قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایران امریکہ کشیدگی اورخطے کی صورتحال

امریکہ اورایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں جنگ کاخطرہ ابھی مکمل طورپرٹلا نہیں،کسی بھی فریق کی معمولی سی غلطی مشرق وسطیٰ کوجنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے ۔دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پرالزامات لگانے کاسلسلہ جاری ہے۔پاکستان کے امریکہ اورایران دونوں سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ایران پاکستان کابرادراورہمسایہ ملک ہے،ایران جنگ کاشکارہوتاہے تواس کے اثرات پاکستان پربھی پڑیں گے۔ پاکستان غیرجانب دار رہ کرخطے میں قیام امن کے لئے کرداراداکرسکتاہے اوراس طرح اپنے مفادات کابھی تحفظ کیاجاسکتاہے ۔ پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ دوست ممالک کے درمیان اختلافات کوکم کیاجائے، آپس میں تعاون اوردوستانہ تعلقات کومزید مضبوط کیاجائے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ اورایران کے درمیان شدید تناؤ کوکم کرنے کے لئے ایران،سعودی عرب اورامریکہ کادورہ کیا۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات میں شاہ محمود قریشی کاکہناتھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اورنہ ہی مزید خون ریزی اس کی خواہش ہے۔شاہ محمود قریشی نے ایرانی صدر ڈاکٹرحسن روحانی ،وزیرخارجہ جوادظریف، اسی طرح سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعودسے ملاقات کی ۔سعودی عرب بھی خطے میں جنگ کاخواہشمند نہیں ہے۔ سعودی قیادت بھی اس بات کوسمجھ گئی ہے کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے اوروسائل ضائع ہوتے ہیں۔یمن کی مثال اُن کے سامنے ہے۔امید ہے پاکستان کی یہ کوششیں خطے میں امن کے قیام میں مدد گارثابت ہوں گی۔ پاکستان نے اس حوالے سے ترکی اورمتحدہ عرب امارات کی قیادت سے بھی رابطے کئے ہیں۔خطے کوجنگ سے بچانے کے لئے پاکستان سے جوممکن ہے وہ کررہاہے۔اگرخدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تواس کاسب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک اوراس خطے  کوہی ہوگا،پاکستان بھی اس سے متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکے گا۔مشرق وسطیٰ راکھ کاڈھیر بن جائے گااوراس جنگ کافاتح کوئی بھی نہیں ہوگا۔
 پاکستان امریکہ ایران کشیدگی میں غیرجانب دار ہے۔دونوں ممالک کے ساتھ ہمارے مفادات وابستہ ہیں۔ہم اس غیرجانب داری کوبرقراررکھتے ہوئے ہی مصالحتی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ماضی میں پاکستان غیرجانب دار تحریک کابھی حصہ رہاہے ،امریکہ سے بھی ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں،لیکن افغان جنگ کے بعد امریکہ کی  ڈومورپالیسی ،بدلتی ہوئی نگاہیں اورتیور،پاکستان کے لئے خوشگوارتجربات نہیں تھے۔سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ، ایبٹ آباد آپریشن ،بے جاالزامات اوربعض پابندیوں کے باعث ان تعلقات میں سردمہری آئی ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کوجب ہماری ضرورت پڑی دونوں ممالک میں تعلقات بہتررہے،لیکن بعدمیں امریکہ کی جانب سے الزامات عائد کئے جاتے رہے۔پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی بھرپورمدد کی اوریہ سلسلہ جاری ہے۔بعض امریکی پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ ایران ،امریکہ کشیدگی میں پاکستان غیرجانب دارانہ کردار اداکرنے کے بجائے امریکہ کاساتھ دے۔صدرٹرمپ کی انتظامیہ میں بھی مختلف الخیال لوگ شامل ہیں،ہرایک کواپنی رائے رکھنے کاحق ہے ،لیکن یہ بھی دیکھناچاہئے کہ اس سے عالمی قوانین اورکسی دوسرے ملک کی خودمختاری تومتاثرنہیں ہوگی ۔ہماری پالیسی واضح ہے کہ ہم خطے میں مزید جنگ نہیں چاہتے،اورنہ ہی ایران کے خلاف امریکہ کی مدد کی جاسکتی ہے۔


 پاکستان امریکہ ایران کشیدگی میں غیرجانب دار ہے۔دونوں ممالک کے ساتھ ہمارے مفادات وابستہ ہیں۔ہم اس غیرجانب داری کوبرقراررکھتے ہوئے ہی مصالحتی کردار ادا کرسکتے ہیں۔


ایک رائے یہ ہے کہ ہمسایہ اوربرادردوست ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کوایران کاساتھ دیناچاہئے۔یہ صورت ہوسکتی تھی اگرتمام مسلم ممالک یااوآئی سی ایران کے ساتھ کھڑی ہوتی۔بعض ایرانی پالیسیوں کے باعث عرب ممالک ایران سے ناراض ہیں۔بہتریہ ہی ہے کہ برادر مسلم ممالک اپنے اختلافات ختم کریں یاکم ازکم تعلقات اتنے بہترکرلیں کہ جنگ کاخدشہ نہ رہے۔ شام اوریمن کے مسئلے حل کرلئے جائیں تومسلم ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کوبھی ختم کیاجاسکتاہے۔پاکستان کی پالیسی اصولوں پرمبنی ہے،پاکستان شام میں صدربشارالاسد حکومت کی حمایت کرتاہے ،جوایران کی اتحادی ہے، دوسری طرف پاکستان یمن کے معاملے میں وہاں کے صدر منصور ہادی حکومت کی حمایت کرتاہے جنھیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔شام اوریمن میں جوگروپس حکومتوں کے خلاف لڑرہے ہیں پاکستان ان کاحامی نہیں۔یہ واضح پالیسی ہے،اس طرح توکسی بھی ملک میں کسی پراکسی گروپ کوکھڑا کرحالات خراب کئے جاسکتے ہیں یاوہاں کی قانونی حکومت کاتختہ الٹاجاسکتاہے۔
 خطے میں کشیدگی ختم کراناخود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے،جنگ کسی صورت مسائل کاحل نہیں ہوتی ،بلکہ جنگ کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوتاہے۔حکومت اپنے طورپرکشیدگی ختم کرانے کی کوششیں کررہی ہے۔اچھی خبریہ ہے کہ ایران اورامریکہ دونوں اس بات پرمتفق ہوگئے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ۔اصل مسئلہ بداعتمادی کاہے۔جب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کئے جانے والے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کااعلان کیاہے،کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، یہاں تک کہ دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پرپہنچ گئی ۔اس معاہدے میں یورپی یونین بھی فریق تھی ۔اب یورپی یونین تو معاہدے کوقائم رکھناچاہتی ہے لیکن امریکی صدرنیامعاہدہ کرناچاہتے ہیں۔ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کاکہنا ہے کہ اس بات کی کیاگارنٹی ہے کہ نیاامریکی صدرکسی نئے معاہدے کوتسلیم کرلے گا،بالفرض اگر کیا جائے۔ معاہدہ امریکہ اورایران کے درمیان ہواتھا۔ایرانی وزیرخارجہ کی بات میں وزن ہے،اب اگرکوئی امریکی صدرمیں نہ مانوں والی پالیسی اختیارکرتاہے تواس دنیا کاکیابنے گا؟ ہوناتویہ چاہئے تھاکہ امریکی صدرٹرمپ یکطرفہ طورپرمعاہدہ ختم کرنے کااعلان کرنے کے بجائے اس معاہدے کوجاری رکھتے۔لیکن ظاہرہے انھیں کچھ نہیں کہاجاسکتاہے۔وہ دنیا کے طاقت ورترین صدرہیں۔ان  کے فیصلے درست ہیں یاغلط ،اوراس سے دنیابہترہوئی یادنیاکے مسائل میں اضافہ ہوا، اس کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا۔
     خطے میں دوطرح کے تناؤہیں ایک توایران کی بعض عرب ممالک سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے شام اوریمن کے معاملے پرکشیدگی ہے۔دوسری طرف ایران اور امریکہ کی  دشمنی ہے جواتنی جلدی ختم نہیں ہوسکتی اورنہ ہم کراسکتے ہیں۔مشرق وسطیٰ کے معاملے میں ایک فریق ترکی بھی ہے، ترکی نہ صرف خطے میں بلکہ مسلم ممالک میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ترک فوجیں شام ،عراق کے کچھ علاقوں اوراب لیبیامیں موجود ہیں۔ترکی، امریکی فوجی اتحاد نیٹو کابھی حصہ ہے۔ایران اورسعودی عرب بھی ایساہی چاہتے ہیں کہ ان کی بات کوسناجائے اورماناجائے۔اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب ، ایران اورترکی تینوں ہمارے بہترین اورقابل اعتماد دوست ہیں۔تینوں ملکوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا۔لیکن اب ان کے آپس کے اختلافات شدت اختیارکرتے جارہے ہیں،بعض اوقات ان ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے کہاجاتاہے کہ دوسرے برادر ملک کی مخالفت کی جائے اوران کاساتھ دیاجائے ،جوظاہرہے پاکستان کی پالیسی اورمفادات کے خلاف ہے۔ہم ایران کے کہنے پرسعودی عرب کوناراض نہیں کرسکتے اورنہ سعودی عرب کے کہنے پرایران کوناراض کرسکتے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں ان تین برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تنی ہوئی رسی پرچلنے کے مترادف ہیں۔ ایک اورپیچیدہ پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان میں بعض ایسے گروپ موجود ہیں جوسعودی عرب اورایران سے ہمدردی رکھتے ہیں ۔یہ بھی خطرناک صورتحال ہے۔ہماری سوچ ''سب سے پہلے پاکستان'' ہونی چاہئے پاکستان ہے توسب کچھ ہے اوریہ ہی ہماری شناخت ہے۔


 خطے میں کشیدگی ختم کراناخود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے،جنگ کسی صورت مسائل کاحل نہیں ہوتی ،بلکہ جنگ کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوتاہے۔حکومت اپنے طورپرکشیدگی ختم کرانے کی کوششیں کررہی ہے۔اچھی خبریہ ہے کہ ایران اورامریکہ دونوں اس بات پرمتفق ہوگئے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ۔اصل مسئلہ بداعتمادی کاہے۔


 اب خطے کاایک بڑاکھلاڑی امریکہ ہے،جس کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہیں۔صدورکی تبدیلی کے ساتھ امریکہ کی ترجیحات بھی بدلتی رہتی ہیں۔گوامریکہ اس خطے سے بہت دورہے، لیکن اس کے بحری بیڑے اور ائیربیسز ،عراق ،قطر،کویت ،سعودی عرب ،افغانستان وغیرہ میں موجود ہیں۔ جذبہ اورجوش اپنی جگہ لیکن اگراعدادوشماراورجنگی سازوسامان کا تقابلی جائزہ لیاجائے توکوئی مسلم ملک امریکہ سے جنگ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔زیادہ ترمسلم ممالک کے پاس امریکی ٹیکنالوجی اورامریکی ہتھیار ہی ہیں ۔امریکہ کے مقابلے میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط نہیں ،اسے امریکی پابندیوں کابھی سامنا ہے،لیکن اس کے زیراثرکچھ ایسے گروپس موجود ہیں ،جوامریکہ کوناکوں چنے چبوا سکتے ہیں ۔ یہ ہی امریکہ اوراسرائیل کی کمزوری ہے۔امریکی پالیسی سازجانتے ہیں انہوں نے جوکچھ روس کے ساتھ افغانستان میں کیا،وہ سب کچھ امریکی فوجیوں کے ساتھ بھی ہوسکتاہے۔امریکہ تمام ترہتھیاراستعمال کرنے کے باوجود آج افغان طالبان سے بات چیت کرنے پرمجبور ہے۔ امریکی صدرٹرمپ جتنے مرضی دعوے کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کوکسی بھی زمینی جنگ میں ملوث کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے۔ایرانی پالیسی سازوں کوامریکہ کی اس کمزوری کاعلم ہے۔
      دوسری طرف امریکہ پاکستان کادوست ضرور ہے لیکن اب اس دوستی میں بال آچکاہے ،امریکہ پرسوفیصد بھروسہ نہیں کیاجاسکتا۔خطے میں امن کے قیام ،افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کرانے کے لئے امریکہ اورافغان طالبان کوایک میز پربٹھانے کے باوجود امریکہ کی پہلی ترجیح ،ہمارادشمن انڈیا ہے۔جنوری 2020ء میں چند مزید پاکستانی کمپنیوں پریہ کہہ کرپابندی عائد کردی گئی کہ وہ حساس آلات پاکستان بھیج رہی تھیں ۔جبکہ یہ ہی آلات بھارت کوبھی فروخت کئے جارہے ہیں ۔اس سے قبل بھی کچھ پاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں عائد کی گئیں ۔پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کررہاہے لیکن امریکہ پاکستان کومسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہے۔ایرانی میجرجنرل قاسم سلیمانی کوٹارگٹ کرنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ کے ٹویٹ نے پاکستان کی غیرجانب داری کومتاثر کرنے کی کوشش کی ۔ 
 امریکہ اورایران کے درمیان جاری کشیدگی جلد ختم ہونے کاامکان بہرحال نہیں۔ذمہ داری کاثبوت نہ دیاگیاتویہ بحران خطے کے بہت سے ممالک کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔سعودی عرب اورایران کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن دونوں ممالک ایک دوسرے سے براہ راست جنگ نہیں چاہتے،اس حوالے سے مثبت اشارے ملے ہیں۔اسرائیلی قیادت جو اس وقت بظاہرزیادہ بیان بازی نہیں کررہی، خاموشی سے اپنی سازشوں میں مصروف ہے ،اس کی کوشش یہ ہی ہے کہ مسلم ممالک آپس میں الجھے رہیں اوراس کی طرف نہ دیکھیں۔اسرائیل،ایران کاہدف ہے۔ایران یہ دھمکی دے چکاہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی تنصیبات کونشانہ بنایاتووہ اسرائیل کونشانہ بنائے گا۔چند سال پہلے تک خطے کااہم ترین مسئلہ آزاد اورخودمختارفلسطینی ریاست کاقیام تھا ،مسلم ممالک اوراوآئی سی اس پرمتحد تھی۔ایران ،سعودی عرب ایک پیج پرتھے،لیکن آج مسئلہ فلسطین پس پشت ڈال دیاگیاہے،دنیا کی توجہ یمن اورشام پرہے۔کچھ ایساہی مسئلہ کشمیر کے ساتھ کیاجارہاہے۔یہ کشمیری ہیں جوقربانیاں دے کراس مسئلے کوزندہ رکھے ہوئے ہیں،مغربی ممالک نے اپنے تجارتی مفادات کے باعث مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پرخاموشی اختیارکی ہوئی ہے۔
   خطے کے تمام ممالک کی قیادت اس بات سے آگاہ ہے کہ اگرجنگ ہوئی تواس جنگ کافاتح کوئی نہیں ہوگا،صرف تباہی وبربادی ہوگی ۔اس لئے کھلی جنگ کے بجائے پراکسی وار کاراستہ اختیارکیاجارہاہے،لیکن یہ پراکسی وارز بھی دنیا کوکسی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔طاقت کے استعمال سے حالات خراب ہی ہوتے ہیں۔کسی بھی فریق کاجارحانہ اقدام خطے کوجنگ کی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کا مفاداسی میں ہے کہ ایران اورامریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کوکم کیاجائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے سے سب آگاہ ہیں اوریہ درست ہے کہ جب سے وہ برسراقتدار آئے ہیں دنیامیں جنگ کاخطرہ بڑھ گیاہے۔صدربننے سے قبل ان کادعویٰ تھاکہ وہ ان بے مقصد جنگوں کاحصہ نہیں بنیں گے ۔لیکن اب ان کے ارادے  اور رویہ بہت جارحانہ ہے۔وہ امریکہ کوکسی نئی جنگ کاحصہ نہ بنادیں ،ان کے اختیارات محدود کرنے کے لئے نینسی پلوسی اوراراکین کانگریس کاایک گروپ متحرک ہے۔
مشرق وسطیٰ یاامریکہ اورایران کے درمیان جنگ ہوئی تواس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے ،بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری عالمی طاقتیں بھی اس جنگ کاحصہ بن جائیں ،مغربی میڈیا میں اس کشیدگی کوتیسری جنگ عظیم کاخطرہ قراردیاجارہاتھا۔یقینی طورپراگرجنگ عظیم ہوتی ہے تویہ تیسری جنگ عظیم نہیں ہوگی بلکہ آخری جنگ عظیم ہوگی، جس کے بعد اس دنیا کاسیاسی ،معاشی اورمعاشرتی نقشہ بدل جائے گا،شاید یہ دنیا پتھرکے دورمیں لوٹ جائے،جس کاتصورہی بہت بھیانک ہے۔اس دورمیں کون نئی عالمی طاقت ہوگا،طاقت کے مراکز کہاں ہوں گے فی الحال کچھ نہیں کہاجاسکتا۔اس وقت تویہ ہی کوشش کی جانی چاہئے جتنابھی ممکن ہو جنگ سے بچاجائے۔عوام کاخون گرمانے اورالیکشن میں کامیابی کے لئے جنگ کے نعرے اوربیان بازیاں اپنی جگہ لیکن جنگ کی آگ ہرچیز کوجلاکربھسم کردیتی ہے،جنگ پہلاآپشن ہرگزنہیں ہوناچاہئے اورایک ایسی جنگ جس کاکوئی مقصدہی نہ ہو، اس سے جتنابچاجاسکتاہے بچاجاناچاہئے۔کسی بھی نئی جنگ کاحصہ بنناپاکستان کے مفاد میں نہیں،ہم نے ماضی کے تجربات سے یہ ہی سیکھا ہے کہ دوسروں کے معاملات میں کم سے کم ٹانگ اڑائی جائے۔اپنے گھرکوٹھیک کیا جائے۔ پاکستان مضبوط ہوگا تودنیاخود ہی ہماری طرف دیکھے گی۔ ہماری مدد چاہے گی اگرہم کمزورہوئے توکسی کی کیامدد کریں گے ،کسی کوہماری ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔
امریکہ اورایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوامی جمہوریہ چین اورروس سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔خاص کرپاک چین دوستی کومغربی دنیا حسرت سے دیکھتی ہے ،پاکستان کوچین سے دور کرنے کی بھی کوششیں ہورہی ہیں۔بہرحال مشرق وسطیٰ کے معاملے میں روس اورچین کابھی ایک مؤقف ہے،جو امریکی مؤقف سے مختلف اورایرانی مؤقف کے قریب ہے۔امریکی حکام کویہ بھی سوچناچاہئے کہ خطے میں کسی جنگ کی صورت میں روس اورچین بیٹھ کرتماشانہیں دیکھیں گے ۔روس اورچین بھی اپنے مفادات کاتحفظ کریں گے۔
امریکہ ایران کشیدگی میں واحد آواز ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد کی ہے جنہوں نے امریکہ کے خلاف مسلم ممالک کے اتحاد کی بات کی ،ملائیشیا بھی امریکی اقتصادی گورکھ دھندے کاشکارہوچکاہے اورعالمی مالیاتی بحران میں ملائیشیا کی معیشت کوزبردست نقصان پہنچاتھا۔مہاتیرمحمد بزرگ ہیں لیکن ان کے حوصلے اورعزم جوان ہے۔کوالالمپورکانفرنس بھی ان کے ویژن کامنہ بولتاثبوت ہے،پاکستان نے سعودی عرب کی ناراضی سے بچنے کے لئے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ،لیکن اصل وجہ کیاتھی وہ ترکی کے صدرطیب اردگان نے میڈیا کوبتادی ۔ ممکن ہے کہ مہاتیرمحمد اورطیب اردگان مسلم ممالک کومتحدکرنے کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں۔دونوں رہنما مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملے ،شہریت کے متنازعہ ترمیمی قانون سی اے اے اوراین آرسی قانون کے حوالے سے پاکستان اورانڈین مسلمانوں کے مؤقف کے حامی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کاکچھ سیاسی فائدہ روس کوہوسکتاہے۔ایران یقینی طورپرچاہے گاکہ روس اس سارے معاملے میں غیرجانب دار اورخاموش تماشائی کاکردار ادا نہ کرے۔ روسی فوجیں شام میں موجود ہیں ،وہ کچھ اختلافات کے باوجود ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ مل کربچے کھچے مخالف گروپوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔روس چاہے تواس صورتحال کواپنے حق میں بدل سکتاہے۔جس وقت ایران امریکہ کشیدگی عروج پرتھی ،روسی صدرپیوٹن نے شام اورترکی کادورہ کیا،اوراپنی موجودگی کااحساس دلایا۔یہ رپورٹ بھی ہے کہ میجرجنرل قاسم سلیمانی ہی روسی فوجوں کوشام میں مداخلت پرآمادہ کرنے والے تھے۔2015 ء میں انہوں نے ماسکو میں روسی صدرپیوٹن سے ملاقات بھی کی تھی،اس کے بعد انہوں نے روس کے کئی طوفانی دورے کئے  ۔جس کے بعد روس نے شام میں ایران کی مدد شروع کی ۔
امریکہ اورایران کے بیچ کشیدگی کاایک اورپہلو بھی ہے اوروہ ہے امریکہ کے صدارتی انتخابات ،صدرٹرمپ دوسری مدت کے لئے بھی صدارتی امیدوار ہیں،جبکہ ان کے مواخذے کامعاملہ بھی چل رہاہے۔صدرٹرمپ خودکوایک فاتح کے طورپرپیش کررہے ہیں ان کاخیال ہے کہ انہوں نے امریکیوں کوکسی بڑے حملے سے بچالیاہے۔اس لئے انھیں دوسری مدت کے لئے بھی امریکہ کاصدرہوناچاہئے،تاہم امریکی میڈیا کی رائے اس سے بالکل مختلف ہے اورامریکی میڈیا میں یہ بات باربارآئی ہے کہ صدرٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکہ جنگوں سے نکلنے کے بجائے مزید نئی جنگوں میں پھنستاجارہاہے۔ صدرٹرمپ جوکچھ دوسرے ممالک میں کررہے ہیں اس کاردعمل امریکہ میں ہوسکتاہے۔صدرٹرمپ کاسب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ  انھیں ایک ناقابل اعتبارلیڈرسمجھاجاتاہے، جن  کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا،وہ کب کیاکہہ دیں یاکرگزریں ۔ ڈونلڈٹرمپ کے صدربننے کے بعد سے دنیازیادہ غیرمحفوظ ہوگئی ہے۔
  عالمی سیاست میں ہرملک کے اپنے مفادات ہیں،ہرملک اپنے معاملات دیکھ کرفیصلے کرتاہے اوریہ کوئی انہونی یابرُی بات نہیں۔مشرق وسطیٰ میں جنگ ہوتی ہے تو اس کے اقتصادی وتجارتی اورمعاشرتی اثرات بھی بہت بھیانک ہوں گے۔پٹرول،نایاب اوراس کی قیمت میں کئی گنااضافہ ہوسکتاہے۔امریکی صدرکادعوی ہے کہ امریکہ تیل میں خودکفیل ہے اس لئے اسے کوئی ڈر نہیں،صدرٹرمپ باقی دنیا کوبھول جاتے ہیں جس کاانحصار خلیج سے آنے والے تیل پرہے۔اگران ملکوں کوتیل کی سپلائی معطل یابند ہوئی توزندگی مفلوج ہوجائے گی۔بہت سی صنعتیں بند اورسڑکیں گاڑیوں سے خالی ہوجائیں گی۔جنگ کسی کے مفادمیں نہیں ،بہترہے جتناممکن ہے جنگ سے بچاجائے، دنیا کوپاکستان کی کوششوں کی قدرکرنی چاہئے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 181مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP