قومی و بین الاقوامی ایشوز

  فلسطین اور کشمیر:دو مقامات ایک کہانی

بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں دنیا کی ایک نئی جغرافیائی تقسیم  کے لیے سرحد بندی کی جا رہی تھی۔ابھی بہت کچھ ذہنوں کے پردے پر تھا جسے زمین پر منتقل ہونا تھا۔ 
سلطنتوں کا دور ختم ہو رہا تھا لیکن عالمی قوتیں باندازِ دیگر دنیا پر اپنا تسلط باقی رکھنا چاہتی تھیں۔بعد کے حالات سے ثابت ہوا کہ ان کے ایسے عزائم نے دنیاکے امن کو مسلسل خطرات سے دوچار کر دیا۔کم و بیش ایک صدی بیت جانے کے بعد بھی یہ خطرات نہ صرف  برقرار ہیں بلکہ تین نسلوں کو نگل چکے ہیں۔ان خطرات کا ایک مرکز مشرقِ وسطیٰ میں ہے اور دوسرا جنوبی ایشیا میں۔ ایک کو مسئلہ فلسطین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور دوسرے کو مسئلہ کشمیر کے نام سے۔یہ دونوں خطے برطانیہ کے تسلط میں تھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے نام سے ایک نیا پودا لگایا گیا جسے سرزمینِ فلسطین اور اس کے مکینوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔اسی طرح جنوبی ایشیا میں اہلِ کشمیر کو ان کے حقِ خود ارادیت سے محروم کر دیا گیا۔اس پر کشمیریوں نے احتجاج کیا۔گویا فلسطینیوں نے عالمی قوتوں کے فیصلے کو قبول کیا  اور نہ کشمیریوں نے۔دونوں کااحتجاج مسلسل جاری ہے۔ دونوں کی تیسری نسل قربان گاہ میں کھڑی ہے۔دونوں مقامات پر حوصلے جواں ہیں۔
برصغیر میں جب تحریکِ پاکستان بر پا ہوئی اور تقسیمِ ہند کا مطالبہ سامنے آیا تویہاں کی بیدار مغزمسلم قیادت اس بات سے باخبر تھی کہ اس کا مقابلہ ایک عالمی قوت سے ہے۔یہی قوت مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں کے حقوق کے راستے میں بھی حائل ہے۔چونکہ''ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے''  اس لیے ضروری ہے کہ ان مظلوموں کی آواز میں آواز ملائی جائے جوفلسطین میں ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہیں ۔اس کی جھلک ہمیں علامہ اقبال اورقائد اعظم کے بیانات اورمسلم لیگ کی قراردادوں میں ملتی ہے۔
فلسطین کی سرزمین پر جب اسرائیل کے قیام کے لیے فضا ہموار کی جا رہی تھی تواس مقصد کو تقویت پہنچانے کے لیے دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر یہاں آباد کیا جا رہا تھا۔ فلسطینیوں نے اس پر مزاحمت کی تو آئے دن فسادات ہونے لگے۔ان فسادات کا کھوج لگانے کے لیے برطانیہ کی حکومت نے1936 ء میں'فلسطین رائل کمیشن ' کے نام سے ایک کمیشن بنایا۔اس نے مسئلے کے حل کے لیے فلسطین کی تقسیم کی تجویز پیش کی۔یہ گویا اس بات کی کوشش تھی کہ اہلِ فلسطین کو ان کی اپنی ہی سرزمین سے محروم کر دیا جا ئے۔اس کی صدائے بازگشت برصغیر میں بھی سنی گئی۔جہاں فلسطینیوں نے اسے مسترد کیا،وہاں برصغیر میں مسلم لیگ جیسی جماعت اورعلامہ اقبال جیسے شخصیت نے بھی اس پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیاا ور اسے مسترد کر دیا۔
 جولائی 1937ء میں لاہور میں صوبائی مسلم لیگ نے ایک احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا۔اس موقع پر علامہ اقبال کا جو بیان پڑھ کر سنا یا گیا،اس میں انہوں نے کہا: ''عربوں کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے،میں بھی اسے اتنی ہی شدت سے محسوس کر تا ہوں جتنی کوئی اور شخص محسوس کر سکتا ہے جو مشرقِ ِقریب کے حالات سے باخبر ہو۔'' علامہ اقبال نے اس بیان میں ان مذہبی اور سیاسی دلائل کو بھرپور استدلال کے ساتھ رد کیا جو ایک یہودی ریاست کے قیام کے حق میں دیے جا رہے تھے۔    
 اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی حالات پر اقبال کی نظر کتنی گہری تھی۔انہوں نے اسے ایک بڑے تناظر میں دیکھتے ہوئے،مسلمان راہنماؤں کو ان الفاظ میں متوجہ کیا:''موجو دہ لمحہ ایک لمحہ آزمائش بھی ہے ایشیا کے آزاد غیر عرب مسلم مدبرین کے لیے۔خلافت کے خاتمے کے بعدیہ پہلا بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کی مذہبی اور سیاسی دونوں نوعتیں ہیں جن کا تاریخی قوتیں سامنا کر نے پر مجبور کر رہی ہیں۔مسئلہ فلسطین کے امکانات انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں اس اینگلو،فرانسیسی ادارے کے تعلق سے جس کے وہ اراکین ہیں اور جسے غلط طور پر انجمن ِ اقوام کہا جاتاہے اور ایسے عملی ذرائع پر غور کریں جن سے ،مشرقی انجمنِ اقوام تشکیل پا سکے''۔
علامہ اقبال کی بصیرت دیکھ رہی تھی کہ انجمن ِ اقوام جیسے ادارے ان مسائل کو حل نہیں کر اسکیں گے جن کو تعلق عالمِ مشرق سے ہے۔اس کے لیے مشرق کی قوتوں کو اپنا ایک مرکزِ اتحاد تلاش کر نا ہو گا۔اسی جانب انہوں نے اپنے ایک شعر میں بھی توجہ دلائی:
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
یہ اتفاق ہے کہ اُنہی ماہ وسال میں کشمیر میں بھی فسادات ہوئے۔اس سے کشمیری اور غیر کشمیری مسلمانوں کے مابین بھی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔علامہ اقبال اس بات کو محسوس کر رہے تھے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر کشمیری مسلمانوں کا اتحاد کتنا ضروری ہے۔ریاست کے فسادات پر اپنے  بیان میں علامہ اقبال نے کہا:''وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ریاست میں سب مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والی ایک جماعت قائم کی جائے۔اگر کشمیر میں سیاسی رائے کے ضمن میںمکمل اتفاق حاصل نہ کیا گیا تو اس ریاست میں عوام کے مفادات کے سلسلے میں پیش رفت کے متعلق راہنماؤں کی جملہ مساعی غیر موثر ثابت ہوں گی۔''      


برصغیر میں جب تحریکِ پاکستان بر پا ہوئی اور تقسیمِ ہند کا مطالبہ سامنے آیا تویہاں کی بیدار مغزمسلم قیادت اس بات سے باخبر تھی کہ اس کا مقابلہ ایک عالمی قوت سے ہے۔یہی قوت مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں کے حقوق کے راستے میں بھی حائل ہے۔چونکہ''ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے''  اس لیے ضروری ہے کہ ان مظلوموں کی آواز میں آواز ملائی جائے جوفلسطین میں ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہیں ۔اس کی جھلک ہمیں علامہ اقبال اورقائد اعظم کے بیانات اورمسلم لیگ کی قراردادوں میں ملتی ہے۔


مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین میں ایک مماثلت وہ ہے جس کا خدشہ علامہ اقبال نے جمعیتِ اقوام کے حوالے سے ظاہر کیا تھا۔یہ واقعہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نہ اسرائیل کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمد پر مجبور کر سکی ہے اور نہ بھارت کو۔اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں موجود ہیں۔ناجائز قبضے سے لے کر ناجائز آبادکاری تک،اسرائیل  کے نامہ اعمال میں بے شمارایسے جرائم درج ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔یہی معاملہ کشمیر میں بھی ہے۔ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت سرکار نے کشمیر میں آبادی کا تناسب مصنوعی طور پر بدلنے کی کوشش کی ہے ۔ 
بھارت کا آخری بڑا حملہ کشمیرکے آئینی سٹیٹس پر ہے۔کشمیر پر بھارت کا ہر دعویٰ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے جو اسے ایک متنازع علاقہ قرار دیتی ہیں۔یہ بلاشبہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے لیکن اسرائیل کی طرح بھارت نے محض قبضے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اب غیر کشمیریوں کو یہ حق دے دیا ہے کہ وہ کشمیر میں زمین خرید سکتے اور مستقل آباد ہو سکتے ہیں۔کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے انکار کے بعد،یہ کشمیریوں کی شناخت پر دوسرا بڑا حملہ ہے۔اس بات میں اب کوئی شک باقی نہیں کہ جس طرح اسرائیل فلسطینیوں کی شناخت مٹانا چاہتا ہے اسی طرح بھارت کشمیریوں کی شناخت کے درپے ہے۔کشمیری دنیا کے ہر ضابطے کے تحت ایک قوم ہیں جسے مٹانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔
 نا انصافی اور ظلم پر مبنی اسرائیل اور بھارت کا یہ رویہ عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔بین الا قوامی تعلقات کی پیچیدگیوں سے نا واقف ایک عام آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ اگر فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو انصاف اور عالمی قوانین کے مطابق حل کر دیا جا ئے تو دنیا میں اضطراب ختم ہو سکتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے اور عالمی سیاسی قوتیں ان مسائل کو حل کرنے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ ظلم کا ساتھ دینے کی مرتکب ہیں۔اسرائیل  اور بھارت دونوں اقوامِ متحدہ کی علانیہ خلاف ورزی کرتے ہیں مگر نہ صرف یہ کوئی ان کا ہاتھ نہیں پکڑتا بلکہ ان کے خلاف قراردادوں کوویٹو کر دیا جا تا ہے۔ 
    دکھائی یہ دیتا ہے کہ ان مظلوم اقوام کو ایک بار پھر علامہ اقبال کی بصیرت کی طرف رجوع کرنا ہوگا جنہوں نے عالمِ مشرق کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے۔انہوں نے کشمیریوں کی مشورہ دیا تھا کہ وہ ایک سیاسی قیادت میں متحد ہو جائیں۔اہلِ فلسطین کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اپنے داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر آزادی کے لیے ایک سیاسی قیادت پرمتفق ہوجائیں۔
    اس بات کا کریڈٹ اہل ِفلسطین اور اہلِ کشمیر کو جاتا ہے کہ انہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے لہو سے روشن رکھا ہے۔ان کی تیسری نسلیں مقتل میں کھڑی ہیں اور ان کے چہروں پر کمزوری کے کوئی آثار نہیں۔اگر ان کی یہ جرأت بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے اور وہ ایک قیادت میں متحد ہوکر سیاسی جنگ لڑیں تو ان کا ناقابلِ شکست عزم ظالموں کو جلد جھکنے پر مجبور کر دے گا۔اس کے ساتھ لازم ہے کہ ظلم کے خلاف ان کا اخلاقی اور سفارتی سطح پر ساتھ دینے والی قوتیں بھی ہم آواز ہو کر عالمی قوتوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلائیں۔  انہیں باور کرائیں کہ اگر انہوں نے انصاف نہ کیا تو اقوامِ متحدہ جیسے اداروں پر مظلوموں کا کمزور ہوتا اعتماد ختم بھی ہو سکتا ہے۔ وہ وقت آنے سے پہلے فلسطین اور کشمیریوں کا ان کا حق دلانے کے لیے ان قوتوں کو اپنا کردار ادا کر نا چاہیے ۔وہ حق جسے دنیاکا ہر ضابطہ تسلیم کرتا ہے۔ ||


    مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ کار اورکالم نویس ہیں۔
 [email protected]    

یہ تحریر 126مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP