متفرقات

امیرترین،غریب آدمی

The Richest Poor Man!
ہمارے ملک کی بڑی خوش بختی ہے کہ عبدالستار ایدھی جیسے تاریخ کے سب سے بڑے انسان ہمارے ملک کی پہچان بنے۔ ایسا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔  بین الاقوامی اخبارات و جرائد نے عبدالستار ایدھی کو دنیا کا سب سے بڑا انسان دوست، فلانتھراپسٹ قرار دیا۔ دنیا کا ایسا امیر ترین آدمی جس نے ساری زندگی ملیشیا کے دو جوڑے کپڑے ، ٹوٹی جوتی پہنے، پلاسٹک اور سٹیل کے برتنوں میں دال روٹی کھاتے بسر کی۔ ایدھی صاحب کے نزدیک دنیا میں ہر پیدا ہونے والا بچہ اللہ کی رحمت ہوتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے پنگھوڑے کا تصور دیا۔ کوڑے سے پنگھوڑے تک کا سفر کوئی ایسا شخص ہی کرا سکتا ہے جو بے غرض ہو جس میں کسی طرح کی طمع نہ ہو، دولت کی حرص نہ ہو، شہرت کی تمنا نہ ہو جو ہر خواہش اور عقیدے سے بے نیاز ہو۔۔ وہ 1928 میں ہندوستان میں گجرات کے قصبے بنتوا (Bantva)میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ بچپن میں ان کو دو پیسے دیتیں ایک ان کے کھانے کے لئے اور دوسرا پیسہ کسی کو خیرات کر دینے کے لئے۔ ان کی والدہ کی جانب سے یہ ایک ایسی تحریک پیدا کرنے والی بات تھی جس نے ایدھی کو خالی ہاتھ ہونے کے باوجود خیرات کرنے کی توفیق عطا فر ما دی۔



ایدھی صاحب کی والدہ جب وہ گیارہ سال کے تھے تو فالج کی وجہ سے معذور ہو گئیں اور جب وہ انیس سال کے تھے تو والدہ جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ بیچ کے آٹھ برس ایدھی صاحب نے اپنی زندگی اپنی والدہ کی تیمارداری کے لئے وقف کر دی تھی۔ اس جسمانی و ذہنی ریاضت نے گیارہ سال کے بچے کو دنیا کے سب سے رحمدل انسان نما فرشتے میں تبدیل کر دیا۔ زندگی کے اس دور نے ان کے اندر صبر، خدا ترسی، ہمت، حوصلہ اور ہمدری پیدا کی۔ اس مشکل دور نے سونے کو آگ میں تپا کر کندن بنا دیا۔ شائد ایدھی صاحب نے انسانیت  کی فلاح کی تحریک اپنی بیمار والدہ کے برس ہا برس ساتھ کی وجہ سے لی ہو۔ والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی زندگی بیماروں، غریبوں، بے سہارا لوگوں، یتیموں ،بیواؤں اور لا وارثوں کی دیکھ بھال کے لئے وقف کر دی۔ پہلے وہ والدہ کی خدمت کرتے رہے پھر انسانیت کی۔ گویا وہ گیارہ سال کی عمر سے اٹھاسی برس کی عمر تک صرف اور صرف انسانی فلاح کے کام کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا ان کو فرشتے کے روپ میں دیکھتی ہے۔ 
ایدھی صاحب نے 1972 میں پندرہ سال پرانی ایمبولینس میں حج کا سفر کیا۔ انکی بیگم بلقیس ایدھی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ ان کے بقول ایدھی صاحب نے اس سفر میں بیس دن تک خود ہی گاڑی چلائی۔ اس کٹھن سفر میں وہ ایران میں کئی کئی فٹ اونچی برف میں گاڑی چلاتے رہے۔ اور اس طریقے سے ان کے جیسا حج بھی شائد دنیا میں کسی نے نہ کیا ہو۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ناممکن کو ممکن بنانا ان کے لئے بہت سہل کام تھا۔ ان کے ارادے اور فیصلے کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ پاتی تھی۔
عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس نہ پیسہ ،نہ تعلیم، نہ مالدار دوست یار نہ کوئی سفارش۔ وہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنانے کا خواب دیکھے اور اس خواب کو حقیقت میں بدل دے۔ خود لاوارث شخص ہزاروں لاوارثوں بے سہاروں غریبوں لاچاروں معذوروں کا وارث بن جائے۔ جس نے ساری زندگی اپنا گھر نہ بنایا لیکن ہزاروں بے گھروں کو چھت دے گیا۔  یہ معجزہ عقل سے نہیں دل سے ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی کے پاس پہلے پہل ٹوٹی پھوٹی ایک گاڑی تھی۔ جس کو وہ سال ہا سال خود چلاتے رہے۔ بقول ان کے انہوں نے 48 سال ایمبولینس چلائی۔ اس سے پہلے وہ ایک کپڑے کی دکان پر بطور ہیلپر بھی کام کرتے رہے لیکن پھر ایک فلاحی تنظیم کے رکن بن گئے اور اس کے بعد اپنے فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی۔ وہ گھر گھر جا کر مانگنا پسند نہ کرتے ۔بس سڑک کے کونے پر کھڑے ہو جاتے اورراہ گزرتا غریب سے غریب بندہ بھی ان کے ہاتھ پر پیسے رکھ کر چلا جاتا۔ ان کو بہت سی این جی اوز نے ڈونیشنز دینے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان سے ہی چندہ اکٹھا کروں گا۔ پاکستان کے لوگ بے مثال ہیں ان کے جیسا کوئی نہیں۔ حالانکہ کسی دوسرے ملک جانے کا سوچتے تو ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا۔ لیکن ان کو اپنے ملک سے اس قدر پیار تھا کہ وہ کہتے کہ کوئی بھی اس ملک کو نقصان نہ پہنچائے۔ 
 ایدھی صاحب ایک عالی مرتبت شخص تھے۔ تار تار معاشرتی روایات کو لباس پہنانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ہم لکیر کے فقیر ہیں۔ جد ت کو بدعت اور سوال کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایدھی صاحب اس کے بالکل برعکس تھے۔ ایدھی نے کچرے کے ڈھیر کو کرید کر ہیرے پیدا کئے۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اندر کا دشمن ذاتی انقلاب سے ہی زیر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اپنے اندر کا انقلاب اس معاشرے میں ایسا انقلاب لایا جس کی بدولت ہزاروں بنا ماں باپ کے بچے ایدھی صاحب کے زیر سایہ پلے بڑھے اور جوان ہوکر اس ملک میں اپنے لئے عزت کی جگہ بنانے کے قابل ہو پائے۔ 
عبد الستار ایدھی پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ تھے۔ انہوں نے جب ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تو کافی برس وہ پیدل سڑکوں پر لاوارث بچوں کے ساتھ چندہ مانگا کرتے تا کہ ان بچوں کا پیٹ بھر سکیں پھرگاڑی آگئی توخود ڈرائیور کے طور پر گاڑی چلاتے اور سارا سارا دن لاوارث بچوں کے لئے چندہ جمع کرتے۔ کہیں پر کسی بھی سڑک یا چوراہے پر جھولی پھیلا کر بیٹھ جاتے۔ انھیں بے سہارا بچوں کا پیٹ بھرنے کو بھیک مانگنا کبھی برا نہ لگتا ۔ انہوں نے کبھی ایک پیسہ اپنے لئے نہ مانگا نہ ہی اپنی ذات پر خرچ کیا۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے دو ڈرائیورز کو اس لئے نوکری سے برخواست کر دیا کہ انہوں نے غریبوں میں کھانا تقسیم کرتے ہوئے خود بھی اس میںسے کھا لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کو تنخواہ دی جاتی ہے اس لئے وہ ڈونیشنز کی رقم سے بنائے گئے کھانے نہیں کھا سکتے۔ لوگ یہ رقم بے سہارا یتیموں کے لئے دیتے ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے ملازمین کے لئے نہیں۔ جو لوگ ان کو قریب سے جانتے ہیں ان کے پاس بتانے کے لئے بیش بہا نا قابل یقین واقعات ہیں۔ 
ایک دفعہ پتا چلا کہ ایک بچے کی لاش ایک ایسے تالاب کے اندر تیر رہی ہے جو گندگی اور غلاظت سے بھر پور تھا۔ کوئی بھی اس تالاب کے اندر اترنے کو تیار نہ تھا۔ ایدھی صاحب کو پتہ چلا تو وہ خود گند گی کے اس تالاب میں اتر گئے ۔ بچے کی لاش لے کر باہر نکلے۔ اس کو اپنے گھر لے جا کر نہلایا۔ کفن دفن بھی خود ہی کیا۔ یہ تو صرف ایک واقعہ ہے جس سے ان کی عظمت کا احساس ہوتا ہے جبکہ ان کی زندگی اس طرح کے بے لوث کاموں سے بھری پڑی تھی۔ 
ایدھی صاحب کی شخصیت کا ایک پہلو جس کی تعریف پوری دنیا کرتی ہے کہ انہوں نے قومیت مذہب اور فرقے سے بلند ہو کر انسانیت کی خدمت کی۔ صرف انسانوںکی نہیں انہوں نے تو جانوروں تک کی دیکھ بھال کی۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے فلاحی کام صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عبدالستار ایدھی نے خود پوری دنیا میں جا کر انسانوں کی خدمت کی۔ امریکہ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکہ، عرب مما لک غرض دنیا کا وہ کون سا کونہ تھا جہاں کسی قدرتی آفت آجانے پر ایدھی وہاں نہ پہنچے ہوں۔ ان تمام مما لک میں ایدھی فاؤنڈیشن کی شاخیں موجود ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس نیٹ ورک چیرٹی پر چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک ہے۔ عبدالستار ایدھی دنیا کے ہر کونے ہر مذہب ہر فرقے کے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا پاکستان کو فلاحی کاموں اور ایدھی کے لازوال کارناموں کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پا کستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں سب سے زیادہ چیرٹی کے کام کئے جاتے ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں ڈاکٹر رتھ فائو آتی ہیں تو پھر واپس نہیں جاتیں۔ گویا یہاں کی مٹی میں ہی ایسی کشش ہے۔ انسان سے محبت اور مہمان نوازی اس مٹی میں شامل ہے ۔ 
عبدالستار ایدھی نے دنیا میں تو یہ زندگی بے انتہا عاجزی و انکساری سے گزاری لیکن ان کے دنیا سے کوچ کر جانے پر ان کے ملک ، ان کی مٹی اور ان کے لوگوں نے جس عزت اور شان و شوکت سے ساتھ ان کی تدفین و تجہیز کی، اس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سرکاری اعزاز، فوجی و سویلین سیلیوٹ ہی ایدھی صاحب کے شایان شان تھا۔ ایسا جنازہ اللہ کے پسندیدہ لوگوں کو ہی نصیب ہوتا ہے جب پوری قوم اشکبار اور چلے جانے والے کے ڈھیروں مقروض ہوں اور ہر شخص مرنے والے کو سلام پیش کر رہا ہو۔ 
عبدالستار ایدھی کو کراچی سے 25 میل دور ایدھی ویلج میں دفنایا گیا۔ اس جگہ جسمانی اور ذہنی معذور بچوں کا ایدھی سنٹر ہے۔ اس سنٹر میں سیکڑوں لاوارث بچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس جگہ ایدھی نے اپنی قبر تیس برس پہلے ہی کھود ڈالی تھی۔ ان کے بیٹے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ وہ اندر سے ایک انقلابی انسان تھے۔ وہ اپنے کام کو خیرات نہیں بلکہ تبدیلی کا آغاز سمجھتے تھے۔ وہ پاکستان کو ایک ویلفیئر سٹیٹ کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ زندگی میں ان کا مشن محنت، سادگی اور وقت کی پابندی سے عبارت تھا۔  
عبدالستار ایدھی کی زندگی سے ہر کوئی اپنی عقل اور بساط بھر سبق حاصل کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وسائل کا ہونا یا نہ ہونا آپ کی منزل کے راستے میں رکاوٹ بننے کا سبب نہیں ہونا چاہئے۔ صاف نیت اور بے لوث جذبہ راہ کی ہر رکاوٹ کو دور کر دیتا ہے۔ 
زر، زمین، پیسہ، مال و متاع ا پ کی زندگی میں آسائشیں تو لا سکتا ہے لیکن لوگوں کا پیار عزت و مرتبہ نہیں۔دنیا کا لالچ نہ ہو تو معمولی درجے کی زندگی بسر کرنے کے باوجود آپ لمبی اور آسودہ عمر پاتے ہیں اور آخرت میں سرخروئی بھی۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایدھی صاحب نے بیس ہزار سے زائد نو مولود بچوں کی جان بچائی۔ پچاس ہزار سے زائد یتیموں کی پر ورش کی اور بیس ہزار خواتین کو نرسنگ کی ٹریننگ دلوائی۔ ایدھی صاحب نے صحیح معنوں میں ثابت کیا کہ انسان کا اصل مقصد انسانیت کا دکھ درد بانٹنا ہے۔ 
 انہوں نے کہا تھا۔ آپ کی مقدس کتاب آپ کی روح میں کھلنی چاہئے، گود میں نہیں۔


مضمون نگار براڈکاسٹ جرنلسٹ، ٹی وی اینکراور رائٹرہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 155مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP