قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان : سلامتی اور انسانی بحران سے بچائو کی اہم کوشش

اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس پاکستان کا افغانستان میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لئے اہم کردار

 19دسمبر کا سورج وطن عزیز پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی لے کر طلوع ہوا ۔ اس دن پاکستان دنیا بھرمیں ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا جس نے اپنے افغان بھائیوں کو درپیش مشکلات اور درد کو محسوس کیا اور خلوص کے ساتھ کوشش کی کہ اس کڑے وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دے ۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ روا یت قائم کرتے ہوئے مسلم امہ سے اپیل کی کہ وہ ان مشکل حالات میں افغانستان کے عوام کی بھرپور مدد کریں ۔ اس اقدام سے پاکستان کے اُس بیانیے کو فروغ ملا کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے میں امن کو قائم کرنے کے مترادف ہے۔ 



41 بر سوں کے بعد 57 اسلامی ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر ا کھٹے ہو جا نا بذات خود کسی کامیابی سے کم نہیں تاہم توجہ طلب امر یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ حال ہی میں وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہونے وا لے ا و آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے سترہویں غیر معمولی اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت ستر عالمی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان کی سیاسی اور معاشی صورت حال کا جائزہ لے کر پوری دنیا کو یہ بتانا تھا کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں افغانستان کے عوام قحط سے دوچار ہو سکتے ہیں۔   
اس اجلاس کے انعقاد سے قبل بعض حلقوں کی طرف سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر حکومت اس کوشش میں ناکام ہو گئی تودنیا بھرمیں قائم پاکستانی امیج کو خاصا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔لیکن الحمد للہ! صورت حال اس کے برعکس رہی۔ پاکستان کی اس کاوش نے دنیا بھر میں قائم سکوت کو توڑتے ہوئے عالمی طاقتوں کو جھنجوڑا اور پاکستان مخالف عناصر پر واضح کر دیا کہ اس کی یہ کاوش رائیگاں نہیں گئی۔ ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے نہ صرف اس اجلاس میں شرکت کی بلکہ متعدد ممالک نے افغانستان کے لیے فوری طور پر مالی امداد کا اعلان بھی کر دیا ۔ اس سلسلے میں سعودی عرب سر فہرست رہا جس نے انسانی ہمدردی کے تحت ایک ارب ریال اور غذائی امداد دینے کا اعلان کیا۔ اسی طرح ورلڈ فوڈ پروگرام نے 50 لاکھ افغانیوں کو کھانا فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ یورپی یونین نے پاکستان کو اس کاوش پر مبارک باد سے نوازتے ہوئے افغانستان کے لیے 300 ملین یورو مالی امداد دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔اس اجلاس کی بدولت اسلامی آرگنائزیشن فار فوڈ سکیورٹی بھی حرکت میں آئی اور اس نے اپنے محفوظ ذخائر میں سے افغانیوں کی مدد کرنے کا اعلان کیا ۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ افغانستان کے لیے ازبکستان میں ایک لاجسٹک مرکز قائم کرے گی جس کا مقصد وسط ایشیائی ممالک کو افغانستان کی امداد کے لئے ابھارا جائے گا۔ او آئی سی نے انفرادی طور پر افغانستان کے لیے ایک خصوصی ٹرسٹ کے قیام کو عمل میں لانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ قطر سمیت دیگر عرب ممالک سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ بھی اس مسئلے کے حل میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ اس اجلاس نے وسطی ایشیاء اور روس کو بھی ایک نادر موقعہ فراہم کیا ہے کہ وہ بذریعہ افغانستان گوادر اور دیگر ایشائی ممالک تک اپنا دائرہ کار پھیلائیں۔ اس طرح معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر ایک اندازے کے مطابق افغانستان کو سالانہ تین سے چار ارب ڈالر کافائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

او آئی سی کے اجلاس کے کامیاب انعقاد کے بعد پاکستا ن مخالف عناصر اور روائتی دشمن بھارت کی جانب سے پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے دی جانے والی امداد شاید پاکستان سے آگے نا بڑھ پائے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اجلاس میں اس امر کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ برادر ممالک کی طرف سے دی جانے والی امداد کی براہ راست نگرانی او آئی سی بذات خود کرے گی۔ یہ رقم افغانیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گی اور انہیں خوراک، تعلیم و صحت کے ساتھ ساتھ زندگی کی تمام بنیادی سہو لتیں فراہم کی جائیں گی ۔ اس طرح ان کا معیار زندگی بلند ہو گا اور خوشحالی ان کا مقدر بنے گی۔  
 یاد رہے کہ گزشتہ 19برسوں سے افغانستان امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کی بدولت بڑی طاقتوںکا دست نگر رہا ہے۔ طویل ترین جنگ اور رواں برس اگست میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے شدید بحران سے فوری طور پر نکلنا اس کے لیے خاصا مشکل ہے۔ اندرونی خلفشار، غیر مستحکم حکومت، سیاسی و معاشی چیلنجز کے ساتھ ساتھ انہیں خورا ک کی شدید قلت کا سامنا بھی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی طرف سے دس بلین ڈالرز کے اثاثوں کا منجمد ہو جانا ہے۔اس امداد کی بندش کے بعد افغانستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں افغانستان کی نصف آبادی قحط میں مبتلا نہ ہوجائے۔دوسری طرف موجودہ افغان قیادت کو د نیا بھرمیں کوئی ملک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ چار کروڑ افغانیوں کے لئے سابق حکومت کا کوئی رکن جن میں حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی شامل ہیں ، آواز اٹھانے کو تیار نہیں اور نہ ہی اس ضمن میں ان کی طرف سے کی جانے والی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آ رہی ہے۔ اس سارے منظر نامے میں صرف پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دلیری کے ساتھ نہ صرف دنیا بھر کے سامنے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے لئے آواز اٹھائی بلکہ انہیں یہ باور کرایا کہ اگر مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد نہ کئی گئی تو آنے والے دنوں میں خطے میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔  

حکومت پاکستا ن نے پہلا قدم اٹھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اپنے ہمسایہ برادر ملک کے ساتھ دیرپا اور مستحکم تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے مسئلے کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا ہے۔پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ امن و امان اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینے کا خوا ہشمند رہا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ افغانستان بیرونی امداد پرچلنے کے بجائے خود کفیل ہو ۔ پاکستانی قیادت اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر ر ہی ہے تاہم عالمی قوتوں کو بھی چاہئے کہ وہ غیر مشروط طور پر افغانستان کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ||



 

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP