متفرقات

  گلگت  بلتستان کی جنت نظیر وادی غذر اور شاہراہوں کی تعمیر

گلگت بلتستان کاضلع غذر صوبے کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ پھلوں سے لدے باغات خوبصورت آبشاریں فلک بوس پہاڑ اور یہاں کی جھیلیں سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں اور یہاں پر پائی جانے والی درجنوں اقسام کی چیری اس علاقے کی پہچان ہے۔ جبکہ باغبان حضرات کے باغات میں مختلف نسل کے خوبانی کے درخت ہیں اور یہ خوبانی ذائقے کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس علاقے کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی خوبصورت وادیوں میں خیمہ زن ہوتے ہیں اور علاقے کے پرُامن ماحول اورمہمان نواز لوگوں کی مہمان نوازی کی اچھی یادیںلے کر اپنے علاقوں کارخ کرتے ہیں۔ غذر کی خوبصورت ترین وادی پھنڈر زمین میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور یہاں آنے والے سیاح اس خوبصورت وادی میں کئی کئی روز قیام کرتے ہیں۔ پھنڈر غذر کا دور افتادہ علاقہ ہے مگر اس وادی کی خوبصورتی دیکھ کر سیاحوں کی تھکن دور ہوجاتی ہے اُونچے اُونچے پہاڑ سرسبز وادیاں اور جھیل جہاں پائی جانی والی دنیا کی نایاب مچھلی ٹراؤٹ یہاں آنے والے سیاحوں کو اپنے سحر میں گم کر دیتی ہے مگر اس علاقے کا المیہ یہ ہے کہ گلگت سے غذر تک کی سڑک کی خستہ حالی یہاں آنے والے سیاحوں کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 2010کے سیلاب سے تباہ ہونے والی اس اہم شاہراہ کی نو سال گزرنے کے باوجود بھی مرمت تک نہیں ہوئی اور گاہکوچ سے گلگت تک ایک گھنٹے کی مسافت اب دو گھنٹے میں مکمل ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت نے ایک سال قبل خطے کے عوام کو یہ خوشخبری سنائی تھی مگر تاحال اس روڈ کی تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا۔اگر گلگت چترال روڈ کی تعمیر ہو تو یہ سڑک شاہراہ قراقرم کا متبادل ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی سیاح اسلام آباد سے شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے گلگت پہنچ جائے اور غذر کے راستے چترال اور وہاں سے اسلام آباد پہنچ سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کا ضلع غذر وہ ضلع ہے جہاں ایک طرف سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں تو دوسری طرف بین الاقوامی شہرت کے حامل فیسٹول سہ روزہ شندور میلے کے موقع پر بھی ہزاروں سیاح غذر روڈ سے شندور پہنچ جاتے ہیں اوراس میلے میں شرکت کے لئے اس علاقے سے گزرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سڑک شاہراہ قراقرم کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔لیکن اس کی تعمیر بھی التواکا شکار ہے۔  دوسری طرف محکمہ سیاحت کی پرفارمنس توجہ کی متقاضی ہے۔ غذر جس کی آبادی دو لاکھ تک پہنچ گئی ہے یہاں سیاحت کا شعبہ کافی کمزور ہے۔ ٹورسٹ پکنک پوائنٹ آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کے لئے انفارمیشن سینٹرکی بھی ضرورت ہے۔ بہرطور گلگت بلتستان کا خوبصورت ترین خطہ غذر جو اپنی خوبصورتی کے لئے یہاں آنے والے سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتا ہے۔ یہاں کے صاف و شفاف پانیوں میں دنیا کی نایاب مچھلی ٹراؤٹ بکثرت پائی جاتی ہے اس کے علاوہ یہاں کے ہر کاشت کار کے پاس درجنوں چیری کے درخت موجود ہیں جوایک نازک پھل ہوتا ہے۔ مگر یہاں کی سڑکوں کی حالت خستہ حال ہونے کی وجہ سے مقامی باغبان اپنے چیری مارکیٹ تک نہیں پہنچا سکتے۔ سالانہ ملکی و غیر ملکی سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں مگر یہاں آنے والے سیاحوں کی اگر اس علاقے کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو وہ یہاں کی تباہ حال سڑکیں ہیں۔ اگر گلگت غذر روڈ کوبہتر معیار پر تعمیر کیا جائے تو نہ صرف یہاں کے عوام اپنے پھل فروخت کرکے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔ بلکہ لاکھوں سیاح بھی اس جنت نظیر وادی کا رخ کرسکتے ہیں موجودہ حکومت سیاحت کے حوالے سے اہم اقدامات اُٹھا رہی ہے جو ایک خوش آئند امر ہے اور غذر کے عوام خوش گمانی رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے علاقے کے دن بھی پھرنے والے ہیں۔


[email protected]
 

یہ تحریر 312مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP