یوم آزادی

آزادی کا ڈائمنڈجوبلی سال کیسے منایا جائے

(14 اگست2021 سے 14اگست2022)

''مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی مملکت کو مستقبل قریب میں حقیقی معنوں میں ایک مضبوط اور مستحکم مملکت بنانے کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے۔ تاکہ ہم اپنے پروگرام بالخصوص عوام کی فلاح و بہبود کے کام کو زیادہ موثر بناسکیں اور سہولت سے چلاسکیں۔ مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اپنی انفرادی قوت اور خام مال کے وسیع ذرائع کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے تو ایک درخشندہ مستقبل پاکستان کا منتظر ہوگا۔ وہ راہ جس پر ہمیں قدم رکھنا ہے، ممکن ہے فی الوقت کچھ کٹھن محسوس ہو لیکن حوصلے اور عزم صمیم کے ساتھ ہم اپنا مقصد حاصل کرکے رہیں گے۔ وہ مقصد جو مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا ضامن ہے۔(قائد اعظم محمد علی جناح۔ یکم اپریل 1948…وزیر خزانہ کی طرف سے پاکستان کے نئے سکّے اور کرنسی نوٹ پیش کرنے کی تقریب سے خطاب)



اگر پاکستانی اشیا کو اپنی شہرت قائم کرنی ہے تو اس کا آغاز ابھی سے ہوجانا چاہئے میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے میری حکومت سے جو بھی بن پڑے گا کرے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کا نام معیار اور عمدگی کے ہم معنی ہوجائے۔( قائد اعظم محمد علی جناح۔ 27اپریل 1948… ایوان تجارت کراچی کی جانب سے پیش کردہ سپاسنامے کے جواب میں تقریر)
آئیے ہم سب سر جوڑ کر بیٹھیں اور مل جل کر کام کریں۔ اور پاکستان کو وہ کچھ بنادیں جس کا وہ واقعةً اور بجا طور پر مستحق ہے۔(قائد اعظم محمد علی جناح۔ 13جون 1948… کوئٹہ کے پارسی برادری کے وفد کے پیش کردہ سپاسنامے کے جوا ب میں تقریر)
پاکستان کے پہلے سال یہ اس ہستی کی توقعات اور آرزوئیں ہیں جس کی قیادت میں 1947میں تاریخ میں ایک ناقابل یقین واقعہ رُونما ہوتا ہے اور صرف سات سال کی جدو جہد سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت وجود میں آتی ہے۔ جس کا محل وقوع غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کے قیام سے ہمسائے چونک پڑتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اسے اپنا بنانے کے لیے منصوبے بنانے لگتی ہیں۔ مسلم ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
پھر اس کے بعد سات دہائیاں، کامیابیوں، ناکامیوں،کارناموں، بحرانوں، طربیوں اور المیوں سے بھرپور۔ آسمان کی آنکھ بھی بہت کچھ دیکھتی ہے۔ زمین بھی اپنے سینے پر بہت سی فصلیں پکتی مشاہدہ کرتی ہے۔ سمندر کتنے طوفان ابھرتے محسوس کرتا ہے۔ پہاڑ کتنے کارواں گزارتے نظارہ کرتے ہیں۔ ایک نوزائیدہ مملکت عزم مصمم کے ساتھ کٹھن مراحل طے کررہی ہے۔
اگست 2021میں 74سال پورے ہورہے ہیں۔ آزادی کے، خود مختاری کے، خود فیصلے کرنے کے۔ اس مہینے سے یہ واحد مسلم ایٹمی ریاست اپنے قیام کے 75ویں سال میں داخل ہورہی ہے۔ 1947سے 2021 تک دنیا جن جنگوں، سازشوں، دھماکوں، بین الاقوامی محاذ آرائیوں سے گزری ہے، اس کا سامنا بھی اس نے کیا۔ پاکستان کی نئی مملکت کو بھارت نے اپنے متعصبانہ پالیسیوں سے روز اوّل سے ناکام بلکہ نیست و نابود کرنے کی مسلسل منظّم کوششیں کی ہیں۔ ان تمام نا مساعد حالات اور زبردست چیلنجوں کے باوجود یہ مملکت خداداد 75 ویں سال کا آغاز کررہی ہے۔ اس موقع پر پہلے تو واہگہ سے گوادر تک اپنے ہم وطنوں کو آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی کی دلی مبارکباد۔ یہ 74سال کئی بار کرب میں بھی گزرے ہیں لیکن پاکستانی قوم نے کسی لمحے بھی اپنی قوت ارادی کو مضمحل نہیں ہونے دیا۔ ایک ایک پاکستانی سر اٹھاکر اپنا ہر دن گزارتا رہا ہے۔ قوم کی اکثریت ہر لمحے اس کیفیت سے سرشار رہی ہے کہ وہ ایک آزاد وخود مختار اور اپنے دست بازو پر انحصار کرنے والی ملت ہے۔
زندہ قومیں اپنے قومی دن پورے فخر سے مناتی ہیں۔ ویسے تو اپنا احتساب ہر رات ہی کرتی ہیں لیکن اپنی تاریخ کے اہم موڑوں پر قوم کے تحقیقی ادارے درسگاہیں اور سرکاری محکمے مکمل تفصیلی رپورٹیں شائع کرتے ہیں کہ ان طویل برسوں میں قوم نے اپنے کون کون سے مقاصد حاصل کیے۔ کن عزائم کو تکمیل دے سکی۔ کارنامے سر انجام دیے تو اس میں کون کون سے عناصر ممد و معاون ہوئے۔ یہ کامرانیاں کن رہنمائوں کن حکمرانوں اور کن افسروں کی مرہون منت تھیں اور کیا رہنما خطوط تھے جن پر عملدرآمد کرکے منزلیں حاصل کی گئیں۔ اگر ناکامیاں ہوئیں تو ان کے اسباب و علل کیا تھے۔ سیاسی وجوہ کیا تھیں۔ انتظامی غلطیاں کیا تھیں عسکری منصوبہ بندی میں کہاں کہاں سقم تھے۔
ہم نے شروع میں بانیٔ پاکستان جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مسلّمہ رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی مختلف تقاریر سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان جیسی خدائی نعمت حاصل کرنے والے عظیم رہبر کی کیا توقعات اور تمنّائیں تھیں، کیا خواب تھے، وہ کیسا پاکستان دیکھ رہے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اقوام عالم کی صفوں میں کس مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے اس 75ویں سال کے دوران ہماری یونیورسٹیوں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چاہئے کہ مختلف ادوار میں مختلف شعبوں پر تحقیق کروائی جائے اور یہ تحقیقی مقالے اسی دوران منظر عام پر آتے رہیں تاکہ آج کے نوجوان کو گزشتہ 74سال کے سفر کی مشکلات چیلنجوں اور قوم کی مزاحمت کے مناظر دیکھنے کو ملیں۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں ان 74سال کے حوالے سے بہت سے سوالات ہیں۔ جن کے جوابات ان کا حق بنتا ہے۔ ان کے ذہن میں موجود اضطراب اور تجسس دور کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
یہ تحقیق خالصتاً معروضی اور غیر جذباتی انداز میں ہونی چاہئے۔ مستند اعداد و شُمار کے ساتھ۔ اب ڈیجیٹل دَور ہے جذباتی تقریروں نعروں سے نہیں قوم کو مصدقہ ڈیٹا سے بتایا جائے کہ کن کن شعبوں میں ہم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ایک منظّم انداز میں مایوسی پھیلائی جارہی ہے۔ پاکستان کو ایک ناکام مملکت ثابت کرنے کی ملکی اور عالمی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ہم میں سے بھی بہت سے نادانستہ اور لاشعوری طور پر اس مہم کا حصّہ بن جاتے ہیں۔
1947 میں پاکستان کی آبادی ساڑھے سات کروڑ کے قریب تھی۔ مغربی پاکستان سوا تین کروڑ اور مشرقی پاکستان سوا چار کروڑ۔ 74سال میں ہم سوا تین کروڑ سے 22کروڑ ہوگئے ہیں۔ وہی سر زمین ہے۔ وہی دریا ہیں۔ جو سوا تین کروڑ کو سرشار کرتے تھے۔ اب 22کروڑ انسانوں کی پیاس بجھارہے ہیں۔ 22کروڑ معدوں کے لیے خوراک فراہم کررہے ہیں۔ یہ کیا کم کامیابی ہے اور کیا ہمیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے کسانوں ہاریوں محنت کشوں کا ممنون احسان نہیں ہونا چاہئے اور ان 74سالوں میں جو بھی ہمارے مسائل اور وسائل کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں، ان کو خراج تحسین نہیں پیش کرنا چاہئے۔ تاریخ کا مطالعہ کریں۔ قائد اعظم کی تقاریر پڑھیں تو آزادی کے پہلے ہفتہ سے ہی بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے گئے۔اثاثوں کی تقسیم میں مختلف بہانوں سے تاخیر، دریائی پانیوں کی فراہمی میں رکاوٹیں اور ساتھ بین الاقوامی فورموں پر پراپیگنڈہ کہ پاکستان اقتصادی طور پر پائیدار نہیں ہے۔
بھارت میں پہلے سے حکومتی سہولتیں، دفاتر، سیکرٹریٹ، سرکاری عمارتیں اور ٹرانسپورٹ موجود تھیں۔ صنعتی کارخانے بھی زیادہ تر بھارت میں ہی تھے۔ پاکستان کے قائدین کو یہ سب کچھ از سر نو قائم کرنا تھا۔ پھر بھارت سے لٹ پٹ کر، اپنے گھر بار چھوڑ کر،آگ اور خون کے دریائوں سے گزر کر آنے والے ہزاروں بلکہ لاکھوں گھرانوں کی آباد کاری کے سنگین مراحل تھے۔ ان لاکھوں مہاجرین کو کیمپوں میں بیماریوں کا سامنا تھا۔ نئی نسل کو ہمیں دستاویزات ، فلموں اور تصاویر کے ساتھ بتانا چاہئے کہ اس آزاد اور خود مختار ملک کی بنیادوں میں کتنے ہم وطنوں کا خون شامل ہے۔ آزادی کی قدر و قیمت ان بچوں، بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کی داستانوں سے جانیے جو جنگلوں ، کھیتوں، میدانوں، نہروں، نالوں سے گزر کر یا جنگجو سکھ بلوائی اور ہندئوں کی کرپانوں ، تلواروں،بندوقوں کا سامنا کرتے ہوئے غلامی سے آزادی کی طرف سفر کررہے تھے۔ اندھیرے سے اجالے کی تلاش میں سر کٹ رہے تھے۔ عصمتیں لٹ رہی تھیں۔ برطانوی حکومت خاموش تماشائی تھی۔ بھارتی فوجی ان بلوائیوں کو روکنے کے بجائے ان کی مدد کررہے تھے۔ عالمی رائے عامہ صرف دانتوں میں انگلی دبائے ہوئے تھی۔
مجھے فخر ہے کہ میں بھی ان لٹے پٹے قافلوں کا حصّہ رہا ہوں۔ جو مشرقی پنجاب سے لاہور کی طرف ریل گاڑیوں میں سوار تھے۔ مجھے مال گاڑی کا وہ کھلا ڈبہ نہیں بھولتا جس میں اگست کی چلچلاتی دھوپ میں بے شُمار انسان بھرے ہوئے تھے۔ بلوائیوں کے نعرے ہمیں دہشت زدہ کررہے تھے۔ میں تو اپنی ماں کی گود میں تھا اور اپنی ماں پاکستان کی گود میں بیٹھنے کے لیے بے تاب تھا۔ نہ جانے کتنے لاکھ اس سرحد سے ادھر کھوکھرا پار سرحد سے کتنے مہینوں تک اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان پہنچتے رہے۔
میں تو اگست 2020سے لکھ رہا ہوں کہہ رہا ہوں کہ ہمیں یہ داستانیں ، یہ وڈیوز یہ کہانیاں دوبارہ شائع کرنی چاہئیں۔ پبلشر آگے آئیں۔ میڈیا کے ادارے یہ ذمہ داری سنبھالیں کہ ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر وہ ساری آپ بیتیاں، ناول، افسانے اور شاعری دوبارہ کتابی شکل میں چھاپی جائے۔ اس عظیم ہجرت پر بننے والی فلمیں دوبارہ دکھائی جائیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینل اس حوالے سے نئے ڈرامے لکھوائیں اور پیش کریں۔ تحریک پاکستان کے مناظر پھر سے دکھائے جائیں تاکہ ہمارے آج کے پُرعزم نوجوان کو اپنی منزل کے تعین میں آسانی ہو۔ اسے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر حاصل ہو کہ آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں وہ کیسی قربانیوں، ایثار اور جاں نثاریوں سے حاصل کی گئی۔ یہ ایک طرح سے چالیس کی دہائی کی تحریک پاکستان کا احیا ہوگا۔
قیام پاکستان کے وقت پاکستان تک پہنچنے کی آرزو میں شہید ہونے والوں کے کوائف اور تصویریں شائع کی جائیں۔ ان سرحدوں کی حفاظت کے لیے بعد میں جو عظیم پاکستانی اپنی جان سے گزرتے رہے ہیں۔ 1948کی جنگ میں ، 1965اور 1971 کی جنگوں میں۔ ان کی جرأتوں کی داستانیں کتابی شکل میں، وڈیو میں، آڈیو میں تیار کی جائیں اور سوشل میڈیا پر عام کی جائیں۔ ماضی کے مشاہدات کے بغیر حال مستحکم نہیں ہوتا۔ حال کے غیر جانبدارا نہ جائزے کے بنا مستبقل کی تعمیر نہیں ہوسکتی ہے۔ ان خاندانوں کو تمغے دیئے جائیں جو تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے۔
1936سے آل انڈیا مسلم لیگ کی حصول پاکستان کی جدو جہد بھی ایک مبسوط انداز میں سامنے لائی جائے۔ 1940میں قرار داد پاکستان کی منظوری کی شاندار تقریب سے متعلقہ تصاویر مختلف کتابوں سے رُوداد پر مشتمل کتابیں آسان اُردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی سرائیکی کشمیری اور بلتی میں پیش کی جائیں۔ کشمیر، حیدرآباد، جونا گڑھ اور مناوادر پر بھارت کی یلغار اور قبضے کی مستند اور مصدقہ تفصیلات پر مبنی کتابچے شائع کیے جائیں۔ فلمیں اور ڈرامے بنائے جائیں۔
یہ تو اس عظیم مملکت کی بنیادیں رکھنے کی تاریخ ہے جس سے ہمارے نوجوان کو باخبر ہونا چاہئے۔ اس کے بعد بھی ایک مسلسل جدو جہد ہے۔ قربانیاں ہیں۔ ہر نسل نے اپنے طور پر اپنے اس وطن کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں انجینئرز بھی ہیں، اساتذہ ہیں، سائنسدان ہیں، علما ہیں، محققین ہیں، تاجر، صنعت کار، محنت کش، کسان، زمیندار، ڈاکٹر، حکیم، سرکاری اعلیٰ افسر، عام افسر، کلرک، سیکشن آفیسر ان سب کی خلوص اور شبانہ روز محنت کے بغیر ہم 75ویں سال میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔
پاکستانی قوم کے عزم مصمم کی ایک سب سے بڑی گواہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ ہمارے کتنے سیاسی اختلافات تھے۔ فوجی حکومتیں تھی یا سیاسی۔ منتخب تھیں۔ یا غیر منتخب۔ سول حکومتوں، فوج، بیورو کریسی سب ایٹمی طاقت کے حصول کے لیے مخلص اور منظّم رہیں۔ کسی نے اس سے انحراف نہیں کیا۔ اس میں ایک تسلسل سے کام چلتا رہا۔ اور بالآخر پاکستان ایک ایٹمی ریاست بن گیا۔ یہ دشمنوں کی جارحیت کے سامنے ایک بہت بڑی ڈھال ہے اور یہ پاکستانیوں کے اتحاد یکجہتی اور ہم خیالی کی ایک درخشندہ مثال ہے۔
ہماری قنوطیت پسند قوتوں اور سنسنی خیزی کے پرستار میڈیا نے ایسی ہوا باندھ رکھی ہے کہ جیسے پاکستان نے ان 74سال میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ خود تنقیدی اپنی جگہ ایک مستحسن رجحان ہے لیکن ہونایہ چاہئے کہ اعداد و شُمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ بعض ممالک کے مقابلے میں ہماری ترقی کی رفتار سست ہو۔ لیکن بتدریج اور مرحلہ وار ہم آگے بڑھتے رہے ہیں۔ آج کے دَور میں کوئی قوم بقا حاصل نہیں کرسکتی اگر وہ مسلسل کوششیں نہ کررہی ہو۔ 
ہماری آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے بلکہ اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے کہ آبادی بڑھنے کی شرح ہماری شرح نمو سے زیادہ ہے۔ اس لیے وسائل پر دبائو پڑ رہا ہے۔ ماہرین کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہم اپنے عوام میں یہ شعور پیدا کریں کہ بچے اپنے معاشی وسائل کے تناسب سے پیدا ہونے چاہئیں۔ آپ یہ دیکھیں کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود ہماری زمین ہماری اناج کی ضروریات پوری کررہی ہے۔ ہمارے شہر پھیل رہے ہیں۔ ماہرین شہریات کی تنقید ہے کہ ہمارے شہر کسی منصوبہ بندی کے بغیر وسعت پارہے ہیں۔جس سے شہریوں کی زندگی میں مشکلات ہورہی ہیں مگر شہری اپنے طور پر اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہر میگا سٹی بن گئے ہیں۔
دیکھیں صحت کے شعبے میں کتنے بڑے بڑے ہسپتال تعمیر کیے گئے ہیں۔ انڈس ہسپتال اس کی بہت بڑی مثال ہے۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کی سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی، شوکت خانم ہسپتال۔ یہ تو بڑے ہسپتال ہیں۔ ہر صوبے ہر شہر میں اپنے طور پر مخیر اداروں اور حضرات نے ایسے خیراتی ہسپتال قائم کیے ہیں اسی طرح یونیورسٹیوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری جامعات بھی نئی نئی قائم ہورہی ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں بڑی معیاری اور مثالی مختلف شہروں میں علم کی روشنی پھیلارہی ہیں۔ پرائمری، سیکنڈری اور کالج کی سطح پر بھی درسگاہیں ہر علاقے میں قائم ہورہی ہیں۔ لورا لائی جیسے دور افتادہ شہر میں سینکڑوں ایکڑ رقبے میں یونیورسٹی آف لورالائی جدید انداز سے تعمیر ہوتی میں نے خود دیکھی ہے۔ اس علاقے میں شرح خواندگی قریباً 90فیصد ہے۔
صنعت و حرفت اور تجارت میں بھی بہت پیش رفت ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت ہمیں چند ایک کارخانے ملے تھے۔ ہمارے صنعت کار سرمایہ دار خاندانوں نے کراچی، حیدر آباد، لاہور، ملتان اور دوسرے شہروں میں ٹیکسٹائل ملیں قائم کیں۔ گھی کی پیداوار میں اضافے کے لیے بہت سی ملیں تعمیر کی گئیں۔ آٹے کے اور چینی کے کارخانے ہر علاقے میں ہیں۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات ہماری معیشت کے استحکام کا سبب ہیں۔ فیشن ملبوسات میں بھی پاکستان کو یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں میں ایک باوقار مقام حاصل ہوا ہے۔
زراعت میں گندم، گنے، کپاس،  سرسوں میں فی ایکڑ پیداوار میں فروغ کے لیے زرعی یونیورسٹیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔
ان 74سال میں اقلیتوں سے ہمارے حسن سلوک کی مثال پوری دنیا میں دی جاتی ہے۔ 
ثقافت، ادب، شاعری، ڈرامے، موسیقی میں بھی پاکستان نے 74سال میں بہت ترقی کی ہے۔
سب سے زیادہ قابل رشک ہمارا دفاعی نظام ہے۔ اس میں مسلسل استحکام آرہا ہے۔ پاکستان کی سا  لمیت، دفاع کے لیے مسلح افواج کی تربیت اور مہارت کو دُنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہے۔ 74سال میں یکے بعد دیگرے آنے والی فوجی اور سول حکومتوں نے اس طرف خاص طور پر توجہ دی ہے ۔ ہماری برّی، بحری اور فضائی افواج جدید ترین اسلحہ بھی رکھتی ہیں، اس کے استعمال کی تربیت بھی،  فوجی ساز و سامان کی تیاری، دفاعی پیداوار میں بھی پاکستان نے بہت تجربات کیے ہیں۔ ہر سال ہونے والی دفاعی نمائش میں حصّہ لینے والے ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک ناقابل فخر اقدام مختلف ممالک میں ہماری فوج کی قیام امن کے دستوں میں شمولیت ہے۔ اقوام متحدہ کی امن افواج میں شامل پاکستانی فوجی دستوں نے ناقابل فراموش کارنامے انجام دیئے ہیں۔
آج کل انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ موبائل فون کے استعمال میں پاکستان بہت سے ملکوں سے آگے ہے۔ آن لائن کاروبار کا دائرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے نوجوان سافٹ ویئر کے میدان میں نمایاں امتیاز حاصل کررہے ہیں۔
ڈائمنڈ جوبلی شایان شان منانے سے ہم نہ صرف اپنا احتساب کرسکیں گے بلکہ یہ خود بھی دیکھ سکیں گے کہ قائد اعظم ہمیں 75ویں سال میں جہاں دیکھنا چاہتے تھے وہاں ہم ہیں یا نہیں۔ نہیں ہیں تو کتنا پیچھے ہیں۔
تحقیق اور جائزے کے بعد متعدد شعبے ایسے نظر آئیں گے جہاں ہم بہت سے ملکوں سے آگے ہوں گے۔
ایک مثال سیالکوٹ شہر کی ہے۔ یہاں کے شہریوں، تاجروں، صنعت کاروں نے اپنے طور پر کوشش کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں ایسا معیاری ایئرپورٹ تعمیر کیا ہے جہاں بڑے ہوائی جہاز بھی اتر سکتے ہیں۔ ان کی قوت ارادی یہیں نہیں رکی۔ انہوں نے اپنی ایک فضائی کمپنی ایر سیال بھی قائم کرلی ہے۔یہ دونوں کامیابی سے ترقی کررہی ہیں۔
میری معروضات کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے 75ویں سال میں اپنے مختلف شعبوں میں پیش رفت اور پسماندگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر مستقبل میں مثبت سمت میں سفر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
جمہوری نظام میں مرکزی کردار قومی سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے اس میں پیش رفت مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہوسکی ہے۔ ہمارے ہاں مغرب کا پارلیمانی نظام رائج ہے۔یورپ میں سالہا سال کے جمہوری عمل کے بعد آہستہ آہستہ سیاسی پارٹیاں منظّم اور مہذب ہوگئی ہیں۔ ان پر چند خاندانوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ان جماعتوں میں جمہوری ڈھانچہ ہے۔ اس لیے وہاں ایک سسٹم قائم ہوگیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سسٹم نہیں بن سکا۔ موروثیت کا راج ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں ایک جمہوری سسٹم کا قیام جمہوری کامیابیوں کے لیے ضروری ہے۔
ایک مایوس کن کردار میڈیا کا ہے کہ وہ اپنے منافع کے لیے ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی کے لیے صرف منفی رجحانات تلاش کرتا ہے اور 24 گھنٹے صرف سیاستدانوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا ہے جو پوری قومی سرگرمی کا ایک فی صد بھی نہیں ہیں۔ 99فی صد پاکستان میں، یونیورسٹیوں میں، صنعتی حلقوں میں، سائنسی اداروں میں، زراعت میں، آن لائن کاروبار میں جو روزانہ پیشرفت ہورہی ہے، ندرت کا فروغ بڑھ رہا ہے، ہمارے ماہرین اور نوجوان جو نئے راستے تلاش کررہے ہیں، جدید آئیڈیاز کو متعارف کروارہے ہیں، ہمارا میڈیا اس کی رُوداد بیان نہیں کرتا۔ اس لیے نتیجتاً یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اسی تاثر کے زیر اثر بعض افراد یہ بھی کہتے سنائی دیے کہ ڈائمنڈ جوبلی کیوں منائی جائے۔ ہم نے آخر کیا کیا ہے۔؟
75ویں سال میں تقریبات منانے کا مرکزی مقصد یہی ہونا چاہئے کہ تمام مصائب المیوں کے باوجود جن شعبوں میں ہم نے کامیابی حاصل کرلی ہیں وہ عوام کے سامنے مستند اعداد و شُمار کے ساتھ لائے جائیں۔ پاکستان کے قیام، جمہوریت کے استحکام، اظہار کی آزادی، انسانی حقوق کے تحفظ اور معیار تعلیم بڑھانے کے لیے پاکستانیوں نے جو جدو جہد کی ہے، قربانیاں دی ہیں، 75ویں سال میں ان کو سامنے لایا جائے۔ ہر شعبے میں حقیقی ہیروز موجود رہے ہیں۔تحقیق کے ذریعے انہیں متعارف کروایا جائے۔ اور اہداف مقرر کیے جائیں کہ جب ہم آزادی کی صد سالہ تقریبات منارہے ہوں تو جن شعبوں میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں ان میں بھی مطلوبہ مقام پر پہنچ جائیں۔
خوشی کی بات ہے کہ حکومت پنجاب کی ایڈیشنل چیف سیکرٹری ارم بخاری نے صوبے کے تمام کمشنروںاور ڈپٹی کمشنروں کو ڈائمنڈ جوبلی منانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ لاہور نے باقاعدہ غور و خوض کرکے 20بڑے صفحات پر مشتمل پروگرام جاری کیا ہے کہ قوم 75واں سال آزادی کیسے منائے۔ تقریبات کا آغاز وہ اس مہینے یعنی اگست 2021 سے کررہے ہیں۔ بنیادی مقصد قومی یکجہتی کو فروغ اور دو قومی نظریے کی زندہ حقیقت کو اُجاگر کرنا ہے۔ قوم کو ڈائمنڈ جوبلی منانے کے جامع طریق کار سے بھی آگاہ کیا ہے۔ اس میں بھی زور دیا گیا ہے کہ تحریک پاکستان، قیام پاکستان، استحکام پاکستان کی کہانیاں اکٹھی کی جائیں ۔سب سے زیادہ توجہ کالجوں اور یونیورسٹیوں پر مرکوز کی جائے جہاں ہمارا مستقبل پرورش پارہا ہے۔ نوجوانوں کی بھرپور شرکت سے ہمارے ماضی اور مستقبل میں انمٹ رشتہ قائم ہوجائے گا۔ ایک تجویز کاروان آزادی ٹرین کی بھی ہے جو ہر چھوٹے بڑے اسٹیشن پر رکے۔ادبی اور ثقافتی پروگراموں سے بھی نوجوانوں میں ولولۂ تازہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جدو جہد آزادی میں جن اداروں، خاندانوں اور شخصیات کا نمایاں کردار ہے ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے رہنما خطوط دے دیے ہیں۔ دوسرے ادارے اورتنطیمیں بھی اسی طرح پروگرام مرتب کرسکتے ہیں۔ وفاقی حکومت ایک با اختیار وزارتی کمیٹی کا تقرر کرسکتی ہے۔ اس میں وزراء کے ساتھ نامور اسکالرز کو شریک کیا جائے۔ میڈیا گروپ پورا سال اپنے اخبارات رسائل کی خاص اشاعتیں اور ٹی وی چینلوں سے خصوصی پروگرام کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے صنعتی ،تجارتی ادارے اور کمپنیاں پاکستان ڈائمنڈ جوبلی کے لیے خطیر رقوم پر مشتمل فنڈز مختص کریں۔ اپنے اداروں میں بھی تقریبات منعقد کریں۔ سکولوں، کالجوں یونیورسٹیوں میں ہونے والے تقریری مقابلوں، ٹیبلوز اور ڈراموں کے لیے نقد انعامات ان فنڈز سے جاری کریں۔
وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اگست 2021سے اگست 2022 ڈائمنڈ جوبلی سال قرار دے کر تمام کالجوں اور اسکولوں میں ایسی تقریبات منعقد کروائیں جن سے نہ صرف ماضی کی جدو جہد کی تفصیلات سے آگاہی ہو بلکہ اپنے مستقبل کے استحکام کے لیے خطوط بھی مرتب ہوں۔
پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان کے ساتھ ساتھ آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان میں بھی یہ سال پورے جوش و خروش سے منانے سے قوم کو ایک نیا جذبہ تعمیر اور ولولہ ٔ تازہ ملے گا۔
بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کی آرزو پوری ہوگی جو انہوں نے یکم اپریل 1948کو پاکستان کے نئے سکّوں اور کرنسی نوٹوں کے اجراء پر کی تھی اور ان کی اس تمنّا کی تکمیل ہوگی کہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کا نام معیار اور عمدگی کا مترادف ہوجائے۔ الحمد للہ ہماری بہت سی مصنوعات تو یہ معیار حاصل کرچکی ہیں۔
اقبال نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہی پیش گوئی کی تھی۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کوا پنی منزل آسمانوں میں ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 173مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP