ہمارے غازی وشہداء

آزادی کے  محافظ

( میجرملک ابرار احمد شہید ۔ستارئہ بسالت کی داستانِ شجاعت ، جو تحفظِ آزادیٔ پاکستان کا استعارہ ہے)
جب اُس روز میںجمعہ کی نماز پڑھ کر میں مسجد کے مرکزی دروازے سے باہر نکلا تو ایک خُوبرو وجیہہ نوجوان سے مڈبھیڑ ہوئی جومجھے مسجد سے باہر آتا دیکھ کر یُوں تیزی سے قریب ہُوا جیسے برسوں کی شناسائی رکھتا ہو لیکن تعجب کہ یادداشت کے ورق خالی تھے۔ نوجوان نے اپنا تعارف میجر ملک ابرار احمد کے نام سے کرایااور رضاکارانہ طور پر پلٹن کے ساتھ آپریشن ایریا سوات جانے کی خواہش کا اظہار کیا جو یقیناً اُن کے ذوقِ شجاعت اور شوقِ شہادت کی تڑپ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ جس کے لئے جی ایچ کیو کو یونٹ کے ساتھ شمولیت کے لئے درخواست بھیجی گئی۔ جب تک منظوری نہ آئی میجر ابرار ملک شہید میں عجیب بے چینی دیکھی اور منظوری آنے کے بعد جو اُس کے چہر ے پر چمک دیکھی تو یقین ہوگیا کہ شہید واقعی اللہ کے چُنے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔



اگست کا مہینہ ، جذبات کے تلاطم کا ایک ایسا معاملہ ہے جو ہر پاکستانی کے لہوکی حرارت سے عبارت ہے؛ یہ ہماری آزادی اور ہماری آزادی کے تحفظ کی قسم نبھانے والوں کی حسین یادوں سے مزیّن ایک حقیقت ہے۔ یہ حصولِ آزادی کے لئے نکلنے والوں کی انتھک محنت، آزادی کا سفر طے کرجانے والوں کی آبلہ پائی اور آزادی کی قیمت چکانے والوں کی بیش بہا قربانیوں سے جُڑی واقعیت ہے یہ تحفظِ آزادی کی قسم کھانے والے سپاہیوں' تحفظِ آزادی کی قسم نبھانے والے غازیوں ا ور تحفظِ آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کے لہو سے لکھی معنویت ہے۔ یہ ایک سپاہی کے پِٹھّو میںرہ جانے والی بے شمار چھوٹی بڑی یادوں کی کہانی ہے؛ ہم جانتے ہیں کہ ایک سپاہی کے کندھے پر دھرے پِٹھّو میں پیشہ وارانہ ذمہ داریوں، لہو سے عبارت وفاداریوں اور تلخ و شیریں احساس سے بھرپُور یادوںکا ایک خزانہ جمع رہتا ہے جو یہ موقع محل اور ضرورت پر استعمال کرتا ہے۔  
میرے کندھے پر دھرے پِٹھّو میں اگست سے جُڑی ایک ایسی یاد ابھی تک تازہ ہے جو ایک طرف وجود کو گرمانے کا اہتمام کرتی ہے تو دوسری طرف گزرے لمحات میں ٹھہری ایک خوبصورت تصویرکے نقش نمایاں کرتی ہے جس کا تصور میری چشمِ نم کی روانی کا سبب ہوتا ہے۔جی ہاں !میری یاداشت میں میجر ملک ابرار احمد(شہید)ایک ایسی تلخ و شیریں یادکا حصّہ ہے جو ایک طرف تو میرا سینہ چوڑا کرتا ہے تو دوسری طرف اُس کی چھوٹی چھوٹی اور معصوم باتیں مجھے ہمیشہ بے چین کرتی ہیں۔ میجر ملک ابرار احمد(شہید)، اُس لمحے میری یونٹ اور میری کمانڈ کا حصّہ بنے جب پیشہ وارانہ ضرورت نے آپریشن ایریا روانگی کا حکم سنایا۔ اگرچہ میجر ملک ابرار احمد، روانگی کا حکم ملنے پر نہ تو یونٹ کا حصّہ تھے اور نہ ہی کوئی ایسی صورت تھی کہ اُن کا جانا لازم ہوتا۔میجر ملک ابرار احمد میرے ساتھ رضاکارانہ طور پر آپریشن پرجانے کے لئے خود پیش ہُوئے جسے پیشہ وارانہ نظم و نسق کے ساتھ شرفِ قبولیت ملا ۔ یُوں میجر ملک ابرار احمد(شہید) کو اپنی خواہش پر آپریش ایریا جانے کا موقع ملا اور مجھے ایک قابل، دلیر اور جرأت مند سیکنڈ اِن کمانڈ آفیسر کا ساتھ میسر آیا جو بعد ازاں ہماری مجموعی عزت و تکریم اور فخر کا سبب بھی بن گیا۔  
 آزادی کی سانسیں لیتا اگست کا مہینہ اور سبز ہلالی جھنڈا،میجر ملک ابرار احمد اپنی کمپنی کے سامنے کھڑے، جوانوں کو ایک اَن دیکھے دشمن کی کمین گاہ کا محاصرہ کرنے اور پہلو پر بڑھتی کامیاب و کامران اپنی سپاہ کے ساتھ ملاپ کی کارروائی کے بارے میں بتا رہے تھے۔ جب پہلی صف میں کھڑے مٹی کی محبت کے متوالے ایک سپاہی نے ''پاکستان'' کا نعرہ بلند کیا اور وہاں موجود ہر سپاہی کے فلک شگاف ''زندہ باد'' سے وادی، وادی گونج اُٹھی جس کی بازگشت ، پاکستان کے بچے بچے نے سُنی اور لبیک کہا۔کارروائی کا علاقہ دشوار گزار اور مقصد کٹھن ترین تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وطن کے جانثاروں کے حوصلوں کے سامنے ہیچ دکھائی دیا۔ میجر ملک ابرار احمد نے اپنی سپاہ کی ترتیب بنائی اور چار چھوٹے لڑاکا دستوں کے ساتھ ہدف کی جانب پیش قدمی کی۔ ''بٹوار چیک پوسٹ'' تک دہشت گردوں نے سبھی حربے آزما لئے لیکن کسی طور بھی ،میجر ملک ابرار احمد اور ساتھیوں کی پیش قدمی کو نہ روک پایا۔ اس دوران چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے کی گئی فائرنگ اور سنائپرز کی کوشش کے ساتھ ساتھ اَن گنت آئی اِی ڈیز کے شور نے وادی کو سر پر اُٹھائے رکھا لیکن مٹی کی محبت میں بڑھتے اِن شیرجوانوں کے حوصلوں پر کم ہمتی کا نشان بنانے والا کوئی وار کامیاب نہیںہوا۔ 
اگست2012ئ، آزادی کے نغمے گائے اور سبزہلالی پرچم لہرائے ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ جب 26 اگست کی شب ایک متعین ہدف کی جانب بڑھتے ہُوئے کمپنی کو بھاری مزاحمت کا سامنا ہُوا اور اِ س دوران نائیک شکیل نے وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے سیراب کیا۔ جب کہ چند دوسرے سپاہیوں نے اپنے اجسام پر زخموں کے تمغے سمیٹے ۔میجر ملک ابرار احمد روایات کا امین، ایک جرأت مند سپاہی، اپنی کمپنی کے ہراوّل دستے کی رہنمائی میں مصروف تھا۔ میجر ملک ابرار احمد(شہید) ایک دلیر کمانڈر اور حوصلہ مند سپاہی تھا جو کسی بھی صورت اپنے ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہُواجو ہدف سے دُوری کا سبب بنتا۔میجر ملک ابرار احمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل پیش قدمی کرتا ہُوا ہدف کی جانب بڑھتا رہا یہاں تک کہ دہشت گردوں کے سنائپرز کی ایک گولی نے شوقِ شہادت میں دھڑکتے سینے کو آلیا۔ گرم لہو نے مٹی کو چُوما اور جسم زمین پر سجدہ ریز ہوگیا۔ کیوں نہ ہوتا، میجر ملک ابرار احمد(شہید) نے اپنے حلف کی پاسداری کی تھی اور ہدف کے حصول کو اپنی جان کا نذرانہ دے کر یقینی بنایا تھا۔  ایک پیارے ساتھی کی جدائی اور دیگر کے زخموں نے جہاں ایک کمانڈر کاسینہ چوڑا کردیا وہاں ایک سپاہی کے سینے میں مچلتی خواہشِ شہادت کو بھی شدید کردیا۔ مشکلوں میں حوصلوں کا رویہ ہماری افواج کا طرئہ امتیاز ہے جو کسی بھی صورتِ حال سے سپاہیانہ وصف کے ساتھ لڑنے کا ہنر بخشتا ہے۔
میجر ملک ابرار احمد(شہید) ، شہیدانِ وفا کی اُس فہرست میں شامل ہیں جو ذوقِ شجاعت اور شوقِ شہادت میں اپنی راہ بھی آپ متعین کرتے ہیں۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہماری پلٹن، گوجرانوالہ چھائونی میں پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہی تھی؛ یُونٹ آپریشن ایریا کے لئے منتخب کی گئی؛ تیاریاں مکمل اور روانگی کے آخری مراحل میں داخل ہوچکی تھیں۔جب اُس روز میںجمعہ کی نماز پڑھ کر میں مسجد کے مرکزی دروازے سے باہر نکلا تو ایک خُوبرو وجیہہ نوجوان سے مڈبھیڑ ہوئی جومجھے مسجد سے باہر آتا دیکھ کر یُوں تیزی سے قریب ہُوا جیسے برسوں کی شناسائی رکھتا ہو لیکن تعجب کہ یادداشت کے ورق خالی تھے۔ نوجوان نے اپنا تعارف میجر ملک ابرار احمد کے نام سے کرایااور رضاکارانہ طور پر پلٹن کے ساتھ آپریشن ایریا سوات جانے کی خواہش کا اظہار کیا جو یقیناً اُن کے ذوقِ شجاعت اور شوقِ شہادت کی تڑپ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ جس کے لئے جی ایچ کیو کو یونٹ کے ساتھ شمولیت کے لئے درخواست بھیجی گئی۔ جب تک منظوری نہ آئی میجر ابرار ملک شہید میں عجیب بے چینی دیکھی اور منظوری آنے کے بعد جو اُس کے چہر ے پر چمک دیکھی تو یقین ہوگیا کہ شہید واقعی اللہ کے چُنے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔  یُوں میجر ملک ابرار احمدشہید ایک نسبتاً آسان و آرام دہ عسکری زندگی کو خیر آباد کہہ کر آپریشن ایریا پہنچ گیا جہاں شاید وہ خود کو زیادہ پُرسکون محسوس کررہا تھا۔ 
یہ رمضان کا مہینہ تھا جب میجر ملک ابرار احمدشہیداپنے ساتھیوں سمیت آزادی کی اِس نعمت کی حفاظت کے لئے شب بیداری میں مصروف تھے۔میں اُس آخری ملاقات کو کیوں کر بھلا سکتا ہُوں جب میں پلٹن کی کمانڈنئے کمانڈنگ آفیسر کے حوالے کرنے کے بعد ابھی یونٹ میںہی موجود تھا تو پتہ چلا کہ یونٹ کے کچھ لوگ باجو ڑ کے محاذ پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر جارہے ہیں جن کے کمانڈر میجر ابرار ملک ہیں۔ نئی ذمہ داریوں کے لئے روانگی کا قصد باندھ رہا تھا کہ میجر ملک ابرار احمد(شہید) سے مختصر مگر ہمیشہ محفوظ رہ جانے والی ایک ملاقات ہوئی ۔ ایک آخری ملاقات جس میں میجر ابرار( شہید)کی جانب سے مجھے پندو نصائح اور غیر محسوس وصیت پیش کی گئی تھی۔اس روز میجر ابرار ملک شہید کے چہرے پر معمول سے زیادہ نُور اور سکون تھا اور یہی وجہ تھی جس نے مجھے مجبور کیا کہ میجر ابرار کی تصویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لوں۔ کون جانتا تھا کہ یہ آخری لمحات کا سکون ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ثبت ہو جائے گا۔ یہ روانگی کی شام تھی؛ میجر ملک ابرار احمد(شہید)بڑی سج دھج سے اپنی کمپنی لے کر گیا اوراُس سے بھی زیادہ شان وشوکت سے لوٹ کر آیا۔   
  2012ئ، باجوڑ کے خار دار راستوں پر فتح کے نشان چھوڑ کر جانے والے میجر ملک ابرار احمد شہیدکا اپنی مٹی سے محبت کا جذبہ ایک فطری تقاضا تھا۔گوجرانوالہ جیسے تاریخی شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعدپی ایم اے 90 لانگ کورس کے ساتھ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت ملی جو اعلیٰ اعزازی پوزیشن کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ پاسنگ آئوٹ پریڈ کے بعد ''جنگ کی ملکہ''، پیدل فوج کی ایک تاریخی رجمنٹ کی ایک مایہ ناز پلٹن 6 ایف ایف میں شمولیت اختیار کی۔ جہاں سنہری روایات کی حامل عسکری تاریخ ، ایک نئے باب کو لکھنے کی تیاری میں تھی۔ یہ وہی رجمنٹ ہے جس نے میجر شبیر شریف (نشانِ حیدر) جیسے عظیم سپوتوں کی عملی عسکری تربیت کی جی ہاں! وہی شبیر شریف (نشانِ حیدر) جو ایک بار دشمن سے لڑا تو ستارئہ جرأت اور دوسری بار مقابل آیا تو نشانِ حیدر کا اعزاز اپنے سینے پر سجاکر لوٹا۔  میجر ملک ابرار احمد (شہید(نے اپنی سنہری روایات کا علم اُٹھائے وادی ِبٹوار(باجوڑ ڈسٹرک، خیبر پختون خوا)میں ایک مشن کی قیادت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیااور ستارۂ بسالت کا اعزاز سینے پر سجایا۔شہید نے ایک بیٹی ماہ نورابراراور  ایک بیٹا محمد عمرابرار اِس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے لئے چھوڑے جو آج اپنے شہید باپ کی وطن سے محبت، فرض سے لگن اور بہادری کی داستانوں کو سنتے بڑے ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ اِن ننھے مجاہدوں کو ہمیشہ اپنے شہید باپ پر فخر رہے گا۔ وطن سے محبت ان کے لہو میں شامل ہے۔ میجر ابرار ایک شفیق باپ تھے۔آپریشن ایریا میں ہونے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ملاقات دو سے تین ماہ بعد ہوتی مجھے یاد ہے جب میجر ابرار( شہید) اپنی بیٹی اور بیٹے کو یاد کرتاہمیشہ ان کی اچھی اچھی باتیں بتاتا وہ ان کی شرارتوں کا تذکرہ بہت شوق سے کرتااور خوش ہوتا۔ آخری ملاقات میں بھی اس نے اپنے بچوں کا ذکر کیا اورکہا اللہ میرے بچوں کی حفاظت کرے گا کیونکہ وہ شہید کے بچے ہوںگے۔مجھے آج اُس کے یہ الفاظ یاد ہیں جو اُس نے میرے ساتھ آخری ملاقات میںادا کئے۔بڑے ہی معصوم انداز میں کہنے لگا کہ سر آج میںبہت اطمینان اور خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میں آپریشن کے لئے نامزد ہوا ہوں مجھے ایسی خوشی کبھی محسوس نہیں ہوئی پھر کچھ دیراس نے بچوں کی باتیں کیں اور گھڑی کی طرف نظر پڑی توایک دم کھڑا ہوگیا اور کہا سرنمازِ جمعہ کا ٹائم ہونے والا ہے مجھے نماز کی تیاری کرنی ہے۔
میجر ابرار ملک (شہید)جیسے سپوتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہپاکستان کو آزادی یُونہی نہیں ملی تھی اور نہ ہی اِس کی حفاظت اس طرح سے ممکن ہوپاتی۔ آج دنیا نے دیکھ لیا کہ دہشت گردی کی جو جنگ انہوں نے شروع کی، اُس کے ایک حصے کو کامیاب و کامران صرف اورصرف پاکستان نے کیاہے۔ یہ ہمارے لوگوں کی قربانیوں اور ہمارے سپاہیوں کی وفاداریوں سے مزیّن ایک ایسی کہانی ہے کہ جس کا دنیا کو بخوبی ادراک ہے۔ لیکن یاد رہے کہ جب تک  میجر ملک ابرار احمد( شہید)جیسا ایک بھی سپاہی اپنی قسم نبھانے کے لئے جاں سے گزرنے کا عزم رکھتا ہے تب تک کوئی سازش نہ تو ہمیں تقسیم کرسکتی ہے اور نہ ہی ہماری آزادی پر کوئی آنچ آسکتی ہے ۔  ماہ نُور ابرار اور محمد عمر آپ کے بابا میجر ابرار شہید وطن سے وفا اور مٹی سے پیار کی عمدہ مثال ہیں ۔ان جیسے عظیم انسان دُنیا میں بہت کم آئے ہیںیقینا اللہ تعالی نے اُن کی شہادت کو اعلیٰ مرتبہ عطا فرمایا ہے۔
 خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
 

یہ تحریر 117مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP