ان کاکہناہے کہ ائیرو ماڈلنگ دراصل اپنے بنانے والے کے مزاج میں دھیما پن اور صبر پیدا کردیتی ہے۔ یہ آج کل کے سوشل میڈیا کے ہیجانی دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ائیرو ماڈلنگ نوجوانوں کو ٹربل شوٹنگ کے لئے تیار کرتی ہے ، خاص طور پر وہ والدین جن کے بچوں کا رجحان پاک فضائیہ میں بطور پائلٹ یا انجینئر جانے کا ہے ان کے لئے تو ائیرو ماڈلنگ بالکل درست انتخاب ہے۔


مضمون نگار صحافی ،  بلاگر اور کالم نگار ہیں، ویسٹ منسٹر یونیورسٹی برطانیہ ، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔
  [email protected]
 

یہ تحریر 165مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP