قومی و بین الاقوامی ایشوز

اقبال کی انسان دوستی اور سکھ برادری

پاکستان کی  قومی تاریخ میں9 نومبر 2019 غیر معمولی حیثیت اختیار کر گیا جب حکومت وقت نے مذہبی رواداری کی مثال اس دن قائم کرنا چاہی جو دن پاکستان کے فکری معمار اور قومی شاعر علامہ محمد اقبال کا یومِ ولادت بھی ہے۔ اس دن کے انتخاب کی وجہ بجا طور پر پاکستان کے پرچم میں مذہبی رواداری کی علامت سفید رنگ اور پاکستان کی نظریاتی تاریخ کے بانی کے افکار کا عملی اظہار ہے ۔



اقبال کی شخصیت اور ان کے افکار میں تنگ نظری، بغض ، تعصب، جانبداری یا نسل پرستی کی چھاپ نظر نہیں آتی۔ اگر اقبال اپنی ''شکوہ''اور ''جواب شکوہ'' جیسی شہر آفاق نظموں میں دین اسلام کے داعی دکھائی دیتے ہیں اور اکابرین اسلام کی قصیدہ سرائی کرتے ہیں تو جابجا مسلمانوں کی کوتاہیوں پر تنقیداور سرزنش بھی فرماتے ہیں۔اگر اپنے انگریز ماہر تعلیم مستشرق استاد،سر تھامس واکر آرنلڈکی یاد میں''نالۂ فراق'' بلند کرتے ہیں اور ان کے علم و ہنر سے فیض یاب ہونے کے لئے پنجاب کی زنجیر کو توڑ کر ان کے پاس یورپ پہنچنے کو بیتاب ہیں تو دوسری طرف ، چنگیزیِ افرنگ کا پول کھولنے میں بالکل نہیں ہچکچاتے۔ 
تاریخِ عالم سے اقبال نے اگر کسی حقیقت یا شخصیت کو سراہا ہے  تو اس  میں قوم و فرد کا تعصب، رنگ و نسل میں تمیز یا دین و مذہب کی تفریق کا عمل دخل نہیں بلکہ ا س کو اصلی وصف اور شرف کی بنیاد پر شائستہ ذکرجانا ہے۔ ذاتی زندگی میں بھی ان کے دائرہ احباب  میں مختلف قومیتوں، ادیان اور مکتبۂ فکر کے لوگوں سے ان کے مراسم و روابط تھے جس کی بنیاد آفاقی دینِ اخلاقیات و انسان دوستی ہے ۔
 سکھ برادری سے روابط حیات اقبال کا ایک نمایاں باب ہیں اور سکھ مت کے مثبت پہلوئوں کی بازگشت کلام اقبال میں سنائی دیتی ہے۔
علامہ اقبال کا کچھ کلام درویش منش سکھوں سے بھی ماخوذ ہے، جیسا کہ ایک دفعہ سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ کے معجزے سے چڑیوں نے ایک باز کو ہلاک کردیا، جس پر انہوں نے کہا:
چڑیوں سے میں باز تڑاؤں
تبئے گوبند سنگھ نام کہاؤں
اور خرم شفیق کے مطابق اقبال کا یہ شعر بظاہر اسی سے ماخوذ ہے:
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
علامہ اقبال نے سکھوں کی سیاسی تاریخ کو اپنے کلام میں ناقدانہ انداز میں دہرایا ہے ۔واقعہ ہے شرف النسا بیگم کا، جو خان بہادر خان کی ہمشیرہ اور بہادر شاہ ظفر کے عہد میں پنجاب کے گورنر نواب عبد الصمد خان کی پوتی اور زکریا خان کی بیٹی تھی۔ شرف النسا کا مقبرہ لاہور میں ہے ۔ یہ مقبرہ اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط میں بنایا گیا۔ یہ مقبرہ بیگم پورہ، لاہور میں سرو کے باغ والا مقبرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شرف النسأ نے اپنے جیتے جی یہ مقبرہ بنوایا تھا۔وہ بیشتروقت یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن پاک میں صَرف کرتیں اور اس دوران ایک مرصع تلوار ہمیشہ اپنے ہمراہ رکھتی تھیں۔  دم مرگ ان کی یہ نصیحت تھی کہ ان کی قبر اسی مقام ِ تلاوتِ قرآن پر بنائی جائے اور قرآن اور ان کی تلوار کو ان کی قبر کے تعویذ پر رکھا جائے، اور ایسا ہی کیا گیا جو کہ1840 تک وہیں رہے۔ مگر بعد میں پنجاب کی خانہ جنگی میں سکھوں کی لوٹ مار کی نذر ہو گئے۔ اقبال نے جاوید نامہ میں اپنے آفاقی سفر کے دوران جنت الفردوس میں شرف النسا بیگم کا محل دیکھنے کا ذکر کیا ہے اور اقبال نے سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کا ذکر بھی کیا ہے۔  
عمرہا در زیرِ این زرین قباب
بر مزارش بود شمشیر و کتاب
مرقدش اندر جہانِ بے ثبات
اہلِ حق را داد پیغامِ حیات
تا مسلماں کرد با خود آنچہ کرد
گردشِ دوراں بساطش در نورد
مردِ حق از غیرِ حق اندیشہ کرد
شیرِ مولا روبہی را پیشہ کرد
از دلش تاب و تبِ سیماب رفت
خود بدانی آنچہ بر پنجاب رفت
خالصہ شمشیر و قرآن را ببرد
اندر آں کشور مسلمانی بمرد
ترجمہ: ''لمبی مدت  تک اس سنہری عمارت کے اندراس کے مزار پر یہ تلوار اور کتاب رہی،اس کی قبرنے اس بے ثبات دنیا میں اہلِ حق کو زندگی کا پیغام دیا، وقت کی گردش نے اس کی بساط کو پلٹ دیا پھر اس کے بعد مسلمان نے اپنے ساتھ جو  کیا سو کیا،مردِ حق نے حق سے سوا سوچنا شروع کر دیا،تو  شیر مولا نے رُوباہی کو اپنا پیشہ بنا لیا،اس کے دل سے پارے کی تب و تاب چلی گئی اور توخود جانتا ہے  جو پھر پنجاب پر گزری ۔سکھوں نے وہ تلوار اور قرآن چرا لیا اور اس ملک میں مسلمانیت مر گئی۔''
 1764میں سِکھوں کے کئی گروہوں نے پنجاب پر قبضہ کر کے اسے آپس میں تقسیم کر لیا۔ یہ حکومت' سِکھا شاہی' کہلائی۔ سرداروں کی باہمی رقابتوں اور بدانتظامی کی وجہ سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سماں پیدا ہو گیا۔1799 میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر اپنی حکومت قائم کی۔ اقبال کے دوست فوق نے رنجیت سنگھ کی جو سوانح لکھی ہے، اس کے مطابق رنجیت سنگھ کے دربار میں مسلمانوں کے لئے بھی جگہ تھی۔ رنجیت سنگھ ذاتی طور پر مسلمانوں کا دشمن نہیں تھا لیکن سِکھ سرداروں کا سلوک عام طور پر مسلمانوں کے ساتھ بہت برا تھا۔ مغل عمارتوں میں سے قیمتی پتھر نوچ نوچ کر نکال لئے گئے۔ علامہ اقبال رنجیت سنگھ کی عزت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ لبرل کہلانے کا شوق تھا بلکہ اس لئے کرتے تھے کہ اس وقت مسلمانوں کی عام روِش یہی ہو گئی تھی، جیسا کہ فوق کی لکھی ہوئی رنجیت سنگھ کی سوانح سے بھی ظاہر ہے۔رنجیت سنگھ کی پوتی شہزادی بمبا دلیپ سنگھ اقبال کی خاص مداح تھی اور انگلستان چھوڑ لاہور میں آ کر رہنے لگی۔اقبال بھی اس سے خاص احترام  سے پیش آتے تھے۔
 اقبال کے ایک اور سکھ دوست امرائو سنگھ مجیٹھا تھے جن کے بغیر اقبال کی کوئی سوانح مکمل نہیں ہوتی۔امرائوسنگھ فوٹوگرافی کا شوق رکھتے تھے اور انہوں نے اقبال کی بہت یادگار تصاویر بنائیں جو آج بھی ہمارے قومی شعور کا سرمایہ ہیں۔امرائو سنگھ کو شہزادی بمبا کی ایک آسٹرین سہیلی مس گوٹسمین میں دلچسپی ہو گئی تو اقبال نے دو رومانوی نظمیں لکھیں تاکہ امرائو سنگھ ان کا ترجمہ کر کے مس گوٹسمین کو سنائیں اور اپنے دل کی مراد پا سکیں۔ ان نظموں کا عنوان ''پھول کا تحفہ عطا ہونے پر''اور''۔۔۔کی گود میں بلی دیکھ کر''ہے۔امرائو سنگھ کی واقعی مس گوٹسمین سے شادی ہو گئی۔ ان میاں بیوی کی بیٹی مشہور مصورہ امرتا شیر گِل تھیں۔
سکھ مت کی بات کریں تو سِکھ مذہب کی بنیاد بابا گرونانک نے رکھی جو 15 اپریل 1469کو پیدا ہوئے اور 1539 میں فوت ہوئے۔ سکھ مذہب  کے بانی کو اقبال نے بانگ درا کی ایک نظم میں  مرد کامل کہہ کہ یاد کیا ہے:
نانک
قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی
آہ! بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کِیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھا
شمعِ حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی
بارشِ رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
آہ! شودر کے لئے ہندوستاں غم خانہ ہے
دردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں
شمعِ گوتم جل رہی ہے محفلِ اغیار میں
بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نورِ ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
اس نظم میں بھی اگر علامہ اقبال نے ہندوستان میں مذہبی تاریخ کو دہراتے ہوئے  گوتم بدھ کو گوہر یک دانہ قرار دیا ہے تو اس کی وجہ بدھ کی انسانیت دوست تعلیمات ہیں جس کی اہل ہند نے  قدر نہ کی اور ہندو معاشرے کو ذات پات کے نظام میں بانٹ کر انسانیت کی توہین کی ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ظلم کی انتہا ہو چکی تھی۔ لوگ چھوت چھات کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔ اقبال  ہندوستان میں رونما ہونے والے انسان دوست روادارانہ تعلیمات  کے حامل سکھ مذہب کو ہندو معاشرے کے لئے خواب غفلت سے بیدار ہونے کا ایک اور موقع تصور کرتے ہیں۔


1947 کے بعد جس طرح بھارتی قیادت نے سِکھوں کی طرف سے آنکھیں پھیریں اور1984میں ان کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ان کا قتلِ عام کیا گیا، اس کے بعد سے سکھوں کا رویہ پاکستان کی طرف خاصا دوستانہ ہو گیا ہے۔ بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری سترہ سال نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں گزارے، یہیں پر آپ کی سمادھی اور قبر ہے، مسلمان قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں، سکھ یاتری سمادھی پر اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتے ہیں۔


 گورو صاحب نے 15 سال کی عمر تک ہندی، سنسکرت اور فارسی کے ساتھ ساتھ عربی کے علوم پر عبور حاصل کیا۔ آپ نے اپنی تعلیمات میں بھی انسان دوستی کے خلاف رسم و رواج کی کھل کر مخالفت کی۔ گورو نانک نے ہندوستان کے علاوہ ایران، چین، کابل،مصر، مکہ، مدینہ اور ترکی کے سفر کے دوران سچائی کی دعوت دی۔ روایات کے مطابق آپ حج کرنے کے لئے بیت اللہ شریف بھی گئے، ان کی وحدانیت پر مبنی تعلیمات اور ان کے حج کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں ایک مسلم بزرگ مانتے ہیں۔ گورو نانک نے اپنے سفر (اداسیوں) میں جہاں جہاں بھی انسانیت کے خلاف رسم و رواج یا روایتوں کو جنم دیا، وہاں اس کو ان کے اچھے اخلاق اور شعور کی روشنی سے ختم کیا۔ اور اپنی ابتدائی تعلیم میں برہمن کے 7دھاگوں سے بنائے ہوئے جنیوکو نہ صرف ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اپنی تعلیمات میں اس طرح کا جنیو مانگا:
دیا کپاہ سنتوکھ سوت جت گندھی ست وٹ
ایہہ جنیو جی کا ایسی تاں پانڈے گھت
نہ ایہہ تٹے نہ مل لگے نہ ایہہ جلے نہ جائے
دھن سو مانس نانکا جو گل چلے پائے
ترجمہ: رحم کی کپاس سے صبر کا سوت بنا اور اس کو پرہیز گاری کی گانٹھیں دے کر سچائی کے بل چڑھا۔ اگر اس طرح کا کوئی جنیو ہو تو میرے پہننے کے لئے دے دو کیونکہ یہ نہ میلا ہو گا اور نہ ٹوٹے گا۔ اور نہ ہی ہر انسانی جسم کے ساتھ جلے گا۔ نانک! وہ بہت خوش قسمت ہو گا۔ جس کو ایسا جنیو گلے میں پہنے کو ملے گا۔
گورو نانک کا انسان دوستی کے علاوہ دوسرا اہم موضوع جس کو انہوں نے  اپنے کلام میں بیان کیا ہے وہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا تصور ہے۔ ان کا یہ کلام بالکل سورة اخلاص کا ترجمہ بنتا ہے:
ایکو ہے بھائی ایکو ہے
بے محتاج بے انت اپارا
نہ تس مات پتا بندھپ نہ تس کام نہ ناری
تم سم اور کو ناہیں
ترجمہ: میرا اللہ واحد ہے۔ وہ بے محتاج اور بے انت ہے۔ اس کا کوئی ماں ہے نہ باپ، وہ بیٹوں، بیٹیوں سے پاک ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اور رشتہ۔
اسی لئے اقبال نے اپنی نظم ''ہندوستانی بچوں کا گیت'' میں ایسے ہندوستان کے گن گائے ہیں جہاں وحدانیت کا پرچار ہے کیونکہ ایک خدا کو ماننے والے  ہی اس خدا کے خلق کردہ تمام انسانوں کو ایک سا سمجھ سکتے ہیں اور انسانی مساوات پر مبنی معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ اب چاہے وہ سلطان الہند حضرت خواجہ سید محمد معین الدین چشتی اجمیری کا پیغام حق ہو یا نانک کا وحدانیت کا گیت :
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
چشتی نے جس زمیں میں پیغامِ حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عربۖ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
1947 کے بعد جس طرح بھارتی قیادت نے سِکھوں کی طرف سے آنکھیں پھیریں اور1984میں ان کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ان کا قتلِ عام کیا گیا، اس کے بعد سے سکھوں کا رویہ پاکستان کی طرف خاصا دوستانہ ہو گیا ہے۔ بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری سترہ سال نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں گزارے، یہیں پر آپ کی سمادھی اور قبر ہے، مسلمان قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں، سکھ یاتری سمادھی پر اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ یہاں سے انڈین بارڈر صرف چار کلومیٹر دور ہے،یہاں انڈین آرمی نے ایک درشن استھان بنا رکھا ہے، جہاں سکھ یاتریوں کو دور بین کی مدد سے کرتار پور صاحب کے درشن کرائے جاتے ہیں۔سکھ مذہب کے بانی سری گورو نانک کے 550 ویں جنم دن پر کرتاپور کے حوالے سے کرتارپور راہدری کو9 نومبر 2019 کو کھول کر پاکستانی قوم نے اپنے فکری قائد کی تقلید میں مذہبی رواداری اور انسان دوستی کابول بالا کیا ہے اور بہت خوبصورت انتظامات کر کے پوری دنیا میں بسنے والی سکھ قوم کے دل جیت لئے ہیں، اور یہ جیت پاکستان کی ایک اخلاقی فتح  ہے، جس کی بنیاد انسان دوستی ہے۔اور پاکستان کی یہ اخلاقی جیت مسلمانوں اور  سِکھوں کے درمیان ایک ایسی دوستی کی بنیاد رکھ سکتی ہیں جو دنیا میں ایک مثال بن جائے، بالکل اسی طرح جیسے علامہ اقبال اور سردارامرائو سنگھ کی دوستی تھی۔
کتابیات:
کلیات اقبال اردو و فارسی،"علامہ اقبال کا مردِ کامل نانک، از :کلیان سنگھ کلیان ،"مہاراجہ رنجیت سنگھ اور علامہ اقبال" از:خرم علی شفیق۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP