قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان کا امن اور پاک امریکہ تعلقات

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر 

 پڑوسی اسلامی ملک افغانستان ایک بار پھر غیرمعمولی تاریخی حالات سے گزر رہا ہے۔ افغانستان کی تاریخ رہی ہے کہ یہ اپنوں کے علاوہ بیرونی طاقتوں کی حکمرانی کے لئے بھی کبھی سازگار نہیں رہا۔ سکندر اعظم، برطانیہ، ایران، سوویت یونین اور اب امریکہ سبھی کو یہاں سے نامراد ہو کر لوٹنا پڑا اور آج کل دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی اس کوشش میں ہے کہ 18 سالہ تلخ تجربات، اربوں ڈالرز اور بے پناہ طاقت کے استعمال اور مختلف طریقے آزمانے کے باوجود  اس ملک سے اس کی باعزت واپسی ہو۔ سال2017-18 افغانستان کی فورسز اور عوام پر بہت مشکل گزرے ہیں۔ مسلسل حملوں نے کابل سمیت کسی بھی شہر یا صوبے کو امن سے رہنے نہیں دیا۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق2015 اور2018 کے درمیان طالبان وغیرہ نے افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس پر سیکڑوں حملے کئے جس کے نتیجے میں ان چند برسوں کے دوران 23 ہزار سے زائد فوجی جوان اور پولیس اہلکاروں کو جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ہلاکتوں کے لحاظ سے یہ نائن الیون کے بعد سب سے بڑی تعداد کہی جاسکتی ہے۔ اگر چہ امریکہ اور نیٹو کا جانی نقصان حیرت انگیز طور پر بہت کم ہے تاہم اقتصادی نقصان اور لامحدود اخراجات نے امریکہ اور یورپ کی معیشت کو کافی متاثر کیا ہے۔ اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد واضح انداز میں مؤقف اپنایا تھا کہ افغانستان پر اُٹھنے والے اخراجات اب ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔ یورپ کو بھی چونکہ کئی برسوں سے اندرونی توڑ پھوڑ اور اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، اس لئے نیٹو بھی مزید اخراجات اٹھانے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیر اہے۔ وائس آف امریکہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سال 2017 کے دوران نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ 2018 کے دوران بھی جاری رہا۔ رپورٹ کے مطابق2017 میںجنگ سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد میں151 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعدادمیں 70فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2017 کے دوران دنیا بھر میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں اور واقعات کی تعداد میں27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے تاہم افغانستان کی صورت حال دنیا کے دیگر ممالک سے یکسر مختلف بلکہ برعکس رہی۔ اور یہاںحملوں اور ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی، جس کے بعد یہ سوال سر اٹھانے لگا کہ جاری جنگ میں عالمی طاقتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہی اور اس جنگ کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟


پاکستان کا یہ مؤقف اور مطالبہ بھی سفارت کاروں اور تجزیہ نگاروں میں زیرِ بحث ہے کہ امریکہ اور نیٹو کوئی متبادل نظام اور فارمولہ بنائے بغیر افغانستان سے نکلیں گے تو خطے کی صورت حال میں ابتری واقع ہوگی اور سوویت انخلاء کے بعدجس طرح تباہی مچ گئی تھی وہی صورت حال بن جائے گی۔



تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی اور امریکہ کو پاکستان کی اب بھی اشد ضرورت ہے اس لئے دونوں کے مفاد میں ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جائے اور سال2018 کے دوران جو کشیدگی اور بداعتمادی رہی نئے سال کے دوران اس کا خاتمہ کرکے افغانستان کے امن کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کئے جائیں۔


ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی طالبان اور افغانستان سے متعلق پالیسی درست نہیں تھی اور اس کی تمام توجہ فوجی کارروائیوں پر مرکوز رہی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور سیاسی، معاشرتی اصلاحات کے بجائے  ایسے حکمران عوام پر مسلط کئے جن کو شاید عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ ایک مؤثر آئین اور پارلیمنٹ کے باوجود فیصلے کابل کے بجائے واشنگٹن سے کئے جاتے رہے، وہ بدظن ہو کر یہ تصور لئے بیٹھے ہیں کہ امریکہ ان کے ملک پرامن قائم کرنے نہیں بلکہ قبضہ کرنے آیا ہے۔ اور یہی سوچ طالبان کے اس بیانیئے کو تقویت دینے لگی کہ وہ اپنے ملک اور عوام کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں جہاں ایک طرف طالبان کو ایک اٹل حقیقت تسلیم کرکے ان سے مذاکرات کو ناگزیر قرار دے رہا ہے وہاں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ سترہ اٹھارہ برس کی سرمایہ کاری، اسلحہ کی مسلسل فراہمی اور تربیت کے باوجود افغان فورسز کی صلاحیت کو سوالات اور خدشات کا سامنا رہا اور وہ طالبان کو کائونٹرکرنے یا امن کے قیام کی کوششون میں ناکام رہے۔ یہی بات بعض اعلیٰ امریکی حکام بھی کہتے سنے گئے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے طالبان کے ساتھ امریکہ کے علاوہ بعض دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کے رابطوں اور مذاکراتی کوشش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کوملا۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان کے بارے میں اپنے جارحانہ رویے پر نظرثانی کی بلکہ انہوں نے زلمے خلیل زاد اور بعض دیگر اہم عہدیداران کو ٹاسک دیا کہ افغانستان کے امن اور مجوزہ مذاکرات کے لئے پاکستان کی مدد حاصل کی جائے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان کو ایک خط بھی لکھا جس میں ان سے مدد کی اپیل کی گئی۔ دوسری طرف پاکستان نے مؤقف اپنایا کہ وہ مزید اپنا کندھا امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال ہونے نہیں دے گا۔ تاہم پاکستان نے اس عزم کا کھل کر اظہار کیا ہے کہ وہ افغان امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ مستقبل میں صورتحال کیا رُخ اختیار کرتی ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔


نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں جہاں ایک طرف طالبان کو ایک اٹل حقیقت تسلیم کرکے ان سے مذاکرات کو ناگزیر قرار دے رہا ہے وہاں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ سترہ اٹھارہ برس کی سرمایہ کاری، اسلحہ کی مسلسل فراہمی اور تربیت کے باوجود افغان فورسز کی صلاحیت کو سوالات اور خدشات کا سامنا رہا اور وہ طالبان کو کائونٹرکرنے یا امن کے قیام کی کوششون میں ناکام رہے۔



افغانستان کے ایشواورکراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کافی عرصے سے جو کشیدگی اور بے اعتمادی چلی آرہی ہے اس میں بوجوہ کمی آرہی ہے جو کہ دونوں ممالک کے علاوہ جنگ زدہ افغانستان کے لئے بھی سود مند ہے۔



سال2019 خطے کے امن اور مستقبل کے لئے اہم ترین  سال ہے۔ اس برس امکانات اور خدشات پر مشتمل نفسیاتی لڑائی لڑی جائے گی اور بعض ممالک پر پڑنے والے دبائو میں اضافہ بھی ہوگا۔ تاہم ایک بات بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ اہم ممالک کے درمیان بداعتمادی کا خاتمہ کئے بغیر خطے کا امن ممکن نہیں ہے اور اگر روایتی پالیسیاں جاری رہیں تو2019 کے دوران بھی حالات خراب رہیں گے۔


افغانستان کے ایشواورکراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کافی عرصے سے جو کشیدگی اور بے اعتمادی چلی آرہی ہے اس میں بوجوہ کمی آرہی ہے جو کہ دونوں ممالک کے علاوہ جنگ زدہ افغانستان کے لئے بھی سود مند ہے۔ امریکہ نے چند ماہ قبل پاکستان کے بارے میں جو تلخ اور سخت لہجہ اور رویہ اپنا یا تھا اب وہ بدل گیا ہے اور زلمے خلیل زاد پاکستان کے دوسرے دورے کے دوران کافی مثبت دکھائی دیئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کو افغان امن کے قیام کے لئے پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ طالبان یا افغان امن کی کنجی اس کے ہاتھ میں ہے، حقائق کے برعکس ہے۔ کیونکہ افغان طالبان اب متعدد دوسرے ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں جن میں ایران، روس اور چین جیسے اہم ممالک بھی شامل ہیں تاہم پاکستان کی اہمیت اب بھی برقرار ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو پاکستان کو اب دھمکیاں دینے کے بجائے تعاون کے لئے درخواستیں کررہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی اہمیت اور دوسروں کی کمزوریوں کا احساس ہے یہی وجہ ہے کہ اس بار ڈومور کا روایتی مطالبہ کام کرتے دکھائی نہیں دیا اورپاکستان نے زمینی حقائق اور امریکی رویے کے تناظر میں سخت پوزیشن لے کر اپنے مفادات کو مدِنظر رکھا۔ سینیئر تجزیہ کار اسماعیل خان کے مطابق امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک صفحے پر ہیں جبکہ وہائٹ ہائوس اور پینٹا گون کے درمیان اس ایشو کے علاوہ متعدد دیگر معاملات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ متعلقہ اداروں کی تجاویز، مشاورت اور آراء کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی مرضی کے فیصلے کروارہے ہیں جس سے امریکہ کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اب امریکہ پر پہلے کی طرح انحصار نہیں رہا اور اس کا تعاون بعض اقدامات سے مشروط ہوگا ،جن میں بھارت کا اثر رسوخ ، غیر ضروری دبائو کم کرنا اور افغانستان میں پاکستانی مفادات کا تحفظ جیسی شرائط شامل ہوسکتی ہیں۔ ان سمیت متعدد دوسرے سنجیدہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ غیرضروری محاذ آرائی اور کشیدگی سے گریز کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ سفارتکاری کو فعال بنا کر عالمی سطح پر مؤثر لابنگ پر توجہ دی جائے کیونکہ چین جیسا ملک بھی ہمیں امریکہ سے بہتر تعلقات قائم رکھنے کا مشورہ دیتا آرہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی اور امریکہ کو پاکستان کی اب بھی اشد ضرورت ہے اس لئے دونوں کے مفاد میں ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جائے اور سال2018 کے دوران جو کشیدگی اور بداعتمادی رہی نئے سال کے دوران اس کا خاتمہ کرکے افغانستان کے امن کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کئے جائیں۔


سینیئر تجزیہ کار اسماعیل خان کے مطابق امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک صفحے پر ہیں جبکہ وہائٹ ہائوس اور پینٹا گون کے درمیان اس ایشو کے علاوہ متعدد دیگر معاملات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔


پاکستان کا یہ مؤقف اور مطالبہ بھی سفارت کاروں اور تجزیہ نگاروں میں زیرِ بحث ہے کہ امریکہ اور نیٹو کوئی متبادل نظام اور فارمولہ بنائے بغیر افغانستان سے نکلیں گے تو خطے کی صورت حال میں ابتری واقع ہوگی اور سوویت انخلاء کے بعدجس طرح تباہی مچ گئی تھی وہی صورت حال بن جائے گی۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ طالبان اور امریکہ دونوں کو باعزت اختتام یا ہیپی اینڈنگ کے لئے کمپرومائیز کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ شکست یا ناکامی کے خوف یا تاثر سے بچنا چاہتا ہے تو جو طالبان برسوں سے اپنے وطن کے دفاع کے نام پر لڑتے آئے ہیںوہ بھی صلے کے طور پر کچھ منوا کے رہیں گے۔ دونوں فریق ناکامی کے داغ سے کیسے بچ سکتے ہیں، اس کے لئے پاکستان، ایران ، روس اور چین جیسے ممالک کو درمیان میں لانا پڑے گا تاکہ علاقائی طاقتوں کے ذریعے ایسا فارمولہ سامنے لایا جاسکے جس سے دونوں فریقوں کی ساکھ بچ جائے اور امن بھی قائم ہو۔ افغانستان کا امن افغان عوام کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے استحکام ، امن اور ترقی کے لئے بھی لازمی ہے کیونکہ افغانستان سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے اور جنوبی اور سنٹرل ایشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے۔ ایسے میں اگر ممکنہ حقائق فارمولے کی تشکیل اور عمل درآمد میں مذکور علاقائی قوتوں کی مرضی اور مشاورت شامل ہوگی اور طالبان جمہوری ، حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بننے پر آمادہ ہوں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ سال2019 خطے کے امن اور مستقبل کے لئے اہم ترین  سال ہے۔ اس برس امکانات اور خدشات پر مشتمل نفسیاتی لڑائی لڑی جائے گی اور بعض ممالک پر پڑنے والے دبائو میں اضافہ بھی ہوگا۔ تاہم ایک بات بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ اہم ممالک کے درمیان بداعتمادی کا خاتمہ کئے بغیر خطے کا امن ممکن نہیں ہے اور اگر روایتی پالیسیاں جاری رہیں تو2019 کے دوران بھی حالات خراب رہیں گے۔ اور اس کے نتیجے میں افغان مسئلے کی آڑ میں متعدد دوسرے ممالک کے تعلقات بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پراکیسنر اور بارگیننگ کے بجائے خطے کے عوام پر رحم کرکے کروڑوں عوام کے مستقبل کو پُرامن اور محفوظ بنایا جائے اور نیک نیتی سے علاقائی امن اور ترقی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔


[email protected]

یہ تحریر 291مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP