قومی و بین الاقوامی ایشوز

وہ کب لوٹیں گے۔۔۔

سانحۂ سمجھوتہ ایکسپریس میں زندہ بچ جانے والے مسافروں کے خاندان آج بھی ان کی راہ تکتے ہیں
جبار مرزاکے قلم سے ہلال کے لئے ایک تحریر

سانحۂ سمجھوتہ ایکسپریس عجیب کرب ناک روداد ہے۔ 18 فروری2007 کو آدھی رات کے وقت دہلی سے لاہور آنے والی ٹرین  بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع پانی پت کے قریبی سٹیشن دیوالی پردہشت گردی کا شکار ہوگئی یکے بعد دیگرے  بم دھماکوں سے ٹرین کی دو بوگیاںجن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی، شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں جو جاگ رہے تھے وہ چلتی ٹرین سے کود گئے اور کئی ایک سوئے ہوئے، موت کی نیند سوگئے۔ اس حادثے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 68تھی اور 50 زخمی تھے جن میں شدید زخمی 14 تھے۔ جنہیں دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں داخل کردیاگیا تھا جو بعد میں ہوائی جہازسے پاکستان پہنچے تھے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے مسافروں کے اعداد و شمار ایسے ہیں کہ ان سے سمجھوتہ ممکن نہیں۔ دہلی سے755 ٹکٹ جاری ہوئے تھے اور اٹاری ریلوے سٹیشن پر جو پہنچے وہ 527 تھے پہنچنے والے 527 جب لاہور کے لئے بھیجے گئے تو اُن کی تعداد 544 تھی جن میں سے17 مسافروں کو واہگہ سے واپس کردیاگیا یا بھارتی ایجنسیاں جنہیں واپس لے گئیں۔ حافظ آباد کی راحیلہ وکیل نامی لڑکی نے تصدیق کی کہ اس کے والد عبدالوکیل کو واہگہ سے واپس لے جایاگیا ہے۔ اس نے بی بی سی کی نشریات میں اپنے والد کو واپس لے جاتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر755 افراد میں سے 527  پہنچے228 غائب ہیں جن سے 68 شہید اور پچاس زخمی منہا کریں تو 110 مسافر لاپتہ ہیں۔ جن کا آج تک پتہ نہ چل سکا۔



بھارت نے شروع میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کی جہادی تنظیموں کو موردِ الزام ٹھہرایا مگر بعد میں پتہ چلا کہ بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل پروہت پرساد نے تخریب کاروںکو بم فراہم کئے تھے۔ ان بھارتی تخریب کاروںاور دہشت گردوں کی تعداد آٹھ تھی جن میں ایک سنیل جوشی تھا،جس پر سلطانی گواہ بننے کا شک گزرا تو اُسے قتل کردیاگیا تھا۔ کلسانکڑا اور امیت فرار ہوگئے تھے۔ ملزمان کا سرغنہ سوامی اسیم آنند تھا جس کا تعلق بھارت کی شدت پسند جماعت''بھینو بھارت'' سے تھا، وہ سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اورا جمیردرگاہ سمیت کئی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث تھا، مگر وہ کئی ایک مقدمات سے بری ہو چکا تھا اورپھر بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان اسیم آنند سمیت دیگر چار دہشت گردوں کو بھی اس حادثے کے مقدمے میں بری کردیا۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیاتھا کہ استغاثہ ملزمان کا دھماکے میں ملوث ہوناثابت نہ کرسکا۔ اس سے پہلے بھارت کی ایک اور عدالت حافظ آباد کی راحیلہ وکیل کو بطورِ گواہ پیش ہونے کی درخواست مسترد کرچکی تھی۔ جبکہ این آئی اے ان ہندو انتہا پسندوںکو قصور وار قرار دے چکی تھی اور کرنل پروہت پرساد بم فراہم کرنے کا اعتراف بھی کرچکا تھا۔ راحیلہ وکیل نے چندی گڑھ کی ایک عدالت میں مقدمہ درج کراتے ہوئے کہا کہ اس کے والد زندہ ہیں، عدالت کے حکم پر راحیلہ کو ایک قبر دکھا دی گئی کہ یہ اس کے والد کی ہے۔ لیکن ڈی این اے سے پتہ چلا کہ وہ مرنے والا کوئی اور تھا۔ بھارت کی خصوصی عدالت کے روبرو224 گواہ پیش ہوئے تھے اور دو برسوںمیں30 سے زیادہ بھارتی سرکاری گواہ منحرف ہوگئے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین کے لواحقین کی سہولت کے لئے پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے لاہور میں ڈیویز روڈ کے ایمبیسڈر ہوٹل میں ویزہ کائونٹر قائم کیا تھا۔ جہاں سے 19 فروری 2007 کو ویزے جاری ہوئے۔ مذکورہ ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے 68 افراد میں 19 ایسے ہیں جو ناقابلِ شناخت اور لاوارث تھے، اسی لئے کوئی بھی پاکستان سے اُن کا پتہ کرنے نہیں گیا۔ وہ 19 افراد پانی پت کے مضافات روہتک روڈ مہرانہ گائوں میں دفنائے گئے ہیں۔ سب کی قبروں پر DNA رپورٹ لگی ہوئی ہے۔ ان لاوارث شہداء میں 7مرد ، 6 خواتین اور دو لڑکیاں اور چارلڑکے ہیں۔ لاپتہ افراد کی فہرست میں ایک نام راجہ عرفان کا بھی ہے وہ سرگودھا کی تحصیل سلانوالی چک122 شمالی کا رہائشی ہے۔ وہ 14 فروری2007 کو دہلی سے کمپیوٹر کے سپیئر پارٹس لینے گیااور اپنی خریداری مکمل کرکے18 فروری کو ٹکٹ نمبر391734 اور پاسپورٹ نمبرKE 685195 کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس میں دہلی سے لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ مگر نہ تو وہ لاہور پہنچا اور نہ ہی مرنے والوں میں یا زخمیوں میں اس کا نام شامل تھا۔ اس لاپتہ راجہ عرفان کو دوبئی اپنے بڑے بھائی مبشر حسن کے پاس جا کے پتہ چلا تھا کہ کمپیوٹر کے سپیئر پارٹس چین اور ہانگ کانگ کے مقابلے میں بھارت میں سستے ملتے ہیں۔ راجہ محمدعرفان جب لاپتہ ہوا تب 28 برس کا تھا۔ آج اس سانحے کو12 سال بیت گئے۔  راجہ عرفان کا کوئی پتہ نہ چلا بلکہ 110 لاپتہ افراد کہاں چلے گئے، بھارت بتانے سے انکاری ہے اور پاکستان کی طرف سے حکومتی سطح پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ ادھر راجہ عرفان کی والدہ اپنے بیٹے کے انتظار میں دوسال تک کربناک حالت سے دوچار رہ کر 2009 میں رمضان المبارک کی 2تاریخ کو فوت ہوگئیں۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دل کے اندر صاف اور غیر شفاف خون کے درمیان موجود جھلی پھٹ گئی ہے جس کا کوئی علاج نہیں گویا صحیح معنوں میں ماں کادل پھٹ گیا تھا۔
 راجہ عرفان کا دوبئی والا بھائی راجہ مبشر حسن ٹرین حادثے کے بعد فوری طور پر پاکستان پہنچا۔20 فروری 2007 کو لاہور سے بھارت کا ویزہ لیا اور 21 فروری کی صبح واہگہ پہنچ تو گیا مگر بھارتی امیگریشن کے عملے نے یہ کہہ کر سارا دن اٹاری بارڈر پر بٹھائے رکھا کہ آپ کو قافلے کی صورت میں بھیجا جائے گا اور پھر شام کو سورج ڈھلتے ہی اکیلے روانہ کردیا گویا وہ بھی عدم تعاون کا ایک وار تھا جو غیر محسوس انداز میں کیا گیا۔  راجہ مبشر حسن سحری کے وقت سول ہسپتال پانی پت پہنچا تو عملے نے بتایا کہ زخمیوں اور مرنے والوں کی فہرست صبح چیف میڈیکل آفیسر کے پاس دیکھی جاسکے گی۔ ستم یہ کہ زخمیوں کے وارڈ اور مردہ خانے تک بھی نہ جانے دیاگیا۔  راجہ مبشرحسن صبح جب CMO ڈاکٹر سنی لتا سے ملا تو اس نے اعتماد میں لے کے ہولے سے کہا کہ زخمیوں اورمرنے والوں کی فہرستیں رات کو ایجنسی والے لے گئے تھے۔ اس ہسپتال میں ڈی این اے کے لئے راجہ مبشر حسن کا خون لیاگیا، مگر ڈی این اے رپورٹ دو سال بعد دی گئی۔ یہ الگ ایک درد ناک کہانی ہے۔ اسی عرصے میں  راجہ عرفان کے چچا محمدمسعود ظفر جو سلانوالی چک120 شمالی میں ہائی سکول ہیڈماسٹر ہیں، انہوںنے اپنے ایک سکول ٹیچر اشرف سے بات کی جن کی بھارت میں رشتہ داری تھی۔ اشرف نے ہریانہ کے ضلع کیتھل کے موضع گیونگ میں اپنے چچا عبدالحمید سے رابطہ کیا۔ ٹرین حادثے اور راجہ عرفان کے بار ے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا تو عبدالحمید کی بیٹی جوپانی پت میں بیاہی ہوئی ہے اور سنولی روڈ چاندنی باغ میں مقیم ہے جس کے توسط سے پتہ چلا کہ راجہ عرفان سول ہسپتال پانی پت میںموجود ہے جو معمولی زخمی ہے۔ لیکن کسی سے ملاقات ممکن نہیں۔ اسی دوران کئی دنوں کی لاحاصل دوڑ دھوپ میں راجہ عرفان کے بھائی راجہ مبشر حسن کے 10 روزہ  ویزے کی میعاد ختم ہوگئی۔ ادھر بھارت نے کہہ دیا کہ راجہ عرفان نامی کسی شخص کا کوئی پتہ نہیں۔ یہ بہت ہی مایوس کن صور ت حال تھی۔ راجہ عرفان کا ایک بھائی سپاہی مشرف پاکستان رینجرز میں واہگہ بارڈر پر تعینات ہے وہ بھارت کی قید سے رہا ہو کے آنے والے ہر شخص کو اپنے بھائی راجہ عرفان کی تصویر دکھاکے پوچھتا رہا کہ کسی جیل میں اسے تو نہیں دیکھا۔حادثے کے دوسال بعد2009 میں چکوال کے علاقے گہے بگال تلہ گنگ روڈ کے راجہ محمدعلی کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بھارت سے آتے دیکھاجو بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے کلاس فیلو رہے اور دو مہینے بھارت کے سرکاری مہمان رہ کر واپس آئے تھے۔ راجہ عرفان کے بھائی سپاہی مشرف نے راجہ محمدعلی سے بات کی تو انہوںنے تعاون کی ہامی بھرلی اور چکوال آکر ملنے کو کہا۔ اگلے روزراجہ مبشر حسن اُنہیں ملا تو راجہ علی نے دہلی میںمعروف صحافی ، کالم نگار اورآئوٹ لُک کی سابقہ ایڈیٹر رشمی تلوار سے فون پر راجہ عرفان کے بارے معلومات دینے کی تاکید کی تو اُس نے کہا کہ'' وہ تو میں پتہ کرالوںگی مگر دو دون بعد بھارتی سیکرٹری خارجہ مقدس مقامات کی پوجا کے لئے چکوال کے راج کٹاس میںآرہے ہیں۔ یہ ان کا نجی دورہ ہے وہ پنڈدادن خان اپنی جنم بھومی پر بھی جائیں گے۔'' 
راجہ محمدعلی کی بھارتی سیکرٹری خارجہ سے بھی واقفیت تھی یوں راجہ مبشر کو دو دن بعد راج کٹاس بلوالیاگیااور سیکرٹری خارجہ سے کم از کم آدھا گھنٹہ ملاقات کرائی جس میں بھارتی سیکرٹری نے DNA رپورٹ بھجوانے کا وعدہ کیا اور دیگر کارروائی کے لئے راجہ محمدعلی نے راجہ مبشر حسن کو بھارت آنے کا کہا۔ خیرڈی این اے رپورٹ تو فوری آگئی مگر شومیٔ قسمت اس عرصے میں راجہ محمدعلی فوت ہوگئے اور راجہ عرفان کی تلاش وقتی طور پر رُک گئی۔ مگر اس کے گھر والوں کے حوصلے پست نہ ہوئے۔
ادھر واہگہ بارڈر پرسپاہی مشرف نے بھارت سے آنے والے ہر قیدی کو بھائی کی تصویر دکھاتا رہا اور یوں چار سال بعد 2010 میں نارووال کے رہائشی سخاوت گجر نے تصویر دیکھی تو پہچان گیا اور کہا کہ یہ عرفان راجہ ہے سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کا رہنے والا ہے گزشتہ 6 مہینے سے وہ امرتسر جیل میں ہے۔ سارا دن خاموش بیٹھا رہتا ہے، کسی سے ملتا ہے نہ بات کرتا ہے۔ اتنی بڑی تصدیق اورراجہ عرفان زندہ ہونے کی خبر نے  خاندان میں خوشی کی لہر دوڑا دی مگر پس ماندہ اور بے وسیلہ لوگوں کی خوشیوں کی عمر بھی بہت کم ہوتی ہے۔ اگلے ہی لمحے خوشیوں بھرا گھر پھر سے غم زدہ ہوگیا کہ وہ اس کے باوجودکچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اسی اثنا میں پاکستان ریلوے نے پانچ لاکھ روپے کا چیک دینے کے لئے راجہ مبشر حسن کو بلوا بھیجا۔ استفسار پر ریلوے حکام نے بتایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں مرنے والوں کو پاکستان نے پانچ لاکھ جب کہ بھارت نے دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیاتھا، مگر راجہ مبشرحسن نے یہ کہہ کے پانچ لاکھ روپے کا چیک لینے سے انکار کردیا کہ اُس کا بھائی راجہ عرفان تو زندہ ہے۔ ریلوے حکام نے کہا ہاں ہاں تلاش جاری رکھیںگے مگر یہ پانچ لاکھ کا چیک وصول کرلیں تاکہ ہم تو فارغ ہوں، لیکن راجہ مبشرحسن نے اپنے زندہ بھائی کے مرے ہونے کا چیک لینے سے انکار کردیا۔ انسان کی اُمید نہ ٹوٹے تو زندگی راستے تلاش کرتی رہتی ہے۔ کسی نے لاپتہ عرفان کے والد کو بتایا کہ ''فیصل آباد کے رانا شوکت کے پانچ بچے سمجھوتہ ایکسپریس میں جل کر جاں بحق ہوئے ہیں۔ بھارت کے شہر دہلی میں ایک NGO ہے ''سائوتھ ایشین فورم پیپلز اگینسٹ ٹیررازم '' (رجسٹر) اس کے چیئرمین اشوک رندھاوا ہیں، وہ آپ کی مدد کرسکیں گے۔ اشوک رندھاوا نے رانا شوکت کی بھی بہت مدد کی ہے' لاپتہ راجہ عرفان کے بھائی راجہ مبشر حسن نے جب این جی او کا ذکر کیا تو میںنے کہا کہا اشوک رندھاوا سے میری بات کرائیں۔ یوں اشوک رندھاوا نے مجھے بتایا کہ 'بھارتی حکومت تو ریلوے انشورنس کے چار چار لاکھ کے سلسلے میں بھی خاموش تھی، وہ تو ہم نے دس دس لاکھ کے علاوہ شورکرکے چار چار لاکھ اور بھی دلوائے، بعض لاپتہ برآمدکرائے ہماری کوششیں جاری ہیں، ہم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے۔ میںنے کہا بارہ سال گزر گئے اور کتنا انتظار کیا جائے۔ لاپتہ لوگوں کے آنے کی اُمیدمیں کئی بوڑھے والدین رو رو کر بینائی گنوا بیٹھے ہیں۔ اشوک رندھاوا نے کہا کہ وہ دوبار امرتسر جیل گیا ہے۔ مگر وہ یہی کہتے ہیں کہ راجہ عرفان ان کے پاس نہیں ہے۔ میںنے کہا آپ کون ہیں ہندو ہو مگر مسلمانوں سے تعاون کی توفیق کیسے ملی؟ تو اشوک رندھاوا نے کہا ' ہمارے ماتھے پر تلک ہے' ہمارا مذہب ہندو ہے صاحب، مگر ہمارا مسلک انسان دوستی ہے۔ وہ آپ کے قرآن کا موضوع انسان ہے اور ہم وہ والا انسان بننے کی کوشش میں ہیں۔'' خیر رانا شوکت کے وسیلے سے جب لاپتہ راجہ عرفان کے والدکا اشوک رندھاوا سے رابطہ ہو چکا تھا تو راجہ مبشر حسن دو تین بار بھائی کی تلاش میںبھارت جا چکے تھے، وہ بھارت جانے سے پہلے نومبر2016 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں چلے گئے، اس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزارتِ خارجہ سے تازہ صورت حال کے بارے میں پوچھا تووزارتِ خارجہ نے نومبر2016 میں مئی2016 کی ایک چٹھی لگا کر سپریم کورٹ کو جواب لکھ دیا کہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر سے رابطے میں ہیں۔ پھر راجہ مبشر حسن نےDPO سرگودھا کو ایک درخواست دی کہ چونکہ بھارتی حاضر سروس کرنل پروہت پرساد نے تخریب کاروں کو بم فراہم کئے تھے لہٰذا اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے تاکہ ہم مرحلہ وار کارروائی کرتے ہوئے سمجھوتہ ایکسپریس  کے لاپتہ افراد کا کیس عالمی عدالتِ انصاف لے جانے کی کوشش کریں۔ اس پر ڈی پی او سرگودھا نے وہ درخواست آئی جی پنجاب پولیس کو بھیج دی۔ وہاں سے ہوم سیکرٹری پنجاب کے پاس پہنچی اور چیف سیکرٹری سے ہوتی ہوئی واپس DPO سرگودھا کے پاس آگئی اور پولیس نے بذریعہSMS اطلاع کی کہ آپ کی درخواست کارِ سرکار میں مداخلت ہے۔ بہر طورمسلسل دوڑ دھوپ، بھارت جانا پھر راجہ عرفان کی والدہ کا بیمار پڑجانا مسلسل مشکلات کے سبب گھر کی جمع پونجی زیور اور پانچ مرلے کا گھر تو پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ مگر اب کی بار بھارت کی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے لئے بھاری رقم کی ضرورت تھی۔ راجہ مبشر حسن نے سوشل میڈیا پر مخیر حضرات سے امداد کی اپیل کے طور پر تمام روداد لکھی۔ بھارتی وکیل ایل کے جنجانی کا حوالہ بھی دیا۔ اپنی بے بسی ، لاچاری اور مجبوری بھی بیان کی۔ ثبوت کے طور پر کچھ دستاویز بھی اپیل میں شامل کیں۔ مگر سوشل میڈیا اور نہ ہی جنجوعہ فیملی نے کوئی اس پر توجہ دی۔ وکیل کی 30لاکھ روپے فیس کا بندوبست کرنا جب مشکل ہوگیا تو پھر لاپتہ راجہ عرفان کے والد راجہ محمدظہور نے اپنی ساڑھے بارہ ایکڑ نہری زمین جو اُن کا کُل اثاثہ تھا۔ اُسے بھی اونے پونے میں فروخت کردیا۔ یہ غم زدہ اور بے بس خاندان اس بات پر خود کو سہارا دیئے ہوئے ہے کہ ان کے وکیل ایل کے جنجانی نے کیس بہت مضبوط بنایا ہے جس پربھارتی سپریم کورٹ نے اپنی وزارت داخلہ امرتسر جیل حکام سے پوچھا ہے کہ راجہ محمدعرفان ولد محمد ظہور کو امرتسر جیل میں کیوں رکھا ہے؟ اورکس کام کے لئے رکھا ہوا ہے۔؟'' اس بات کو دو برس بیت گئے۔ جیل حکام اورو زارتِ داخلہ نے کوئی وجہ نہیں بتائی۔ راجہ مبشر حسن سے جب میں نے کہا اس سارے کچھ کے باوجود جبکہ بھارت ہٹ دھرمی پر اُترا ہوا ہے۔ اس کی روائتی سفاکی بڑھتی ہی جارہی ہے، آپ لوگ پراُمید ہو۔ بھائی زندہ ہے، مگر بے بسی کا یہ عالم کہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی آپ کچھ نہ کرسکے تو اب مزید کیا توقع کئے ہوئے ہو، کیا ہونا چاہئے؟ تو راجہ مبشر حسن نے کہا کہ اگر بھارت اپنے جاسوس کلبھوشن کے لئے عالمی عدالت انصاف چلا گیاتو پاکستان کو سمجھوتہ ایکسپریس کے مظلوموں کے لئے بھی عالمی عدالت ِ انصاف میں جانا چاہئے۔


مضمون نگار ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP