نقطۂ نظر

اقبال اور جمہوریت

علامہ اقبال کے جن روشن تصورات کے گرد ابہام کی دھند پھیلائی جا رہی ہے اُن میں روحانی جمہوریت کا انقلابی تصور نمایاں ہے۔ ''اسلام میں اصولِ حرکت ''کے موضوع پر اپنے خطبے میں اقبال نے روحانی جمہوریت کے قیام، استحکام اور فروغ کو اسلام کا حقیقی مقصود قرار دیا ہے۔شارحین اقبال نے روحانی جمہوریت کے اس روشن تصور کے گرد ابہام کی دُھند پھیلادی ہے۔اگر ہم اقبال کے اِس تصور کی اپنے اصل سیاق و سباق میں تفہیم و تعبیر کریں تو ہم روحانی جمہوریت کی اصطلاح کے درست مفہوم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔



اسلام میں اجتہاد کے بند دروازے کو کھولنے کی ضرورت اور اہمیت کے موضوع پر اپنی گفتگو کے اختتامی کلمات میں اقبال تُرک قوم کی بیداری اور اصلاح کی تحریک اور مسلم ایشیا کے قُرب و جوار میں رُوسی اشتراکیت کے نئے اقتصادی تجربات کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔اُن کے خیال میں ہر دو تحریکوں پر تخلیقی غور و فکر سے ہم اسلام کے باطنی مفہوم اورحقیقی مقدّر کو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ اُن کے خیال میں دُنیائے انسانیت کو آج تین چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔ 
    اوّل:کائنات کی روحانی تعبیر ۔ 
    دوم: فرد کی روحانی آزادی اور فلاح ۔ 
    سوم: انسانی معاشرت کا روحانی بنیادوں پر ارتقاء۔
    اقبال کے خیال میں یورپ یہ فریضہ سرانجام دینے کا اہل نہیں ہے۔مغرب کا جمہوری نظام امیروں کے مفادات کے حصول کی خاطر غریبوں کا خون چُوستے چلے جانے کاوسیلہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ نظام امیروں کے معاشی مفادات کے تحفظ اورارتقاء کی خاطر غریبوں کا استحصال روا رکھنا جائز سمجھتا ہے۔نتیجہ یہ کہ آج کا یورپ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی میں زبردست رُکاوٹوں کا سبب ہے۔اسلا م کی سچی تعبیر ان انسانی مصائب کی چارہ گر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق روحانی جمہوریت کا قیام اور فروغ انسان کے معاشی دُکھوں کو شفا بخش سکتا ہے۔
    اِس سیاق و سباق کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ روحانی جمہوریت کا مطلب علمائے کرام کی شہنشاہیت نہیں بلکہ اِس کے برعکس یہ انسانی مساوات کے اسلامی اصولوںپر مبنی معاشی عدل و انصاف کا عوامی جمہوری نظام ہے۔ اِس نظام کے قیام کی خاطر اقبال نے اِس خطبے کی آخری سطروں میں دُنیائے اسلام کو اپنی زندگی دینِ حق کے دائمی اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ اقبال کے خیال میںروحانی جمہوریت کا قیام اور فروغ دینِ حق کاحقیقی مقصود ہے۔ اِس لئے آج کے مسلمان کو اسلام کے اِس مقصد کے حصول میں سرگرمِ عمل ہو جانا چاہئے۔ دُنیائے اسلام کی سرحدوں کے آس پاس برپا اشتراکی انقلاب کی جانب برمحل اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے اشتراکیت کے اقتصادی اصول و ضوابط اور اسلام کے معاشی عدل و انصاف کے تصورات کے درمیان گہری مماثلت کو اپنی شاعری میں بھی موضوعِ سُخن بنایا ہے۔ یہاں میں اُن کی فقط ایک مختصر نظم بعنوان ''اشتراکیت'' کی جانب اشارہ کرنا کافی سمجھتا ہوں:
قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ گفتار
اندیشہ ہوا شوخیِ افکار پہ مجبور
فرسُودہ طریقوں سے زمانہ ہُوا بیزار
انساں کی ہوس نے جنھیں رکھّا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اَسرار
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
جو حرفِ ''قُلِ الْعَفْو'' میں پوشیدہ ہے اب تک
اس  دَور  میں  شاید  وہ  حقیقت  ہو  نمودار!

    اللہ تعالیٰ نے حرفِ ''قُلِ الْعَفْو'' میں مسلمانوں کو اپنی ضرورت سے زیادہ مال و دولت معاشرے کے غریب اور محروم طبقات پر نچھاور کرتے رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اِس نظم میں اقبال نے اشتراکی ہمہ اُوست سے پھوٹنے والے معاشی نظام کو مقلدانہ انداز میں اپنانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ جدّتِ افکار اور جدّتِ کردار سے اسلام کے حقیقی معاشی نظام کے قیام کی تمنّا کی ہے جس کی بدولت معاشرے میں کوئی بھی زیردست اور محتاج باقی نہ رہے۔یہ ہیں روحانی جمہوریت کے مادی خدوخال ۔جاننا چاہئے کہ دیگر مذاہب کے برعکس اسلام مادیت اور روحانیت کے درمیان تضاد کے رشتے کو تسلیم نہیں کرتا- اسلامی فکر کی نئی تشکیل کے موضوع پر اپنے خطبات میں اقبال نے بڑی قطعیت کے ساتھ کہہ رکھا ہے کہ روح جب زمان و مکان کے ساتھ اپنا تعلق اُستوار کر لیتی ہے تو مادہ کہلاتا ہے- چنانچہ کسی بھی معاشرے کی روحانی سربلندی کا اندازہ صرف اور صرف اُس کے مادی خدوخال ہی سے کیا جا سکتا ہے-
اقبال کے ہاں روحانی جمہوریت کی اصطلاح ایک طویل اور عمیق غور و فکر کا نتیجہ ہے۔  اُنہوں نے آج سے ایک صدی پیشتر "Islam as a Moral and Political Ideal" کے عنوان سے اپنے خطبہ میں مساوات کو اسلام کا معاشرتی نظام اور جمہوریت کو اسلام کا سیاسی نظام قرار دیا تھا۔ اسلامی نظام کے خدوخال اُجاگر کرنے کی خاطراس گہری فلسفیانہ بحث کے دوران اُنھوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ جمہوریت کو اسلام کا سیاسی آئیڈیل قرار دیا ہے۔اُن کے خیال میںجمہوریت کا یہ تصور انسانی معاشرے کواسلام کی اہم ترین عطا ہے۔ اقبال نے لکھا ہے کہ اسلام میں نہ تو اشرافیہ کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کسی مراعات یافتہ طبقے کی کوئی گنجائش ہے-نہ مُلائیت ہے اور نہ ہی ذات پات پر مبنی کسی نسلی طبقاتی نظام کا کوئی جواز موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ مکمل انسانی مساوات کے اسلامی تصور پر عمل نے قرنِ اوّل کے مسلمانوںکو دُنیا کی عظیم ترین سیاسی قوّت بنا دیا تھا۔ فقط چند ماہ بعداپنے ایک اور مضمون بعنوان "Political Thought in Islam" میں قرنِ اوّل سے لے کر عہدِ حاضر تک اسلام میں سیاسی فکر کے ارتقاء کی بحث کی اختتامی سطروں میں وہ انتخابات کے سیاسی اصول کوقرآنِ حکیم سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔
اسلام کی تاریخ کے پہلے تین عشروں (تیس سال) کے بعد ملوکیت اور مُلاّئیت کے گٹھ جوڑ نے مسلمان معاشرے کو انتخابات کے قرآنی اصول کے فیضان سے یکسر محروم کر دیا تھا۔ صدیوں بعدعلامہ اقبا ل نے قرآنِ حکیم سے جمہوری نظام کے خدوخال اخذ کئے اور انتخابی جمہوریت کو اسلام کا حقیقی سیاسی نظام قرار دیا۔ہرچند علامہ اقبال اور قائداعظم ، ہر دو بانیانِ پاکستان نے جمہوریت کو پاکستان کا سیاسی نظام قرار دیتے وقت ملوکیت اور مُلّائیت کودائرۂ اسلام سے خارج قرار دے رکھا ہے تاہم پاکستان کے حکمران طبقے نے ہمارے ہاں جمہوری سیاست کوکبھی پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ حکمران طبقہ اقبال کے تصورّ جمہوریت کو جھٹلانے کی خاطر خود اقبال کے اشعار سے جھوٹی سند لانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
یہ بات درست ہے کہ اقبال نے مغرب کے جمہوری نظام کی خرابیوں کونمایاں کرنے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا ہے۔مغربی جمہوریت پر اقبال کی تنقید جمہوری نظام کی نفی نہیں بلکہ اصلاح کے جذبے سے پھوٹی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوری عمل سے بیزار اور جمہوری نظام سے متنفر حلقے اُن کے درج ذیل اشعار کو اپنے استدلال کی تائید میں پیش کرنے کے عادی ہیں:
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام؟
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

درج بالا اشعار پر غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مغرب کا نام نہاد جمہوری نظام فی الحقیقت ظلم و استبداد کا ایک ایسادیو ہے جس نے خود کو جمہوریت کا لباس پہنا رکھا ہے۔ہر چند اِس کا چہرہ روشن ہے مگر اِس کا باطن چنگیز سے بھی زیادہ تاریک ہے۔درج بالا انداز کی شاعری میں اقبال کا جذبۂ محرکہ جمہوریت کی نفی نہیں بلکہ جمہوریت کے پردے میںظلم و استبداد کی قاہر وجابر قوّتوں کی نفی ہے۔اقبال ایسے نام نہاد جمہوری نظام کو ''جمہوری تماشا'' سے تعبیر کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ قبا بھی جمہوری ہو اور قبا کے اندر کی نیلم پری بھی سراسر جمہوری ہو، چہرہ بھی روشن ہو اور اندرون بھی نورِ خداوندی سے جگمگا رہا ہو:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
٭
مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

اپنے انہی جذبات کو اقبال نے اپنی انگریزی نثر میں بھی بیان کیا ہے۔اپنے Stray Reflections (شذراتِ فکرِ اقبال) میں اقبال نے 1910ء میں Muslim Democracy کے عنوان سے مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کا موازنہ کر رکھا ہے۔وہ مغربی جمہوریت کوسرمایہ داری نظام کے فروغ و استحکام کا مؤثر ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔گویاسرمایہ پرست مغربی دُنیا نے اپنے جمہوری نظام کے ثمرات کو ظلم و استبداد کے دیو کی جھولی میں لا ڈالا ہے۔نتیجہ یہ کہ دولت پیدا کرنے والے ہاتھوں کو مزدوری یوں ملتی ہے جیسے دولت مند غریبوں کو زکوٰة دیتے ہیں۔اِس کے برعکس اسلام کا جمہوری نظام ایک ایسا روحانی تجربہ ہے جس سے گزرنے کے بعد ادنیٰ سے ادنیٰ ، مفلس اور قلاّش آدمی بھی انسانی شرف و عظمت کا پیکر بن جاتا ہے۔گرے پڑے عامی، عوام بن کر سربلند ہو جاتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کا مسلم جمہوریت سے موازنہ کرتے وقت اقبال جہاں مغربی جمہوریت کو اقتصادی حرص و ہوس کی پیداوار بتاتے ہیں وہاں انسانی معاشرے کے روحانی اصول و اقدار کو مسلم جمہوریت کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔دس گیارہ برس بعد اقبال نے اسلامی فکر کی نئی تشکیل کے موضوع پر اپنے مشہور خطبات میں مسلم جمہوریت کی اصطلاح کو روحانی جمہوریت کی نئی اصطلاح کا قالب عطا کیا ہے۔ 28مئی 1937ء کو قائداعظم کے نام اپنے خط میں اقبال نے مسلم لیگ سے مسلمان عوام کی بیزاری کی جانب متوجہ کرتے ہوئے لکھا تھاکہ:
"The League will have to finally decide whether it will remain a body representing the upper classes of Indian Muslims or Muslim masses who have so far, with good reason, taken no interest in it. Personally I believe that a political organisation which gives no promise of improving the lot of the average Muslim cannot attract our masses.....The problem of bread is becoming more and more acute.....The atheistic socialism of Jawaharlal is not likely to receive much response from the Muslims. The question therefore is : how is it possible to solve the problem of Muslim poverty? And the whole future of the League depends on the League's activity to solve this question."( 1)
اپنے اسی خط میں اقبال نے پنڈت نہروکی بے خدا سوشلزم کی نفی کے ساتھ ساتھ باخدا سوشلزم کا اثبات کیا ہے۔ ہندو مت نے جو سلوک بُدھ مت کے ساتھ روا رکھا تھا اب وہی سلوک ہندوستان میں سوشلزم سے بھی روا رکھے گا۔اِس کے برعکس اسلام کے اصول و قوانین کی روشنی میں سوشل ڈیموکریسی کو اپنانا گویا اسلام کی حقیقی روح کی از سرِ نو بازیافت کے مترادف ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر برطانوی ہند میں ایک یا ایک سے زیادہ جداگانہ مسلمان مملکتوں کا قیام ضروری ہے۔لکھتے ہیں:
"It is clear to my mind that if Hinduism accepts social democracy it must necessarily cease to be Hinduism. For Islam the acceptance of social democracy in some suitable form and consistent with the legal principles of Islam is not a revolution but a return to the original purity of Islam."( 2)
گویا اسلام کے ابدی اصولوں کی روشنی میں سوشل ڈیموکریسی (اشتراکی جمہوریت) کو اپنانا اسلام کی حقیقی روح کی از سرِ نو بازیافت کا اوّلیں تقاضا ہے-ہم اپنا یہ روحانی تقاضا برصغیر میں ایک یاایک سے زیادہ جداگانہ ، خودمختار مسلمان ممالک کے قیام کے بغیر پورا نہیں کر سکتے:
"The modern problems therefore are more easy to solve for the Muslims than for the Hindus. But as I have said above in order to make it possible for Muslim India to solve the problems it is necessary to redistribute the country and to provide one or more Muslim states with absolute majorities. Don't you think that the time for such a demand has already arrived? Perhaps this is the best reply you can give to the atheistic socialism of Jawaharlal Nehru."( 3)
اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال لکھتے ہیں کہ جدید معاشی نظریات کے سیاق و سباق میں اسلامی قانون کی تعبیر سے عوام کے روٹی روزگار کا بندوبست بطریقِ احسن کیا جا سکتا ہے:
"After a long and careful study of Islamic Law I have come to the conclusion that if this system of law is properly understood and applied, at last the right to subsistence is secured to everybody. But the enforcement and development of the Shariat of Islam is impossible in this country without a free Muslim state or states. This has been my honest conviction for many years and I still believe this is the only way to solve the problem of bread for Muslims as well as to secure a peaceful India."(4)
اقبال کے نزدیک روحانی جمہوریت کی اصل پہچان اُس کے مادی خدوخال ہیں- وہ مثنوی ''پس چہ باید کرداے اقوامِ شرق ''کے باب بعنوان ''در اسرارِ شریعت'' میں اسلامی شریعت کا بنیادی نکتہ معاشی انصاف، معاشرتی اخوت اور انسانی مساوات قرار دیتے ہیں:
کَس نہ باشد در جہاں محتاجِ کَس
نکتۂ شرحِ مبین این است و بس!

اقبال کے آخری دور کے کلام میں ایک طویل ڈرامائی نظم ''ابلیس کی مجلسِ شوریٰ'' کے عنوان سے موجود ہے۔ ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کا یہ اجلاس 1936ء میں منعقد ہوا۔ اِس نظم میں ابلیسی نظام کو درپیش خطرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔پہلا مشیر جہاں اپنے اِس کارنامے پر فخر کرتا ہے کہ'' صوفی و مُلّا ملوکیت کے بندے ہیں تمام''وہاں دوسرا مشیر سلطانیِٔ جمہور کے ''غوغا ''کو دُنیا کا ایک ایسا تازہ فتنہ قرار دیتا ہے جس سے شیطنت کے نظام کو خطرہ درپیش ہے۔تیسرا مشیر جب نظامِ اشتراکیت کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے تو ابلیس اشتراکیت نہیں اسلام کو دُنیا پر شیطنت کی عملداری کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔ ہر چند ابلیس اِس حقیقت میں خوش ہے کہ ع:ہے وہی سرمایہ داری بندۂِ مومن کا دیں.... اور: بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں.... تاہم وہ اس اندیشے کا اظہار بھی کرتا ہے کہ دُنیا میں حقیقی اسلام کا ظہور ابلیسی نظام کی موت ہے:

عصرِ حاضر کے تقاضائوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرۖ کہیں
الحذر! آئینِ پیغمبرۖ سے سَو بار الحذر
حافظِ ناموسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لئے
نے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

ہر نفس ڈرتا ہوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں
ہے حقیقت جس کے دِیں کی احتساب کائنات
مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبح گاہی میں اسے
پُختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

پاکستان کا قیام عوامی جمہوری عمل نے ممکن بنایا تھا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران یہ  بات کسی کے سان گمان میں بھی نہیں تھی کہ مصورِ پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کی اِس سرزمین پراسلام کے بجائے مُلّائیت کا تسلط قائم ہو جائے گا اور رفتہ رفتہ اسلام کے مقدس نام پر قتل و غارت کا بازار گرم ہو جائے گا-اِس صورتِ حال سے نجات مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان کی تفسیر و تعبیرِ اسلام کی روشنی میں روحانی جمہوریت کے قیام ، فروغ اور استحکام ہی سے ممکن ہے-
دُنیائے اسلام میں سرگرمِ عمل چھوٹے چھوٹے سیکولر گروہ جس طرزِ فکر و عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اُس کا وسیع النظری ، روشن خیالی اور عوام دوستی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ یہ سیکولر مُلائیت ہے جو عوام کی بھاری اکثریت کے فکر و احساس کے منافی طرزِ عمل اختیار کر کے تنگ نظری ، تنگ دلی اور نارواداری کی خوگر ہے۔ جمہوریت کے بجائے فسطائیت کی ترجمان ہے۔ فوجی آمریت اور خاندانی بادشاہت کی آلۂِ کار ہے۔ عہدِ حاضر کے سب سے بڑے مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میںعقیدۂ ختمِ نبوت کی کلچرل معنویت اُجاگر کرتے وقت یقینِ محکم کے ساتھ ارشاد فرمایا تھا کہ نبوت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی خاندانی بادشاہت بھی ختم ہو گئی ہے اور مُلائیت بھی اور یوں اسلام کا ظہور استقرائی عقل کا ظہور ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلام میںتو شہنشاہیت اور مُلّائیت نہیں ہے مگرمسلمانوں میں ہر دو ادارے حیّ و قائم ہیں۔ ''اسلامی کلچر کی رُوح'' کے موضوع پر علامہ اقبال کے متذکرہ بالا خطبے کی اشاعت سے فقط چند برس پیشتر برطانوی سامراج نے عرب دُنیا میں اپنے چند وظیفہ خواروں کومختلف عرب ممالک میں تختِ شاہی پر لا بٹھایاتھا۔ خاندانی بادشاہت اپنے ساتھ مُلّائیت لائی۔ تب سے لے کر اب تک دُنیائے اسلام میں ملوکیت اور مُلّائیت ، ہر دو کا بول بالا ہے۔ آج مذہبی مُلائیت اور سیکولرملائیت یکجا ن و دوقالب ہو کر سلطانیٔ جمہور کی راہوں کو مسدود کرنے میں کوشاں ہیں مگر علامہ اقبال ہیں کہ ہمیں یہ بشارت دیئے چلے جا رہے ہیں :

شرارِ آتشِ جمہور کہنہ ساماں سوخت
رِدائے پیرِ کلیسا ، قبائے سُلطاں سوخت

حواشی
(1)   Thoughts and Reflections of Iqbal, Syed Abdul Wahid (Edit.), Lahore, 1964, p.51
(2)    Ibid., p.74:
          "There is no aristocracy in Islam. "The noblest among you," says the Prophet, "are those who fear God most." There is no privileged class, no priesthood, no caste system..... This principle of the equality of all believers made early Musalmans the greatest political power in the world."
(3)    Ibid., p.83:
"It is clear that the fundamental principle laid down in the Quran is the principle of election; the details or rather the translation of this principle into a workable scheme of Government is left to be determined by other considerations. Unfortunately, however, the idea of election did not develop on strictly democratic lines, and the Muslim conquerors consequently failed to do anything for the political improvement of Asia."
(4)    The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Allama Muhammad Iqbal, Lahore, 1996, p.142:
"The Democracy of Islam did not grow out of the extension of economic opportunity, it is a spiritual principle based on the assumption that every human being is a centre of latent power the possibilities of which can be developed by cultivating a certain type of character. Out of the plebeian material Islam has formed men of the noblest type of life and power."(Stray Reflections)


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 209مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP