پاکستانی وزیرخارجہ کا دورہ کابل۔ توقعات اور امکانات

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر

بعض عالمی اور علاقائی سازشوں اور کوششوں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سال 2017-18 کے دوران کافی مثبت اور بہتر رہے ہیں اور اب مزید کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک دوسرے پر اعتماد کر کے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے کردار پر انحصار کم کیا جائے۔ مقبول عام تجزیوں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ بدگمانیاں کم ہوئی ہیں اور اعتماد سازی بڑھی ہے بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے اور کراس بارڈر ٹیررازم پر قابو پانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات یا تو کئے گئے ہیں یا کئے جا رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ دوبرسوں کے دوران کابل سمیت افغانستان کے تقریباً 16صوبوں میں فورسز کے، عوام اور بعض اقلیتی مسلکی گروپس پر بدترین حملے کئے گئے اور بعض شہر کئی کئی روز تک طالبان اور ان کے اتحادیوں کے قبضے میںرہے اس کے باوجود افغان حکمرانوں اور اداروں نے ماضی کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کے روش کو نظر انداز کئے رکھا اور اس طرز عمل نے اُن سفارتی کوششوں کو سبوتاژ ہونے نہیں دیا جو کہ اعتماد سازی اور بحالی تعلقات کے لئے گزشتہ چند برسوں کے عرصے میں کی جاتی رہی ہیں۔ غزنی پر طالبان کے حملے اور قبضے کے بعد افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کافی رنجیدہ نظر آئے اور انہوں نے پاکستان اور یہاں کے لیڈروں کے لئے ایک خصوصی پیغام بھی جاری کیا تاہم پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کر کے اس پیغام کو سخت ردعمل کے بجائے اسے حالات اور واقعات کا نتیجہ قرار دے کر نظر انداز کیا۔

 

افغان حکومت کے اعلیٰ ترین حکام اور وزراء نے سال 2017-18کے دوران پاکستان کے جتنے دورے کئے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستانی وفود نے بھی کابل کے دورے جاری رکھے۔ جبکہ اس تمام پراسس کو روس، چین اور بعض دیگر اہم ممالک کی حمایت حاصل رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاصلے کم ہوتے گئے اور اب حالت یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کافی بہتر ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے عرصے میں داعش نے شمالی و وسطی اور مشرقی افغانستان کو جس تواتر سے مسلسل حملوں کی زد میں لئے رکھا اور فورسز کو جس تعداد میں نشانہ بنایا اس سلسلے نے نہ صرف افغان اور نیٹو حکام کو تشویش میں مبتلا کئے رکھا بلکہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی مسلسل تشویش لاحق رہی۔ کیونکہ پاکستان کی سرحد پر واقع چار صوبے ایسے ہیں جہاں داعش پوری شدت اور قوت کے ساتھ موجود ہے۔ ان صوبوں میں صوبہ ننگرہار سرفہرست ہے جس کے بڑے حصے پر داعش سال 2016 سے لے کر جہاں ایک طرف درجنوں حملے کرا چکی ہے وہاں دوسری طرف یہ تاثر بھی بہت عام ہے کہ ننگرہار میں موجود داعش کو بعض پاکستان مخالف ممالک کی آشیرباد اور سرپرستی بھی حاصل ہے تاکہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے منصوبے کو ناکام بنایا جائے اور اس اہم ترین روٹ کو داعش اور طالبان کے ہاتھوں ڈسٹرب رکھا جائے۔ ان ممالک میں بعض وہ ممالک بھی شامل ہیں جو کہ پاکستان کو بظاہر اپنا اتحادی اور دوست ملک قرار دیتے آ رہے ہیں۔ اس تمام گیم کے دوران اچھی بات یہ رہی کہ افغان حکومت اور اداروں نے پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنانے کے پاکستانی پلان اور کوششوں کے دوران خلاف توقع بہت تعاون کیا اور اب بارڈر کی صورت حال اور سکیورٹی، ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔

 

پاکستان کی افغان پالیسی میں گزشتہ دو تین برسوں کے دوران کافی مثبت اور درکار تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ اگر ایک طرف پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور سرکاری وفود کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا اور بعض اہم ایشوز پر ادارہ جاتی رابطہ کاری اور اہم آہنگی دیکھنے کو ملتی رہی تو دوسری طرف پاکستان نے اپنے طور پر دوسروں پر انحصار کرنے کی پالیسی ترک کر کے اپنے سفارتی رابطے بڑھا دیئے اور طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں پس پردہ رہ کر اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا جب  25جولائی کے الیکشن کے نتیجے میں عمران خان کی قیادت میں نئی سول حکومت کی راہ ہموار ہو گئی تو ڈاکٹر اشرف غنی ان چند ایک سربراہان مملکت میں سرفہرست تھے جنہوں نے نئے وزیراعظم کے باقاعدہ حلف اٹھانے سے قبل نہ صرف فون کر کے مبارکباد دی بلکہ آدھے گھنٹے تک ان سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اس پراسس سے قبل افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمرزاخیل وال اور ڈپٹی سفیر زردشت شمس نے متعدد بار عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقاتیں کی تھیں جن کے دوران عمران خان نے پاک افغان تعلقات اور مسائل پر نہ صرف آگاہی حاصل کی بلکہ ان ملاقاتوں کے دوران متعدد ان اقدامات کی مجوزہ تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن پر عمل کر کے علاقائی امن اور استحکام میں بہتری لائی جا سکتی تھی۔ یہ اس جانب اشارہ تھا کہ عمران خان خصوصی چارج لینے سے قبل افغان ایشوز میں غیرمعمولی دلچسپی لے رہے تھے اور بہترین تجاویز ان کی نظر میں تھیں۔ چونکہ موجودہ عسکری قیادت خطے کے بدلتے حالات اور تقاضوں کے تناظر میں پہلے ہی سے بعض اہم اقدامات کرتی آ رہی تھی اس لئے نئی حکومت اور عسکری قیادت کی مؤثر پالیسی بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو ماضی کے برعکس اس بار سول اور ملٹری قیادت افغان ایشوز پر یکسو ہو کر ایک صفحے پر کھڑی نظر آئیں۔ عمران خان نے اسی پس منظر کی بنیاد پر اپنی پہلی تقریر میں افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور مثالی تعلقات کے عزم کو پورے اہتمام اور اعتماد کے ساتھ عالمی برادری اور عوام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے عسکری قیادت کی مشاورت سے یہ اعلان بھی کیا کہ پاکستان کے وزیرخارجہ چارج سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ افغانستان ہی کا کریں گے۔ اس اعلان کو نئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ستمبر کے وسط میں عملی شکل دی۔ وہ کابل کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے نہ صرف یہ کہ افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ اور وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقاتیں کیں اور ایک مؤثر روڈمیپ پر تبادلہ خیال کیا بلکہ ان کو ٹیررازم کے خاتمے اور علاقائی امن کے لئے پاکستان کی تجاویز اور مجوزہ اقدامات پر اعتماد میں بھی لیا۔

 

دوسری طرف شاہ محمود قریشی اور ان کی ٹیم کو نہ صرف گارڈ آف آنر پیش کیا گیا بلکہ افغان صدر اشرف غنی نے ان کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کی طویل ملاقات کی۔ حالانکہ طے شدہ شیڈول میں ملاقات کے لئے 45منٹ کا وقت رکھا گیا تھا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی چونکہ دوسروں کے برعکس ماضی میں امریکہ نیٹو اور افغانستان کے ساتھ بطور وزیرخارجہ کافی قریب رہے ہیں اور ان کو ان سے ڈیلنگ کے مواقع ملتے رہے ہیں اس لئے ان کے تجربے اور مہارت کو حکمرانوں کے علاوہ تجزیہ کار بھی بہت سود مند قرار دے رہے ہیں۔ غیرجانبدار اور باخبر تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری واقع ہو گی اور طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے لئے چین اور روس کی معاونت سے جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ بعض طاقتوں کی سازشوں اور سرگرمیوں کے باوجود کافی نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا اس کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن موجود ہی نہیں ہے کہ افغانستان کے امن کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ کیونکہ داعش کا خطرہ پاکستان کے لئے بڑا چیلنج ہے اور افغانستان کے امن اور استحکام سے پاکستان کا مستقل امن بھی مشروط ہے۔ افغانستان کے معاملات اب محض امریکہ کے مفادات تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ سی پیک کے تناظر میں چین اور سنٹرل ایشیئن ممالک کے امن کے پس منظر میں روس بھی اب اس گیم یا کوششوں کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ 2018-19اس حوالے سے کافی اہم بلکہ فیصلہ کن سال ثابت ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے 17ستمبر کو اپنے ایک بیان میں اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جہاں پاکستان کی ترجیحات اور رول کے بارے میں بہت واضح پیغام دیا وہاں انہوں نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ چند ماہ افغانستان میں مذاکراتی عمل کے آغاز اور بدامنی کے خاتمے کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ طویل جنگ اور بدامنی کے لئے مستقبل قریب میں بہت اہم اقدامات کئے جانے والے ہیں۔


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP