قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکہ، ایران تعلقات میں کشیدگی

کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ پچھلے نوے سالوں میں عالمی طاقتوں کا میدانِ جنگ کون سا خطہ ہے؟ جنگِ عظیم اوّل کے آغاز سے ہی اس خطے پر وقتاً فوقتاً جنگیں مسلط کی جا رہی ہیں۔ دنیا میں نوآبادیاتی نظام کے بکھر جانے، ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کی کامیابی کے ساتھ، وہ خطہ جو پچھلی ایک صدی سے جدید صنعتی دنیا کو تیل کی شکل میں اُن کی صنعتی ضرورتیں پوری کرنے کا سبب ہے۔ سرد جنگ کے اس دور میں بھی یہ خطہ کسی نہ کسی طرح عملی طور پر جنگوں، حملوں اور تنازعات کا مرکز رہا... یعنی مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اردگرد کا خطہ۔ مختلف ادوار میں یہاں مختلف انداز کی جنگیں مسلط ہوتی چلی آرہی ہیں۔مصر، اسرائیل کی جنگوں سے لے کر لبنان کے اندر خانہ جنگی تک۔ لبنان، خانہ جنگی سے قبل خطے کی سب سے اہم بندرگاہ تھی۔طویل خانہ جنگی نے مشرقِ وسطیٰ کی اس بحری بندرگاہ کی اہمیت ختم کردی اور اس کی جگہ متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک نے لے لی۔ ایران عراق کی طویل جنگ جس نے مسلم ممالک کے ان تیل پیدا کرنے والوں کو دس سالہ جنگ میں دھکیلے رکھا، دونوں ریاستوں کی چولیں ہل گئیں اور عالمی سرمایہ داری نے جہاں اس جنگ کو تیز کرنے کے لئے دونوں ممالک کو خوب اسلحہ بیچا، وہیں انہوں نے ان دونوں ممالک کی وارمشینری کو نیست ونابود کردیا۔ عراق کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ عراق پر مسلط دوجنگوں نے اس ریاست کے بخیے ادھیڑکر رکھ دئیے۔ ایک خوش حال، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ اور تیل کی پیداوار کرنے والی ریاست کو غریب مملکت میں بدل دیا۔ جنگ مسلط کرنا،  یقینا عالمی سامراجی حکمت عملی کا شعوری فیصلہ ہے ۔
 افغان جنگ 1979ء میں سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کے بعد شروع ہوئی۔ اس جنگ میں امریکہ پہلے کابل میں قائم حکومت کے خلاف برسرپیکار رہا اور پھر 9/11کے بعد  وہاں اپنی مرضی سے حکومتیں بنوانے کے بعد کابل  میں قائم حکومت کا سرپرست بنا اور اس کی افواج افغانستان کے اندر مستقل اڈے بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ جنگ کا یہ پہیہ کس مہارت سے گھمایا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا تیل نہ پیدا کرنے والا ملک، شام جس کے ذمے کوئی قرض نہیں تھا، پھر وہاں جنگ برپا کی گئی۔ اس میں ایسی پراکسی وار لڑی گئی کہ خطے کا دشمن وہاں عالمی سامراج کا اتحادی تھا۔ اور اسی طرح افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک امیرترین ملک لیبیا، جس بے دردی سے اس ریاست کو کچلا گیا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ملک دو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، ریاست کی جگہ Warlordsحکمرانی کرتے ہیں۔ ذرا غور کریں ، عالمی سامراج کس طرح وقت کے ساتھ ساتھ جنگ کا یہ پہیہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد خطوں میں گھماتا رہتا ہے۔ یمن کے اندر تنازع اور یمن سعودی عرب تنازع بھی اس جنگی تھیٹر کا حصہ ہے۔ اس سامراجی جنگی حکمت عملی میں، عالمی طاقتوں نے مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اب قوم پرستی کے نام پر تحریکوں کو استعمال کیاجانا شامل ہے۔
 اس خطے کے دو اہم اور پڑوسی ملک، ایران اور پاکستان ان جنگوں سے متاثر ہونے کے باوجود بھی اپنا وجود اور سٹریٹجک اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب چلے آرہے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے جنگ کا یہ حربہ جس کے تحت خطے کی اہم ریاستوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے ، ایران پر مسلط کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے تحت امریکہ نے ایران پر حملے کے لئے پر تول رکھے ہیں اور اس کے گرد جنگی حصار بھی پھیلایا جا رہا ہے۔اس کی سب سے خوف ناک شکل یہ ہے کہ امریکہ اس جنگ میں ایران- پاکستان میں بھی تنائو چاہتا ہے اور یوں ایک تیر سے دو شکار کا خواہاں ہے۔ ایران- امریکہ تنائو مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا طبل بھی بجا سکتاہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ امریکہ، ایران کو، عراق اور لیبیا جیسا ''سبق سکھانا'' چاہتا ہے۔ 
لیکن یہ معاملہ اب اس قدر آسان نہیں۔ پچھلے تین سالوں سے امریکہ جس طرح خطے کے اب اہم ملک اور ناٹو اتحادی ترکی سے دُور ہوچکا ہے، اس نے اس کے خطے میں خوابوں کو کسی حد تک چکناچُور کردیا ہے۔ ترکی، ناٹو میں امریکہ کے بعد سب سے بڑا حصے دار ہے، مگر وہ عسکری اور علاقائی معاملات میں اپنے روایتی حریف روس کے اب بہت قریب ہوچکا ہے۔ ان نئے ترکی- روس تعلقات کے سبب ترکی، روس سے دنیا کا جدید ترین S-400اینٹی ایئرکرافٹ دفاعی نظام خریدنے جا رہا ہے، جس سے خطے میں امریکہ کے عسکری مفادات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اور اسی طرح ترکی، ایران اور روس ، شام کے معاملے کو باہمی رضامندی سے حل کرنے پر متفق ہوچکے ہیں۔ یہ بھی امریکہ کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ترکی اور ایران، تیل اور دیگر تجارتی معاملات پر ایک دوسرے کے روز بروز قریب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ بار بار ایران کے خلاف جارحانہ اعلانات کر رہے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ اب جارحیت کرنا اتنا آسان نہیں۔ اس کی وجہ لاتعداد نئے حقائق اور سیاسی تبدیلیاں ہیں۔ خطے میں سٹریٹجک توازن میں پاکستان، ترکی، روس اور چین اہم ترین ممالک ہیں۔ ان کی رضامندی کے بغیر اب کوئی جنگ مسلط کرنا گڑیا کا کھیل نہیں رہا، جیسے نوے کی دہائی سے ہوتا چلا آرہا تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی انتظامیہ جن بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ جنگ مسلط کرنے کے اعلانات کررہی تھی اور اپنی افواج کو ایران کے گرد کھڑی کررہی تھی، اس عمل میں امریکہ کو عالمی سطح پر پہلے جیسی سفارتی حمایت میسر نہیں ہورہی۔ عراق جیسی ریاست جس کو امریکہ نے کھوکھلا کرکے اپنے رحم وکرم پر رکھنے کا خواب دیکھا، اس کے وزیرخارجہ محمد علی حاکم نے 26مئی کو کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کو جنگی دھمکیوں کے بعد عراق، ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بیان خطے میں امریکہ کے جنگی منصوبے کی سفارتی وسیاسی کمزوری کا ایک اظہار ہے۔
 27مئی کو امریکی صدر ٹرمپ، جاپان کے دورے پر پہنچے تو امریکی صدر کو وہاں سے بھی پہلے جیسی سیاسی حمایت حاصل نہیں ہوئی، جو نوے کی دہائی سے خطے میں جنگیں مسلط کرنے کے وقت سے چلی آرہی تھی۔ جاپانی وزیراعظم شنزوایبے(Shinzo Abe) سے ملاقات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایران میں Regime Change نہیں بلکہ صرف ایران کے نیوکلیئر مسئلے پر پریشان ہیں۔ چند روز پہلے تک ایران کو دھمکیاں دینے کے بعد اب صدر ٹرمپ کا بیان دفاعی مؤقف ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے شمالی کوریا کے راہبر کم جونگ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ ایک ''سمارٹ'' شخص ہیں۔ ویسے ہی جاپان کے دورے پر امریکی صدر نے اپنے دفاعی بیان میں ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''ایران موجودہ قیادت کے ہی تحت خطے کا اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ہمیں تو فکر صرف ایٹمی اثاثہ جات کی ہے۔'' 
یہ وہ بدلتی صورتِ حال ہے جس میں امریکہ خطے میں آسانی سے جنگ مسلط کرنے میں کامیاب نظر نہیں آرہا۔ امریکی صدر نے جاپان کے حالیہ دورے میں یہ بھی کہا ہے کہ ''ہم ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے تیار ہیں، ہم ایران کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے جا رہے ہیں۔ اور مجھے معلوم ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے ایرانی حکومت کے ساتھ شان دار تعلقات ہیں اور وہ ان تعلقات کو بروئے کار لاکر، دونوں ممالک کے مابین تنائو کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔''
امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران ہی جاپان نے امریکہ اورایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس ساری صورتِ حال اور واقعات سے اب یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر خطے کی مملکتیں چاہیں تو اپنے آپ کو جنگوں سے محفوظ رکھنے اور اپنے تنازعات کو ازخود حل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ یہ وہ سبق ہے جو اس خطے نے پچھلے نوے سالوں میں مختلف تجربات سے سیکھا۔


مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے     
مصنف ہیں۔[email protected]
 

یہ تحریر 48مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP