مقروض

قرآن کریم کے الفاظ اور ماں جی کی پیاری اور مسحور کُن آواز نے ماحول کو پُراسرار بنا دیا تھا۔ درختوں پر چہچہانے والے پرندے خاموشی سے اپنے اپنے گھونسلوں میں دبکے اس مقدس کلام کو سن رہے تھے، پہاڑوں پر سراسیمگی چھائی ہوئی تھی، درختوں کے پتے با ادب ہو کر جھوم رہے تھے، جبکہ ہوائیں معطر ہو کر ایک طرف سے دوسری جانب جاتے ہوئے کچھ دیر ٹھہر کر تلاوتِ کلامِ مجید سے لطف اندوز ہوتیں اور آگے بڑھ جاتی تھیں۔ جھرنوں کے پانیوںنے اپنی آواز مدھم کر کے اپنے سُر بکھیرنے کے لئے اپنی لَو اس کلام کی طرف لگا لی تھی جو کسی انسان کا کلام نہ تھا بلکہ ربِ کائنات کا وہ کلام تھا جس میں کُل جہانوں کے لئے رحمتیں اور برکتیں شامل تھیں اور پوری دنیا کے لئے ایک ایسا نظام بھی شامل تھا جو 'کن' جیسے پیارے لفظ کا مرہونِ منت تھا۔

معزز اپنی ماں کی گود میں سر رکھے خاموشی سے اللہ کے کلام کو سن رہا تھا جو اس کی ماں جی کے منہ سے لفظوں کی صورت میں ادا ہو رہا تھا، جیسے ہی ماں جی نے تلاوت مکمل کی، ان کی خوشبو جیسی مہکتی ہوئی پھونک نے معزز کے پورے جسم میں سمونے کی کوشش کی اور ہر روز کی طرح اُس نے ایک لطیف اور پُر سکون لہر کو پورے بدن میں محسوس کیا اور مسکرا کر آنکھیں کھول دیں تو ماں جی نے پیار سے اس کے چہرے کی طرف مسکر ا کر دیکھا اور بولیں۔

یہ میرے وطن کی فوج ہے

کسی بِپھرے بحر کی موج ہے

ہر سپاہی، میرے کی اِک شان ہے

زمانے میں اس کی یہ پہچان ہے

عزم و ہمت کا اِک نشان ہے

یہ میرے وطن کی فوج ہے

کسی بِپھرے بحر کی موج ہے

نہ کی پروا کبھی اپنی جان کی

لاج رکھی سدا عہد و پیمان کی

جان ہنس کر وطن پر ہے قربان کی

یہ میرے وطن کی فوج ہے

کسی بِپھرے بحر کی موج ہے

دوارکا ہو یا کہ پٹھانکوٹ ہو

چھمب جوڑیاں، چونڈہ یا سیالکوٹ ہو

رکھ دیا اُڑا کے دشمن کے ہوش کو

یہ میرے وطن کی فوج ہے

کسی بِپھرے بحر کی موج ہے

اس میں خدا کا نُور اور خُلقِ مصطفیۖ

شہادتوں کے امین وارثِ مصطفیۖ

یہی مقصدِ حیات، یہی دولتِ حیات

یہ میرے وطن کی فوج ہے

کسی بِپھرے بحر کی موج ہے

خدا حامی و ناصر ہو تیرا ہر گھڑی

مانگتا ہے عبد یہ دعا ہر گھڑی

عبدالقدیرعبد

 

'' میں نے اللہ کے حضور تمہاری سفارش کر دی ہے، وہ ماں کی دعائیں کبھی بھی رد نہیں کرتا۔ '' آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے ماں جی کی آواز بھرا گئی لیکن وہ معصوم بیٹے سے چہرہ چھپاتے ہوئے قرآن کریم کو ہاتھوں میں سمیٹتی ہوئی اُٹھیں، اوپر والی الماری میں قرانِ کریم کو رکھا اور معزز کی طرف متوجہ ہو گئیں۔

'' کیا مجھے اب اس سکول میں داخلہ مل جائے گا ماں جی ؟ ''

ماں جی نے ہمیشہ کی طرح مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور بولیں ۔ ''کیوں نہیں ملے گا داخلہ، میں نے التجا ہی ایسی ہستی کے سامنے کی ہے جو مجھے کبھی بھی خالی نہیں موڑتا'' معز ز مسکرا کر چارپائی سے اترا اور ماں جی کے پاس جا کر بیٹھ گیا جواب چولہے میں آگ جلا چکی تھیں اورمعزز کے لئے تازہ روٹی پکانے کی تیاری میں تھیں۔

یہ ہر روزکا معمول تھا کہ معزز قرانِ کریم کی تلاوت سننے کے لئے نماز فجر کے بعد ماں جی کی گود میں سر رکھ دیتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے وہ قرآن کریم کو سمجھتا تھا وہ جانتا تھا کہ یہ وہ کتاب ہے جو ہماری زندگیوں کی بھر پور رہنمائی کرتی ہے اور کُل انبیاء کرام کے امام تاجدارِ مدینہ سرور قلب و سینہ حضرت محمد مصطفٰی ۖ کی ذاتِ مقدس پر نازل کی گئی ہے۔

شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے سکول میں داخلہ اس کا خواب تھا گو کہ وہ خاموش طبع اور سنجیدہ مزاج کا ایک نوجوان تھا جوابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہاتھا لیکن وہ ہر بات کو بآسانی سمجھ لیتا تھا اس کو شہر کے دو تین سکولوں میں اس لئے داخلہ نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں اساتذہ کو مطمئن نہ کر سکا تھا۔ اب بھی وہ خاصا مایوس نظر آ رہا تھا لیکن اس کی ماں کی دعائیں اس کے ساتھ تھیں تو اس کو بہت ہی تسلی بھی تھی اور یہ بھی حوصلہ تھا کہ اب ماں جی نے اللہ کے حضور براہِ راست دعا کی ہے اور ماں جی کہتی ہیںکہ اللہ ان کی دعا کبھی بھی رد نہیں کرتا، وہ دل میں اچھے سکول میں داخلہ لینے کی خواہش لئے ماں جی کے ساتھ سکول پہنچا تو خلاف توقع پرنسپل نے اس سے بہت ہی آسان سوال پوچھے جن کے جوابات بآسانی دے کر پرنسپل صا حب کو مطمئن کر دیا اور پھر اس کو ماں جی کی دعائوں کی بدولت داخلہ مل گیا۔

معزز بہت خوش اورتشکر آمیز نظروں سے آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا اس کا آج سکول کا پہلا دن تھا وہ سکول یونیفارم میں کسی شہزادے سے کم نہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی شاندار شخصیت نے ایک بار تو اس کے سبھی کلاس فیلوز کو جیلسی میںمبتلا کر دیا تھا لیکن وہ اپنے بینچ پر بیٹھ کر ٹیچرز کا پورا لیکچر سننے میں مگن رہا اور بہت ہی آسانی محسوس کرتے ہوئے اس نے کلاس میں اپنا پہلا دن گزارا۔

ماں جی کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ بیٹے کو خوش دیکھ کر اپنے آنسوئوں پر قابو نہ رکھ سکیں تو معزز سے بھی نہ رہا گیا اور وہ پوچھ بیٹھا۔

''میں ان آنسوئوںکو کیا نام دوں ماں جی؟'' سمجھدارا ور جوان ہوتا ہوا بیٹا ماں جی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا تھا، ماںجی نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا اوربھرائی ہوئی آواز میں بولیں۔ ''آج میں تمہارے ابو جی کے سامنے سُرخ رُو ہو گئی ہوں، ان کا خواب تھا کہ ان کا اکلوتا بیٹا اس اچھے اور بہترین سکول میں تعلیم حاصل کرے؟'' وہ اپنے ابو جی کی کہی ہوئی باتیں بہت ہی توجہ سے سنا کرتا تھا کیونکہ اب وہ اس کو کوئی بھی حکم اپنی آواز سے نہ دیتے تھے بلکہ وہ اپنی ماں جی کی باتوں سے ہی سمجھتا تھا کہ اس کے ابو جی اس سے کیا چاہتے تھے۔

''اور ابو جی کیا کہا کرتے تھے ماںجی؟'' وہ تجسس سے پوچھتا تو ماں جی اس کو ہمیشہ ہی ٹال دیتی تھیں کہ اس کے ابو جی اور کیا کیا کہا کرتے تھے اور کیاچاہتے تھے۔

سکول میں اس کا دوسرا دن تھا ایک فری پیریئڈ میں وہ اپنے کلاس فیلوز کے ہاتھ لگ ہی گیا اور وہ اس کا مذاق اڑانے لگے۔

''اتنا سست لڑکا تو ہم نے کبھی بھی نہیں دیکھا۔'' ایک نے کہا ہی تھا کہ ایک زبردست قہقہہ اس کے کانوں کی سماعتوں سے ٹکرا گیا وہ مسکر ا کر ان کی طرف دیکھنے لگا وہ سبھی اکٹھے ہو کر ا س کا مذاق اڑانے اور اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے لیکن معزز ہمیشہ کی طرح خاموشی اور سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھتا رہا بلکہ ان کی باتوں پر برا منانے کے بجائے ہونٹوں پر مسکان سجائے ان کو اور بھی تپاتا رہا۔

''ایسے سٹوڈنٹ تو کبھی بھی ترقی نہیںکر سکتے۔'' ایک اور نے لقمہ دیا تو پھر سبھی ہنسنے لگے۔ ''کیوں بھئی موٹے معزز ایک ہی کلاس میںکئی سال لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ '' فلک شگاف قہقہوں کا نہ تھمنے والا طوفان تھا جس کو معزز مسکرا کر ٹال رہا تھا، ایک اور سٹو ڈنٹ جس سے رہا نہ گیا وہ بھی دل کی بات اپنے ہونٹوں سے ادا کئے بغیر نہ رہ سکا او ر اس کی زبان سے بھی ایک وار معزز کی شخصیت پر ہو ہی گیا۔

''اس سکول میں بڑے بڑے لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تم۔۔۔۔۔ تم منہ اٹھا کر اس سکول میں آن گھسے ہو کیاابو امی نے کسی سے قرض لینے کی ٹھان لی ہے۔؟'' معزز کو تو اس بات نے رُلا ہی دیا تھا لیکن وہ بڑے دل والا تھا وہ آہستگی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ان کے بیچ جا کر کھڑا ہوگیا سب کی طرف دیکھ کر سنجیدگی اور متانت سے بولا۔ ''سب سے بڑا قرض تو وہ ہوتا ہے جو کسی بھی صورت میں ادا نہ ہوسکے۔۔۔۔ ''  اس کی بات سن کر سبھی بات کو سمجھنے کے بجائے قہقہہ لگا کر ہنس پڑے اور پیریئڈ کی بیل ہونے پر اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئے۔

معزز کا سر حسبِ معمول ماں جی کی گود میں تھا اور تلاوت کلام مجید کے الفاظ اس کے کانوں میں رس تو گھول رہے تھے لیکن اس کی آنکھوں میں لگنے والی جھڑی کو ماں جی نے بھی محسوس کر لیا تھا۔ ماں جی نے قران کریم کی آیت کا ترجمہ کیا۔ '' شہید زندہ ہوتے ہیں لیکن تم کو اس کا شعور نہیںہے ۔ ''  یہ آیت پڑھتے ہوئے ماںجی کی آنکھیں بھی ساون بھادوں کی طرح برسنے لگی تھیں وہ معز ز کے چہرے پر مہکتی پھونک مار کر اس کے چہرے پرہاتھ پھیرتی ہوئی بولیں، ''کیا تم اپنے کلاس فیلوز کے مذاق کرنے سے پریشان ہو؟''

معزز نے نفی میں سر ہلایا تو ماں جی پھر بول پڑیں۔ '' تو پھر آج رو کیوں رہے ہو؟ '' اس نے ماں جی کی کسی بھی بات کا جواب دینے کے بجائے اپنا چہرہ ماں کی مہربان گو د میں چھپا لیا اور سسکیوںکے ساتھ رونے لگا ماںجی کے لئے اس کا یہ رُوپ نیا نہ تھا لیکن اس کا رونا آ ج بالکل نیا تھا اس بات نے ماں جی کو بھی کچھ پریشان کر دیا لیکن انہوںنے اس کے بالوں میں پیار سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیریں اور بولیں۔ ''کچھ کہنا چاہتے ہو؟ کچھ پوچھنا چاہتے ہو ؟''

اس نے اپنی جلتی ہوئی سرخ آنکھوںسے ماں جی کی طرف دیکھا اور نظریں جھکا کر ماںجی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میںلے کر اپنے تپتے ہوئے ہونٹوں سے بوسے دیتا ہوا بولا ۔ ''ماں جی ۔۔۔۔ مجھ پر آپ کی محبت اور ممتا کے بہت سے قرض ہیں۔۔۔جو میں کبھی بھی نہیں اتار سکتا۔'' وہ کہہ رہا تھا اور ماں جی اس کا بدلہ ہوا انداز اور لب و لہجہ سن کر حیرت سے اس کو دیکھ رہی تھیں وہ اپنے آنسوئوں کو پی گیا، پھر بولا۔ ''ماںجی میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کر دینا بس یہ سمجھنا کہ آپ کا بیٹا سست، ناسمجھ اور بے وقوف تھا بس مجھے معاف کر دینا میںکسی بھی قرض کو اتارنے کی صلاحیت اور ہمت نہیںرکھتا۔ '' یہ کہہ کر اس نے ایک بار پھر اپنا منہ ماںجی کی گود میںچھپا لیا اور ہچکیاںلے کر رونے لگا۔ ماں جی نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اس کی ڈھارس بندھانے لگیں۔

وہ آج سکول یونیفارم میں کسی اور ہی دنیا کا باشندہ لگ رہا تھا ماںجی نے آج اس کے کان کے پیچھے سُرمے کا تل لگا دیا تھا کہ اس کے لاڈلے بیٹے کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ وہ خوشی خوشی سکول پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ آج گیٹ پر اس کی ڈیوٹی ہے کیونکہ ہر کلاس میںسے ایک دن ایک لڑکے کی ڈیوٹی گیٹ پرلگتی تھی جو آنے جانے والوں سے پوچھ گچھ کرکے ان کو سکول میںاندر داخل ہونے دیتا تھا۔

اسے گیٹ پرکھڑے دیکھ کر ا س کے کلاس فیلوز بھی اس کو تنگ کرنے آن پہنچے تھے۔ ٹیچرز بھی ابھی سکول میں نہ پہنچے تھے اسی لئے سٹوڈنٹس کو موج مستیاں کرنے کا موقع مل گیا تھا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سکول کے وسیع لان میں اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔

''یہ ہے تمہارا صحیح مقام کیا خوب جچ رہے ہو یہاںکھڑے ہو کر۔'' ایک کلاس فیلو نے طنز کے نشتر برسائے تو وہ مسکر ا دیا اور بولا۔

'' میرے اللہ نے یہ مقام مجھے میری ماں کی دعائوں کے طفیل دیا ہے اور مجھے فخر ہے کہ میں آج اس مقام پرکھڑا ہوں ۔ ''

'' اوہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ '' باقی سب نے اس کی بات سن کر ایک طنزیہ تیر اس کی جانب پھینکا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتے ایک عجیب و غریب حلیے والا شخص گیٹ پر پہنچا اور زبر دستی گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا معزز نے فوراً ساری صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے اس کو اپنی بانہوںکے لپیٹے میںلے لیا اور اپنے دوستوں سے چیخ چیخ کر بولنے لگا۔ ''بھاگ جائو یہاں سے دُور ہو جائو یہ دہشت گرد ہے اس کی آستین میں اسلحہ اور بارود ہے ۔ بھاگ جائو یہاں سے بھاگ جائو۔ '' اس کی چیخ پکار سن کر باقی سب لڑکوں نے وہاں سے دوڑ لگا دی لیکن معزز اس طاقتور دہشت گرد سے گتھم گتھا ہو رہا تھا، وہ دہشت گر د کو سکول کے اندر جانے سے روک رہا تھا لیکن دہشت گرد اپنے مذموم مقصد میںکامیاب ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا، اتنی دیر میں سکول کے باقی لڑکے اور اساتذہ بھی تیزی سے ان کی جانب بڑھنے لگے تو معزز نے صورت حال کی سنگینی کا جائزہ لیتے ہوئے چلا کر ان سب کو پیچھے رہنے اور وہاں سے ہٹ جانے کا کہا سب پر اس لڑائی کو دیکھ کر خوف طاری ہو گیا تھا اور جب دہشت گرد کی ایک نہ چلی تو اس نے خود کو ایک زور دار دھماکے سے اڑا لیا اور ساتھ ہی معزز کے جسم کے بھی پرخچے اڑکر سکول کے گیٹ پر بکھرگئے تھے۔

آ ن کی آن میںہی وہ سب کچھ ہو گیا تھا جس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا اس نے اپنی جان پر کھیل کر پورے سکول کے طلباء کی جان بچا لی تھی سب ہی سکتے کی کیفیت میںمبتلا اس جگہ کو دیکھے جا رہے تھے جس جگہ پرچند لمحے قبل معزز اس دہشت گرد سے اُلجھ رہا تھا جوپورے سکول کے بچوںکو اپنی دہشت اور بر بریت کا نشانہ بنانے آیا تھا لیکن معزز نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر سب کی جانوں کو تحفظ بخشا تھا۔ سب کے کانوں میں اس کے الفاظ گونج رہے تھے کہ ''قرض تو وہ ہوتا ہے جو کبھی بھی ادا نہ کیاجا سکے۔'' وہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر پورے سکول کے طلباء کو اپنا مقروض کر گیا تھا اور یہ وہ قرض تھا جو اتارنا ہر کسی کے بس میں نہ تھا ۔ ۔۔۔۔۔

(نوٹ: یہ تحریرضلع ہنگو، خیبر پختونخوا کے طالب علم اعتزاز کی شہادت کے پسِ منظر میں لکھی گئی ہے اور ان کی بے مثال قربانی کو خراجِ تحسین ہے۔)


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP