متفرقات

آخری مسافر

فلائٹ پی کے 661 ۔۔ بدقسمت طیارے نے سات دسمبر کو چترال سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری تھی۔

 لیکن کس کو علم تھا کہ یہ اُس کا آخری سفر ثابت ہو گا۔

 

''بھیا! جلدی کریں میری فلائٹ میں کم وقت رہ گیا ہے''وہ اپنا بیگ تیار کر کے بار بار بھیا کے کمرے کے چکر لگا رہی تھی۔ ''عاشی! اتنی جلدی جانے کی کیا ضرورت ہے کچھ دن بعد چلی جانا۔'' بھیا نے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی۔ ''میں بھی اس لڑکی کو یہی کہہ رہی ہوں کہ آج نہ جائے میرا دل نہیں مان رہا کہ یہ جائے۔''تسبیح پڑھتی ہوئی امی کو جانے کیا وہم ڈرائے جا رہے تھے، بالآخر وہ بھی اپنے وسوسے زبان پہ لے آئیں۔ ''اوہو امی جان!کچھ نہیں ہوتا پہلے بھی تو اسلام آباد جاتی ہوں پہلے تو کبھی آپ نے ایسے نہیں روکا، جانا ضروری ہے۔ آپ کو نہیں پتہ یونیورسٹی میں ڈگری نکلوانے کے لئے کتنا خوار کرتے ہیں جمعرات جمعہ دو دن تو ڈاکومنٹس کو لگ جائیں گے۔ ڈگری مل جائے تو رحیم کو بھیجنی ہے تاکہ پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی کر سکوں۔''۔ عائشہ نے اپنی پوری کوشش کی کہ امی کو مطمئن کرسکے۔



چار بہنوں اور تین بھائیوں میں عائشہ کا سب سے آخری نمبر تھا اس لئے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی لاڈلی بھی تھی۔ اپنے پورے خاندان میں ایم فِل تک تعلیم حاصل کرنے والی پہلی لڑکی تھی۔ اِدھر ایم فِل مکمل ہوا۔ ادھر پِیا دیس سدھار گئی۔ کینیڈا میں مقیم میاں جی نے عائشہ کو کینیڈا بلوانے کے لئے تمام کاغذی کارروائی مکمل کر لی تھی۔ ایم فِل قائداعظم یونیورسٹی سے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کا ارادہ کینیڈا سے کرنے کا تھا۔ اس لئے آجکل یونیورسٹی سے کلیرنس کروانے کے بعد ڈگری لینے کی جلدی تھی کہ میاں کہ پاس کینیڈا جا سکے۔ 

''اچھا بھئی! جیسے تمہاری مرضی خیر سے جا خیر سے واپس آ۔''امی نے گلے لگاتے ہوئے عائشہ کو ائیرپورٹ کے لئے روانہ کیا۔ ابھی ائیر پورٹ کی حدود میں پہنچے ہی تھے کہ بھیا کو خیال آیا کہ وہ اپنا موبائل فون گھر چھوڑ آئے ہیں ۔ جلدی سے گاڑی ائیر پورٹ کے احاطے سے واپس موڑی۔ ''بھیا!!! پہلے ہی دیر ہو رہی ہے اب آپ واپس گھر کیا کرنے جا رہے ہیں۔'' وہ چلائی تھی۔ ''عاشی موبائل گھر بھول آیا ہوں بس جلدی سے وہ اٹھا لوں تاکہ تم چیک اِن کے بعد کال کرو گی تو رابطہ ہو سکے۔''۔ بھیا نے گاڑی واپس موڑنے کی وجہ بیان کی۔ ''بچی نہیں ہوں بھیا ایم فل کیا ہے میں نے۔'' اس نے منہ بسورا تھا۔ ''جتنی بھی بڑی ہو جا میرے لئے وہی چھوٹی سی عائشہ ہی رہو گی جو اپنی ہر ضد پوری کروانے میرے پاس آتی تھی۔''بھیا نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ موبائل گھر سے اٹھا کر گاڑی دوڑاتے جب ائیر پورٹ پہنچے تو تمام، اکتالیس، مسافر چیک اِن کر کے جہاز پر سوار ہو چکے تھے اور ائیر پورٹ پر انائونسمنٹ جاری تھی، ''مس عائشہ عثمان سیٹ نمبر تھری سی بورڈنگ کے لئے تشریف لے آئیں طیارہ اسلام آباد روانگی کے لئے تیار ہے۔''

''دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ میری فلائٹ مِس ہو جائے گی۔'' اپنا سامان اٹھاتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔ ''نہیں میڈم! آپ لیٹ ہو کر بھی لیٹ نہیں ہوئیں کیونکہ پائلٹس کھانا کھا رہے ہیں تو بس کچھ دیر میں روانگی ہے۔'' چیک اِن ڈیسک پہ کھڑی دلکش خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

وہ جو آگے جانے کو مڑی تھی یک دم واپس پلٹی تھی اور بھیا کو دوڑ کر گلے لگایا۔''یونیورسٹی سے کام ختم کر کے جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گی۔'' جہاز پہ سوار ہونے سے پہلے یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔

جہاز میں سوار ہو کر ہمیشہ کی طرح درود شریف پڑھا سفر کی دعائیں پڑھیں۔ ہوسٹل میں مقیم اپنی دوستوں کو فون کیا کہ ''میں آ رہی ہوں۔ وارڈن سے میرے قیام کے لئے پرمیشن پہلے ہی لے لینا۔''

لاہور میں مقیم للی آپی کو کال کی کہ '' آپ کی بی اے کی ڈگری بھی اسلام آباد سے لیتی آئوں گی، یونیورسٹی سے کام ختم کر کے سوموار منگل تک آپ کے پاس لاہور آ جائوں گی۔''

اتنی دیر میں ائیر ہوسٹس نے انائونسمنٹ کی کہ ''اپنے فون سوئچ آف کر دیں پی کے 661 اسلام آباد روانگی کے لئے تیار ہے۔'' پھر اس کے بعد ہمیشہ کی طرح ائیرہوسٹس نے ڈیمو دُہرایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں لائف جیکٹس آپ کی نشست کے نیچے ہیں اور ان کو پہننے کا طریقہ بتایا گیا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا لیکن انجن سے آنے والی آواز معمول کے مطابق نہیں تھی۔ اس نے زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ اپنی اور رحیم کی شادی کی تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو گئی۔ تصاویر دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک خوابناک سی مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں مستقبل کے خواب تھے کہ کب وہ کینیڈا کی فلائٹ پکڑ کر اپنے شوہر رحیم کے پاس پہنچے۔ رحیم سے شادی بھی'' آنا ًفاناً''  ہوئی تھی۔ کینیڈا میں مقیم کزن جب پاکستان آیا تو عائشہ کی معصومیت پہ دل ہار گیا۔ تہیہ کیا کہ شادی اِسی سے کرنی ہے۔ واپسی کی فلائٹ بھی جلدی تھی اس لئے تین دن میں شادی کی تیاری کی گئی۔ جیون کا ایک نیا سفر شروع ہو چکا تھا۔ تین دن میں'' آنا ًفاناً'' ہمسفر بننے والا اس کا جیون ساتھی جس کے ساتھ اب مستقبل کے سارے خواب سانجھے تھے۔

پینتالیس منٹ کی فلائٹ تھی۔ اس نے موبائل پہ ٹائم دیکھا ابھی چار بج کر دس منٹ ہوئے تھے۔ ارد گرد نظر دوڑائی تو زیادہ تر مرد حضرات ہی نظر آئے۔ اپنی قطار کی آخری سیٹس پہ اسے جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ نظر آئے۔ پہلے سوچا آٹو گراف لے لوں پھر سوچا ابھی ایسے اچھا نہیں لگے گا جب اسلام آباد اتریں گے تب لازمی ان سے ملوں گی۔

چار بج کر پندرہ منٹ ہوئے کہ جہاز کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ ایک دم ایسے لگا جہاز ایک طرف کو جھکتا جا رہا ہے۔ دل ہی دل میں اس نے آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا اور سیٹ کے بازو مضبوطی سے  تھام لئے۔ ''اللہ خیر کرے، اللہ رحم کرے۔'' تمام مسافروں کے چہرے پر پریشانی تھی۔ اتنے میں پائلٹ کی پریشان کن آواز گونجی ''خواتین و حضرات! جہاز میں فنی خرابی کے باعث طیارے کو اڑان بھرنے میں مشکل کا سامنا ہے اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں ہم ایمرجنسی لینڈنگ کی کوشش کر رہے ہیں۔'' چار بج کر سولہ منٹ، جہاز میں ایک قیامت برپا تھی ہر کسی کے چہرے پہ سخت پریشانی تھی۔ مرد حضرات نے پھر تھوڑا حوصلہ کر رکھا تھا لیکن خواتین کی پریشانی آنسوئوں کی صورت میں ان کے چہرے پہ صاف عیاں تھی کہ اب کیا ہو گا؟؟؟؟

عائشہ کے ذہن میں ماں جی کے الفاظ گونجے، ''میرا دل نہیں مان رہا کہ یہ آج جائے۔''

بھیا کے الفاظ ''اتنی جلدی جانے کی کیا ضرورت ہے کچھ دن بعد چلی جانا میں خود چھوڑ آں گا۔''

''اسلام آباد سے کام ختم کر کے جلدی سے میرے پاس لاہور آنا،'' للی آپی کی آواز کانوں میں گونجی۔۔

''عائشہ ! میں اپنی زندگی کا ہر خواب اب تمہارے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں، میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔'' اس کے جیون ساتھی رحیم کے الفاظ اس کی سماعتوں سے ٹکرائے اور پوری زندگی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی کہ کیا یہی اختتام ہے؟ اور وہ بھی اتنی جلدی؟؟ ابھی تو ڈگری وصول کرنی تھی۔۔ ابھی تو پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لینا تھا۔۔ ابھی تو جیون کے نئے سفر کا آغاز ہوا تھا۔۔ چار بج کر سترہ منٹ، جہاز میں ہر طرف چیخ و پکار اور کلمہ پڑھنے کی آوازیں تھیں کہ ایک دم زور دار دھماکہ ہوا اور سارے خواب آگ میں جل کر راکھ ہو گئے۔ خوابوں کے چیتھڑے تک ہوا میں بکھر گئے۔

مقامی ہسپتال کی ایمبولینسز مسافروں کی باقیات سمیٹنے میں مصروف ہو گئیں لیکن وہ سینتالیس افراد کی باقیات نہیں بلکہ سینتالیس کہانیاں تھیں، سینتالیس خواب تھے۔ جو اب نہیں رہے!!


مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپانڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

[email protected]

یہ تحریر 1430مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP