متفرقات

البیرونی، زمین کا ریڈیئس، اور پاکستان

جہاں پاکستان کے شمالی علاقوں کی دنیا میں بڑی دھوم ہے وہیں پاکستان کے تاریخی ورثے کی بھی بات کی جاتی ہے۔ پاکستان تاریخ کے ایک ایسے جغرافیائی پڑاؤ  پر موجود ہے جہاں پرانی مٹ جانے والی تہذیبوں کے اثرات جا بجا موجود ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے لے کر لاہور کے شاہی قلعے تک یہاں کی عمارتوں اور کھنڈرات میں تاریخ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سندھ کی قدیم تہذیب ، مکلی قبرستان، ٹھٹھہ ، قلعہ روہتاس اورلاہور کی مغلیہ عمارتوں کے بارے میں تو دنیا جانتی تھی لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ اس کرہ ارض کا محیط اور قطر بھی کئی صدیاں پہلے اسی سر زمین پر بیٹھ کر نکالا گیا۔ کیا واقعی البیرونی نے پاکستان میں موجود نندنا فورٹ میں جا کر اس سیارے یعنی زمین کی پیمائش کی تھی؟ جب سے وزیر اعظم عمران خان نے نندنا قلعے کے البیرونی مقام پر ہیری ٹیج ٹریل کا افتتاح کیا ہے تب سے لوگوں میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ وہ جانیں کہ کیا واقعی البیرونی نے اسی جگہ بیٹھ کر زمین کا محیط یعنی سائز کی پیمائش کی تھی۔ تو آئیے آج آپ کو اس کی کچھ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں کہ قلعہ نندنا کی تاریخ اور اہمیت کیا ہے اور البیرونی نے اس کرۂ ارض کی پیمائش کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا تھا۔ گو اس بارے میں مختلف روایات موجود ہیں لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زمین کے حجم کا حساب کتاب کرنے کی ضرورت سب سے پہلے اس وقت محسوس کی گئی جب عباسی خلیفہ المامون نے اس وقت کے نامور اسکالرز کی ایک ٹیم کو اس کام پر لگایا اور انہیں زمین کے سائز کا حساب کتاب کرنے کا کام سونپا۔ انہوں نے دوپہر کے فاصلے پر سورج کا زاویہ 1 ڈگری تبدیل کرتے ہوئے اس کا فاصلہ ڈھونڈنا شروع کیا۔ اس طریقہ کار میں مسئلہ یہ تھا کہ صحرا کی سخت گرمی میں دو نکتوں کے مابین ایک بڑی سیدھی لکیر کے بیچ فاصلوں کی پیمائش کرناآسان کام نہ تھا ۔ اسی لئے سائنسدان ابوریحان البیرونی نے زمین کی پیمائش کے لئے نندنا فورٹ کا انتخاب کیا۔ لیکن اس سے پہلے ایک یونانی حساب دان نے 240 قبل مسیح میں ایروٹوستھینس Eratosthenes یعنی زمین کا محیط معلوم کیا تھا۔ اس نے سیدھی لکڑی زمین پر کھڑی کر کے اس کے سات ڈگری پڑنے والے سائے سے یہ فیصلہ کیا کہ زمین کے محیط کا اندازہ لگایا جائے۔  اس نے زمین کے کا محیط  چھیالیس ہزار دو سو پچاس کلو میٹر  46250 کا اندازہ لگایا تھا۔ جبکہ جدید تحقیق ناسا کے مطابق یہ ریڈئیس تقریباً 6371کلو میٹر مانا جاتا ہے۔ البیرونی نے زمین کا ریڈئیس 6335 کلو میٹر ناپا تھا۔  تاریخ میں حساب دانوں اور سائنسدانوں نے کئی مرتبہ اس پر تجربات کئے۔ اب آتے ہیں البیرونی کے اس تجربے کی جانب جو اس نے نندنا فورٹ میں بیٹھ کر کیا اور جو ناسا کی موجودہ اور نئی تحقیق کے مطابق کچھ فرق کے ساتھ درست مانا جاتا ہے۔ 
تاریخی قلعہ نندنا ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان میں واقع ہے کھیوڑہ، نندنا مندر، کٹاس مندر، ملوٹ مندراورتخت بابری بھی نندنا قلعے کے ساتھ واقع ہیں۔ ابو ریحان البیرونی کو گیارہویں صدی کا ایک بہت بڑا سائنس دان مانا جاتا ہے۔ وہ مشہور جغرافیہ دان، تاریخ دان، ریاضی دان، محقق، ستارہ شناس، اور علم ارضیات، نباتات اور علمِ فلکیات کے ماہر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ محمود غزنونی کے دربار کے رکن بھی رہے۔ یہ بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ انہوں نے برصغیر کے اس خطے میں قیام کے دوران کٹاس راج کی ایک درس گاہ سے سنسکرت بھی سیکھی۔ البیرونی نے جب اس کام کا بیڑا اٹھایا تو انھوں نے نندنا کے پہاڑ کو اپنے حساب کتاب کے لئے منتخب کیا۔ ۔ قلعہ نندنادسویں صدی عیسوی کی تعمیر ہے۔ اس میں ایک شہر اور مندر کے آثار بھی ہیں۔ اس پر ہندو شاہی سلسلے کے راجا گیارہویں صدی تک حکمران رہے اس کے بعد محمود غزنوی کی حکومت قائم ہوئی۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ اس کے اندر ہندو شاہی راجا انند پال کے بیٹے جے پال نے شیو کا مندر تعمیر کرایا تھا۔ سنسکرت میں نندنا کا مطلب بیٹا ہے اس قلعے کا نام اِندر دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا ۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ راستہ سکندر کی افواج نے  دریائے جہلم کو پار کرنے کے لئے اختیار کیا ۔ محمود غزنوی نے اس قلعے کو فتح کیا۔ 
ابو ریحان البیرونی نے اس قلعے میں قیام کی اجازت طلب کی اور یہاں بیٹھ کر یہاں کی زبان سیکھی، یہاں کی تہذیب و ثقافت سے آگاہی حاصل کی- اپنے سائنسی تجربات کے لئے رصد گاہ بنائی ۔ البیرونی نے الجبراء اور ریاضی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے یہ بتایا کہ زمین کا قطر یا محیط کتنے میل کا ہے- البیرونی کا یہ حساب آج کے جدید دور میں بھی 43 فٹ کے فرق سے درست ہے - البیرونی نے یہیں بیٹھ کر اپنی مشہور زمانہ کتاب ''کتاب الہند'' لکھی۔ البیرونی کو ودیا ساگر کا خطاب دیا گیا۔ 
اب آتے ہیں اس طرف کہ انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے زمین کے ریڈیئس اور اس کے طواف کا حساب کتاب کرنے کے لئے واقعی ایک بہترین طریقہ نکالا۔ یہ طریقہ انتہائی آسان بھی تھا اور درست بھی ثابت ہوا۔ اس مسئلے کے حل تک پہنچنے کے لئے صرف چار پیمائشوں کی ضرورت تھی اور پھر اس پر مثلثی مساوات کا اطلاق کر دیں۔ ۔ جبکہ البیرونی نے قلعہ نندنا کو اس کی خاص جغرافیائی اہمیت کی بناپر منتخب کیا۔ انھوں نے پہلے اس پہاڑ کی اونچائی معلوم کی پھر سطح سمندر سے اس کی اونچائی کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد ایک پروٹیکٹر نما آلے کی مدد سے تجربات کئے۔ وہ کئی دن تک کئی بار یہ تجربہ کرتے رہے۔ اس طرح انھوں نے زمین کی پیمائش حاصل کر لی۔  
التمش کی فتوحات کے زمرے میں بھی نندنا قلعہ کا نام آتا ہے ۔ اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زمانے میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا۔ یہ باغ موجودہ باغانوالہ کے مقام پر لگایا گیا جس کے آثار آج بھی موجود ہیں- پنجاب میں مغلوں کی حکومت کمزور ہونے پر اس علاقے پر سردار مہا سنگھ نے قبضہ کر لیا- مہا سنگھ رنجیت سنگھ کے والد تھے- رنجیت سنگھ کے دور میں یہ قلعہ سکھوں کے ہاتھ میں ہی رہا تب رنجیت سنگھ نے کھیوڑہ کے مقام پر اپنی ٹکسال بھی لگائی اور اس ٹکسال کا سکہ ''نمک منٹ'' کہلاتا ہے- پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد یہ قلعہ ان کے تصرف میں آگیا-
قلعے میں موجود مسجد کچھ مورخین کے مطابق غزنوی دور کی ہے جبکہ کچھ کے خیال میں التتمش دورکی ہے- یہاں پر ایک کتبے کا بھی کچھ حصہ ہے جو مشکل سے پڑھا جاتا ہے۔ قلعہ سے مشرقی جانب ایک وسیع قبرستان ہے جس کی زمین قدرے ہموار ہے- اسے فتو والا قبرستان کہتے ہیں- جو کہ اصل میں فتح والا کی تبدیل شدہ شکل ہے- جنوبی جانب ایک اور ہموار قطعہ ''شہیدوں والی جگہ'' کہلاتا ہے جہاں شہداء کی قبریں موجود ہیں- مسجد کی بحالی کا کام آج سے دس بارہ سال پہلے کیا گیا تھا- مگر اب اس کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے-
نندنا قلعے پر کافی عرصے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔- محکمہ آثار قدیمہ نے اس کی تاریخی حیثیت کے باوجود اب تک کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ لیکن اب جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اس تاریخی جگہ کا دورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انگریزوں نے ہی تاریخی مقامات کو دریافت کیا،ہمیں اپنے نوجوانوں کو روزگار دینا ہے،سیاحت ایسی چیز ہے جو سب سے زیادہ روزگار دیتی ہے،پوری دنیا میں اتنی چیزیں نہیں ملتیں جتنی پاکستان میں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہیری ٹیج ٹریل میں ایک پورے علاقے کا تعین کیاگیا ہے،مقامی لوگ سیاح کا خیال رکھیں گے تو ان کووسائل ملیں گے،ہماری کوشش ہوگی کہ ہم یہاں ایک ماڈل ولیج بنائیں۔ 
جہلم کی عوام نے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکندر اعظم اور راجہ پورس کی لڑائی والے علاقے جلالپور کی طرف توجہ دیں جہاں ساتھ ہی سخی شہباز قلندر ،بابا فریدگنج شکر ،بہا الدین زکریا ملتانی کی چلہ گاہیں موجود ہیں ان کی تزئین و آرائش اور علاقے کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دیں۔ ||


مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ کار ہیں۔
 

یہ تحریر 61مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP