فکاھیہ کالم

 اُستاد اسطرلابی

  استاد اسطرلابی سے ہماری بہت عرصے تک جان پہچان رہی لیکن اس جان پہچان کی وجہ آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی، بالکل اسی طرح جیسے ان کا استاد ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آ سکا یعنی ہمیں لا جواب کرنے کے لئے یہ پوچھ لینا ہی کافی ہے کہ یہ کس چیز کے استاد تھے یا کس طرف سے استاد تھے۔ پھر یہ فیصلہ بھی خاصا مشکل ہے کہ استاد کہنے کے لئے بنیادی نقطہ ان کی شخصیت تھی یا کلام حالانکہ ان کے حوالے سے یہ دونوں '' اشیاء '' یکساں طور پر غیر اہم اور نا قابل فہم دکھائی دیتی ہیں۔استاد اپنی مخصوص ہیئت کذائی کی بدولت لوگوں کو( اور خاص طور پر شاگردوں کو ) اپنی طرف کھینچتے ضرور تھے لیکن ربڑ کی طرح کھینچتے تھے۔ جونہی استاد کی گرفت ذرا ڈھیلی پڑتی یہ چٹاخ سے سُکڑ کر اپنی جگہ واپس جا جمتے۔ استاد سے ہمارا پہلا تعارف حلیم صاحب کے ہوٹل میں ہوا تھا اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ اگر یہ تعارف اس ہوٹل میں نہ ہوتا تو کسی اور ہوٹل میں ہو جاتا کیونکہ استاد ہوٹل بدلنے کے نہ صرف شائق بلکہ ماہر بھی تھے اور ہر ماہ ڈیڑھ ماہ بعد جب دو تین سو کی ادھار چائے پی چکتے تھے چپکے سے ہوٹل بدل لیتے تھے۔جہلم سے چہلم تک اور آرٹ سے ہارٹ تک ہر موضوع پر برملا بحث کرتے اور ہمہ وقت قینچی سے شعلہ کاٹنے کی کوشش میں لگے رہتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ چراغ کی لوکاٹی نہیں جا سکتی۔
حُلیہ
استاد کا چہرہ ایسے تھا جیسے کسی بَچّے نے اخبار میں چھپی ہوئی کسی ایکٹریس کی تصویر کو قلم سے داڑھی مونچھیں لگا دی ہُوں۔ دونوں مونچھیں سختی سے تان کے رکھتے جس کے باعث چہرے پر ہمہ وقت پونے تین بجے رہے۔ناک انتہائی خطرناک تھی جبکہ ان کے اکثر شاگرد اِن کے ہمناک تھے یعنی سب کے ناک چَپّو کی طرح تھے جن پر وہ کبھی مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔
عادات و حالات و واقعات
کبھی مکمل سن نہیں بتاتے تھے جب بھی کوئی قصّہ بیان کرنا ہوتا یہاں سے شروع کرتے کہ ''یہ اٹھارہ سو کچھ کی بات ہے''…اکثر کہا کرتے کہ اُستاد اسطرلابی کی کوئی لابی نہیں ہے حالانکہ ''لابی'' کا لفظ ان کے نام میں شامل تھا۔مشاعرے میں شاعرات کو ٹکٹکی باندھ کر سنتے اور شاعروں کو کان کھڑے کر کے۔ شاعری کے علاوہ زندگی کے آخری بیس برسوں میں بس دو ہی کام کئے۔ ایک کھانا اور دوسرا کھانے کو ہضم کرنا۔جواب بھی دے رہے ہوتے تو لگتا سوال کر رہے ہیں۔کوئی پوچھتا کیا حال ہے؟
جواب دیتے آپ سنائیں آپ کا کیا حال ہے؟
اُردو بازار سے انھیں چڑ تھی ۔کہتے تھے یہ کیسا اُردو بازار ہے جہاں انگریزی کی کتابیں بھی بکتی ہیں۔ آپ کی گفتگو سے بظاہر تو یہ لگتا تھا کہ آپ کو ادب شدب کا کچھ علم نہیں مگر حقیقت یہ نہیں تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ آپ کو واقعی ادب شدب کا کوئی علم نہیں تھا۔ اکثر کہا کرتے کہ میں سیلف میڈ شاعر ہوں شیلف میڈ نہیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ کوئی مسلمان شاعر مشاعرہ نہیں چھوڑتا خواہ یہ دوزخ میں ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔ ایک بار آپ ایک مفتی کے پاس گئے اور کہنے لگے جنت کی نوید اپنی جگہ مگر یہ بتائیے کہ جنت میں مشاعرہ وغیرہ بھی ہُوا کرے گا یانہیں کیونکہ اگر مشاعرہ نہیں ہو گا تو جنت میں جانے کا کیا فائدہ؟ مفتی یہ سن کر پریشان ہو گیا اور کہنے لگا کہ واقعی کسی کتاب میں مشاعرے وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں تاہم مجھے دو دن دو میں قاضی سے مشورہ کر لوں۔ دو دن کے بعد مفتی نے انھیں بلایا اور بتایا کہ آپ کا مسئلہ حل ہو گیاہے پرسوں ہی جنت میں مشاعرہ ہو رہا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔
 ملازمت
استاد کا مزاج دریا کے پانی کی طرح تھا۔ اوپر سے ٹھنڈا نیچے سے گرم۔ اسی لئے ساری عمر میں صرف ایک مرتبہ سرکاری ملازمت کی اور وہ بھی صرف چند ماہ کے لئے۔ یہ چند ماہ بھی انھوں نے کام نہ کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا چنانچہ ایک روز ایک افسر نے تنگ آ کر انھیں جھاڑ پلا دی اور گرج کر کہا کہ آج آپ اس وقت تک گھر نہیں جا سکتے جب تک سِیٹ کا سارا کام کلیئر نہ ہو جائے۔ استاد نے یہ بات پلے باندھی اور دفتر میں ہی ٹک گئے۔ رات کے بارہ بج چکے تھے اور آپ میز پر لیٹ کر کام شروع کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہے تھے کہ چوکیدار نے دیکھ لیااور پاس آ کر گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھنے لگا ۔ سر جی! اس وقت تک یہاں؟آپ نے فرمایا کہ افسر کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں اس نے کہا تھا جب تک کام ختم نہ ہو جائے میں گھر نہیں جا سکتا۔
'' تو پھر کام ختم ہو گیا؟۔'' چوکیدار نے پوچھا۔
'' ابھی شروع ہی کہاں کیا ہے کہ ختم ہو ۔'' آپ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
مشاعرہ بازی
کل پاکستان قسم کے مشاعروں میں آپ کی شرکت کا چرچا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک مرتبہ ہم نے پوچھا استاد1962ء والے کراچی کے کُل پاکستان مشاعرے میں بھی شریک ہوئے تھے یا نہیں؟ فرمانے لگے بلوغت کے بعد کوئی ایسا کُل پاکستان مشاعرہ نہیں ہوا جس میں یہ خاکسار شریک نہ ہوا ہو۔عرض کیا کہ 1962ء  والے اس مشاعرے میں آپ نے کون سی غزل پڑھی تھی ۔ نہایت سادگی سے فرمانے لگے اس مشاعرے میں میں بطور سامع شریک ہوا تھا۔
مشاعروں میں استاد اپنا کلام خاصے خشوع و خضوع سے سنایا کرتے تھے چنانچہ جہاں کہیں انھیں پڑھنے کا موقع ملتا پورے ہال پر خاموشی طاری ہو جاتی اور مقطع پڑھنے کے بعد انھیں تالیوں کی گونج میں رخصت کیا جاتا۔
فن ِ تاریخ گوئی پر دسترس
 آپ کو تاریخ وفات کہنے کا اس قدر شوق تھا کہ جہاں کہیں جنازہ دیکھتے ادھر ادھر سے معلومات حاصل کر کے فوراً مرنے والے کی تاریخ وفات کہہ ڈالتے ۔ ایک روز آپ فجر کی نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک درخت کے نیچے ایک چڑیا مری ہوئی دیکھی۔ فی الفور ایک قطعے میں اس کی تاریخ وفات قلمبندکر ڈالی ۔ شام کو جب دو زانو شاگردوں کو یہ قطعہ سنایا تو ایک نے پوچھا! یا حضرت تاریخ وفات تو ہمیشہ بڑے لوگوں کی کہی جاتی ہے یہ آپ نے چڑیا کی تاریخ ِ وفات کیسے کہہ دی ۔ فرمانے لگے میری نظر میں بڑا چھوٹا، انسان حیوان چرند پرند سب برابر ہیں۔ سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ بڑے لوگوں کی تاریخ وفات تو سبھی کہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اس غریب کی تاریخ وفات بھی کہہ دی جائے تو کیا حرج ہے۔ واضح رہے کہ استاد بعض اوقات انگریزی میں بھی تاریخِ وفات نکال لیا کرتے تھے ۔
ترنم
استاد ایک مترنم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قادر الکلام افسانہ نگار بھی تھے نیز بوقت ضرورت ''لوک شاعری'' بھی کر لیتے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ شاعری کی طرح افسانے بھی ترنم سے پیش فرمائیں تاہم اس ضمن میں انھیں چنداں کامیابی نصیب نہ ہو سکی ۔ جب یہ ترنم سے غزل پیش فرماتے تو یوں لگتا جیسے کسی طبلچی کے آگے گھی کا خالی کنستر رکھ کر اسے فن کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔جو کاتب ان کے افسانے لکھتا  ان سے ہمیشہ تنگ رہتا کیونکہ پہلی پروف خوانی کے بعد استاد صبح ہی صبح بازار سے آدھ پاؤ زبریں، ڈیڑھ پاؤ زیریں، ایک چھٹانک فل اسٹاپ اور دو تولے پیشیں لا کر اسے تھما دیتے کہ یہ سب اس افسانے میں لگا دو۔
مشہوری کا لپکا
غالب اور میر کی گفتگو کرتے کرتے اچانک ایک شعر پڑھ دیتے اور مخاطب سے پوچھتے یہ کس کا شعر ہے؟ جب مناسب جواب نہ ملتا تو فرماتے یہ میرا شعر ہے تجھے اتنا بھی پتہ نہیں، عبدالشکور نے میری یہ غزل کئی مرتبہ گائی ہے۔ مشاعروں میں اپنے مقام کو بہت اہمیت دیتے تھے ان کا کہنا تھا کہ مقام بدل جانے سے نام بھی بدل جاتا ہے اور مفہوم بھی اور اہمیت بھی ۔بال جو ناک کے نیچے ہوتے ہیں مونچھ کہلاتے ہیں اور جو ٹھوڑی کے نیچے ہوتے ہیں ڈاڑھی کہلاتے ہیں۔ وصیت کر رکھی تھی کہ ان کے لوحِ مزار پر ان کی ایک غزل اور ایک نظم دونوں کندہ کرائی جائیں تاکہ فاتحہ کے لیے آنے والوں کو علم ہو سکے کہ یہاں کس پائے کا شاعر دفن ہے۔آخری عمر میں آغا حشر کاشمیری کی یاد میں '' مجلسِ حشر'' اور شور علیگ کی یاد میں '' مجلسِ شور'' بنانے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔
معاصرانہ چشمک
اُستاد اسطرلابی اپنے ہمعصر اُستاد ہرفن دہلوی کے سخت خلاف تھے اور اسے ''حرفاً دہلوی'' لکھتے تھے ۔اکثر کہتے کہ ''حرفاً دہلوی'' جیسے ادیبوں کو نا پسند کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔میں لیجنڈشاعر ہوں اور وہ لیچڑ شاعرہے۔ اس سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی اگر یاد آ جائے تو میں اس مقام اور تاریخ کو منحوس قرار دینے میں ایک لمحے کا تامل نہ کروں مگر افسوس کہ یادداشت ساتھ نہیں دے رہی۔ہر فن صاحب ایک پلازے کی آٹھویں منزل کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔چنانچہ اُستاد اسطرلابی پھبتی کَستّے ہوئے اکثر کہتے ''فلیٹ میں رہتا ہے اسی لیے اس کی شاعری بھی فلیٹ ہے ۔ بُلندی پر وزن ہمیشہ کم ہو جاتا ہے اور اس کے اکثر مصرعوں کا وزن اسی لیے ہوتا ہے کہ وہ بُلندی پر یعنی آٹھویں منزل پر رہتا ہے۔ اس کے صرف کلام کی نہیں کردار کی اصلاح بھی ضروری ہے کیونکہ یہ ان شعراء میں سے ہے جن کی وفات پر افسوس کی بجائے پیدائش پر افسوس ہوتا ہے۔ ہمہ وقت کسی نوجوان قافیے کی کسی بوڑھی ردیف کے ساتھ عقد ثانی کی کوشش میں لگا رہتا ہے میرا بس چلے تو میں اس کا نام پرائڈ آف نو پرفارمنس کے لیے recommend کر دوں ۔ ''
ایک بار بیٹھے بیٹھے پوچھنے لگے، سلفیورک ایسڈ کس کام آتا ہے ؟مخاطب نے کہاجلانے کے کام آتا ہے۔چہک کر بولے ،اس کا مطلب یہ ہواکہ میری شاعری سلفیورک ایسڈہے جو ہر فن دہلوی کو جلانے کے کام آ رہی ہے۔
جیل یاترا
 ایک مرتبہ جیل گئے اور دوسری بار جاتے جاتے بچے۔ بچنے کی امید تو نہ تھی لیکن اس بار ان کے دوسرے سسر کی سفارش کام آ گئی جو تازہ تازہ غبن کے کیس سے با عزت بری ہوئے تھے ۔ پہلی مرتبہ آپ خود کسی سے لڑ پڑے تھے جبکہ دوسری بار کوئی اور آپ سے جھگڑ پڑا تھا۔ مار دونوں مرتبہ آپ کو ہی پڑی تھی۔
اعزازات
    ایک کتاب پر ادبی کمیٹی نے آپ کو اول انعام کا حقدار ٹھہرایا ۔ اس ادبی کمیٹی کے سربراہ بھی آپ خود ہی تھے۔ ||


مضمون نگار ایک ممتاز ادیب ہیں۔ شاعری اور نثر کے حوالے سے متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]


 

یہ تحریر 176مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP