سفر در سفر

امریکہ چلئے

مسیحائی یعنی ڈاکٹری ایک بہت معزز پیشہ ہے۔ ہم بھی سارے بچوں کی طرح بچپن سے ہی ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔ اب تو ماشاء اﷲ بہتیرے پیشے ہیں جن میں لڑکیاں کام کررہی ہیں مگر جب ہم طالب علم تھے تولڑکیاں ڈاکٹر یا استانی اور لڑکے انجینئر یا پائلٹ ہی بننا چاہتے تھے۔



ہمارے بچپن کا شوق پورا ہوا اور ہم ڈاکٹر بن گئے۔ اس خواب کی تعبیر پانے  میں عمرِ عزیز کے سنہرے برس، انتھک محنت، پڑھائی اور مسلسل جدوجہد میں صرف ہوگئے۔ مگر جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو معلوم ہوا کہ خواب اور حقیقت میں کیا فرق ہے۔ ہم تو جنرل سرجن بننا چاہتے تھے جو خاصے دل گردے کاکام ہے۔ ہمیں دوستوںنے مشورہ دیا کہ لڑکیاں زیادہ تر گائناکالوجی میں ماہر ہوتی ہیں مگر ہمارا اس طرف رجحان نہ تھا۔ لہٰذا اس جانب نہ سوچا اور آخر جنرل فزیشن پہ ہی آکے کہانی ختم ہوگئی۔ ہم نے علم وادب اور فن و ثقافت سے رشتہ استوار کرلیا اور ڈاکٹری کسی خوبصورت یاد کی طرح ذہن و دل پہ قابض ہوگئی۔ ہمارے بہت سے دوست، ساتھی امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں پریکٹس کررہے ہیں اور ماشاء اﷲ خوب کامیاب ہیں۔ وہ ہمیں ہر سال ڈاکٹروں کی کانفرنس میں مدعو کرتے ہیں مگر ہم چاہنے کے باوجود نہیںجاپاتے۔ اب کی بار ہمارے دوستوں نے ہمیںخبردارکیا کہ اگر اس مرتبہ بھی میٹنگ میں نہ آئیں تو بس سمجھو 'ناراضگی' ہم اس دھمکی سے ڈر گئے اور فوراً رضامندی ظاہر کردی۔ شمالی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی بہت سی انجمنیں ہیں جو ہر سال امریکہ کے مختلف شہروں میںیہ کانفرنسیں، سیمینار اور میٹنگز وغیرہ منعقد کرتی رہتی ہیں۔ ان میں ڈاو میڈیکل کالج، سندھ میڈیکل کالج جو اب جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کہلاتا ہے۔ کنگ ایڈورڈ کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات شامل ہیں۔ ہم سندھ میڈیکل کالج کے گریجویٹ ہیں اور اس بات پہ ہمیں بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔
 امریکہ سے کینیڈا اور کینیڈا سے امریکہ جانا بہت آسان ہے۔ ہم جہاں رہتے ہیں وہ( یعنی ونکوور)بحرالکاہل پہ واقع ہے۔ اب امریکہ کے جو شہر اس سے متصل ہیں وہ قریب ہیں۔ اس کے برعکس جو بحرِ اوقیانوس پہ ہیں وہ دور ہیں۔ مثلاً  ونکوور سے ٹورنٹو نہ صرف یہ کہ بہت دور ہے بلکہ مختلف ٹائم زون میں ہے۔ ونکوور سے ٹورنٹو کی فلائٹ کا دورانیہ کم ازکم  پانچ گھنٹے ہے۔اب امریکہ کے جو شہر بحرِ اوقیانوس پہ لگتے ہیں وہ ٹورنٹو سے قریب ہیں مثلاً نیویارک۔ کینیڈا رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے میں خاصا وقت لیتا ہے مگر یہاں سفر کا مزا بہت ہے، قصہ مختصر ہم نے رختِ سفر باندھا اور واشنگٹن کے لئے روانہ ہوگئے۔ ونکوور سے صبح نکلے تو براستہ شکاگو رات بارہ بجے کے بعد واشنگٹن پہنچے۔ واشنگٹن کا موسم نہایت خوش گوار تھا، ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، ہم چونکہ ونکوور سے آرہے تھے تو کوٹ، جیکٹ اورمفلر لپیٹے تھے، سردی سے یکدم جیسے بہار میں آگئے۔ طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی۔ واقعی لگا جیسے موسمِ بہار ہے۔ کینیڈا میں تو بہار ہو کہ خزاں بس ٹھنڈ ہی ٹھنڈ ہوتی ہے۔
واشنگٹن میں ہمارا قیام دو دن رہا جہاں اپنے پرائے ساتھیوں سے ہماری ملاقات ہوئی۔ میٹنگز بہت اچھی معلوماتی رہیں۔ پھر میوزک کا بھی اہتمام تھا۔ محفلِ موسیقی بھی ہوئی جس میں میں فنکاروں نے پرفارم کیا۔ اپنے دو دن کے قیام میں ہمیں زیادہ گھومنے کا موقع تو نہ ملا لیکن چند قابلِ دید مقامات کی سیر ہم نے ضرور کرلی۔  
ہمارے ساتھیوںنے بس کرائے پر لی اور ایک لوکل گائیڈ کی خدمات حاصل کیں۔ سب سے پہلے ہم وائٹ ہائوس گئے۔ وائٹ ہائوس کے باہر ہی ہم نے تصاویر بنوائیں۔ معلوم ہوا کہ عمارت کے اندر جانے کے لئے ہفتوں پہلے درخواست جمع کروانی پڑتی ہے۔ وائٹ ہائوس کے باہر سیاحوں کا رش تھا جو مختلف  ٹولیوں کی شکل میں گھوم پھررہے تھے۔ وائٹ ہائوس کے بعد ہم کیپیٹل ہل یعنی ایونِ بالا گئے، جہاںسینیٹ اور منتخب نمائندوں کے اجلاس ہوتے ہیں۔ لنکن میموریل، واشنگٹن مونیومنٹ اور دیگر اہم عمارتیں بھی ہم نے دیکھیں۔ واشنگٹن میں دو دن جیسے پلک جھپکتے گزر گئے۔ وہاں سے ہم لاس اینجلس چلے گئے۔ لاس اینجلس جسے 'LA' کہا جاتا ہے۔ ریاست کیلیفورنیا میں واقع ہے، یہاں کا موسم  واشنگٹن کے مقابلے میںکچھ گرما گرم لگا۔ ہمیں تو اب یہی گرمی اچھی لگنے لگی ہے۔ پہلے کراچی میں ہم گرمی کو روتے تھے اب ٹھنڈ میںرہنے کے باعث گرمی یاد کرتے ہیں اور سردی کو روتے ہیں۔
لاس اینجلس میںٹورزم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہاں واقع ڈزنی لینڈ، یونیورسل سٹوڈیو، ہالی وڈ اور واک آف فیم سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ برسوں پہلے ہم فلوریڈا کے شہر آرلینڈو میں واقع ڈزنی ورلڈ اور یہاں LA کا یونیورسل ویزہ سب دیکھ چکے ہیں مگر یہ وہ تفریح گاہیں ہیں کہ جی کرتا ہے بار بار دیکھیں۔ ہم جاپان کے شہر ٹوکیو کا ڈزنی لینڈ بھی دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا سوچا اس مرتبہ ڈزنی لینڈ کو رہنے دیں اور یونیورسل سٹوڈیوز کا ہی پھیر ا لگا آئیں۔ ویسے بھی ہمیں صرف دو دن ہی رہنا تھا۔ ایک دن شاپنگ کا اورایک دن گھومنے پھرنے کا، تو گھومنے کے لئے سب سے پہلے واک آف فیم کا انتخاب کیا، اپنے پسندیدہ فنکار چارلی چپلن کے سٹار کے ساتھ فوٹو بنوائی، ہمیں یاد آیا جب ہم پچھلی مرتبہ آئے تھے تو ہمارا پسندیدہ فیورٹ ایکٹر سلویسٹر اسٹالن تھا۔ ہم نے خوشی خوشی اس کے نام کے اسٹار کے ساتھ تصویر بنائی تھی۔ یہاں ہم یہ بھی لکھنا چاہیں گے عظیم باکسر محمدعلی کِلے کا نام بھی یہاں موجود ہے مگر اس کی خاص بات یہ ہے کہ محمدعلی نے شرط رکھی تھی کہ اس کا نام زمین پہ نہ لکھا جائے کیونکہ یہ مقدس نام ہے اور اسے زمین پہ نہیں ہونا چاہئے، ورنہ بے حرمتی ہوگی۔ لہٰذا اس کا نام ایک دیوار پہ کندہ ہے۔ محمدعلی کِلے اب اس دنیا میں نہیں، اس کی بیٹی لیلیٰ علی بہت اچھی باکسر ہے اور اپنے والد کا نام دنیا میں روشن کررہی ہے۔
اب ذرا بات ہو جائے یونیورسل سٹوڈیوز ہالی وڈ کی،یہاں ٹکٹ کی قیمتیں مختلف ہیں، عمومی ٹکٹ ،ایکسپریس ٹکٹ، وی آئی پی ٹکٹ وغیرہ وغیرہ ہم نے عمومی ٹکٹ لیا۔ ہمارا خیال تھا ہم ویک ڈے یعنی عام دن پہ گئے ہیں رش کم ہوگا اس لئے قطار میں طویل انتظار سے بچ جائیں گے۔ مگر یہ ہماری خام خیالی ثابت ہوئی، قطارمیں آدھا گھنٹہ کھڑا ہونے کا مطلب  ہے کہ ایک دن میں ہم مکمل نہیں گھوم سکیںگے۔ لہٰذا ہم نے باکس آفس سے اپنا ٹکٹ اپ گریڈ کرایا اور نہ قطار نہ انتظار  کے فارمولے کے تحت ہر جگہ گھس گئے۔ مختلف جھولے، دل ہلادینے والے شوز، رولر کوسٹر رائیڈ، لائیو شوز، فلموں کے دلچسپ کارٹون کرداروں کے ساتھ تصاویر اور دیگر رائیڈز کہیں بھی قطار میںنہیں لگنا پڑا اور وقت کی بچت ہوگئی۔
یونیورسل سٹوڈیوز ہالی وڈ دراصل فلم سٹوڈیو ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تھیم پارک بھی ہے،  اس کا قیام1912میںعمل میں لایا گیا۔ جب یہ بنا تو صرف ایک فلمی سٹوڈیو ہی تھا۔ مگر بطورِ ایک تھیم پارک کے اس کا افتتاح جولائی1964 میں ہوا۔ دنیابھر سے سیاح یہاں گھومنے آتے ہیں۔ اگرچہ اس قدیم اور خوبصورت سٹوڈیو میں کئی بار آگ بھی لگی دیکھی تاہم مرمت کے بعد اسے درست کردیاگیا۔ سٹوڈیو کے اطراف میں وسیع پارکنگ ہے، یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں مگر پارکنگ کا مناسب انتظام ہونے کے سبب کبھی لوگوں کوگاڑی پارک کرنے میں مسئلہ پیش نہیںآیا۔ ہم یہاں یہ ضرور بتانا چاہیں گے کہ پورے لاس اینجلس میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے، لوگ یا تو اپنی گاڑیوں میںآتے ہیں یا کرائے کی گاڑی حاصل کرکے آتے ہیں۔ آج کلUber سروس بھی ویسے شروع ہوگئی ہے جو خاصی آرام دہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسل سٹوڈیو کے باہر پارکنگ کے احاطے میں کچھ جگہیںPick up drop off  کے لئے مخصوص ہیں یعنی گاڑی آپ کو اتار دے اور بٹھالے۔ ان باتوں کو تحریرکرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب عوام کی تفریح کے لئے سوچا جاتا ہے تو یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ صرف عمارت ہی کھڑی نہیں کرنی بلکہ لوگوں کی وہاں آمد و رفت، کھانا پینا، رہنمائی اور سکیورٹی بھی ضروری ہے۔سکیورٹی پہ یاد آیا کہ جیب کترے یہاں نہیں ہوتے۔ مختلف رائیڈز کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ اگر آپ کو دل کی یا کمر کی تکلیف ہے تو یہ آپ کے لئے موزوں نہیں۔ اگر آپ کی سرجری ہوئی ہے تو آپ ابھی اس رائیڈ سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے، وغیرہ وغیرہ، مضبوط بیلٹ، حفاظتی اقدامات اور لوگوں کی جان کی پروا یہ لوگ بہت کرتے ہیں۔ سامان کے تھیلے، بیگ  یا بڑے پرس لے کر آپ کچھ رائیڈز پرنہیں جاسکتے۔ اس کے لئے لاکرز موجود ہیں جہاںآپ سامان رکھ سکتے ہیں۔
سٹاف لوگوں کی مدد کرتا ہے، لوگ بھی مہذب ہیں، آرام سے قطار میں کھڑے ہوکر باری کا انتظار کرتے ہیں۔ جب ہم پہلے جھولے میں بیٹھے تو نجانے کیوں ہمیں کراچی کے علاقے سبزی منڈی میں واقع پارک میں جھولا گرنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات یاد آنے لگیں۔ ہمارا دل ڈرنے لگا مگر دیکھا کہ بچے بڑے سب مزے سے ہنڈولے کے مزے لے رہے ہیں۔ ہم اس وقت ایک بچہ بن گئے اور خوب انجوائے کیا۔ہم نے سٹوڈیو کاایک نقشہ اپنے پاس رکھا تھا جس کو دیکھ دیکھ کر ہم مختلف  حصوں میں جارہے تھے۔ ویسے تو ہر تھوڑی دور یہ سکرین پر لکھا آجاتا ہے کہ کون سا شوکتنے بجے ہے مگر نقشے سے آسانی رہتی ہے۔
یونیورسل سٹوڈیوز کے دو لاٹ  ہیں۔ بالائی اور زیریں یعنی Lower Lot اور Upper Lot ،ہماری کوشش تھی جلد سے جلد سبھی گوشے دیکھ لیں سب سے پہلے ہم نےSpecial Effects Show دیکھا جس میں بتایا گیا کہ کیسے فلموں میں صوتی اثرات دیئے جاتے ہیں اور کس طرح جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فلموں میں حقیقت کا رنگ بھرا جاتا ہے۔ یہ25 منٹ کا شو تھا اس کے بعد ہم جانوروں کے شو میں گئے جہاں کُتے بلیاں سٹیج پر اُدھم مچا رہے تھے۔ اس دلچسپ شو کا دورانیہ 15 منٹ تھا۔ Walking Dead Attraction ایک دلچسپ گوشہ ہے۔ یہاں خون آلود کٹی پھٹی لاشیں ، تاریکی اور لوگوں کو ڈرانے کے لوازمات موجود ہیں۔ یہ مصنوعی لاشیں ہیں مگر ماحول کچھ ایسا ہوتا ہے کہ بندہ سچ مچ ڈر جاتا ہے۔Transformers 3D Ride- Kung Fu Panda Harry Potter, Return of the Mummyاور Despicable Me سمیت ہم نے سبھی رائیڈز کامزہ لیا۔ شام 6 بجے سٹوڈیو بند ہوجاتا ہے۔ ہماری کوشش تھی کہ سبھی دیکھ لیں۔ شام 4 بجے ایک لائیوشو تھا جس کا نام تھاWater World ۔ہم جب تک وہاں پہنچتے سات منٹ اوپر ہو چکے تھے۔ لہٰذا ہمیں وہاں داخلہ نہ ملا۔ یہ بس ایک ہی شو تھا جو چھٹ گیا جس کا ہمیں افسوس رہے گا۔ باقی تو ہم خوب گھومے، بھوک لگی تو سوچا کہ پیزا یا برگر کھالیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی بے شمار ورائٹی وہاں موجود تھی۔ ہم نے Garlic Cheese Sticks کھائیں۔  پھر بچوں کو آئس کریم کھاتے دیکھا توخود بھی ایک کون آئسی کریم خرید لی۔ فلیورز بہت سارے تھے ہم نے دکاندار سے پوچھا تمہیں کونسا پسند ہے اس نے کہا ونیلا اور بنانا رِپّل ہم نے کہا ہمیں بھی وہی دے دو۔ بعد میں افسوس ہوا کہ کیوں نہ اپنی پسندیدہ سٹرابری فلیور آئس کریم ہی لے لیتے۔ خیر یہ تو ثانوی بات ہے، اہم بات تو یہ ہے کہ ہمیں مزہ بہت آیا۔ سٹوڈیو میں شاپنگ کے لئے دکانیں بھی ہیں کافی شاپ، ریستوران، فاسٹ فوڈ کے علاوہ سینما ہال بھی ہیں۔
 ہرطرف آپ کو اپنے پسندیدہ فلمی کردار بھی چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔ یہ بہروپ بھی خوب ہے، لوگ بہت شوق سے ان کے ساتھ فوٹو بنواتے ہیں۔ ہمیں فیونا اور شیریک یعنی Fiona and Shrek کے ساتھ تصویر بنانا تھی مگر نجانے کیوں رہ گئی۔ ایک جگہ کونے میں مارلن منرو کا روپ دھارے ایک حسینہ کھڑی تھی چاہا کہ اسی کے ساتھ فوٹو بنالیں مگر وہ بھی رہ گئی۔ شاید ہمیں جلدی تھی۔ ہمیں چھ بجنے سے پہلے پورا یونیورسل دیکھنا تھا، ہو سکتا ہے اسی باعث، معلوم نہیں۔ بہرحال تصویر کھینچ بھی لیتے تو کیا ہوتا اور جو نہیں کھینچی تو بھی کیا ہوا۔
اب ذرا کچھ حال اپنے اس سٹوڈیو ٹور کا لکھ دیں جو کھلی گاڑی میں ہوتا ہے۔ یہ ایک گھنٹے کا سفر ہے، گاڑی سٹوڈیو کے مختلف حصوں سے گزرتی ہے اور فلموں کے سیٹ، فلمی اداکاروں کے گھر، فلمسازوں کے دفاتر سے ہوتے ہوتے پورا سٹوڈیو گھماتی ہے۔ ہم پہلے بھی اس میں گھوم چکے ہیں۔ ہمیں دیکھنا تھا نیا کیاہے اور پرانی کون سی چیزیں ہیں۔ سب سے پہلے تو ایک جگہ مشہور ٹیلیویژن سیریز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں تھیں، ہم نے دور سے ہی دیکھ لیا کہ ہمارے بچپن میں ٹی وی پہ آنے والی نائٹ رائیڈر سیریز کی مشہورِ زمانہ گاڑی سب سے پہلے نمبر پہ کھڑی تھی،  آہستہ آہستہ بڑھتی گاڑی میں گائیڈ مائیک پہ اطراف کی تفصیلات بتاتی جارہی تھی۔ یہاں فلاں فلم کا سیٹ ہے، ہم دلچسپی سے دیکھتے رہے، پھر ہمیں اس سیٹ پہ لے جایا گیا جہاں ہمیں یہ دکھایا گیا کہ ٹرین کا حادثہ فلموں میں کیسے دیکھاتے ہیں۔ آگ کے شعلے بلند ہونا، سیلاب کا آنا، سمندر ، پانی کا ریلا، ہیلی کاپٹر سے لٹکنا وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب چونکہ ہم پہلے دیکھ چکے تھے لہٰذا زیادہ حیرت نہیں ہوئی، بس ایک ہی خیال دماغ میں آیا کہ جو کچھ یونیورسل سٹوڈیوز میں ہے۔ جس طرح سیاح یہاں آتے ہیں، جتنا مہنگا اس کا ٹکٹ ہے اور جس طرح  اس سے نہ صرف آمدنی ہوتی ہے بلکہ سیاحت کو فروغ ملتا ہے کیا ہمارے یہاں نہیں ہوسکتا؟
ہم بس سوچتے رہے ۔ اپنی تفریح گاہیں، اپنا ٹورزم ، اپنے سٹوڈیوز پھر خیال آیاکہ دنیا کے بہترین ساحل ہمارے پاس، صنوبر کے جنگلات ہمارے پاس، صحرا ہمارے پاس، آبشاریں ، جھیلیں، پہاڑ کی چوٹیاں، چشمے، باغات ، سبھی کچھ تو ہے ہمارے پاس پھر…؟ پھر شاید بات صرف اتنی سی ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم تو ہمیشہ یہی کہتے رہے ، ہمیں مسیحا کی تلاش ہے، اب لگتا تو ہے کہ شاید مسیحا مل گیا ہے ۔ مگر حالات مکمل تبدیل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہم بہت پُرامید ہیں انشاء اﷲ بہتری ہوگی۔


مضمون نگارمشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 159مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP