کلامِ اقبال میں عقل و عشق کی ماہیئت وحقیقت

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

عصر حاضر سائنسی فتوحات سے عبارت ہے ۔ کائنات میں عقل کی کرشمہ کاریوں کے سلسلے میں علامہ اقبال کے اشعار سے پیش بینی اور دوربینی کا سراغ ملتا ہے :

حقیقت ایک ہے ہر شے کی نوری ہو کہ خاکی ہو

لہو خورشید کا ٹپکے ،اگر ذرے کا دل چیریں

خاص طور پر یہ شعر تو سائنسی عقل کی ایٹم اور اس کے اندر کے جہان ِ تخلیق کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے ۔اہل دانش و بینش بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔مگر اصل مسئلہ عامتہ الناس کا ہے ۔اگر ہم پچھلی دوسو سالہ تاریخ ِ عالم پر نظر دوڑائیںتو پتہ چلتا ہے کہ اذہان ِ انسانی نے جو جو کرشمے دکھائے ہیں انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔قدیم یونانی ،ایرانی ، عربی اورہندوستانی فلسفۂ مابعدالطبیعیّات سے تعلق توڑ کر یہ آدم زادہ طبیعیّات کی دنیا میں داخل ہو چکا ہے ۔یہ عقل انسانی کے عروج کا زمانہ ہے۔دوسری طرف عقل کی ماہیئت ،اہمیت اور حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے ہمیں کلام اقبا ل کے مطالعے یا فکر اقبال کی تفہیم کے دوران ایک مخمصہ لاحق ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ان کے کلام میں ، وہ فارسی ہو یا اردو ، عقل کی تکفیر اور تحقیر کا تاثر نمایاں ہے ۔وہ عقل کے تناقص اورعیاری کی بات بھی بہ بانگ دُہل کرتے ہیں ۔ اسرار ِ خودی اوربانگ ِ درا (اردو مجموعہ اول )سے ارمغا نِ حجاز (آخری مجموعہ ٔ کلام )تک جابہ جا ، عقل و عشق کا معرکہ اور عشق کے مقابلے میں عقل کو کہتر بتایاگیا ہے:

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ واعظ نہ حکیم

اقبال کا نوآموز قاری فیصلہ نہیں کرپاتا کہ کسے قبول کرے اور کسے رد کرے۔ ادھر ہماری قوت ناقدہ ،الا ماشاء اللہ،رجحان طبع یا محدود علمی استعداد یا تن آسانی کے باعث اقبال کے کلا م میں محسوس ہونے والے اس مخمصے کو دور کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اس مخمصے سے خود دور ہو جاتی ہے کہ اقبال کے یہاں یہ تضاد ہے۔ بعض افراد اس تضاد کو 'اقبال کی فکر' کو عصری ترتیب ِ نواور فکری ارتقا سے تعبیر کرتے ہیںاور بس! وہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دے کر اور اقبال کے دستیاب شدہ اشعار نقل کرکے اپنی ناقدانہ ذمہ داری سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی رہی کہ علامہ اقبال صرف شاعر ہی نہیں ایک فلاسفر بھی تھے ۔ بقول  ڈاکٹروزیر آغا :

''جہاں شاعر اور فلاسفر ایک ہی شخصیت کے بطون میں سرگرم عمل ہوں تو ترسیل کا المیہ جنم لیتا ہے۔ اس لئے کہ شاعر جس اشاراتی اور تمثیلی زبان میں بات کرتا ہے وہ فلاسفر کی منطقی اور دو ٹوک قسم کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ان دونوں زبانوں کو لسانیات کی ایک ہی کنجی سے کھولنے کی کوشش کی جائے تو بہت سے فکری مغالطے جنم لیتے ہیں۔ ۔۔''

اس مضمون میں عقل وعشق کے تصورات اور ان دونوں اصطلاحات میں فرق اور عقل کے حقیقی تصور ِ اقبال کی گرہیں کھولنے کی ادنیٰ و عاجزانہ سی کوشش کی گئی ہے۔ تعمیرِ خودی کے سفر میں نیابتِ الٰہی کا مستقر ہو ،اخوت و محبت اور فلسفۂ زمان و مکاں ہو ، رفعت انسانی کا ظہور ہو کہ سیاسیات عالم میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی آنکھ مچولی، یا رُوحانیت ، دینیات و الہٰیات ،ہر میدان فکر ، فکر و فلسفہ ٔ اقبال سے نمو پاتا ہے۔ فکرِ اقبال، ہمہ جہت ہے۔ مگر ہم فکر ِاقبال کی جملہ جہات کی تفہیم و تعبیرسے صَرفِ نظر کرتے ہوئے عقل و عشق کے حوالے سے اقبال کے فکری مراحل پر ارتکاز کرتے ہیں۔یہ ایک دیرینہ سوال ہے کہ عشق اور عقل کا آپس میں کیا تعلق ہے ،یہ تعلق تصادم کا ہے یا اتصال کا۔اردو شاعری میں عام طورپر (خصوصاً ایسی شاعری میں جس پر تصوف کا تڑکا لگا ہو) صوفی و ملا کو علی الترتیب عشق اور عقل کی علامات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ملاّ شریعت ِ دین اور صوفی طریقت ِدین کا مسافر سمجھاجاتا ہے۔  جس کی روسے ملاّ ظاہری عمل اور صوفی داخلی عمل کا داعی ہے۔ لیکن اقبال کے ہاں جس عشق کا تصور ملتا ہے وہاں تو وہ صوفی و ملا دونوں کو عقلی سطح پر دیکھتا ہے۔ وہ صوفی و ملاّ کو عقل ہی کی چال سمجھتا ہے :

زمن بر صوفی و ملا سلامے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ پیغام خدا گفتند مارا

ولے تاویل شاں در حیرت انداخت۔ ۔۔۔ خدا و جبرئیل و مصطفی را

یا پھر :

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بے چارہ، نہ ملا ہے، نہ واعظ، نہ حکیم

اس شعر میں بھی واعظ و ملا اور حکیم ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور یہ تینوں عقل کی عیاریوں کی تخلیق ہیں۔ گویا اقبال کے ہاں وہ عشق جوعقل کے مقابل کھڑا ہے وہ عشق کے روایتی تصوّر سے الگ ماہیئت اور اہمیت کا حامل ہے۔ اس تقابل میں سب سے پہلے عقل پر بات کرتے ہیں۔

اقبال کے ہاں عقل کے ساتھ خرد کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ خرد فارسی اور عقل عربی زبان کا لفظ ہے دونوں کے معانی فہم و ادراک اور علم کے ہیں۔ انہوں نے عقل و عشق کے موازنے کے بعد عشق کی تحسین و تکبیر اور عقل کی تحقیر و تنقیص کی ہے۔ انہوںنے عقل کی مصلحت اندیشی کو عقل کے استحکام اور عشق کے خام ہونے کا باعث بتایا ہے۔کہیں انہیں عشق تیقّن اور عقل تشکّک کا سرچشمہ محسوس ہوتی ہے۔ کہیں عشق سراپا حضور و اضطراب اور علم (عقل)سراپا حجاب نظر آتا ہے۔کہیں وہ عشق کے بغیر شرع و دین کو بت کدہ ٔ تصوّرات قرار دینے پر مُصِر ہیں۔ جب زندگی کے نکھار اور سنوار کو عمل سے مشروط کرتے ہیں تو بھی عقل کے بجائے عشق پر اعمال کی بنیاد رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ان کی نظر میں عقل ابن الکتاب ہے جبکہ عشق ام الکتاب ہے۔ان کا ایمان ہے کہ عشق کے تار ہی سے زندگی کے نغمے پھوٹتے ہیں۔ عقل کے لئے انہوںنے اپنے کلام میں خرد، علم اور دماغ اور منفعت و قناعت(کیش)کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ عقل چون وچرا ، گومگو، اگر مگر اور لیکن کے پیچھے پناہ لیتی ہے جبکہ عشق بے خطر آتشِ نمرود میں کود پڑتا ہے۔ اقبال نے جس شدو مد سے عقل کی تحقیر و تنقیص کی ہے اس پر قاری کا مخمصے میں گرفتار ہونا ایک فطری امر ہے۔ جبکہ قرآن نے متعدد جگہ غور و فکر کرنے اور ہوش سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔  اس کے برعکس اقبال نے عشق کو منبع و مصدر بنایا۔ عشق ہر چند عربی زبان کا لفظ ہے۔ لیکن لفظ عشق قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں ہے یہاں تک کہ جاہلی دور کے شعرا کے کلام میں بھی یہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔اقبال نے مثنوی میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اگر میرا ایک لفظ بھی قرآن سے باہر ہو تو مجھے قیامت کے روز خوار و رسوا کرنا۔ :

گر بحرفم غیرِ قرآن مضمر است

روز محشر خوار و رسوا کن مرا

اگر اس دعوے پر یقین کرلیا جائے تو پھر یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا عبدالسلام ندوی کہتے ہیں :

'' جن معنوں میں رومی اور فارسی کے شعرائے متصوفین اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں ،وہ معنی فلسفہ ٔ اشراق کے دروازے سے اسلامی فلسفہ و تصوف اور ادبیات میں داخل ہوئے۔ حکمة الاشراق کا اساسی نظریہ یہ ہے کہ ہر بلندنور کو نیچے کے نور پر غلبہ و اقتدار حاصل ہے اور نیچے کا نور بلند نور سے محبت رکھتا ہے۔ غلبے کے لئے قہر کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور محبت کے لئے مہر کا لفظ اور اسی قہر و مہر سے نظام ِ عالم کا وجود وابستہ ہے۔ اسی کے ساتھ یہ نظریہ وابستہ ہے کہ تمام ہستی خدا سے سرزد ہوئی ہے۔ سرزد ہوجانے کے بعد وہ جدائی سے بے تاب ہو کر پھر اپنی اصل سے متحد ہونا چاہتی ہے۔ کل شی ء الیٰ اصلہ:''

عقل اور عشق کے اس مبہم تصور کو ،جو سطحی مطالعہ ٔ ا قبال کا پروردہ ہے ،کلام اقبال کے غائر مطالعے اور مرشد رومی کے عقل وعشق کے تصور سے بخوبی، بآسانی بے ابہام کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ عقل و عشق کے لطیف امتیازی اوصاف کے ضمن میںاقبال اپنے مرشد ِ عرفان مولانا روم کا خوشہ چین ہے۔ رومی کے ہاں بھی عقل و عشق کا متعد د حوالوں سے تقابل ملتا ہے۔ مولانا روم اور اقبال کے عہد وں کا موازنہ کریں تو قریب قریب ایک سے حالات ملتے ہیں۔ یعنی سوسائٹی ایک طرح کے عوارض میں مبتلا تھی۔ چنانچہ ان عوارض کا علاج بھی ایک تھا اسی لئے اقبال نے اپنے عہد کے عوارض کے لئے پیر رومی سے رجوع کیا۔

مولانا روم کے دور میںایک حلقہ فکر خدا تک پہنچنے کے لئے عبادت و اتقا کے ذریعے ثواب آخرت کا طلبگار تھا۔ دوسرافلسفہ اور علم الکلام کے ذریعے حقیقت ِ کلی تک پہنچنے پر یقین رکھتا تھا اور اس کے مقابلے میں عبادت اور عقل کی کارفرمائیوں کو اسفل خیال کرتا تھا:

یک زمانہ صحبتِ با اولیائ

بہتر از صد سالہ طاعت بے  ریا

اس کا خیال تھا کہ اولیائے عظام کی صحبت میں اگر بیٹھ ہی لیا جائے تو وہ سوسال کی خالص عبادت سے بہتر ہے۔ کیونکہ اولیاء ہی عارف عبادت ہیں اور ان کی صحبت میں عبادت کے حقیقی اسرار منکشف ہو سکتے ہیں۔ ان کی ایک نگاہ سے تقدیر بدل سکتی ہے۔ بقول مولانا روم

پائے استدلالیاں چوبیں بود

پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

 اقبال کے ہاں ہمیں موخرالذکر مسلک ِ حیات کے بھی اشارے ملتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں :

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

لیکن اقبال نے اسرار خودی میں ایک جگہ اسی عقل کی اہمیت کو یوں بیان کیا ہے

زندگی سرمایہ دار از آرزوست

عقل از زائیدگانِ بطنِ اوست

وہ دور موجود کی مادی سائنس کی بنیاد پر قائم زندگی کی عمارت کو ناقص سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس عقل کی تنقیص کی جس نے روح کی بالیدگی کو مادے کی کثافت اور رغبت سے آلودہ کردیا تھا۔ اقبال اس عقل کے مقابل اس عشق کو لاتے ہیں جو صوفیانہ جذب و مستی اور دنیا سے بے زاری کا سبق نہیں دیتا بلکہ قوتِ حیات اور قوتِ تخلیق کا مرکز و مصدر ہے۔ عقل کی عیاری اوروہ شعبدہ کاری جس نے فکریاانتشارکو جنم دیاہے اور وہ خدا اور روح کے ساتھ تمام اقدار اور مابعد الطبیعیّات اور ورائے مادہ حقائق کا انکار کرتی ہے ،اقبال کی عقلیت اس سے جدا ہے۔ وہ عالم آب و گل اور مادے کی حقیقت سے بیزار نہیں اور نہ ہی وہ مادے کا انکار کرتی ہے۔ ورنہ اقبال سے اس طرح کے اشعار سرزد نہ ہوتے :

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں علاج تنگیٔ داماں بھی ہے

 وہ آدم کو نئے آفاق اور نئی دنیائوں کی تلاش پر روانہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر

 ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

۔۔۔۔۔۔۔۔

اقبال عالم ِ مادہ سے گریزاں نہیں۔بلکہ وہ اایک طرف اس مادی دنیا میں آب و گِل کی اہمیت بیان کرتا ہے تو دوسری طرف نئی بستیاں بسانے پر اکساتاہے :

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد

مگر حضرت انسان کے لئے صرف بستیاں ہی بسانا اصل حیات نہیں بلکہ ان میں زندگی کو فروغ دینا مقصد حیات ہے۔ ایک ایسے مستحکم انسانی معاشرے کی تشکیل جو اخوت کی جہاں گیری اور محبت کی فراوانی سے عبارت ہو۔چنانچہ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں:

جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا

یہ سنگ وخشت نہیں ، جو تری نگاہ میں ہے

وہ تلقین کرتے ہیں :

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سِرِّ آدم ہے ضمیر کُن فِکاں ہے زندگی

اسی طرح کے دسیوں بیسیوں نہیں سیکڑوں اشعار اقبال کے کلام میں موجود ہیں، جو عقل کے اثبات میں بطورنظیر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اقبال انسان کو اپنی خفی و سِرِّی صلاحیتوں کو کام میں لانے کے جس جذبے کو آنچ دیتاہے ،جس قوت کو تسخیر کائنات کا ذریعہ قرار دیتا ہے وہ عشق ہے۔ اسی عشق کو اس نے کہیں صدقِ خلیل کہا ہے ، کہیں صبرِ حسین کہا ہے۔ کہیں وہ اسی عشق کو نورِ حیات اور نارِحیات کہتا ہے۔ یہی عشق خُدا کا رسول ہے یہی عشق خدا کا کلام ہے اور یہ عشق خودی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے: ع

تعمیر خودی کر اثرِ آہِ رسا دیکھ

۔۔۔۔۔

زمین و آسماں و کرسی و عرش

خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

 (تعمیر خودی کے لئے اس نے تین مدارج :توحید،رسالت اور نیابت الہٰی، اقبالیات کا الگ موضوع ہے جس پر گفتگو کے لئے طویل دفتر درکار ہیں) چنانچہ مشرقی تصوف میں فنافی اللہ اور بقاباللہ کے تصور سے اقبال کا مفہوم بالکل الگ ہے۔کیونکہ اقبال نے عشق کی جو تعبیر و تشریح کی ہے وہ مشرقی تصوف کے تصورِ فنا کے مراحل سے بالکل مختلف اور انسانی افادیت اور بقائے حیات سے منسلک ہے۔عشق کی طاقت سے انسان بندہ ٔ آفاق کے بجائے صاحب ِ آفاق بن کر''مردِ مومن'' کی وہ اہلیت حاصل کرلیتا ہے جو اسے دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کرتی ہے :

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

یہ کوئی ہوائی یا خیالی تصور نہیں ہے بلکہ قرن ِ اول میں مسلمانوں کا فاتح عالم ہونا اس کی عملی نظیر پیش کرتا ہے :

 ہفت کشور جس سے ہوں تسخیر بے تیروتفنگ

تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

وہ سامان عشق کی طاقت کے سوا اورکیا ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا کیا اور پھر گراوٹ کی طرف موڑ کر اسے جنت گم گشتہ کی تلاش کا راستہ بتایا ہے جو احسنِ تقویم کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ اس کارزارِ عمل ، جہادِ زندگانی میں جو شمشیریں بھی عطا کی ہیں :

یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتحِ عالم

جہاد زندگانی میں یہ مردوں کی ہیں شمشیریں

 قرآنِ پاک حضرتِ انساں کو غور وفکر اور تدبر و حکمت کی دعوت دیتا ہے۔ مطالعۂ کائنات کے لئے اکساتا ہے اور اس کائنات میںکوئی نقص، کجی اور کمی تلاش کرنے کاچیلنج دیتا ہے یہ سب کچھ عقل ہی سے ممکن ہے۔ انسانی زندگی کا ارتقائِ عقل کی کرشمہ کاریوں کا اعجاز ہے۔ چنانچہ اقبال کے ہاں جس عقل کی تحقیر ہے اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ مولانا روم نے اس عقل کی اقسام بیان کی ہیں۔ ایک جمادی عقل ہے اور ایک نباتی عقل۔ ایک حیوانی عقل ہے۔ ایک انسانی عقل او رعقل نبویۖ ہے۔ دوسری طرف ایک عقلِ حسی یا عقلِ طبیعی ہے۔ وہ ایک اخلاقی یا روحانی یا وجدانی عقل ہے۔ اقبال جیسے لوگ عشق والی عقل کو حسی اور طبعی اور منطقی عقل سے بالا تر خیال کرتے ہیں۔ وہ اس سے کم تر عقل کے منکر نہیں لیکن جب یہ جزوی عقلیں اپنے آپ کو عقلِ کل کہنے لگتی ہیں اور وجدانات کے سامنے رکاوٹ بن جاتی ہیں تو خواہ مخواہ ان کی کوتاہی کی قلعی کھل جاتی ہے۔ عقل کے بارے میں مولانا روم کا مؤقف ڈاکٹر میر ولی الدین ،آسائش و زیبائش ، لذت و آرام کی طالب اور منفعت ِ خویش کی غایت رکھنے والی عقل جب زمام ِ امامت ہاتھ میں لے لے تو اس کا نتیجہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔ ایسا شخص جو اس عقل کو اپنا امام کرتا ہے وہ حقیقی اقدارِ زندگی سے بے خبر ہے۔ عقل ایسے شخص کے پائوں کی زنجیر ہے۔ ایسی عقل کام بیں ہے دام بیں نہیں ، یہ محض امور دنیوی میں مشغول رہتی ہے۔ اقبال نے اسی عقل کی تحقیر کی ہے۔ اقبال اس عقل سے بہرمندہونے پر زور دیتے ہیں جو وجدان سے ہم آغوش ہے۔ جوعقل محض حواس خمسہ کے تابع ہے یعنی جسے ادراک کے لئے حواس خمسہ ظاہری کی محتاجی ہے۔ اس عقل کے محدود ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ چند لمحے کے لئے برف کی ڈلی ہاتھ میں پکڑے رکھیں اور اس کے بعد وہی ہاتھ یخ ٹھنڈے پانی میں ڈالیں تو آپ کو وہ پانی گرم لگے گا۔اسی طرح قوتِ باصرہ کی مثال لے لیں۔ سامنے سے آتی ہوئی روشنی کی چکاچوند میں آنکھ دیکھنے سے قاصر ہو جاتی ہے۔ قوتِ ذائقہ کی مثال لیں تو ہم دیکھتے ہیں ایک انسان اگر مٹھائی کھا کر میٹھی چائے پئے تو چائے پھیکی لگتی ہے۔ سامعی قوت کی مثال لیجئے۔ اگر تیز ہارن بج رہا ہو تو آپ کے موبائل پر بجنے والی بیل آپ کو سنائی نہیں دیتی۔ گویا لامسہ ، باصرہ ، ذائقہ ، سامعہ اور شامہ، سب کی سب قوتیں حقائق کے ادراک کے لئے دیانت سے کام نہ کرسکیں توایسی قوتوں پر کہاں تک اور کیونکر تکیہ کیا جاسکتا ہے، کہاں تک سفر مراد جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اسی عقل کو اقبال نے عشق کے مقابلے میں ہمیشہ کَہتر اور اسفل السّافلین قرار دیا ہے۔ چند مزید اشعار دیکھئے :

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اور

نکل جا عقل سے آگے کہ یہ نور

چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے

 اس شعر میں وہ چراغِ رہ گزر کی ماہیئت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

خرد سے راہرو روشن بصر ہے

خرد کی ہے چراغ رہ گزر ہے

مراد یہ ہے کہ عقل کے بغیرزندگی کی رہ گزر تاریک ہے جس میں مسافر کے لئے سفر محال ہے مگر جیسے ہی وہ گھر کے دروازے پر پہنچتا ہے تو چراغ رہ گزر کی روشنی کی ضرورت نہیں رہتی۔ عقل کہ جس کی حدود کا ذکر ہم کر چکے ،اس کا کردار وہاں تک ہے۔ لیکن ضربِ کلیم میں انہوںنے عشق کو جس عقل کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا ہے اس کا سرچشمہ قرآن ہے :

عشق اب پیرویٔ عقلِ خُدا داد کرے

آبرو کو چہ ٔ جاناں میں نہ برباد کرے

کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے

یا کہن روح کو تقلید سے آزاد کرے

واضح رہے کہ اقبال اور مولانا رُومی کے ہاں عشق کا تصور بھی عجمی تصوف کے مرحلہ ٔ عشق سے الگ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے عقل کا تصور پیر و مرید کے ہاں عقل کے مروجہ تصور سے الگ ہے۔ جس کا اظہار عقل کی مختلف اقسام سے ہوتا ہے۔مندرجہ بالا اشعار میں عقلِ امتیازی کا یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جوعقل ، نقل کامطالعہ کرنے کے بجائے نقل( اندھی تقلید) کا سامان کرتی ہے۔  وہی عقل اقبال کے نزدیک غاصبِ روح ہے :

ہے یاد مجھے نکتہ ٔ سلمانِ خوش آہنگ

 دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لئے تنگ

چیتے کا جگر چاہئے شاہیں کا تجسس

جی سکتے ہیں بے روشنیء ِ دانش و فرہنگ

کر بلبل و طائوس کی تقلید سے توبہ

بلبل  فقط آواز ہے ،  طائوس  فقط رنگ

ہم اپنی اس گفتگو کو ابتدا میں بیان کئے گئے ڈاکٹر وزیرآغا کے اس مؤقف پرختم کرتے ہیں :

''جہاں شاعر اور فلاسفر ایک ہی شخصیت کے بطون میں سرگرم عمل ہوں تو ترسیل کا المیہ جنم لیتا ہے۔ اس لئے کہ شاعر جس اشاراتی اور تمثیلی زبان میں بات کرتا ہے وہ فلاسفر کی منطقی اور دو ٹوک قسم کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ان دونوں زبانوں کو لسانیات کی ایک ہی کنجی سے کھولنے کی کوشش کی جائے تو بہت سے فکری مغالطے جنم لیتے ہیں۔ ۔۔''

 یہی صورت فکر اقبال کی تفہیم کو درپیش ہے۔ ہذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب


مضمون نگاردرس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP