کل کا ہیرو شیما آج کا بہترین سیاحتی شہر

جاپان میںقیام کے دوران میں نے تاریخی شہر ہیروشیما کا دورہ کیا۔ 73سال پہلے 1945میں امریکہ نے اس شہر پر ایٹم بم گرایا اور اسے مقامِ عبرت بنا دیا۔ امریکہ کے

B-29

بمبار طیارے سے گرائے جانے والے اس ایٹم بم سے چند لمحوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ ہیروشیما پر بم گرانے کے تین دن بعد امریکہ نے ایک اور جاپانی شہر ناگا ساکی پر بھی ایٹم بم گرایا جس سے لمحے بھر میں 80ہزار سے زائدانسانوں کی ہلاکت ہوئی۔

ہیرو شیما اب ایک بالکل مختلف شہرہے۔ دنیا سے آنے والے سیاح ٹوکیو کے بعد سب سے زیادہ ہیرو شیما کی سیاحت کرتے ہیں۔ ٹوکیو سے بلٹ ٹرین کے ذریعے 980کلو میٹر کی یہ مسافت تقریباًچار گھنٹے اور بیس منٹ میں طے ہوتی ہے۔ہم بھی اسی ٹرین کے ذریعے

Kyoto

اور

Osaka

کے راستے ہیروشیما پہنچے۔دو دریائوں کے کناروں پر بسا ہیروشیما ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ ریلوے سٹیشن کے ساتھ سیاحوں کے لئے اعلیٰ اور اوسط درجوں کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔ریلوے سٹیشن ہی سے

سیاحوں کے لئے مخصوص بسیں چلتی ہیں۔ اگر آپ نے جاپان کی سیاحت کے لئے غیر ملکیوں کے لئے جاری کئے جانے والے ریل ٹکٹ لئے ہوئے ہیں تو آپ ہیرو شیما کی سیاحتی بسوں میں بھی اسی ٹکٹ پر مفت سفر کر سکتے ہیں۔ 33ہزار ین(جاپانی کرنسی) یعنی تقریباً تین سو ڈالر میں لئے جانے والے اس ٹکٹ کے ذریعے آپ جاپان کی تیز رفتار بلٹ ٹرین میں ایک ہفتے تک کہیں بھی جتنی بار چاہیں آ اور جا سکتے ہیں۔ عام جاپانی شہری کے لئے ٹوکیو سے ہیروشیما کا دو طرفہ کرایہ تقریباً بیالیس ہزار ین ہے۔ جسے صرف ایک بار استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن سیاحوں کے لئے خصوصی طور پر جاری کئے جانے والے اس''ریل پاس'' سے آپ جاپان بھر میں لا محدود سفر کر سکتے ہیں۔ یہ سیاحتی پاس صرف ان  افراد کو دیا جاتا ہے جو ویزٹ ویزا پر جاپان آئے ہوں۔

آج کا ہیروشیما دنیا کا ایک جدید ترین شہر ہے۔ جاپانی قوم نے اس شہر کی تعمیر نو کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ" راکھ "بننے والی اس سرزمین کو بھی         " گل و گلزار" کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ویسے تو ہیرو شیما میں دیکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن اس شہر کے دو مقامات ایسے ہیں کہ جہاں ہمہ وقت سیاحوں کا  ہجوم رہتا ہے۔ایک وہ مقام ہے جسے

Bomb Dome

کہا جاتا ہے۔ یہ کئی منزلہ ایک ایسی عمارت ہے جس کا ڈھانچہ ساخت کی مضبوطی کی وجہ ایٹمی حملے سے کسی حد تک بچ گیا تھا۔ تا ہم اس کے تمام مکین اور ساز و سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ اس عمارت کے ڈھانچے کی دیواروں پر اب بھی انسانی جسم اور یہاں کبھی موجود چیزوں کے سائے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ابتداء میں ان سائیوں کو جن اور بھوت کے سائے قرار دیا جاتا تھا لیکن جدید سائنسی تحقیق کا کہنا ہے کہ یہ سائے ایٹمی شعائوں کے انسانی جسم سے گزرنے کے بعد "ایکسرے "کی طرز پر ان دیواروں پر ظاہر ہوئے ہیں۔اس عمارت کے گرد مضبوط جنگلہ لگا کر سیاحوں کو اندر جانے سے روک دیا گیا ہے تا ہم خصوصی اجازت سے اسے اندر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اس تاریخی عمارت کے اردگرد اب ایک خوبصورت پارک اور دریا رواں دواںہے۔ جہاں دنیا بھر کے سیاحوں کا ہجوم تصویریں بناتا نظر آتا ہے۔

ہیروشیما کا دوسرا اہم ترین مقام

Peace Memorial Park

یا ''یاد گارِ امن پارک'' ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایٹمی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد اورشہرکی ہولناک تباہی کی یاد میں سالانہ تقریب ہوتی ہے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اس تقریب میں جاپانی قوم اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے اپنی  حتی المقدورکوششیں کریں گے۔   

ہم نے بھی ہیروشیما میں قیام کے دوران ان تمام یادگاروں کا دورہ کیا۔ خاص طورپر یادگارِ امن پارک میں قائم ہیروشیما میوزیم بہت حدتک ایک زندہ تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کے مثالی ملک جاپان نے اس میوزیم میں اپنے اس ہولناک تاریخی لمحے اور اس کے اثرات کو جس طرح محفوظ کیا ہے اس سے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں اس میوزیم کو منفرد مقام حاصل ہے۔ اس میوزیم کے دورے کے ذریعے آپ ایٹم بم گرائے جانے سے پہلے کے سرسبز و شاداب دریائوں کی سرز مین ہیروشیما میں زندگی کی چہل پہل دیکھتے ہیں اور پھر اچانک ایٹمی دھماکے کے صوتی اور تصویری اثرات آپ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ چند لمحوں میں ہنستا بستا شہر راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے اور پھر انسانیت کے اس اذیت ناک عمل کے اثرات سے نسلیں کیسے متاثر ہوئیںا نہیں دیکھ کر سیاحوں کے دل لرزجاتے ہیں اور قوت گویائی سلب ہو جاتی ہے۔

 ہیروشیما میں ایٹمی تباہی اور اس کے اثرات پر بہت سی تحقیقی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔انہی میں سے ایک کتاب میں ہے کہ ایٹمی حملے کے بعد زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ایٹمی حملے کی چندھیا دینے والی چمک سے آنکھوں کو بچانے کے لئے میں نے ہاتھ اٹھائے تو میرے چہرے اور ہاتھ کا گوشت لٹک گیا۔ ہر طرف لوگ مدد کے لئے پکار رہے تھے۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ان کے جسم کے اعضاء الگ کیوں ہو رہے ہیں۔ گوشت کیوں پگھل رہا ہے۔ لوگوں کی آنکھیں ، ان کے چہروں سے باہر لٹک رہی تھیں اور ان کے حلقے خالی تھے۔ تابکاری کے اثرات سے ان کے بال گر رہے تھے اور جسم پر دھبے نمودار ہو رہے تھے۔ اس اذیت سے گزرنے والے موت کی دعا کر رہے تھے۔ ایٹمی حملے کے ساتھ ہی موت کی پہلی لہر نے ہزاروں افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔ دوسری لہر نے لاکھوں کو اور تیسری لہر نے اذیت کا ایسا منظر دکھایا کہ لوگ پہلی اور دوسری لہر میں مرنے والوں پر رشک کرنے لگے۔

ہیروشیما پر برسایا جانے والا بم 6اگست1945کو صبح آٹھ بج کردس منٹ پر زمین کی سطح سے تقریبا1800فٹ بلندی پر پھٹا۔ جس کی تابکاری کے اثرات نصف صدی سے زائد عرصے تک دیکھنے میں آتے رہے۔قابل تعریف اور قابل تقلید ہے جاپانی قوم کہ اس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر برسائے جانے والے ایٹمی بموں اوردوسری جنگ عظیم میں ٹوکیو اور دوسرے شہروں میں شدید بمباری اور عظیم جانی اور مالی نقصان کے باوجود ہمت نہ ہاری اور اپنے ملک کو اب دنیا کی نہ صرف یہ کہ تیسری بڑی معیشت بنا دیا ہے بلکہ دنیا بھر میں امن اور بھائی چارے کے قیام میں ہر اول دستے کا کردار ادا کررہی ہے۔یہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔


مضمون نگار سینیئر صحافی اور کالم نویس ہیں

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP