قومی و بین الاقوامی ایشوز

آپریشن بلیو سٹار اورخالصتان تحریک

سکھ قوم بھارتی پنجاب کوبھارت سے علیحدہ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک پر ایک طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہے۔ جب ہندو اور مسلمان الگ ریاست کے لیے جدوجہد کررہے تھے تب سکھوں نے بھی اپنے حقِ خوداریت اور آزاد مملکت کے لیے آواز بلند کی ،مگر سکھ دشمنوں کے جھوٹے وعدوں اور سازشوں کا شکار ہوگئے۔ بھارتی لیڈرجواہر لعل نہرو نے سکھوں کو اپنے جال میں پھنسایا، ان کو یہ اعتماد دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں،لہٰذا سکھ برادری آزاد مملکت کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہواور وہ وعدہ کرتے ہیں جیسے ہی بھارت  آزادہوگا اسی روز سے سکھوں کو ان کے دیس میں مکمل طور پر آزادی حاصل ہوگی،ان پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہوگا، وہ خود کو بطور ایک آزاد قوم تصور کرسکتے ہیں۔دشمنوں کی میٹھی زبان کا شکار ہوکر انہوں نے جیسے انجانے میں اپنے جذبات پردشمنوں کو خنجر کھوپنے کی اجازت دے دی یا پھریوں کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماردی۔یہاں پر یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں، مسلم، سکھ اور ہندوئوں نے اپنے اپنے طریقے سے سر توڑ کوشش کی۔مگرآزادی کے بعد بھارت سکھوں سے کیے گئے اپنے وعدوں سے مکر گیا۔جب بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا تب سکھ برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑی اورانہوں نے بھارتی پنجاب کوبھارت سے علیحدہ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک پر جدوجہد شروع کی۔ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک مدت سے ظلم وجبرکا شکار ہونے والی یہ سکھ قوم درحقیقت ایک امن پسند قوم ہے کیونکہ سکھ ہونے کی شرائط میں ایک شرط ظلم سے باز رہنا اورنیک لوگوں کی عزت کرنا ہے۔
 ماضی میں خالصتان تحریک کے حوالے سے ہونے والے بارہ سالہ طویل پرتشدد واقعات میںہزاروں بے گناہ افراد جان کی بازی ہارے جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔  بھارت کی خفیہ ایجنسیاں خالصتان کے سرگرم کارکنان پر اپنی نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں، بے شمار سرگرم کارکنان غائب ہوچکے ہیں، خفیہ ایجنسی را انہیں ورغلانے ، ان کی مقصد سے توجہ ہٹانے، ان پر تشدد کرکے انہیں بلیک میل کرنے کاکام کررہی ہے۔ایسا بھی ہوسکتا ہے غائب ہونے والے کئی بے گناہوں کو موت کی نیند سلا دیا گیاہو۔
بھارت کو بھی بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر بھی مظلوموں کے جذبہ حریت کو کم نہیں کر سکتا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہگزشتہ سال 26 جنوری کو ایک واقعہ منظرِ عام پرآیا۔اس روز سکھ کسانوں نے نہایت ہی ہمت اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نا صرف دشمن کو للکارا، بلکہ دلی کے لال قلعے پر چڑھ کر بھارتی پرچم اتار پھینکا اور اس  کی جگہ اپنا خالصہ پرچم لہرایا۔یہ ایک تاریخیدلیر عمل تھا جس کے بعد خالصتان تحریک میں یکا یک تحرک پیدا ہوا۔۔!!!
خالصتان کی تحریک کے لیے جب کسی نے بھی آواز بلند کی یا کرنے کی کوشش کی بھارتی سرکار نے نہایت ہی بے دردی سے اس کی آواز ہمیشہ کے لیے ختم کردی۔ یہاں پر حال ہی میں قتل ہونے والے بھارتی پنجاب کے معروف گلوکار سدھو موسے والا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سدھو موسے والا کی زندگی پر تھوڑی روشنی ڈالی جائے تو وہ مظلوم کی آواز تھے۔ انہوں نے اپنے گانوں کے ذریعے سکھوں کے دلوں میں خالصتان کی تحریک،اپنے حق ِخوداریت اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کے جذبے کو بیدار کیا۔انہوں نے کئی بار دشمن کو للکارا، سدھو موسے والا پنجاب کو اپنی دھرتی ماں سمجھتے تھے جس کا اندازہ ان کے گانوں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنی دھرتی ماں سے کس قدر محبت تھی۔ موسے والا کے ایک پنجابی گانے کے چند الفاظ کچھ ایسے تھے'' یہ میرے بزرگوں کا پنجاب ہے، کوئی کشمیر نہیں جسے تم دبا لو گے۔''  سدھو موسے والا کے گانے دنیا بھر میں مقبول تھے۔وہ جس طریقے سے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے،سرِعام دشمن کو للکارتے تھے،دنیا بھر میں دشمن کے جعلی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرکے ان کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے،وہ دشمن کے لیے ناقابلِ برداشت تھا اور یہی وجہ ان کی موت کا سبب بنی۔ سدھو موسے والا کو قتل کرنے سے ایک روز قبل ہی ریاستی حکومت کی جانب سے سکیورٹی ہٹائی گئی تھی۔سدھو  موسے والا کے قتل کے تین ہفتے بعد ایک گانا ایس وائے ایل کے نام سے ریلیز ہوا ہے جس پر بھارتی حکومت کی جانب سے بھارت میں پابندی لگا دی گئی ہے ۔یہ گانا سدھو موسے والا کے یوٹیوب اکائونٹ پر ریلیز ہوااور اس گانے کو صرف تین روز میں ہی تین کروڑ سے زائد افراد نے سنا، بھارت میں اس پر پابندی عائد ہونے کے باوجود دنیا بھر میں اس گانے کے خوب چرچے ہیں۔ جو اس امر کی علامت ہے کہ بھارت اب خالصتان تحریک کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ جلد یا بدیر سکھ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ||


 [email protected]

یہ تحریر 793مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP