قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغان مذاکراتی عمل کو کئی مشکلات کا سامنا

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

پڑوسی ملک افغانستان کے حالات بعض عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کوششوں کے باوجود بہتر نہیں ہو پا رہے۔ جبکہ مذاکراتی عمل بھی تعطل کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان جولائی٢٠١٨ کے دوران باضابطہ مذاکرات پر اتفاق رائے کااظہار کیا گیا تھا جس کے بعد امریکی صدر کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں قائم مذاکراتی وفد نے چار بار نہ صرف افغان طالبان سے براہِ راست مذاکرات کئے بلکہ انہوں نے پاکستان سمیت بعض اہم اور متعلقہ ممالک کے متعدد دورے بھی کئے تاکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لئے اُن ممالک کو اعتماد میں لیا جاسکے۔ جس مسئلے یا ایشو پر فریقین کے درمیان معاملات آگے بڑھنے کے بجائے ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے وہ طالبان کا وہ سخت مؤقف تھا کہ وہ اشرف غنی کی سربراہی میںموجود افغان حکومت کے ساتھ نہ تو مذاکرات کریں گے اور نہ ہی اس حکومت کو مذاکراتی عمل کا حصہ بننے دیں گے۔ امریکہ نے اس شرط کے خاتمے کے لئے طالبان کے ساتھ ابوظہبی اور دوحہ میں کئی روز تک مذاکرات کئے مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور طالبان اپنی شرط یا ضد پر قائم رہے۔ امریکہ نے طالبان کو لچک دکھانے کے لئے پاکستان اور سعودی عرب سے بھی مدد مانگی مگر ان دو ممالک کو بھی بوجوہ ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ پاکستان کا اس تمام معاملے میں کردار اہم اور مثبت رہا تاہم اس کا مؤقف رہا کہ ماضی کے برعکس اس بار حالات کے تناظر میں طالبان سمیت کسی بھی گروپ کی حمایت کے بجائے امن کی اجتماعی کوششوں کی حمایت کی جائے گی اور افغان عوام کے اجتماعی مفاد اور خواہشات کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کیا جائے گا۔ متعلقہ سفارتی حلقوں کے مطابق اس بار پاکستان نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزکی پالیسی اپنا کر مؤقف واضح کیا ہے کہ پیچیدہ صورتحال کے پیشِ نظر افغانستان سے پُرامن امریکی انخلاء اور امن کی بحالی کی کوششوں میں اپنے حصے کا مثبت کردار اداکیا جائے گا تاکہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکالاجاسکے اور افغانستان کو متوقع خانہ جنگی یا بدامنی سے بچایا جائے


پاکستان کا اس تمام معاملے میں کردار اہم اور مثبت رہا تاہم اس کا مؤقف رہا کہ ماضی کے برعکس اس بار حالات کے تناظر میں طالبان سمیت کسی بھی گروپ کی حمایت کے بجائے امن کی اجتماعی کوششوں کی حمایت کی جائے گی اور افغان عوام کے اجتماعی مفاد اور خواہشات کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کیا جائے گا۔


۔تاہم اب  پاکستان نے امریکہ یا کسی اور کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر محتاط رویہ اپنایا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ نے جنوری کے وسط میں بعض پشتون سیاسی رہنمائوں، سابق بیورو کریٹس اور معتبر تجزیہ کاروں سے تفصیلی مشاورت بھی کی جس کا مقصد افغان مسئلے کے حل کے علاوہ سکیورٹی سے متعلق اُمور پر ان افراد کی آراء معلوم کرنا تھا۔ یہ اس جانب اہم قدم یا اشارہ تھا کہ زمینی حقائق اور مسائل سے باخبر پاکستان کے اہم اور متعلقہ افراد کی مشاورت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس تفصیلی نشست کے دوران جنرل باجوہ نے شرکاء کی تجاویز کو غور سے سنا اور ان کو اپنے اہداف اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا ۔ علاوہ ازیں اہم اور سینیئر پشتون لیڈروں کا مشترکہ مؤقف یہ رہا ہے کہ مذاکراتی عمل میں افغان حکومت کو اس پراسیس کا حصہ بنایا جائے مگر وہ تادمِ تحریر اپنے اس مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ چونکہ افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے اس کے ساتھ بیٹھنے کا آپشن سرے سے زیرِ غور ہی نہیں ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جاری کوششوں کے نتیجے میں طالبان بہت جلد اپنی اس کڑی شرط سے دستبردار ہو جائیں گے جس کے بعد ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہوگا اور مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکے گا۔ اُدھر طالبان نے مذاکرات کے لئے ١٢رُکنی مذاکراتی کمیٹی کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں لمبے عرصے تک قیام کرنے والے افغان کمانڈر عبدالغنی برادر کو قطر دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اگرچہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طالبان کو افغانستان کے تین شہروںمیں سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش بھی کی مگر اس پیشکش کو بھی ٹھکرادیا گیا اور معاملات قطر دفتر ہی کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، چین اور روس بھی اس کوشش میں ہیں کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا کر ایک ایسا فارمولہ سامنے لایا جاسکے جس کے ذریعے امریکی انخلاء کو ممکن بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے ماسکو میں دوسری بار ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں حامد کرزئی، حزبِ اسلامی اور طالبان سمیت بعض دوسرے افغان اسٹیک ہولڈرز بڑی تعداد میں شریک ہوئے مگر اس کانفرنس سے بھی افغان حکومت باضابطہ شرکت سے محروم رہی۔ دوسری طرف یہ آپشن بھی زیرِ بحث ہے کہ طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کے لئے شیڈول شدہ صدارتی الیکشن کو کچھ عرصہ کے لئے  ملتوی کرکے ایک عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایاجائے تاہم اس آپشن یا تجویز پر تا حال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ افغان حکومت کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اس صورت حال سے کافی مایوس اور پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فروری کے وسط میں امریکہ کے خلاف بعض بیانات بھی دیئے۔ اگرچہ حالیہ غیر متوقع رابطہ کاری امریکہ کا انفرادی عمل یا فعل ہے اور دوسرے ممالک اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، تاہم حسبِ معمول افغان حکمران اور بعض حلقے امریکہ کے بجائے پاکستان کو غیر ضروری طور پر گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے اب بھی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے مذاکرات یا امن کی کنجی اسلام آباد کے پاس ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ افغان طالبان کے اب روس، ایران اور بعض دیگر ممالک کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں اور ان کو جو غیر معمولی اہمیت ملی ہوئی ہے اس کا ''کریڈٹ'' بھی امریکہ ہی کو جاتا ہے جس نے اپنی قائم کردہ افغان حکومت کے بجائے طالبان کو نہ صرف سٹیک ہولڈرز بنایا بلکہ ابھی تک صرف طالبان ہی کی شرائط مانتا آرہا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی اس صورت حال سے اتنے پریشان ہوگئے ہیں کہ انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کے حق میں بیان بھی جاری کیا جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور اُن کو سیاسی، حکومتی اور عوامی سطح پر مشورہ دیا گیا کہ وہ پاکستان کو مشورے دینے کے بجائے افغانستان کی فکر کریں۔ جہاں روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف حملے ہو رہے ہیں بلکہ امریکی بھی کہہ رہے ہیں کہ افغان حکومت کابل تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔  اس صورت حال سے یہ تاثر پھر سے درست ثابت ہونے لگا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان مسئلے کے حل کے لئے سیاسی حل کے بجائے  طاقت کے استعمال کا جوفارمولہ اپنایا تھا وہ ناکام ثابت ہوگیا ہے جبکہ پاکستان کو حالات کا ذمہ دار قرار دینے کا امریکی رویہ بھی حقائق کے خلاف تھا۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں بدامنی پھیلتی گئی اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی خراب ہوگئے۔ امریکہ ہر صورت افغانستان سے نکلنا چاہ رہا ہے۔ تاہم یہ بھی اس ملک کا المیہ اور ریکارڈ رہا ہے کہ وہ جب بھی نکلتا ہے مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید مسائل کھڑے کرکے نئی جنگ اور محاذ آرائی کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ اس بار بھی صورت حال کچھ ایسی ہی دکھائی دے رہی ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان، ایران ، روس اور بعض دیگر ممالک کو مستقبل کے متوقع منظر نامے کے بارے میں تشویش اور خدشات لاحق ہیں۔ اگر متبادل نظام یا سکیورٹی کے قابل ِعمل فارمولے پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا اور تیاری کے بغیر انخلاء کا اقدام اٹھایا گیا تو یقینی خدشہ ہے کہ افغانستان میں پھر سے نوے کی دہائی والی صورت حال پیدا ہوگی اور یہ صورت حال خطے کے دوسرے ممالک خصوصاً پاکستان ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے بہت پریشان کن ثابت ہوگی اس لئے جاری حالات کو مستقبل کے چیلنج اور خطرات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔


  [email protected]
 

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP