قومی و بین الاقوامی ایشوز

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس اور مسئلہ کشمیر

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کوانتہائی کامیاب قراردیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی ،عالمی فورمز اوربین الاقوامی میڈیا میں جس طرح کشمیراورمسلمانوں کامقدمہ پیش کیااس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔پاکستان کی کوششوں اورمؤثرحکمت عملی کے باعث آج پوری دنیا کواس بات کااحسا س ہواہے کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہ کیاگیاتومودی کی حماقتوں کے باعث جنوبی ایشیا میں جنگ ہوسکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پرپڑیں گے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پرخاموشی اورآنکھیں بند کرلینے سے مسئلہ حل نہیں بلکہ مزید خراب ہوگا۔مقبوضہ کشمیر کے عوام میں بھارت کے خلاف جونفرت اورغم وغصے کا لاوہ پک رہاہے وہ کسی بھی وقت پھٹ سکتاہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں اوراہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ عالمی رہنماؤں سے ملاقات میں وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرکوبھرپوراندازمیں اٹھایا اوران رہنماؤں پرزور دیا کہ وہ مصلحتوں کاشکارہونے کے بجائے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کردار ادا کریں تاکہ خطے کوجنگ سے بچایاجاسکے۔امریکی صدرٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کئی مرتبہ ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں مگربھارت ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل انکارکررہاہے۔



 وزیراعظم عمران خان ابھی امریکہ میں ہی تھے کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکی وزارت خارجہ کی معاون نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے بھارت سے مطالبہ کیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرے ،حالات معمول پرلائے اور گرفتار کئے جانے و الے تمام کشمیریوں کورہاکرے۔یہ مسئلہ کشمیر پرپاکستان کی عالمی حمایت کاثبوت ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک دنیا مسئلہ کشمیر پربات کرنے کے لئے تیارنہیں تھی۔پاکستان نے دنیا کوجس طرح مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم سے آگاہ کیاہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ نیویارک اورلندن سمیت دنیا کے کئی بڑے شہروں میں ہزاروں لوگ کشمیریوں اورپاکستان کی حمایت میں سڑکوں پرنکلے ، اس پربھی دنیا حیران ہے۔سچ تو یہ ہے کہ امریکہ اوریورپ میں رہنے والے پاکستانیوںنے مٹی کاحق ادا کردیا ہے۔ بلاشبہ ان پاکستانیوں کاجذبہ قابل تحسین ہے،میں انھیں سلام پیش کرتاہوں۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستان کامقدمہ پیش کیااورسمندرپارپاکستانیوںنے امریکی اوریورپی عوام کوبھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔ا ن مظاہروں میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں اورسکھوںنے بھی شرکت کی اوراپنااحتجاج ریکارڈ کروایا۔نیویارک اورلندن کی سڑکوں پرکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے لئے موبائل ٹرکوں پرکرفیوکلاک کی مہم بھی انتہائی کامیاب رہی ۔اس ٹرک پرنصب ڈیجیٹل سکرین کے ذریعے دنیا کوبھارتی مظالم سے آگاہ کیاگیا۔دوسر ی طرف جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نیویارک میں آزاد خالصتان کے نعرے بھی گونجتے رہے۔سکھوں کی بڑی تعداد نے خالصتان کی آزادی کی مہم بھرپور طریقے سے چلائی ۔بھارتی وزیراعظم مودی کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ہزاروں لوگوں نے اقوام متحدہ کے باہراحتجاج کیا۔اس سے پہلے ہیوسٹن میں ہونے والی ہاوُڈ ی مودی ریلی،جس میں بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ صدرٹرمپ بھی موجود تھے،کے باہرہزاروں لوگوں نے مودی کے خلاف منظم اندازمیں احتجاج کیااورانھیں مودی ہٹلرقراردیا۔دنیاکوبتایاکہ مودی آج کاہٹلرہے۔
 23 ستمبرکووزیراعظم عمران خان نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ،وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کایہ امریکہ کا دوسرا دورہ تھا ۔ صدر ٹرمپ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت سے کافی متاثرہیں اورکئی مرتبہ ان کی تعریف کرچکے ہیں۔اس ملاقات کے بعدمشترکہ پریس کانفرنس میں صدرٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان اوربھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ۔صدرٹرمپ نے پاکستانی میڈیا کے کردار کوبھی سراہا۔صدرٹرمپ کاکہناتھاکہ اگر دونوں فریق قبول کریں تو وہ ثالثی کے لئے تیار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں تسلیم کیا کہ ان سے پہلے کی امریکی قیادت نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے صدرٹرمپ سے کہا کہ وہ نریندر مودی سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیوختم کرنے کاکہیں جس پرصدرٹرمپ نے کہا کہ وہ مودی سے بات کریں گے۔صدرٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کامینڈیٹ بھی دیا۔وزیراعظم نے صدرٹرمپ پرزور دیاکہ ایک عالمی طاقت کے طورپرامریکہ مسئلہ کشمیرحل کرانے میں کرداراداکرسکتاہے۔کشمیر میں پیدا ہونے والے المیے کوختم کرناضروری ہے۔ صدرٹرمپ مقبوضہ کشمیر میں نافذ بدترین پابندیوں کے خاتمے کے لئے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پر دباؤ ڈالیں۔بھارتی اقدامات کے باعث بحران بڑھنے کاخدشہ ہے اوربدقسمتی سے بھارت مسئلے کے حل کے لئے بات چیت کے لئے تیارنہیں۔ملاقات میں صدرٹرمپ نے کہا کہ خطے میںتنازعات کے حل کے لئے عمران خان کاکردار اہمیت کاحامل ہے۔ ان کے عمران خان اورنریندرمودی سے اچھے تعلقات ہیں۔انہوں نے امید ظاہرکی کہ مسئلہ کشمیر کوبات چیت کے ذریعے حل کیاجائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدرٹرمپ کومسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ مجھے پاکستان پر اور عمران خان پر اعتماد ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے  پاکستانی اقدامات پر کئے گئے ایک سوال پر صدرٹرمپ  نے تسلیم کیا کہ اس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستانی قوم کوامید ہے کہ صدرٹرمپ زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے مودی پردباوڈالیں گے کہ مقبوضہ کشمیر سے فوری طورپرکرفیو اٹھایا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کی جوخصوصی حیثیت ختم کی ہے وہ بحال کرے۔آرٹیکل 370  اور 35-A کوختم کرنے کافیصلہ واپس لے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کوحق خودارادیت دیاجائے۔
نیویارک میں کشمیریوں کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔اس وفد میں  معروف کشمیری رہنما ڈاکٹرعلام نبی فائی ،ڈاکٹرغلام میر اوردیگرکشمیری رہنما شامل تھے۔ وفد نے وزیراعظم کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تباہ کن صورتحال سے آگاہ کیا۔ کشمیری رہنماؤں  نے بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔اس  وفد میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گرفتار ان کشمیریوں کے قریبی عزیز بھی شامل تھے جن کے ساتھ تمام رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے انھیں یقین دلایا کہ وہ دنیا بھر میں کشمیریوں کے سفیر کی حیثیت سے تمام بین الاقوامی فورمز پر مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے، وہ عالمی برادری کومقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم سے آگاہ کریں گے۔
 وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے چیئر مین اور خارجہ امور کمیٹی کے رکن سینیٹر لنزے گراہم نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاک امریکہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں سینیٹر لنزے گراہم کے تعاون کو سراہا۔ سینیٹر لنزے گراہم سے ملاقات میں  دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحران کے حوالے سے  تفصیلات بیان کیں۔ وزیراعظم عمران خان کاکہناتھا کہ مسئلہ کشمیر خطے میں دیرپا امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام سے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہے، امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔  وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔  ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ افغان تنازعے کے حل کے لئے امریکہ کے ساتھ کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان، افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، خارجہ سیکرٹری سہیل محمود، پاکستانی سفیر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ 
 وزیراعظم عمران خان سے افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان کی صورتحال اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاک امریکہ مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے  زلمے خلیل زاد کی افغانستان کے پرامن سیاسی حل کے لئے کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کے لئے کوششیں اور تعاون جاری رکھے گا اور امید ہے افغان امن عمل جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے افغانستان میں حالیہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا امن پاکستان کا وژن ہے۔ پرامن ہمسائیگی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔ تمام فریقوں کو چاہئے کہ امن کے استحکام اور مفاہمت کے فروغ کے لئے مشترکہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے افغان امن اور مفاہمتی عمل کے لئے وزیراعظم عمران خان کے تعاون کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
 وزیراعظم عمران خان سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل کومی نائیڈو نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کردار کو سراہا۔
 وزیراعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ برائے جموں وکشمیر کے اجلاس میں بھی شرکت کی ۔اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کے اجلاس کے بعد اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔جس میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام عالمی قوانین اور خود بھارتی وعدوں کے برعکس ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ رابطہ گروپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ ہائی کمشنر کی رپورٹس اور پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے 16 اگست کے اجلاس کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال بند کرے، کرفیو اٹھایا جائے، تمام اسیروں کو فی الفور رہا کیا جائے، بھارت کالے قوانین واپس لے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے، خطے میں امن و استحکام کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ رابطہ گروپ نے مطالبہ کیا کہ بھارت یک طرفہ اقدامات واپس لے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔
  نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے انتہا پسنداسلام کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نہ تو اعتدال پسند ہے اور نہ شدت پسند، اسلام صرف ایک ہے۔اسلام وہ ہے جو ہمارے پیغمبر حضورنبی کریم ۖ نے ہمیں سکھایا۔ بھارت کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک میں انتہا پسند سوچ جنم لے رہی ہے، جہاں گزشتہ چھ برسوں سے انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ بھارت کے لئے فکرمند ہوں، جہاں گزشتہ چھ سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ یہ گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں ہے۔ وہاں آر ایس ایس کا نظریہ قائم ہو چکا ہے جو ہندوؤں کی بالادستی چاہتا ہے۔ بدقسمتی سے ہندو بالادستی کا یہ نظریہ بھارت میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ اس بارے میں پریشان ہیں اور دو ایٹمی قوتوں کو اس پر پریشان ہونا بھی چاہئے۔وزیراعظم عمران خان نے بتایاکہ انہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب بورس جانسن سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  مودی حکومت نے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر یک طرفہ فیصلہ کیا جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ مجھے عالمی برادری سے امید ہے کہ وہ بھارت کو کرفیو اٹھانے کے لئے کہیں گے۔کشمیری عوام کے ساتھ انسانی حقوق کے منافی سلوک کیا جا رہا ہے،جوظلم ہے۔
شہد سے میٹھی اورہمالیہ سے بلند پاکستان اورچین کی دوستی دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔چین نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیاہے۔سی پیک منصوبوں سے پاکستان  ایک معاشی انقلاب کی طرف گامزن ہے۔نیویارک میں چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے بھی ملاقات کی ۔یہ ملاقات جنرل اسمبلی سیشن کی سائیڈ لائن پرہوئی۔وزیراعظم نے چینی وزیرخارجہ کومقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم اوراقدامات سے آگاہ کیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی چینی وزیرخارجہ سے ملاقات کی،اس موقع پروزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزوہیں مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے چین کاتعاون قابل تحسین ہے۔مسئلہ کشمیر اورخطے کی صورتحال پرچین کامؤقف اصولوں پرمبنی ہے اورچین پاکستان کی مکمل حمایت کرتاہے۔ 
     وزیراعظم عمران خان نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اورانھیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اورپاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور اپنا کردار ادا کرے۔ملاقات میں  دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سیکیورٹی اور دفاع سمیت دیگر متعلقہ امورپربھی غورکیاگیا۔     وزیر اعظم عمران خان نے انڈونیشیا کے نائب صدرجوسف کلا سے بھی ملاقات کی اورانھیں مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے آگاہ کیااورانھیں بتایاکہ مسئلہ کشمیر امن و سلامتی کے لئے خطرات کا سبب ہے۔ انڈونیشیامسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آوازبلند کرے۔ انڈونیشیا اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔


بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ انڈیا کو کشمیر پالیسی بدلنے پر مجبور کرے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔


وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی۔صدر حسن روحانی نے خود پاکستانی وفد کا استقبال کیا،اس ملاقات میں بڑی گرم جوشی دیکھنے میں آئی۔ملاقات میں مشرق وسطی کی صورتحال اورامریکہ سے کشیدگی پربھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ صدرٹرمپ نے عمران خان سے ملاقات میں  اس خواہش کااظہارکیاتھا کہ وزیراعظم عمران خان امریکہ اورایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرانے میں کردار ادا کریں۔ 
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے وزیراعظم کی ملاقات بھی بہت اہم تھی ۔ترکی نے بغیر کسی مصلحت کے  مسئلہ کشمیر پرپاکستان کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔مسلمانوں کودرپیش چیلنجز پرترکی اورپاکستان کامؤقف ایک جیساہے ۔ اسی طرح ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمدجوپاکستان کادورہ بھی کرچکے ہیں ان سے ملاقات بھی بے حد مفید رہی۔ملائیشیا،ترکی اورپاکستان جلد ہی عالم اسلام کاایک مشترکہ انگریزی چینل بھی شروع کرنے جارہے ہیں۔ ملائیشیا،ترکی اور ایرانی رہنماؤںکے علاوہ  سوئس اور اٹلی کے رہنماؤں سے ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سوئس فیڈریشن سے ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے کہاعلاقائی امن و سلامتی کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، دونوں رہنماؤں نے سیاست، تجارت، معیشت و دیگرشعبوں میں تعاون بڑھانے پراتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی صدر عالمی بینک ڈیوڈ مال پاس کے ساتھ بھی میٹنگ ہوئی۔وزیراعظم عمران خان کی بل گیٹس سے بھی ملاقات کامیاب رہی۔پاکستان اور بل گیٹس کی فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پردستخط ہوئے، جس کے تحت بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن پاکستان کو آئندہ برس'' احساس ''پروگرام کے لئے بیس کروڑ ڈالر فراہم کرے گی۔
  26 ستمبر کووزیراعظم عمران خان نے نیویارک میںایشیائی سوسائٹی سے بھی خطاب کیا اور سوالوں کے جواب دیئے ۔ عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، کشمیر میں حالات سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ نے شواہد کے باوجود مسئلہ کشمیر پر کردار ادا نہیں کیا جب کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کشمیر کی صورتحال پر سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر توجہ دے ۔ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا چاہئے۔عمران خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ حکومت میں آ کر ہمسایہ ملکوں کو مذاکرات کی دعوی دی، بی جے پی کی دوبارہ حکومت آنے پر مذاکرات کی کوشش کی مگر بھارت نے مثبت ردعمل نہیں دیا۔  فروری میں شروع ہونے والی پاک بھارت کشیدگی بتدریج بڑھی۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا فوری جواب دیا اور پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دو بھارتی طیارے مار گرائے۔ تاریخ دیکھیں تو تمام جنگیں غلط اندازے لگانے کے سبب ہوئیں۔
   وزیراعظم عمران خان نے 27ستمبرکو  اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریرکافوکس کشمیر تھاتاہم اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے منی لانڈرنگ،اسلاموفوبیااورموسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی کھل کربات کی اورپاکستان کے  مؤقف سے آگا ہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ انڈیا کو کشمیر پالیسی بدلنے پر مجبور کرے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ یہ دھمکی نہیں ہے بلکہ وارننگ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا اور اب ان وعدوں کو پورا کرنے کا وقت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہندوانتہاپسندی کوبھی عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیااوردنیا کوبتایاکہ ہندوانتہاپسندی کوسمجھنے کے لئے آر ایس ایس کا نظریہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔بھارتی وزیراعظم  نریندر مودی اس تنظیم کے تاحیات رکن ہیں اور یہ تنظیم نسلی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور انڈیا میں نسل کشی کرنا چاہتی ہے یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہے۔  اسلاموفوبیاکے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کایہ کہنابالکل درست ہے کہ دہشت گردی کاکسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا،دہشت گردی کواسلام سے جوڑناغلط ہے ۔نائن الیون سے پہلے سب سے زیادہ خودکش حملے کرنے والے تامل ٹائیگرز تھے جو ہندوتھے ،لیکن کسی نے ہندوازم کودہشت گردی سے نہیں جوڑا۔وزیراعظم  عمران خان کاکہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ خطرناک ہے، اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننامشکل بنادیا گیا ہے۔
  وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز سے بھی ملاقات کی،جس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق بات چیت ہوئی ۔وزیراعظم عمران خان نے زوردیاکہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردارادا کرے۔طے شدہ دورے میں وزیراعظم عمران خان کی یہ آخری اہم ملاقات تھی۔ وزیراعظم عمران خان اوران کی ٹیم نے بھرپورطریقے سے دنیاکومقبوضہ کشمیر کی صورتحال اورخطے میںایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کیاہے۔امید ہے کہ امریکہ سمیت دیگرممالک مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پردباؤڈالیں گے تاکہ خطے کواوردنیاکوجنگ سے بچایاجاسکے ۔


  مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پرمبنی آٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 114مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP