یوم دفاع

انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں پاک بحریہ کا کردار

1965 کی جنگ میں  بھارت جہاں زمینی راستے سے حملہ آور ہوا اور وہ لاہور فتح کرکے جم خانہ میں ٹی بریک کرنے کا تہیہ کئے ہوئے تھا وہاں اُس نے فضائی اور بحری محاذ بھی کھول دیئے۔

بھارت 1965 سے بھی پہلے رن آف کچھ کے دلدلی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا تھا لیکن پاکستان آرمی کی بروقت کارروائی کی وجہ سے اسے ناکامی ہوئی۔رن آف کچھ کے معرکے کی وجہ سے پاکستان بحریہ ابھی حالت تیاری میں تھی کہ ستمبر 1965ء کا مہینہ آن پہنچا ۔6ستمبرکو پاک بحریہ کے جہازوں کو صبح آٹھ بجے اپنی معمول کی مشقوں پر روانہ ہونا تھاکہ صبح 06:30  پر یہ خبر ملی کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔مستعدی کے ساتھ یہ جہاز سمندر میں روانہ ہوئے لیکن حالت مشق کے بجائے حالت جنگ میں۔ پاکستان کی آبدوز غازی بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے کراچی سے روانہ ہو گئی اسی طرح مشرقی محاذ پر موجود جہازوں نے کارروائی کر کے مشرقی پاکستان کے آبی راستوں میں بھارتی تجارتی جہاز گرفتار کر لئے۔مشرقی اور مغربی محاذ پر حالت تیاری کے بہترین فوائد ہوئے۔
سب سے پہلے تو غازی آبدوز نے بمبئی کی بندرگاہ کے سامنے اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔دوسری طرف اسی طرح کی مزید دو آبدوزیں جو انڈونیشیا کے پاس تھیں، وہ خلیج بنگا ل میں داخل ہو گئیں۔سمندر پر بھارتی، فضائی پروازوں کے ذریعے جب پتہ لگانے کی کوشش کرتے کہ سمندر پر کیا  صورت حال ہے تو انھیں پتہ چلتا کہ مشرقی اور مغربی جانب پاکستانی آبدوز کو دیکھا گیا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت اور اس کے ساتھ کے اہم جہاز اپنی بندر گاہوں میں قید ہو کر رہ گئے۔دوسری جانب پاکستان کے آٹھ بحری جہاز کراچی سے آٹھ ستمبر کو اوکھا کی بندر گاہ کے سامنے پہنچے اور سیکڑوں کی تعداد میں گولے برسا کر وہاں پر موجود اڈے کو نشانہ بنایا۔اس آپریشن کا نام آپریشن سومنات رکھا گیا تھاجس کے پیچھے سلطان محمود غزنوی کے ان سترہ حملوں کی تاریخ موجود ہے جس نے اس علاقے میں موجود مندر کو نشانہ بنا کر کفر اور الحاد ختم کرنے کی کاوش کی تھی۔اس میں یہ رمز بھی پوشیدہ تھی کہ ہم ایک نہیں بے شمار حملے کریں گے۔جب تک کفر اور ظلم پر قائم بھارتی حکمران اپنے مظالم جو انھوں نے کشمیریوں پر جاری رکھے تھے ان سے تائب نہیں ہو جاتے۔
بحری آپریشنل جائزہ:

  
 

   بھارت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا بحری محاذ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ساحل کی لمبائی 7516.6km سے زائدہے جس کے لئے ایک بہت بڑا بحری بیڑادرکار ہے۔دوسرا مسئلہ یہ در پیش تھا کہ سمندر پر لڑائی کے لئے بھارت کو سمندر میں اپنی مرضی کے مقام پر لانے کی ضرورت تھی کیونکہ اتنے بڑے محاذ پر دشمن کے جہازوں کا پتہ چلانا مشکل ہوتا۔لہٰذا یہ جاننے کے بعد کہ بھارتی طیارہ بردار جہاز دوسرے بڑے جہازوں کے ساتھ بمبئی کی بندر گاہ میں ہیں، پاکستان نے اپنی آبدوزاس بندرگاہ کے سامنے تعینات کر دی۔تیسری بات یہ ہوئی کہ اس بیڑے کو باہر نکالنا تھا جس کے لئے اوکھا کے مقام پر پاک بحریہ کے آٹھ جہازوں نے گولہ باری کی۔کیونکہ یہ بیڑا باہر نہیں نکلا اس لئے آبدوز کا کسی بڑے جہاز سے آمناسامنا نہیں ہوا۔البتہ دوران جنگ ایک موقع ایسا ضرور آیا کہ ایک بحری جہاز نظر آ گیا اور اس کو ڈبونے کے لئے دو تارپیڈو چلائے گے لیکن دشمن کا جہاز بچ نکلا۔بھاگتے ہوئے اس جہاز نے اپنے دفاع میں کم فاصلے کے دو تارپیڈو چلائے جن کا مقصد اپنے بچائو کے لئے گویا اندھیرے میں تیر چلانا تھا۔اپنی تعیناتی کے دوران آبدوز نے اپنی بیٹری کو چارج رکھا اور دشمن کے فضائی نگرانی کے جہاز کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔یہ عملے کی جنگی مہارت کا کھلا ثبوت تھاجسکی قیادت کرامت رحمان  نیازی کر رہے تھے۔کم وسائل ہونے کے باوجود پاک بحریہ کے بیڑے نے نہ صرف بھارتی بحری سٹیشن کو تباہ کیا بلکہ بھارتی فضائیہ کو بھی جنوب کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تاکہ شمالی اور مشرقی محاذ پر دشمن کی افواج کو بکھیرا جائے اور ان کی طاقت کو تقسیم کیا جائے۔
مشرقی اور مغربی محاذوں پر بھارت کو لڑنے کے لئے بالترتیب پانچ اور سترہ بحری جہاز میسر تھے۔جبکہ طیارہ بردار جہاز مغربی محاذ پر تھا۔پاکستان نے مغربی محاذ پر سات بڑے جہاز اور آبدوز رکھے جبکہ کچھ چھوٹی جنگی کشتیاں مشرقی پاکستان کے دفاع کے لئے استعمال ہوئیں۔بیک وقت دو یا تین مختلف سمتوں میں حملے سے بچائو کے لئے بے شمار آلات اور لوازمات درکار تھے جو بھارت کے پاس نہ تھے اور نہ ہی آج تک ہو سکے ہیںکیوں کے بھارت کا جغرافیہ اس کو سمندر کی تین جانب سے گھیرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوچین جنوب میں وشاکا پٹم اورکلکتہ ) مشرق میں( میںموجود اثاثے اس بحری جنگ میں قابل ذکر کردار ادا نہ کر سکے۔رہی سہی کسر انڈونیشیا کی آبدوزوں نے پوری کر دی جو بالکل غازی کی طرح کی تھیں اور یہ پتہ نہ چلتا تھاکہ پاکستانی آبدوز کون سی ہے اور انڈونیشیا کی کون سی ہے۔
بحری جنگ کے دُور رس نتائج____تزویراتی جائزہ
1965 ء کی بحری جنگ کے بعد بھارت کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اس کی بحری فوج کو بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کرنا مشکل ہو گایعنی مغربی اور مشرقی محاذ پر۔اس بات کا اندازہ بڑی طاقتوں کو بھی ہو گیا اور پاکستان کو بحری سطح پر تقسیم کرنے پر یہ ممالک بھی متفق ہوگئے۔بھارت نے مکارانہ طریقے سے مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمی پیدا کرنی شروع کر دیں۔بھارت میں بنگالی مسلمان بہلاپُھسلا کر بھارت لے جائے گئے تھے تاکہ دنیاکو یہ تاثر دیا جائے کہ مشرقی پاکستان کے شہری حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر بھارت چلے گئے ہیںاور پناہ گزین ہیں۔وقتی طور پر بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو گیا اور بنگلہ دیش بھی بن گیا۔البتہ مودی حکومت نے اپنی شہریت کا قانون منظور کر کے ان سب کو پچاس سال بعد بے دخل کر دیا ہے۔اب ان کی نسلوں کو اور تمام بنگلہ دیشی عوام کو احساس ہو رہا ہے کہ دراصل انھیں بھارت نے استعمال کر کے اب ایک ناکارہ چیز کی طرح پھینک دیا ہے۔اس کے نتیجے میں بھارت میں فسادات ہوئے ہیں اور وہاں کی اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔اس طرح وہ چال جو 1965ء کی جنگ کے بعد چلی گئی تھی، 1971ء میں بظاہر کامیاب ہوتی نظرآئی اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔بھارت میں بے یقینی، نفرت اور غیر محفوظ ہونے کے جذبات کے نتیجے میں اب اندرونی طور پر شکست وریخت کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔
اس جنگ میں بھارت نے کوششں کر کے معاہدہ تاشقند کے بعد صلح تو کر لی لیکن ان کی پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کی کیفیت آج بھی اسی طرح ہے جس طرح پاکستان کے قیام کے وقت تھی۔قیام پاکستان کے بعد بھارت پاکستان کو ایک کمزور ملک دیکھنا چاہتا تھااوراُس کی خواہش یہ تھی کہ پاکستان اس کا دست نگر بن کر رہے لہٰذا بھارتی حکمرانوں نے اس نظریئے کا پرچار کیا کہ پاکستان کواپنے دفاع کے لئے مسلح افواج کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اور یہ کہ پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہئے۔اس تمام پس منظر میں بھارت آج بھی اس کوشش میں ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو نشانہ بنایا جائے۔اس کے لئے آج بھی وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔تاہم وہ یہ بھول رہا ہے کہ ہماری مسلح افواج جذبہ جہاد سے سر شار ہیں۔
     بحری جنگ سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ پاکستان کے پاس تمام بھارتی بندگاہوں کو ضرورت کے وقت بند کرنے کے لئے آبی ہتھیار اور جہاز موجو د ہوں تاکہ زمینی افواج کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے سمندری راستوں سے تیل کی فراہمی نہ ہو۔بھارتی طیارہ بردار جہاز کے مقابلے میں پاکستان کو بھی طیارہ بردار جہاز لے کر اپنی فضائی اور زمینی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 54مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP