متفرقات

آرمی انسٹیٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری  ۔ ایک تعارف 

پاکستان آرمی کا باقاعدہ وجود پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی عمل میں آیا لیکن حقیقت میں پاکستان آرمی کی تاریخ پاکستان کے قیام سے بہت پہلے ہی لکھی جا رہی تھی۔ 14 اگست 1947 کو جب پاکستان اور بھارت وجود میں آئے تو اس کے ساتھ ہی برطانوی فوج کے ہندوستانی دستوں کو دو آزاد ممالک کی افواج میں تقسیم کر دیا گیا۔



قیام کے بعد سے لے کر ایک طویل عرصے تک اس ضرورت کو محسوس کیا جاتا رہا کہ کوئی ایک ایسا ادارہ وجود میں لایا جا سکے جہاں پاکستان آرمی کی تاریخ کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اگرچہ جنرل ہیڈ کوارٹرز میںایک شعبہ ڈیفنس آرکائیو تاریخی دستاویزات کو محفوظ بنانے کا کام سر انجام دے رہا تھا لیکن اس انتہائی اہم کام کو وسیع پیمانے پرزیادہ منظم اور محفوظ طریق عمل کے تحت سر انجام دینے کی لئے ایک بڑے ادارے کی ضرورت کو طویل عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھا۔ بالآخر 2 جون 2017کو  Army Institute of Military History کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیاجس کو عرفِ عام میں AIMH (اے۔ آئی۔ایم۔ایچ) کہاجاتا ہے۔ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیویشن کے تحت کام کرنے والا یہ ادارہ بنیادی طور پر ایک تحقیقاتی ادارہ ہے۔ جس کا کام پاکستان آرمی کی تما م فارمیشنز ، آرمز اور رجمنٹس کی تاریخ جو مختلف جگہوں پرتھی، کو منظم انداز میں ایک جگہ پر محفوظ اور مرتب کرنا ہے۔ مزید برآں تاریخی دستاویزات کا ریکارڈ مرتب کرنا اور اُس کی ترویج و اشاعت بھی اس کے فرائض میں شامل ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس اہم ادارے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور مزید اہم ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔ فی الوقت اس ادارے میں کئی شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔ ان شعبہ جات کو تاریخ کے مختلف ادوار کے لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔ تمام شعبہ جات یا سیکشن کا سربراہ ڈائریکٹر ریسرچ کہلاتا ہے۔
 آرمی انسٹیٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری کے تحت ایک اہم شعبہ کمپوزٹ ونگ کہلاتا ہے۔ اس شعبے کے تحت بہت سے اہم امور سر انجام دیئے جا رہے ہیں۔ جن سے پاکستان میں موجود ملٹری ہسٹری سے متعلق تمام پرانی اور نئی یادگاروں بشمول میدانِ جنگ کے آثار کی نشان دہی اور انہیں محفوظ بنانے کے لئے سفارشات مرتب کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں آرمی کے میڈلز ، جنگی اعزازات ، یونیفارمز اور بیجز  سے متعلق امور بھی اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ یہ شعبہ دنیا بھر کے ملٹری ہسٹری سے متعلق اداروںکے ساتھ رابطے میں رہتاہے۔  
AIMH کا ایک اور اہم شعبہ ۔ عصری امور کا ونگ (Contemporary Affairs Wing) کہلاتا ہے۔ جس کا بنیادی کام عصری امور سے متعلق تجزیاتی رپورٹ پیش کرنا ہے۔
 AIMH کا ایک اور اہم شعبہ افواجِ پاکستان کے غازیوں سے متعلق ہے۔ یہ شعبہ پاک بھارت جنگوں میں دادِ شجاعت دینے والے غازیوں سے ملاقات کا اہتمام کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی معلومات اور جنگی داستانوں کو محفوظ بناتا ہے فی الوقت یہ شعبہ 1947-48 کی پہلی پاک بھارت جنگ، جو کشمیر اور گلگت  بلتستان میں لڑی گئی تھی،کے غازیوں کی جنگی داستانوں کو قلم بند کر رہا ہے ۔

پاک فوج میں تعلیم و تدریس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ملٹری ہسٹری کا مضمون پاک فوج کی تمام تربیتی درسگاہوں کے نصاب کا اہم حصہ ہے۔  ضرورت اس امر کی تھی کہ اس نصاب کا وقتاََ فوقتا ًجائزہ لیا جائے اور اس میں ضروری تبدیلیوں سے متعلق سفارشات مرتب کی جائیں مزید برآں پاکستان آرمی کی تربیتی درسگاہوں میں مرحلہ وار ملٹری ہسٹری کی تعلیم دی جائے۔ AIMH میں ملٹری ہسٹری ایجوکیشن پروگرام کے نام سے یہ اہم فریضہ سر انجام دیا جا رہا ہے۔
AIMH کے زیرِ اہتمام ایک اور اہم شعبہ پبلیکیشن اور کارٹوگرافی کہلاتا ہے۔ اس شعبہ کا کام AIMH  کے زیرِاہتمام تمام کتابوں، رسائل و جرائد اور نقشہ جات کی اشاعت اور ترویج و تقسیم ہے۔ AIMH  کے اس اہم سیکشن نے بگل اور ٹرمپٹ (Bugle & Trumpet)  کے نام سے اپنے پہلے جریدے کی اشاعت مکمل کرلی ہے۔ یہ جریدہ سال میں دو دفعہ (چھ ماہ کے وقفے سے)  شائع ہو گا اور پاکستان آرمی کے تمام شعبہ جات، فارمیشنز ، یونٹس کو بھیجا جائے گا۔ اس جریدہ میں ملٹری ہسٹری سے متعلق داستانوں کوانتہائی خوبصورت اور دلچسپ اندار میں قلم بندکیا گیا ہے۔
AIMH  نے اپنے قیام کے بعد انتہائی قلیل مدت میںاہم  امور سرانجام دیئے ہیں جن کو آرمی کی سطح پر سراہا گیا ہے۔ AIMH  کے کام کو روشناس کروانے کے لئے محتلف تقریبات اور دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک اہم تقریب کرٹن ریزرکے نام سے جنوری 2018 میںGHQ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میںپاک فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈافسران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران ادارے کا تعارف پیش کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک تصویری نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔
AIMH  کے زیرِا ہتمام بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام کی صد سالہ تقریبات میں شرکت  کے لئے AIMH  کے ایک وفد نے اکتوبر 2018  میں برطانیہ اور فرانس کا دورہ کیا اور پاکستان کی نمائندگی کی۔ علاوہ ازیں AIMH  کے ایک وفدنے امسال  فروری میںبرطانیہ میں ملٹری ہسٹری اور اِس سے متعلق ریسرچ کے اداروں کا دورہ کیا۔
AIMH  کے کام کو مزید منظم اور سہل انداز میں سر انجام دینے کے لئے ایک علیحدہ عمارت کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھا۔ بالآخر جولائی 2018 میں جنرل ہیڈ کوارٹرز سے باہر عزیز بھٹی روڈ پر ایک نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ جدید سہولتوں سے آراستہ اس عمارت میں جدید کانفرنس ہال ، لائبریری اور افواجِ پاکستان سے متعلق تصاویر سے مزین مختلف گیلریوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ AIMH کی یہ نئی عمارت 2019 کے اختتام تک اپنی تکمیل کو پہنچ پائے گی۔
الغرض آرمی انسٹیٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری کا شمار پاک فوج کے انتہائی اہم اداروں میں ہوتا ہے اور یہ ادارہ بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔


 

یہ تحریر 171مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP