قرب کا سفر 

 کسی ملک کی آبادی میں بلاشبہ ہر فرد کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔تاہم نوجوان نسل کی اہمیت اور ذمہ داری کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی درست ہے کہ ان کے مسائل بھی ہر نسل سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا کسی مشرقی ملک کا، صورتِ حال انیس بیس کے فرق سے ایک جیسی ہی ہوتی ہے اور یہ فرق قومی سطح پر پالیسی سازی اور عمل کے طریقہ کار میں ہوتاہے۔ ترقی یافتہ اقوام اس مسئلے کو سنجیدگی کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ترقی پذیر اقوام ان مسئلوں میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔

قیام ِ پاکستان سے دورِ حاضر تک نوجوان نسل ہر طبقہ فکر کے لئے اہمیت کی حامل رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کی جد وجہد کے دوران بھی علامہ اقبال، قائد اعظم اور دیگر رہنمائوں کے نزدیک سب سے بڑی قوت نوجوانان ملت ہی تھے۔ اقبال نے انہی سے وابستہ امیدوں کے سہارے اپنی محبت کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا کہ:

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

 یہ بات تاریخی طور پر مسلم ہے کہ اگر نوجوان نسل تحریک ِ پاکستان میں شامل نہ ہوتی اور اپنی کوششوں کے ذریعے مسلم لیگ کو توانا نہ کرتی، جوق در جوق قافلوں کے ولولوں کو نہ بڑھاتی تو تحریکِ آ زادی ادھوری رہتی۔ نہ صرف پاکستان کے قیام بلکہ اس کے بعد اس ملک کے استحکام میں بھی اس نسل کی ضرورت اسی طرح محسوس کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی آزادی حاصل ہوتے ہی سب سے پہلے قائدِ اعظم نے اس نسل اور اس کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو سمجھا اور قیامِ پاکستان کے ایک ماہ بعد ہی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

''آپ تعلیم پر پورادھیان دیں۔اپنے آپ کو عمل کے لئے تیار کریں۔یہ آپ کا پہلا فریضہ ہے۔ ''

'ہماری قوم کے لئے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔'26ستمبر 1947ء  کویہ درس دیتے ہوئے دراصل قائد کے پیشِ نظر یہ نکتہ تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو ولولہِ تازہ ملے، ان کی امنگوں کو مہمیز کیا جائے، ان کے جذبوں کو توانائی ملے، تاکہ نوزائیدہ مملکت کو سہارا دینے میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔قائدِ اعظم کے علاوہ تحریک پاکستان کے دیگر رہنمائوں نے بھی اس مقصد میں حصہ ڈالا۔ خصوصاً علامہ اقبال نے بار بار نثر اور نظم میں اپنے پیغامات کو دہرایا کہ نئی نسل کو اس وقت سرگرمِ عمل رہنے اور بعد ازاں اپنے طرزِ فکر کی پرورش اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ان کی نظمیں ان پیغامات کا مظہر ہیں جہاں وہ نوجوانوں کو تفکر،تدبر کے ساتھ قوتِ عمل کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

 وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

 تجھے اس قوم نے پالا تھا آغوشِ محبت میں

 کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِ دارا

 اور ایسے کئی اشعار ان کی نوجوان نسل سے محبت اور ان کے بارے میں فکر کا اظہار کرتے ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی کے نام ایک خط سے ان کی دلی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 'صرف ایک بے چین اور مضطرب جان رکھتا ہوں،قوتِ عمل مفتود ہے۔

 ہاں یہ آرزو رہتی ہے کہ کوئی قابل نوجوان جو ذوقِ خداد اد کے ساتھ قوتِ عمل بھی رکھتا ہو، مل جائے، جس کے دل میں اپنا اضطراب منتقل کر دوں۔'

 یہ در حقیقت دو نسلوں کے مابین حقیقی قرب کا وہ سفر تھا جو باہمی اعتماد پھیلانے میں معاون ثابت ہوا۔ اس طرح کے پیغاما ت اور عمل کی تلقین کے نتیجے میں، نوجوانوں نے ملت کے ساتھ محبت کا جو رشتہ استوار کیا وہ قابلِ تقلید تھا۔ جوش، جنوں اورجہد ِمسلسل کے نتیجے میں انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جس کے بارے میں قائدِ اعظم نے فرمایاتھا کہ نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلبا نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔

 اسی بے پناہ محبت اور قرب کے نتیجے میں ان نوجوانوں پر اتنا بھروسہ کیا گیا کہ استحکامِ پاکستان کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی۔کچھ عرصے تک تو یہ توانائیاں بحال رہیں اور نوجوانِ ملت کا بھرپور تعاون، ملک و ملت کو پروان چڑھانے میں دکھا ئی دیتا رہا۔لیکن بعد ازاںسیاسی، مذہبی، معاشرتی منافرتوں اور خانہ جنگیوں کی زد میں آ جانے والی نوجوان نسل کسی حد تک گمراہ ہو گئی۔ ملکی استحکام کے بجائے انتشار ،براہ راست اس نسل پر اثر انداز ہوا۔ نوجوانوں نے ملکی تعمیر وترقی کے بجائے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا، جس کا لازمی نتیجہ اپنے مقصد سے بھٹک جانا تھا۔ وہ نوجوان جن کے لئے قائد اعظم نے کہا تھاکہ:

'' پاکستان کو اپنے نوجوانوں اور بالخصوص طلبہ پر فخر ہے جو آزمائش اور ضرورت کے وقت ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں۔آپ مستقبل کے معمارِ قوم ہیں۔ اس لئے جو مشکل کام آپ کے سر پر کھڑا ہے، اس سے نمٹنے کے لئے اپنی شخصیت میں نظم وضبط پیدا کیجئے۔ مناسب تعلیم اور مناسب تربیت حاصل کیجئے۔آپ کو پورا پورا احساس ہونا چاہئے کہ آ پ کی ذمہ داریاں کتنی زیادہ اور کتنی شدید ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہر وقت تیار اور مستعد رہنا چاہئے۔''

 بین الاقوامی سازشوں اور سیاسی مہروں کی بساط نے درج بالا مقاصد کی حامل نسل کے کچے ذہنوں کو براہ راست نشانہ بنایا، جس سے وہ اپنا مقام و مرتبہ اور مقصد بھول کر فضولیات میں جا الجھے۔ نہ صرف حلیہ بلکہ مشاغل کی تبدیلی بھی نظر آنے لگی۔ اپنا وقت کار آمد مشاغل میں صرف کرنے کے بجائے، ضائع کرتے ہوئے نظر آنے لگے۔ ان کی سوچوں کو اس قدر زہر آلود کیا گیا کہ حصولِ آزادی اور ملکی استحکام کا جذبہ رکھنے والے نوجوان، کھوکھلے نعروں کی نذر ہو گئے۔ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملکی استحکام کو ابتدائی طور پر ملکی تنافر اور بعد ازاں ملکی کمزوری میں تبدیل کیا جانے لگا۔ اس تمام عمل میں غیر محسوس طریقوں سے پاکستان کی نوجوان نسل کو استعمال کیا جاتا رہا۔ جس سے ایک طرف تووطنیت کا تصور اور اس سے اپنائیت کا تصور یقینی طور پر متاثر ہوا۔ دوسری طرف نوجوان نسل میں مایوسی اور ان کی سوچ میں عدمِ استحکام پیدا ہوااور مایوسی کے عالم میں راہِ فرار کو بہتر سمجھا گیا۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے نوجوان نسل اور خصوصاً طلباء و طالبات کے مابین یہ سوچ تیزی سے پھیلی( یا پھیلائی گئی) کہ اس ملک میں ان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔ تعلیمی، مذہبی، معاشرتی، معاشی، اور ذہنی طور پر ان کے لئے مواقع محدود ہیں۔ ان کے لئے کسی سطح پر بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا جا رہا۔ حکومتی اداروں سے ایک خاص حد تک منافرت دیکھنے میں آئی۔ نتیجے کے طور پر بہترین اذہان ملک سے باہر جانے میں ہی بھلائی سمجھنے لگے۔ نظر انداز کئے جانے کا گلہ نئی نسل کے  ہونٹوں پہ بکثرت آنے لگا۔

 اس منفی صورتِ حال میں گزشتہ کچھ عرصے میں بہتری نظر آئی جب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ،مختلف کور کمانڈرز، سینیئر آرمی آفیسرز بشمول ڈ ی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کئی تعلیمی اداروں کے دورے کئے۔ غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی، رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں نوجوان نسل سے مکالمے کی فضا پیدا کی۔ افواجِ پاکستان کے اعلیٰ عہدے داران کی یہ کاوشیں بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں۔ اس فضا کے درج ذیل ثمرات سامنے آئے:

نوجوان نسل اور افواجِ پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد کا ایک واضح تعلق پیدا ہوا۔ دو نسلوں کے مابین صحت مند مکالمے کی فضا ہموار ہوئی۔مایوسی کی فضا سے نکل کر پہلی بار طلباء و طالبات نے ملکی مسائل پر بات چیت کی اور غور کرنا شروع کیا۔افواجِ پاکستان کے اربابِ اختیار اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کے مابین ایک تعلق قائم ہوا۔ طلباء و طالبات فوج اوراس سے متعلقہ پیشے اپنانے میں سنجیدہ نظر آئے۔باہمی اعتماد، بھروسے اور محبت نے یگانگت کی تعمیری فضا کو فروغ دیا۔ شجر کاری، مصوری اور دیگر غیر رسمی سرگرمیوں کے ذریعے طلباء و طالبات کو وطن سے محبت کا درس دیا گیا۔

درج بالا تمام سرگرمیاں اس عہد کی تجدید کی جانب اشارہ کرتی ہیں جو تحریک پاکستان کے وقت نوجوان نسل نے کیا تھا اور بعد ازاں استحکامِ وطن کی قسم بھی کھائی تھی یہ قرب کی فضاتھی، جس نے تمام ملت کو متحد کر دیا تھا۔ اگر ان میں چندنوجوان کچھ وقت کے لئے راستے سے بھٹکے بھی تھے تو موجودہ کاوشیں تجدید عہد کا سامان کر سکتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے تا کہ وطن کی محبت اوراس سے قرب کا سفر جاری رہے۔وہ قرب جو وطن کی حفاظت کا عزم بھی ہے اور اس کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی۔


مضمون نگار معروف ادیب، شاعرہ اور فیڈرل گورنمنٹ گرلز کالج سکردو کی پرنسپل ہیں۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP