متفرقات

آپریشن ردّ الفساد: تصوّر، آغاز، اقدامات اور بنیادی حکمتِ عملی 

آپریشن ردّالفساد کا آغاز22 فروری2017ء کو ہوا جس کے مطابق ملک کے طول وعرض میں ضرورت کے مطابق یکساں کارروائیاں کی گئیں۔ 
ردالفساد کا تصور
۔    آپریشن ردّالفساد کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندر امن اور استحکام لانا ہے۔ جس کوحاصل کرنے کے لیے شر پسند عناصر پر زمین تنگ کرنا اور ان کا خاتمہ کرنا اس کا سب سے اہم ستون تھا۔ 
۔    آپریشن ردّالفساد ایک قومی فریضہ ہے جس کا اہم حصہ اور محور پاکستان کے عوام ہیں جن کا کردار ملک سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کلیدی ہے۔ 
آپریشن ردّالفساد کا آغاز
۔    آپریشن ردّالفساد کا آغاز اس وقت کیا گیا جب دہشگردوں نے شدید جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد شہری علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کی ۔ 
۔    اس وقت دہشتگردوں کا ہدف آبادی والے علاقوں میں موجود افراد اور مختلف سافٹ ٹارگٹس(آسان اہداف) بن چکے تھے جس کی وجہ سے ایک جامع آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا۔ 
۔    ردّالفساد کے دو اہم جزو مُلک سے دہشتگردی کا خاتمہ اور پر تشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہیں۔ 
دہشتگردی کے خلاف اقدامات
۔    ان اقدامات کے 3بنیادی نکات ہیں۔
۔    طاقت کا استعمال ریاست کی صوابدید ہے۔ 
۔    ڈبلیو بی ایم آرکے تحت ملک کی مغربی سرحدوں کا استحکام ۔
۔    ملک بھر سے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ۔
۔    پُر تشدد انتہا پسندی کا خاتمہ اور دہشتگردی کے شکار علاقوں میں لوگوں کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو پایہء تکمیل تک پہنچانا۔ 
۔    کسی بھی نظریے کا مقابلہ صرف ایک بہتر اور قومی نظریے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ 
۔    ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری اقدامات میں :-
۔    این اے پی پر عملدرآمد
۔    قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت
۔    حکومتی ریفارمز کی مؤثر معاونت شامل ہے۔
 ردّالفساد کی بنیادی حکمت عملی  
۔    اس کامیاب حکمت عملی کے 4مراحل ہیں۔
ٹرانسفر،  بلڈ ،  ہولڈ ،  کلیئر(Transfer, Build, Hold, Clear)
۔    2010سے2017 تک بڑے آپریشنز کے ذریعے قبائلی علاقوں کو کلئیر اور ہولڈ کیا گیا۔ 
۔    ردّالفساد کے تحت دو مراحل یعنی کہٹرانسفر اور بلڈ کا آغاز کیا گیا کیونکہ کامیابی کا اصل پیمانہ ان علاقوں کی تعمیر و ترقی ہی ہے۔
۔    ردّالفسادکے پانچ سالوں میں حاصل کی گئی کا میابیوں کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیاگیاہے۔
۔    پچھلے5سال کے دوران ردّالفساد کے تحت ملک بھر میں آپریشنز کئے گئے جن میں آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سی ٹی ڈی، ایف سی، رینجرزاور پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔
۔    ان تمام آپریشنز میں کچھ بڑے اور اہم ترین آپریشن بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے آبادی والے علاقوں میں امن وامان کی حالت بہتر بنانے میں مدد ملی۔ مغرپی سر حد پر سکیورٹی کی صورتحال پچھلے ایک سال میں مقابلہ کُن  رہی جس کی بنیادی وجہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلاء اور بارڈر کے قریبی علاقوں کے ہر سطح کے متحرکات  اور دشمن ملک کا منفی کردار محرکات میں شامل ہے۔ 
۔    پچھلے دو سال میں دو بڑے آپریشنزیعنی کہ شمالی وزیرستان میں دعاتوئی آپریشن اور خیبر آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنائی گئی۔
۔    ان آپریشنز کی کامیابی نے بارڈر پر باڑ لگانے کے عمل کو سہولت دی اور اس پراجیکٹ کے وقت پر مکمل ہونے کو ممکن بنایا۔
۔    حال ہی میں2فروری2022کو نوشکی اور پنجگور میں دہشتگردوں کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا گیا۔ 
۔    ان پانچ سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابیوں میں
۔    انصار الشریعہ کراچی
۔    جے یو اے کرم چیپٹر
۔    ٹی ٹی ایس لاہور چیپٹر
۔    ٹی ٹی پی صوابی چیپٹر
۔    انتقامِ وزیرستان گروپ
    اورسوات چیپٹرٹی ٹی ایس دِیرہیں۔
۔    ان 5سالوں کے دورا ن 5500سے زائد خطرات کا انتباہ جاری کیاگیا اور ان کی زیادہ تعداد کونیوٹرلائیز( غیرمؤثر)کر دیا گیا۔ 
۔    2022سے2017کے درمیان ملک بھرمیں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جس کی سب سے اہم وجہ آپریشن آر یو ایف کا مؤثرانداز میں جاری رہنا ہے ۔
۔    2017  سے اب تک LEAs  کی گنجائشمیں اضافہپر خصوصی توجہ دی گئی ۔FC کے67نئے ونگز قائم کیے جا چکے ہیں ۔
۔    بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان سرحد کی باڑ کا کام 95فیصد مکمل کرلیا گیا ہے اور پاک ایران بارڈر پر 78 فیصد سے زائد کا کام ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ679فورٹس / بارڈر پوسٹس اور بارڈر ٹرمینلز بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔
۔    آپریشن ردّالفساد کے دوران قبائلی اضلاع میںDe-mining   خاص طورپر ایک اہم Undertaking  تھی۔جس  میں74 مربع کلو میٹرعلاقے  کو کلیئرکیا گیا ۔
۔     کیونکہ بہتی بارودی سرنگوں، نہ پھٹنے والا اسلحہ اور دہشت گردوں (Drifted mines, UXOs and Ts)کی لگائی گئی آئی ای ڈیز سے فورسز اورشہریوں کی شہادتیں ہورہی تھیں اور بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے ۔ ایک مخلص کوشش کے ذریعے قبائلی علاقوں میں De-mining Teams  کو ذمہ داری  سونپی گئی جس کے ذریعے تقریباََ 80 ہزار مائنزکو ری کوّر کیا جا چکا ہے۔
۔    سکیورٹی فورسز نے گزشتہ5سال میں ملک بھر میں 40ہزار سے زائد پولیس کے جوانوں کو بھی تربیت دی ہے ۔ 
۔    اس کے علاوہ پاک فوج نے22ہزار کے قریب لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کی ٹریننگ بھی کی ۔
۔      ٹی ڈی پیزکی اپنے گھروں کو باوقاراور باحفاظت واپسی  ایک صبر آزما اور مشکل مرحلہ تھا ۔ الحمداللہ ایک مربوط اور احسن حکمتِ عملی کے نتیجے میں مختلف ٹی ڈی پیز گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
۔     ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان( این اے پی) کے تحت مختلف اقدامات کئے گئے۔
۔    جو دہشت گردی کے واقعات  ملک میں رونما ہوئے ان کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کر کے گرفتار کیاگیا۔
۔     دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا،  ٹوٹل 717کیسز  ملٹری کورٹس کی طرف ریفر کیے گئے ۔
۔     344 دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی جس میں سے58 دہشت گردوں کی سزا پر عمل درآمد ہوچکا ہے 106  دہشت گردوں کو عمر قید اور195 دہشت گردوں کو مختلف دورانیے کی قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ 5 افراد کوبری بھی کیا گیا۔
۔    78سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور سرکردہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا گیا ۔
۔    دہشت گردوں کے اثاثوں کو منجمد کیا گیا اور اُن کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی ۔ 
۔    منی لانڈرنگ ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ پر ایک مؤثر  لائحہ عمل سے قابو پایا گیا۔ 
۔    Counter Violent Extremism Prongکے مثبت  اثرات بھی واضح ہیں۔
 ۔    2017سے اب تک 1200 سے زائدذیلی قوم پرست شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے اور خود کو امن کی راہ پر گامزن کیا ۔
۔    De-radicalization  پروگرام کے تحت اب تک 4500سے زائد لوگوں کو معاشرے میں دوبارہ شامل کیا جا چکا ہے۔ 
۔    نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسندانہ مواد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے بیانیے اور اس کی تشہیر کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا گیا ۔
۔    وفاق المدارس اور علماء کی باہمی مشاورت سے پہلی مرتبہ1800سے زائد  مذہبی رہنمائوں نے پیغامِ پاکستان کے نام سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یک زُبان ہو کر ایک انتہائی مؤثر بیانیہ دیا۔ 
۔    این اے پیکے تحت 78سے زائد دہشتگرد تنظیموں اور سرکردہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثرایکشن لیاگیا۔این اے پی اور پیغام پاکستان پر مکمل عملدرآمد ہی انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑ سکتاہے۔
۔    نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسند مواد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے بیانیے اور  اسکی تشہیر کو مؤثر طریقے سے نا کام بنایا گیا۔
۔    اس سلسلہ میں تمام مکاتب ِ فکر کے محترم علماء کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ 
۔    کراچی، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں Hostile Intelligence Agencies کے پاکستان کے شہریوں بالخصوص  نوجوانوں کو  انتہا پسندی پر مائل کرنے کے عزائم کو ناکام بنایا گیا۔ 
۔     آپریشن ردّ الفساد کے دوران پاکستان نے HIAsکی طرف سے پاکستان مخالف سازشوں کو بے نقاب کیا اور خاص طور پر دہشت گردوں کی معاونت اور ٹریننگ کے حوالے سے ناقابلِ تردید ثبوت دُنیا کے سامنے رکھے۔
۔     ردّالفساد کے دوران ہی پاکستان میں چھٹی مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ اس دوران سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا  جبکہ 15 اہلکارزخمی ہوئے۔
۔    آپریشن RuFکے دوران بلوچستان اورخیبر پختون خوا میں پولیو مہم پر مامور سٹاف کو ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں پولیو مہم کامیابی سے جاری رہی۔
۔     ردّالفساد کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ کراچی جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے  2014 میں جرم شرح میں چھٹے نمبرپر تھا  ، بہتر ہوکر 124ویں نمبر پر آچکا ہے بلاشبہ یہ  ردّالفساد کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
۔    کراچی میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
۔    اس کے علاوہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کے 'ویژن بلوچستان 'کے تحت199  ترقیاتی منصوبیجن کی لاگت  تقریباََ 601بلین ہے، کا آغاز کیا جا چکا ہے جس میں ہیلتھ کے 10، ایجوکیشن کے 18،  ایگری کلچر کے20 اور ٹرانسپورٹ کے42  چندبڑے اہم منصوبے شامل ہیں۔ان تمام منصوبوں کو مکمل سکیورٹی مہیا کی جارہی ہے تاکہ یہ بروقت مکمل ہو جائیں اور بلوچستان کے عوام ان سے مُستفید ہو سکیں۔
۔     امن و امان میں بہتری کی وجہ سے کے پی کے قبائلی اضلاع میں31 بلین سے زائدکی لاگت سے 831 ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ بلوچستان میں   سی پیک کے علاوہ حکومت پاکستان کے 'ویژن بلوچستان' کے تحت بڑے بڑے منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔
۔    پاکستان کے بارڈرز کو مکمل محفوظ کرنا ،  مدارس ریفارمز،قبائلی اضلاع کا کے پی سے الحاق اور  وہاں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی ردّالفساد کے ثمرات ہیں۔
۔     آج کھیل کے میدان آباد ہیں۔پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد، غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد اور مسلح افواج کی مشترکہ مشقیں RuFکے ثمرات کا ہی نتیجہ ہیں۔  
۔    اس کے علاوہ سیاحت میں بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیاں پاکستان کے امن کی جانب سفر کی عکاس ہیں۔
۔     گوادر، ناردرن ایریاز اورکے ٹو دُنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
۔     وہ علاقے جو دہشت گردی کا شکار تھے اب وہاں اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
۔    آپریشن رد ّالفسادکی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور اس کے لییجہاں سکیورٹی اداروں نے کرداردا کیا ہے وہیں عوام اور ہمارے میڈیا کا کردار بھی قابل ستائش رہا ہے۔
۔     ہم سب مل کر ترقی اور خوشحالی کی جانب اس سفر کو رواں دواں رکھیں گے اور شرپسند عناصر کے عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ||



 

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP