انٹرویو

آزادی ٔ پاکستان کی اہمیت اور قدر وقیمت ہمارے دلوں میں موجود ہے

پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہواہے۔ نئی نسل کو شائد اس کا ادراک نہیں۔ اس کو اس بارے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

کارکن تحریک پاکستان بریگیڈیئر مختار احمد (ر)سے  شعیب مرزاکی گفتگو

بریگیڈیئر مختار احمد (ر)نے عسکری اور سماجی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہیں 1965 اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لینے اور تعلیم، صحت، تحفظ جنگلی حیات وغیرہ میں اہم خدمات پر ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ امتیاز (سول) مل چکے ہیں۔ بریگیڈیئر مختاراحمد(ر) صدر ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر اور صدر ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان کی حیثیت سے ماحولیات اور پرندوں و جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے نمایاں کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور پاکستان و اہل پاکستان کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا انٹرویو پیشِ خدمت ہے۔ 
س:۔ اپنے خاندانی پس منظر اور آبائی علاقے کے بارے کچھ بتائیں؟۔
ج:۔ ڈسٹرکٹ ننکانہ میں ہمارے گاؤں کا نام محمد پورہ ہے۔ میرے والد صاحب چودھری فضل دین زمیندار تھے۔ علاقے میں نیک نامی اور اثرو رسوخ تھا۔ پیار محبت سے لوگ رہتے تھے۔ اچھا وقت تھا۔
س:۔ آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے، کہاں پیدا ہوئے اور بچپن کیسا گزرا؟
ج:۔ میں یکم فروری 1934ء کو گاؤں محمد پورہ میں پیدا ہوا۔ بچپن بہت اچھا گزرا۔ میں تین سال کی عمر سے ہی پرندوں کے گھونسلوں وغیرہ میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ دوپہر کو بڑے سو جاتے تھے توہم دوست کھیتوں میں چلے جاتے تھے۔ تیتر اور خرگوش بہت ہوتے تھے۔ دیسی آم، آڑو اور دیگر پھل کھایا کرتے تھے۔ فطرت اور قدرتی مناظر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ دلچسپی آج بھی قائم ہے۔ پرندوں جانوروں اور نیچر سے دلچسپی کی وجہ سے اس حوالے سے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
س:۔ تعلیمی مراحل کیسے طے کیے۔ کہاں تک تعلیم حاصل کی؟ 
ج:۔ آٹھویں جماعت تک تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی۔ پھر پاکستان بن گیا۔ 1948ء میں سناترم دھرم سکول فیصل آباد جس کا نام بعد میں سٹی مسلم سکول رکھ دیا گیا تھا وہاں تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے گریجویشن کر رہا تھا تو وہاں پاکستان ایئرفورس کی ایک ٹیم آئی جس نے لیکچر دیا کہ پاکستان کو پولیس اور فوج کے جوانوں کی ضرورت ہے۔ آپ نوجوانوں کیلئے پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع ہے۔ وطن کو آپ کی ضرورت ہے۔
س:۔ پاک فوج میں کب شمولیت اختیار کی۔ آپ کا تعلق زمیندار خاندان سے تھاپھر کس جذبے کے تحت فوج میں گئے؟
ج:۔ میں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے 1960ء میں گریجویشن مکمل کی۔ 7مئی 1960ء کو آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ میرا تعلق ایک محبِ وطن، زمیندار گھرانے سے ہے۔ پاکستان کو ہم نے بنتے دیکھا تھا بلکہ اس کے بنانے میں ہم نے حصہ لیا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے علاقے میں حالات پُرامن رہے تھے لیکن ہجرت کر کے آنے والوں پر مظالم کی داستانیں ہم سنتے تھے اور جانتے تھے کہ مسلمانوں نے پاکستان کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں اس لیے پاکستان کی خدمت کا جذبہ دل میں موجود تھا۔ پاکستان ایئرفورس کی ٹیم کے لیکچر نے بھی ہم نوجوانوں کے دلوں میں اس جذبے کو گرمایا تھا۔
اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا میں نے اپلائی کیا۔ امتحان دیا۔ اخبار میں ہی رزلٹ شائع ہوا۔ پھر کوہاٹ میں ٹریننگ ہوئی۔ جولائی 1959ء میں آرمی جوائن کی۔ مئی 1960ء میں پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوئی۔ جنرل موسیٰ مہمان خصوصی تھے۔
س:۔ تحریک پاکستان کے دوران آپ طالب علم تھے۔ آپ نے اس تحریک میں کیسے حصہ لیا۔ بچوں میں کیسا جوش و خروش تھا؟ 
ج:۔ ہمارے سکول کے ہیڈ ماسٹر کرسچن تھے اور کچھ اساتذہ بھی کرسچن تھے لیکن ہندو یا سکھ نہیں تھے۔ البتہ لاپ سنگھ نامی ایک سکھ استاد امتحان لینے آتے تھے۔ خاکی پگڑی خاکی جیکٹ پہنے بڑی بارعب شخصیت تھی۔ ہمیں ہندو یا سکھ اساتذہ سے واسطہ نہیں پڑا۔ ہماری بہت بڑی حویلی تھی جو اب بھی ہے اور وہاں ہم نے لائبریری بنا دی ہے۔ اُس حویلی میں ہم خاندان کے بچے جمع ہوتے تھے۔ پھر علاقے کے دیگر بچے بھی آجاتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں ہمارے پاس ہوتی تھیں اورہم گلی محلوں میں نکل جاتے تھے اور نعرے لگاتے تھے۔
''پاکستان کا مطلب کیا … لاالٰہ الااللہ'' ۔
''بن کے رہے گا پاکستان … لے کے رہیں گے پاکستان''۔
یہی نعرے پورے برصغیر کے مسلمانوں کی زبانوں پر تھے۔ یہی مسلم لیگ اور ہر مسلمان کے دل کی آواز تھی۔ ہم بچوں کا جذبہ اور جوش و خروش دیکھ کر بڑے ہماری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ہمارے علاقے میں زیادہ تر مسلم لیگی تھے۔ پانچ چھ گھرانے ہندوؤں سکھوں کے تھے۔ گاؤں کے لوگ مختلف شعبوں سے وابستہ تھے مثلاً لوہار، ترکھان، دھوبی، درزی وغیرہ۔ جو ہندو گھرانے تھے انہوں نے خاکروبوں کو اپنے ساتھ ملا لیا کہ ہم اتنے ہیں۔ ہندوستان میں ان کو دلت کہا جاتا ہے اور انتہائی نچلے درجے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم روزانہ تین چار گھنٹے گلیوں میں نعرے لگاتے رہتے۔ آج ہمیں فخر ہے کہ ہم نے بھی پاکستان کے حق میں آواز بلند کی تھی اور قائداعظم محمد علی جناح کے حکم پر تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا۔
س:۔ کیا آپ اور آپ کی عمر کے بچے مطالبۂ پاکستان سے آگاہ تھے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟
ج:۔ ہماری عمریں واقعی اس وقت کم تھیں لیکن مسلم لیگ کی تحریک اور مطالبۂ پاکستان ہر گھر میں زیر بحث تھا۔ بزرگ جوان سب اس کے بارے میں بات کرتے تھے۔ میٹنگز ہوتی تھیں اس لیے بچے بھی بہت حد تک اس کی تفصیلات کا شعور رکھتے تھے۔ بڑوں کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی تھی۔ اس لیے بچوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔
س:۔ کیا آپ کے خاندان کے دیگر افراد نے بھی تحریک پاکستان میں حصہ لیا؟ 
ج:۔ ہماری حویلی مسلم لیگیوں کا مرکز تھی۔ میرے دادا میاں غلام محمد لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ تھے۔ تجارت کرتے تھے۔ وہ روہتک، حطار اور دیگر علاقوں سے بیل وغیرہ لا کر بیچتے تھے۔ کاروبار کے سلسلے میں دہلی بھی آنا جانا تھا۔ ان کے کاروباری دوستوں میں ہندو آڑھتی بھی تھے۔ جو بھی کاروباری لوگ دیگر شہروں سے آتے ان کو حویلی کے دیوان خانے میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ اسی طرح اِردگرد کے گاؤں کے لوگ سفر کے دوران یہاں سے گزرتے تو وہ مسافر بھی حویلی کے مردان خانے میں ضرور قیام کرتے تھے۔ ان کیلئے کھانے اور ان کے گھوڑوں کے لئے چارے کا بندوبست کیا جاتاتھا۔ جب ہندو مہمان آتے۔ ان کے کھانے کیلئے راشن کسی ہندو گھرانے میں بھجوا دیا جاتا اور وہاں سے ان کے لئے کھانا پک کر آتا۔
قیام پاکستان کے وقت جب لُٹے پُٹے قافلے پاکستان پہنچنا شروع ہوئے تو دادا جان میاں غلام محمد نے جیسے حویلی میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ حویلی میں ساری رات خواتین کھانا تیار کرتیں۔ والد صاحب کی ڈیوٹی لگی کہ روزانہ بیل گاڑی پر مہاجرین کے لئے کھانا لے کر ریلوے سٹیشن جانا ہے۔ ریلوے سٹیشن حویلی سے 7 میل کے فاصلے پر تھا۔ والد صاحب اور دیگر عزیز روزانہ بیل گاڑی پر ریلوے سٹیشن جاتے۔ نئے آنے والے یا پہلے سے موجود مہاجرین کو کھانا کھلاتے۔
چند دن کے بعد ہم نے دیکھا کہ والد صاحب ہچکیاں لے کر رو رہے تھے۔ دادا جان کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ مہاجروں کی کٹی ہوئی لاشیں، مرد، عورتوں اور بچوں کو زخمی حالت میں دیکھ دیکھ کر دل صدمے سے دوچار ہے۔ مہاجروں کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا۔ مال اسباب، عزیز رشتہ دار کتنا کچھ قربان ہوا تھا اس وطن کے حصول کے لئے۔ آج کی نسل کو شاید ان قربانیوں کا ادراک نہیں ہے۔ نئی نسل کو اس بارے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔
ہمارا خاندان چونکہ پہلے سے ننکانہ صاحب کے علاقے میں مقیم تھا اس لیے ہمارے خاندان کو ہجرت نہیں کرنا پڑی۔ لیکن مہاجرین کی خدمت اوران سے ملاقات کے ذریعے ظلم و ستم اور قربانیوں کے وہ تمام واقعات ہم تک پہنچتے رہے تھے جن کا سامنا مہاجرین کو کرنا پڑا تھا۔ یہ واقعات آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ آزادی اور پاکستان کی اہمیت اورقدر و قیمت ہمارے دلوں میں موجود ہے اور بطور پاکستانی شہری وطن عزیز کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ فوج میں رہتے ہوئے بھی اس جذبے کو مہمیز ملتی رہتی تھی۔
س:۔ فوج میں ہوتے ہوئے کسی جنگ میں عملی طور پر حصہ لینے کا بھی موقع ملا؟ 
ج:۔ مجھے 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ 1965ء میں، میں کھیم کرن میں جنرل نصیر احمد کا اے ڈی سی تھا ۔ میں نے تین محاذ دیکھے  کھیم کرن، چونڈہ اور چھمپ جوڑیاں۔ افواجِ پاکستان نے ان تینوں محاذوں پر جرأت و شجاعت کی تابناک داستانیں رقم کیں۔ فوج کا ہر افسر اور جوان پورے ایمانی جذبے سے دشمن کے خلاف نبردآزما تھا۔ دشمن اپنی عددی قوت کی برتری اور تمام تر کوششوں کے باوجود پسپا ہو رہا تھا۔ چونڈہ میں دنیا کی تاریخ کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ ہوئی۔ مسلمان فوجیوں کا جذبہ غالب آیا اور دشمن کے بہت سے ٹینک تباہ ہوئے اور بہت سے ٹینک پاکستانی فوج نے اپنے قبضے میں لے لیے۔ پاکستانی فضائیہ نے بھی تاریخی کارنامے انجام دیئے۔ بری، فضائی اور بحری افواج کے کارناموں پر پوری دنیا ششدر رہ گئی تھی۔ پاکستانی قوم بھی افواج کے شانہ بشانہ تھی۔ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔


مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی نے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ مکتی باہنی نے بہاریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بہاری خاندان روتے ہوئے ہمارے پاس آتے اور مکتی باہنی کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے۔ ردعمل کے طور پر فوج نے مکتی باہنی کے خلاف کارروائی شروع کی جس پر بھارت نے بنگالیوں کو مزید ورغلایا کہ مغربی پاکستان کی فوج بنگالیوں پر ظلم کر رہی ہے۔ 


1965ء کی جنگ نے پوری قوم کو متحد کر دیا تھا۔ فوجی جہاں سے گزرتے عوام پھولوں کے ہار، تحائف، کھانے پینے کی اشیاء لیے ان کا استقبال کرتے اوران کا جذبہ بڑھاتے۔ اس دوران جنرل نصیر احمد کا تبادلہ کوہاٹ ہو گیا۔ ذمہ داری کے مطابق تو مجھے ان کے ساتھ جانا تھا لیکن میں نے ان سے درخواست کی کہ بارڈر چھوڑ کر کوہاٹ جا کر کیا کروں گا تو وہ مان گئے اوراس طرح میں چھمب جوڑیاں میں ہی رہا۔ بھارت کو اس جنگ میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ وہ امریکہ کی منت سماجت کرنے لگا پھر ایوب خان اور شاستری کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پھر حکم ملا کہ واپس جانا ہے۔ چھمب جوڑیاں چھوڑ کر واپس آگئے۔ شام ہو چکی تھی۔مجھے یاد ہے اس رات شدید طوفانی بارش ہوئی تھی۔ بعد میں جنرل یحییٰ خان نے فوج کی کمان سنبھالی۔
 1969ء میں 13 لانسر رجمنٹ کے ساتھ میں پشاور میں تھا۔ 29 کیولری میں تبادلہ ہوا ان دنوں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہو رہے تھے۔ بھارت نے ہندو اساتذہ اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سازشیں کر کے بنگالیوں کے دلوں میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنی شروع کر دی تھی۔ جنرل گل حسن نے حالات کے پیش نظر خود بنگال جانے کا انتخاب کیا۔ میں بھی رجمنٹ میں شامل تھا۔ ہم ایم وی شمس ٹینک لے کررجمنٹ کے ساتھ بحری جہاز کے ذریعے سات دن میں کراچی سے چٹاگانگ پہنچے۔ 23 مارچ 1970ء کو ہم نے ٹینکوں کے ساتھ یوم پاکستان کی پریڈ میں حصہ لیا پھر ہم نارتھ بنگال میں رنگ پور گئے۔
مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی نے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ مکتی باہنی نے بہاریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بہاری خاندان روتے ہوئے ہمارے پاس آتے اور مکتی باہنی کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے۔ ردعمل کے طور پر فوج نے مکتی باہنی کے خلاف کارروائی شروع کی جس پر بھارت نے بنگالیوں کو مزید ورغلایا کہ مغربی پاکستان کی فوج بنگالیوں پر ظلم کر رہی ہے۔ فوج سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں۔
ہماری رجمنٹ میں آدھے بنگالی تھے۔ وہاں ڈی سی ایس پی بنگالی تھے۔ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں بطور مہمان جاتے تھے۔ سلمان قریشی یہاں پنجاب میں آئی جی اور مہر جیون خان پنجاب کے چیف سیکرٹری رہے۔ رنگ پور میں کوئی قتل و غارت نہیں ہوئی۔ ہم نے تمام بنگالیوں کو بحفاظت واپس بھجوایا۔ 
 بھارت مشرقی پاکستان میں مسلسل مداخلت کر رہا تھا۔ مکتی باہنی کو اس نے تخریب کاری کی تربیت دی۔ ان کو ٹارگٹ دیا جاتا تھا کہ بجلی گھر اڑا دو، پُل تباہ کر دو، قتل عام کرو، بھارت اب بھی پاکستان میں خاص طور پر بلوچستان میں اپنے جاسوسوں اور سہولت کاروں کے ذریعے تخریب کاری کروا رہا ہے لیکن پاک فوج جرأت اور حکمت عملی سے ان کا مقابلہ کرکے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا رہی ہے۔
 مشرقی پاکستان میں ہر طرف ہمارے دشمن تھے۔ جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ اچانک کسی طرف سے حملہ ہو جاتا تھا کیونکہ یہ کوئی باقاعدہ سرحدی جنگ نہیں تھیں۔ بھارت کے تربیت یافتہ مکتی باہنی کے تخریب کار چھپ کر حملہ کرتے تھے لیکن فوج عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کی تخریب کاری کا مقابلہ کر رہی تھی۔
س:۔ پاکستان کا دولخت ہونا ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ آپ کس کو اس سانحہ کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟
ج:۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کے اسباب پر ہمیں سنجیدگی اور حقیقت پسندی سے غور کرنا چاہیے۔ تب ہی ایسے مزید سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ بھارت نے تو پہلے دن سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ ہر طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے تھا۔ ان کے لیڈر برملا اس کا اعلان بھی کیا کرتے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی کا بیان بھی اس کا ثبوت ہے۔ بھارت تو ہمارا دشمن تھا۔ اس سے خیر کی توقع رکھنا فضول تھا۔ وہ بنگالیوں میں احساس محرومی پیدا کرکے انہیں پنجابیوں اور مغربی پاکستان کے خلاف بھڑکاتا رہا۔ ان کو تخریب کاری کی تربیت دیتا رہا۔ اس کے جواب میں ہمیں بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تھے لیکن مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدان حصولٍِ اقتدار کی جنگ میں الجھے رہے۔
ہمیں بنگالیوں کے کلچر کو بھی سمجھنا چاہیے تھا۔ ان کے ہر گھر میں طبلہ تھا۔ وہ ہندوئوں کے ساتھ تہوار مناتے تھے۔ ہماری فوج اور ہمارے لوگوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کا کلچر ہم سے قدرے مختلف ہے۔ جب مشرقی اور مغربی حصے ایک ملک تھے تو پھر ان کا حصہ بھی ان کو ملنا چاہیے تھا۔ بنگال اور مدراس کے لوگ تعلیم میں ہم سے بہت آگے تھے۔ عورت اور مرد تعلیم یافتہ تھے۔ فلسفے، سوچ اور کلچر میں ہم سے آگے تھے۔ ان کو اقتدار میں حصہ ملنا چاہیے تھا۔  سقوط ڈھاکہ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ تھا ۔
س:۔ آپ فوج سے کب ریٹائر ہوئے، کن کن عہدوں پر فائز رہے اور کون سے اعزازات اور ایوارڈز حاصل کیے؟
ج:۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ میں نے بطور فوجی پاکستان کے تحفظ اور بطور پاکستانی شہری وطن کے لیے سماجی خدمات انجام دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور میرے بچے بھی اپنے اپنے شعبوں میں پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔ میں 24 ستمبر1987ء کو بطور بریگیڈیئر ریٹائر ہوا۔ 1965ء اور1971ء کی جنگ میں خدمات انجام دینے کے علاوہ1978ء سے 1980ء تک بطور ملٹری سیکرٹری گورنر پنجاب،1980ء سے 1984ء  تک سیکرٹری ٹو وائس چیف آف آرمی سٹاف،2002ء سے 2008ء تک بطور کرنل آف دی رجمنٹ13 لانسرز، اور پھر بطور کرنل آف دی رجمنٹ29 کیولری(ٹائیگرز) خدمات انجام دیں۔ بنگال میں آرمی کی طرف سے امتیازی سند دی گئی۔ 1984ء میں ستارہ امتیاز ملٹری اور سماجی خدمات پر 2017ء میں ستارہ امتیاز ملا۔
س:۔ آپ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر، ہوبارہ فائونڈیشن انٹرنیشنل اور تعلیم، صحت، ماحولیات وغیرہ کے حوالے سے کام کرنے والے کئی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ یہ ادارے کیا خدمات انجام دے رہے ہیں؟۔
ج:۔ ہر ادارہ اپنے مقاصد کے تحت وسیع خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کی تفصیل کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم فطرت سے دور ہوگئے ہیں۔ جانوروں، پرندوں، پودوں، پھولوں سے ہماری دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ نیچر سے دوری کے کئی نقصانات ہیں۔ جو انسانی صحت اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہم لوگوں خاص طور پر نئی نسل کو نیچر کے قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معدوم ہوتی ہوئی جنگی حیات کے تحفظ، تلور، کالاہرن، چنکارا ہرن کے تحفظ اور افزائش کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بہاولپور لال سہانرا پارک اور رحیم یار خان میں بہت سے پراجیکٹس ہیں جن پر کام جاری ہے۔
س:۔ آپ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستان ویساہی ہے جیسا تحریک پاکستان کے کارکنان چاہتے تھے؟۔
ج:۔ پاکستان جیسا بھی ہے ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔ یہاں ہم آزادی سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کچھ مسائل ہیں تو ہماری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ہیں لیکن پاکستان نے بہت ترقی بھی کی ہے۔ ہمیں بطور قوم سوچنا ہوگا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ میں چینی کی قلت پیدا ہوگئی تو ساری برطانوی قوم نے چینی استعمال کرنی چھوڑ دی۔ ہماری طرح بھاری زرمبادلہ خرچ کرکے باہر سے نہیں منگوانی شروع کر دی۔ اسی طرح ہمیں اپنی قومی ترجیحات طے کرنی چاہئیں اور پھر پوری قوم کو متحد ہو کر ان پر عمل کرنا چاہیے۔
 ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمارا رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ ہم قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ ہمیں پتہ نہیں کہ ہم نماز میں کیا پڑھتے ہیں اس لیے ہماری پوری توجہ نہیں ہوتی۔ اپنے مذہب کو سمجھنے اور اس پر عمل کی ضرورت ہے۔ ہم نے سائنس پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ ہماری معیشت کا زیادہ انحصار زراعت پر تھا لیکن اب ہماری زرعی زمینیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم نے سب نوجوانوں کو عام تعلیم پر لگا دیا ہے۔ ہمیں ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کی تربیت سے غافل ہوتے جا رہے ہیں۔ تحریک پاکستان والا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی منزل کا حصول ناممکن نہیں ہے۔
س:۔ نوجوانوں سے کیا توقعات ہیں اور نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟۔
ج:۔ ہمارے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں۔ بہت سے شعبوں میں نام پیدا کر رہے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ اپنی صحت پر بھی توجہ دیں۔ پہلے باپ دادا بچوں کو اپنے ساتھ سیر کے لیے لے کر جاتے تھے۔ اب کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ہم پڑھائی کے ساتھ اپنی صحت پر بھی توجہ دیں۔ بچے صحت مند ہوں گے تو کام بھی کریں گے۔ بچوں میں محنت کی بھی کمی ہے۔ محنت کریں۔ اگر آٹھ گھنٹے روزانہ سوتے ہیں تو ایک گھنٹہ کم کر دیں۔ وقت ضائع نہ کریں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دیں۔ یہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں امید ہے یہ اپنے بزرگوں اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP