انٹرویو

اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر حیدر علی خان سے گفتگو

میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میں نے بھی اعزازی شمشیر حاصل کی۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ حیدر علی خان
139  پی ایم اے لانگ کورس میں اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے اکیڈمی سینیئر انڈر آفیسر حیدر علی خان سے ایک ملاقات۔ حیدر علی کے والد میجر جنرل نادر خان نے بھی  اپنے کورس کا بہترین کیڈٹ ہونے پر اعزازی شمشیر حاصل کی تھی۔



پاکستان ملٹری اکیڈمی میں جو بھی کیڈٹ تربیت کے لئے منتخب ہوتا ہے، اعزازی شمشیر حاصل کرنا اس کی تمنا ہوتی ہے۔ تاہم یہ اعزاز اسی کے حصے میں آتا ہے، جو دوران تربیت ہر شعبے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اکیڈمی سینیئر انڈر آفیسر حیدر علی خان وہ کیڈٹ ہیں جو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترے اور 139 ویں پی ایم اے لانگ کورس میں اعزازی شمشیر کے حقدار قرار پائے۔اس ہونہار کیڈٹ کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد نادر خان پاک فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کیا خوب اتفاق ہے کہ دوران تربیت انہوں نے بھی اپنے کورس18th او ٹی ایس کا بہترین کیڈٹ ہونے  پر اعزازی شمشیر کا اعزاز حاصل کی تھی۔  



 ہلال سے بات چیت کرتے ہوئے اکیڈمی سینیئر انڈر آفیسر( اب سیکنڈ لیفٹیننٹ) حیدر علی خان نے بتایا کہ جب انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی جوائن کی تو ان کے ذہن میں اعزازی شمشیر کے بجائے صرف یہ خیال تھا کہ حسرت کے بجائے اطمینان بھرے دل سے قیادت کی سیڑھیاں چڑھوں۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے دوران تربیت ہر مرحلے اور ہر زینے کو انتہائی توجہ اور محنت سے عبور کیا۔میں نے اپنے حصے کا کام کیا تو اللہ تعالی نے میری محنت اور لگن کا صلہ مجھے اعزازی شمشیر کی صورت میں عطا کردیا۔ میری اس کامیابی میں اساتذہ کی توجہ اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ والدین کی دعائیں بھی شامل ہیں۔ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میںنے بھی اعزازی شمشیر حاصل کی۔
سیکنڈ لیفٹیننٹ حیدرعلی خان 9جولائی 1996ء کو ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ اپنے تعلیمی پس منظر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے والد پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں جہاں ان کی پوسٹنگ ہوتی رہی، ان کی درس گاہیں بھی بدلتی رہیں۔ آرمی پبلک سکول ملیر کینٹ، اقراء اے پی ایس کوئٹہ میں زیر تعلیم رہے تاہم آرمی پبلک سکول آرڈننس روڈ راولپنڈی سے میٹرک اور فضائیہ ڈگری کالج پشاور سے ایف ایس سی کے امتحانات نمایاں نمبروں سے پاس کئے۔ انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دلچسپی تھی، اس شعبے میں مزید تعلیم کے لئے  فاسٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اسی دوران آئی ایس ایس بی کے لئے ٹیسٹ دیا اور کامیاب ٹھہرے اور جلد ہی انہیں PMA جوائن کرنے کا کال لیٹر ملا۔ ان کے لئے یہ یادگار لمحہ تھا۔ وہ فوجی ماحول میں پروان چڑھے تھے، اس کے تقاضوں اور مشکلات سے آگاہ تھے تاہم یہ چٹھی انہیں اب باقاعدہ طور پر میدان عمل میں اترنے کا پیغام دے رہی تھی۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خالد کمپنی کا حصہ بنے۔ تربیت کے شب و روز کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہر مرحلہ مشکل ترین ہونے کے ناتے غیرمعمولی محنت اور مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ میں ذہنی طور پر تمام سختیوں سے گزرنے، تمام چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھا اس لئے کسی مرحلے پر مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ البتہ ابتداء میں والدین سے رابطہ نہ ہونے کی بناء پر تھوڑا سا اداس ضرور رہتا لیکن یہ بھی تربیت کا حصہ ہے۔ پاک فوج کا حصہ بننے والے ہر فرد اور اس کے خاندان کو ملک کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے دوران جب کبھی بھی کوئی منفی خیال ذہن سے ٹکراتا تو میں پاکستان کے جھنڈے اور شہداء کی تصاویر کو دیکھنے لگتا۔ یقینا میجر عزیز بھٹی ، میجر شبیر شریف اور ان جیسے بہت سے شہداء اور غازیوں کے نقشِ قدم پر میں اس اکیڈمی میں ہوں، وہ دفاع وطن کا جذبہ لے کر یہاں آئے تھے اور انہوں نے اس راہ میں اپنی جان تک قربان کردی تھی، میری آنکھوں کے سامنے گھومتے ان کے چہرے میرے عزم اور حوصلے کو جلا بخشتے ، میرے جسم اور روح میں طاقت بھر دیتے اور میں نئے ولولے کے ساتھ میدان عمل میں لوٹ آتا۔ 
سیکنڈ لیفٹیننٹ حیدر علی خان نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں گزارے لمحات کو اپنی زندگی کا اثاثہ قراردیا۔ فزیکل فٹنس کو برقرار رکھنا ہمیشہ ان کی ترجیح رہی۔ یہی وجہ تھی کہ کراس کنٹری اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے مراحل طے کرنا بھی ان کے لئے مشکل نہیں رہا۔ وہ فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شمشیر اعزاز حاصل کرنا ان کی زندگی کا بہترین لمحہ ضرور تھا، مگر اس سے بھی یادگار مزار قائد پر گارڈ کے فرائض دینا تھا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ آج سے ٹھیک 33برس قبل ان کے والد بحیثیت کیڈٹ مزاراقبال پر یہی ڈیوٹی انجام دے چکے ہیں۔ اس طرح صحیح معنوں میں وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے والد کی یونٹ فرسٹ ایف ایف جوائن کی۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے اس یونٹ کو کمانڈ کیا۔ وہ اسی یونٹ کے جوانوں، افسروں کو دیکھتے ہوئے جوان ہوئے اور اب جبکہ سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے اسے باقاعدہ جوائن کررہے ہیں تو انہیں انتہائی خوشی اور فخر محسوس ہورہا ہے۔ میرے لئے ایسا ہی ہے کہ میں گھر سے نکل کر گھر ہی جارہا ہوں۔صحیح معنوں میں میری یونٹ میرا گھر ہے۔ 
سیکنڈ لیفٹیننٹ حیدرعلی خان بلاشبہ ایک فرمانبردار بیٹے، ہونہارطالبعلم اورپاک فوج کے پرعزم آفیسر ہیں۔  وہ قوم کے نوجوانوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، منزل اسی کو ملتی ہے جو محنت، کوشش اور لگن سے اس کی جانب بڑھتا ہے۔ سیکنڈلیفٹیننٹ حیدر علی دفاع وطن کا جذبہ دل میں لئے میدان عمل میں اترچکے ہیں اور اپنی یونٹ کے ان افسروں اور جوانوں کے شانہ بشانہ ہیں جو اگلے مورچوں میں اس وقت دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دفاع وطن کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ 
حیدر علی خان کے والدِ گرامی میجر جنرل نادرخان نے ہلال سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالی نے ان کے بیٹے کو جو کامیابی عطا کی ہے اس پر انہیں فخر اور خوشی ہے۔ فرسٹ ایف ایف پاک فوج کی تاریخی اور مایہ ناز بٹالین ہے۔ انہیں اس کی کمان کا اعزاز حاصل ہے۔ اب ان کا بیٹا بھی اسی یونٹ کوجوائن کررہا ہے تو یہ یقینا ان کے لئے باعث فخر اور یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ون ایف ایف ایک تاریخی رجمنٹ ہے جو 1843ء میں قائم ہوئی۔ 1965ء میں یہ رجمنٹ کھیم کرن میں تعینات تھی جہاں اس نے بہت دلیری سے جنگ لڑی۔ یادرہے کہ ون ایف ایف میں میجر جنرل نادر خان اور اُن کے بیٹے حیدر علی خان کے علاوہ جو دیگر آفیسرز سورڈ آف آنر لے کر گئے ان میں یونٹ کے موجودہ کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل میر باز خان اور میجر احمد جو ان دنوں چین میں  پیشہ ورانہ کورس کے لئے گئے ہوئے ہیں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کا دوسرا بیٹا محمد حنظلہ خان بھی پاکستان ملٹری اکیڈمی جوائن کرچکا ہے اور اب الحمدﷲ دوسری ٹرم میں ہے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے بتایا کہ وہ  اپنے بچوں کو صرف صدق دل سے محنت کرنے کا کہتے ہیں اور اس محنت کا نتیجہ قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ اگر محنت کے باوجود نتیجہ مثبت نہ آئے تو پھر اُس میں یقینا قدرت کی طرف سے کوئی مصلحت ہے۔
اس سوال کے جواب  میں کہ کیا اُن کے والد گرامی بھی فوج میں تھے۔ انہوں نے بتایا میرا تعلق حیدر آباد سے ہے اور میرے والد محترم پیشے کے اعتبار سے انجنیئر تھے۔ لیکن جب 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو میرے والد صاحب نے والنٹیئر ہو کر اپنی سروسز فورسز کے حوالے کردیں اور مجاہد فورس کا حصہ بن کر وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا۔



 

یہ تحریر 133مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP