صحت

اپنے دل کا خیال رکھیں

  دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کی اہم وجوہات میں آگاہی کا نہ ہونا ، تمباکو نوشی ، ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر، غیر متحرک طرززندگی ، مٹاپا، بسیا ر خوری اور ورزش نہ کرنا شامل ہے ۔پاکستان میں بھی دل کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے جس کی بڑی وجوہات میں ورزش کا نہ کرنا ،غیر متوازن اور غیر صحت مند خوراک اور تمباکو نوشی ہے ۔ شدید تھکن دل کے عارضے کی ایک خاص علامت ہے جسے ہم عمومی طور پر انتھک محنت اور نیند کی کمی کی وجہ گردانتے ہیں ۔مگر ماہرین کے مطابق شدید تھکن اکثر اوقات امراض قلب کی طرف ایک اشارہ ہے کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے دل کو پور ے جسم میں آکسیجن فراہم کرنے میں مشکل پیش آ تی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارا جسم تھکن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اکثر اوقات پیروں کی سوجن بھی دل کی بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہے  اور اگر جسم کی کسی بھی حرکت کے دوران چکر محسوس ہو تو یہ امراض قلب کی ایک وا ضح علامت ہے ۔ سر میں درد بھی دل کی بیماری کی ایک وجہ ہو سکتی ہے ۔ 
ایک رپورٹ کے مطابق دل کے چالیس فیصد مریضوں کو اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہے ۔ کچھ افراد کو اکثر رات میں نیند کے دوران اپنے دل کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے جو کہ دل کے والو میں خرابی کی ایک علامت ہے اور اس کے شکار افراد کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔کچھ ایسی خاص علامات بھی ہیں جو دل کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی علامت موجود ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔ 

 اس کے علاوہ چھوٹے قد کے افراد میں بھی امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ ان افراد میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسیرائیڈ کی سطح بڑھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق تنہائی یا تنہا ہونے کا احساس بھی بلڈ پریشر اور ذہنی تنائو کا باعث بنتاہے ۔ دوستوںکا نہ ہونا، اپنے پیاروں سے ناراضگی سے بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتاہے ۔ اس کے علاوہ جو افراد فی ہفتہ کم از کم پچپن گھنٹے کام کر تے ہیں ان میں بھی دل کی بیماریوں کے امکانات 35 سے 40 گھنٹے کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ جس کی بنیادی وجوہات میں دفتری تنائو، زیادہ تر وقت بیٹھے رہنا اور ناقص غذائی انتخاب وغیرہ ہے ۔ 
ایک تحقیق کے مطابق منہ میں موجود بیکٹریا وہاں سے خون میں پہنچ سکتے ہیں اور شریانوں میں ورم کا باعث بن سکتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے چربی وہاں جمع ہونے لگتی ہے ۔ مختلف ریسرچ رپورٹس کے مطابق مسوڑھوں کے امراض پر قابو پاکر بھی دل کے امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک اورتحقیق کے مطابق فلو کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ چھہ گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ دانت کے دردکا اگرچہ دل سے تعلق نہیں ہوتا لیکن اس سے بھی ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہوسکتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق غصہ آنے پر ہارٹ اٹیک کا خطرہ انداز اً پانچ گنا بڑھ جاتا ہے ۔ خاص طور پر غصے کے اظہار کے دو گھنٹے بعد فالج یا دل کی دھٹرکن تیز ہونے کا امکان ہوتا ہے ۔ 
پاکستان میں امراض قلب کے مریضوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال تقریباََ دولاکھ افراد دل کے امراض کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں دل کے امراض کے سبب اموات کی شرح 17.3 ملین سے بڑھ کر 23.6 ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔ دل کے دورے کا شکار ہونے والے افرادمیں سے تیس فیصد افراد ہی میڈیکل سینٹر تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ ستر فیصد موقع پر یا ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں ۔ 
دل کے امراض کی ایک وجہ ذہنی دبائو بھی ہو سکتا ہے ۔اس سے بچنے کے لئے پابندی سے ورزش کرنی چاہئے، مکمل نیند لینی چاہئے، لوگوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں حصہ لینا چاہئے، جتنا ہو سکے ہنسنا مسکرانا چاہئے اور پانچ وقت باجماعت نماز پڑھنی چاہئے کیونکہ دنیا میں بہترین ورزش نماز ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔ دل کے مرض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کم رکھیں ۔ جسم میں کو لیسٹرول خون میں شامل ہو کر خون کو گاڑھا کرتا ہے۔ جس کے باعث دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ ٹریفک کا شور ، گاڑیوں ، طیاروں اور ٹرینوں کی آواز بلڈپریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور آواز کی سطح میںہر دس ڈیسی بل کے اضافے سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق آواز کی فریکو ئنسی میں اضافہ جسم پر دبائو کاباعث بنتا ہے ۔ جس کا اثر دل پر سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ 
دل کی بیماریوں سے بچنے کے لئے باقاعدگی سے ورزش اور متحرک زندگی کی جانب قدم بڑھانا انتہائی ضروری ہے ۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال دل کو صحت مند رکھتا ہے۔ جبکہ تیز مرچ ، مسالے اور مرغن کھانے امراض قلب سمیت متعد د بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔ 
جسمانی سرگرمیاں یعنی چہل قدمی ، سائیکلنگ ، یا کسی بھی ایسے کھیل میں خود کو شامل کرناچاہئے جس سے جسمانی صحت، فٹنس اور مزاج پر براہ راست مثبت اثر پڑتا ہو، ورزش کے لئے کچھ ٹائم ضرور نکالنا چاہئے ۔ حرکت زندگی کا دوسرا نام ہے اور ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ روز انہ کی ورزش سے ہمارے دل پر بے حد مثبت اور خوش آ ئندا ثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے لمبی زندگی کی طرف بڑھاوا ، دل کی مختلف بیماریوں کے ہونے کی شرح میں کمی ، وزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں ۔ اپنی زندگی میں حرکت کو بڑھائیں اور نزدیکی مقامات پر آنے جانے کے لئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیں۔ اسی طرح لفٹ کے استعمال کے بجائے سیڑھیوں سے اوپر نیچے جانے کو فوقیت دیںاور کوشش کرنی چاہئے کہ جسم کے مختلف حصوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ورزش کریں جس میں مختلف کھیلوں مثلاً باسکٹ بال، فٹ بال ، تیراکی ، ٹینس ، بیڈ منٹن وغیرہ سے مدد لی جاسکتی ہے ۔ سبز چائے بھی ذیابیطیس اور دل کے امراض سے بچائو میں مدد فراہم کرتی ہے اس کے علاوہ روزانہ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات کا استعمال بھی دل کے امراض سے بچائو اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لئے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارنا چاہئے ۔ 



معاشرتی ناہمواریاں ، غربت ، پریشانیاں اور ناقص اور غیر معیاری غذائیں دل کی بیماری کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ دل کے مرض کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان علامات پر توجہ نہیں دی جاتی اور علاج میں تاخیر زندگی سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے ۔ بلڈ پریشر ، کولیسٹرول ، ذیابیطس میں سے اگر کوئی بھی چیز حد سے بڑھ جائے تو اسے کنٹرول میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔کھانے میں چربی والے گوشت ، گھی ، گردے کلیجی، سری پائے ، مکھن ، پنیر، انڈے کی زردی ، بالائی ، تلی ہوئی اشیاء مثلا پراٹھے ، سموسے ، حلوہ پوری سے پرہیز کریں اور کافی کا استعمال بھی کم سے کم کرنا چاہئے۔ 
 آج کل نوجوان بچوں میں بھی دل کے دورے کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ رات گئے تک مختلف سوشل میڈیا کے استعمال سے بچے ذہنی دبائو اور تنائو کا شکار ہو رہے ہیں اور پھر نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان میں بلڈ پریشر میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں چڑ چڑا پن اورمختلف نفسیاتی تبدیلیاں بھی آجاتی ہیں ۔
تحقیق کے مطابق لوگوں کو اپنی غذامیں کاربو ہائیڈریٹس کے استعمال میںکمی لانی چاہئے ۔ پنیر اور ترش پھلوں ، اخروٹ، زیتون ، سبزیوں اوردودھ وغیرہ کا استعمال امراض قلب کے خطرات کو کم کرتا ہے ۔ اوساکا یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق صبح کا ناشتہ ترک کرنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر ناشتہ چھوڑنے کی عادت بنالی جائے تو مضر کولیسٹرول آہستہ آہستہ بڑھنے لگتے ہیں اور پھر بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتاہے اور جب یہ دونوں مسائل شدت اختیار کرلیں تو دل کا مرض لاحق ہو سکتا ہے ۔
لہٰذا اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت مند انہ زندگی کے لئے دل کا خیال رکھئے اور ہنستے مسکراتے رہتے ہوئے دل کو بیماریوں سے دور رکھیں ۔ 


مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اورمختلف اخبارات کے لئے لکھتی ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 285مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP