فلم بڑی دولت ہے

 بچپن میں ہم ایک کہاوت سنا کرتے تھے کہ علم بڑی دولت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کہاوتیں بھی اب وہ نہیں رہیں بلکہ آج کل'' علم بڑی دولت ہے جو فلم کی بدولت ہے '' کہاوت بنتی جا رہی ہے۔ہمارے ہاںآج کل آرام دہ سینمائوں میں انعام دہ فلمیں بنائی جا رہی ہیں جوجدید ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی اورٹیکنیکلی سٹرانگ بھی ہوتی ہیں۔ انکل سرگم کا کہنا ہے کہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے زمانے میں ہیرو ہیروئن کو صاف کردار یعنی وائٹ دکھایا جاتا تھا اور ولن کو کالے کرتوت والا یعنی بلیک۔ البتہ فلم میں نہ تو فحاشی ہوتی تھی اور نہ بے ہودہ ناچ گانا۔ ہیرو ہیروئن کے درمیان ایک فاصلہ رکھا جاتا تھاجو بعض اوقات اتنا بڑھ جاتا تھا کہ ہیرو ہیروئن بہن بھائی لگنا شروع ہو جاتے تھے۔ فلموں کا ٹیمپو اتنا سلو ہوتا تھا کہ ہیروئن بولتے وقت ڈائیلاگ اتنا لٹکا کر بولتی تھی کہ آج کل کے نوجوان اس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ چلئے تو آج آپ کی فلمی یاد تازہ کرنے کے لئے ہم ان لوازمات کا تذکرہ کرناچاہیں گے کہ جن کے بغیر ہماری فلم ایسی ہو جائے جیسے وارث (ڈرامے) کے حوالے کے بغیر امجداسلام امجد ادبی حلقوں میں ہٹ ہو جائیں۔

فلمی سلائی مشین: سلائی مشین ہماری فلمی کہانی کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ چالیس سالہ ہیرو گھر میں داخل ہوتا ہے اور ماںکو سلائی مشین چلاتے دیکھ کر کہتا ہے۔''ماں! میںمیٹرک پاس کر ہی گیا ہوں ، اب میں تمہیں مزدوری نہیں کرنے دوں گا، اب تم لوگوں کے کپڑے نہیںسیوگی۔'' اُس وقت کے ہیرو کو اگر یہ پتہ ہوتا کہ کپڑے سینے کے بزنس کو ہی'' بوتیک'' کہا جاتا ہے اور اس جیسامنافع بخش بزنس کم ہی ہواہوگا تو وہ کبھی ماں کو ایسی مزدوری کرنے سے نہ روکتا۔ یہ فلمی معمہ بھی آج تک حل نہیں ہو سکا کہ ایک سلائی مشین سے کپڑے سی کر فلمی ماں پوری فیملی کیسے پال لیتی ہے؟ چونکہ سلائی مشین احتساب سے مبرا ہوتی ہیں لہٰذا اس معمے پہ کسی کو احتسابی ہاتھ ڈالنے کا خیال بھی نہیں آیا۔

فلمی کالج: ہماری فلموں میں کالج بڑی مجبوری کے تحت دکھا یا جاتا تھا۔ اس کی شائد ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہوگی کہ تعلیمی ادارے کاایکٹرز اور پرو ڈیوسر ز کو ذاتی تجربہ نہیں ہوتا تھا اوروہ اپنے ہی '' سکول آف تھاٹ'' کو پکچرائز کرتے تھے۔ فلمی سکول کالج کے سین میں مزے کی بات یہ بھی ہوتی تھی کہ کالج ہمیشہ ''کو ایجوکیشن'' یعنی مخلوط تعلیم والا ہی ہوتا تھا جہاںہیرو اورہیروئن صرف عشق ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم نے یہ سین اپنی زندگی میں تو نہیں دیکھا حالانکہ ہم بھی نیشنل کالج آف آرٹس کے پڑھے ہوئے ہیں جہاں ' کو ایجو کیشن' دی جاتی ہے۔ ہمیں تو وہاں اسی بات کی فکر لگی رہتی تھی کہ اگر مارکس کم آئے تو ساتھی لڑکیوں کی نظروں سے گر جائیں گے چنانچہ شائستگی اور آدابِ گفتگو کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔ مگر ہماری فلموںکے پورے کالج میں صرف ہیرو اورہیرو ئن ہی لڑکے لڑکیوں میںسب سے زیادہ خوبصورت دکھائے جاتے تھے۔ عام طور پہ ہماری کسی پرانی فلم میںکالج دکھایا جائے تو سمجھ لیں کہ ہیروئن لڑکیوں کے ساتھ پکنک پہ بھی ضرورجائے گی جہاںہیرو لڑکوں کے ساتھ ضرورپہنچے گا اور پھر ہیروئن کو تنگ بھی کرے گا اور گانا بھی گائے گا۔ بالآخر ہیرو کی اوٹ پٹانگ حرکتوں اور گانے کے آخری انترے میں ہیروئن ہیروسے صلح کر لے گی ، گانا دوگانا بن جائے گا اور یوں فلمی عشق سٹارٹ ہو جائے گا۔

فلمی باپ: فلم میں صرف دو قسم کے باپ ہی ہوتے ہیں، بہت امیر باپ یا بہت غریب باپ۔امیر باپ عام طور پہ سخت گیر وڈیرا یا ظالم سیٹھ ہی ہوتا ہے جس کی بیٹی یا بیٹا ہمیشہ باپ کی مخالفت میں کسی غریب لڑکے یا لڑکی سے شادی کرناچاہتے ہیں۔ ظالم باپ کے نافرمان بیٹے یا بیٹی کو یقین ہوتا ہے کہ فلم کے آخری سین میں یا تو باپ نیک اور اولاد ترس باپ بن کے ہار مان لے گا یا پھر ولن کی گولی کھا کے مر جائے گا۔ اکثر امیر فلمی باپ بیٹے سے خفاہو کر اسے گھر سے نکال دیتا ہے۔ حیرت کی بات تب ہوتی ہے جب گھر سے نکلا بیٹادر بدر کی ٹھوکریں کھاتا کوئی معمولی سی نوکری ڈھونڈتا پھرتاہے۔پورے شہر میں اس کا کوئی بھی دوست اور رشتے دار ایسا نہیں ہوتاجو اسے پناہ دے سکے۔ گھر بدر ہوتے وقت ہیرو کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بڑھی ہوئی شیوہی کلین کرا سکے۔ حالانکہ اس کے علاقے کا نائی یہ جانتے ہوئے کہ ہیرو سیٹھ کا بیٹا ہے، اس کی حجامت ادھار بھی بنا سکتا ہے۔

فلمی ماں: فلموں میں ماں اکثر '' قربانی کی گاں'' ہی دکھائی جاتی ہے جس کا کام میاں کے قتل ہوجانے کے بعد بیٹے کو کپڑے سی سی کرپالنا اور باپ کے خون کا انتقام لینے کے لئے جوان کرناہوتاہے۔ یا پھر جب بیٹا کسی سیٹھ کی لڑکی سے عشق میںمبتلا ہو تو سیٹھ کے گھر بیٹے کا رشتہ مانگ کر بے عزت ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پرانی فلموں میں فلمی مائیں آدھی فلم سے پہلے بیٹے کو کوئی وصیت کر کے فارغ ہوجاتی تھیں مگر آجکل پرو ڈیوسر ڈائریکٹر پیسے پورے کرنے کے لئے فلمی ماں کو آخری سین تک مرنے نہیں دیتے۔

فلمی درگاہیں:ہماری فلم میں کسی بزرگ کی درگاہ کو بچھڑے ہوئے ہیرو ہیروئن، بچھڑے ہوئے بہن بھائی یا ماں باپ کے پھر سے ملنے کی جگہ یا میٹنگ سپاٹ کے طور پہ استعمال کیا جاتا رہاہے، اس کے علاوہ ہیرو یا ہیروئن اپنی دھمال یا کسی قوالی کے ذریعے بھی یہاں اپنے جذبات کا اظہارکرتے دکھائی دیتے ہیں۔

فلمی عدالت:فلم میں عدالت کا سین ہمیشہ بڑا جذباتی ہوتا ہے جس میں ہیرو '' جج صاحب'' کو اپنی بے گناہی بتاتے ہوئے ،انصاف کے ترازو کو ڈانواں ڈول کرتا ہو ا بے گناہ سزا پا جاتا ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ ہماری فلموں میں عدالت کے سین اس لئے بڑے پُراثر ہوتے ہیں کہ ان کی عام زندگی سے کوئی مشابہت نہیں ہوتی۔یعنی تماش بین چونکہ عدالت کی کارروائی دیکھنے کا تجربہ نہیں رکھتے لہٰذا اسے حقیقی سمجھ کر اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ بعض تماش بین تو فلمی عدالت کا جذباتی سین دیکھ کر اتنے انسپائر ہو جاتے ہیں کہ فلم دیکھنے کے بعد ان کاجی کوئی جرم کر کے عدالت میں پیش ہونے کو کرتا ہے۔

فلمی جیل: فلم میں جیل بھی وکھری ٹائپ کی دکھائی جاتی ہے۔ ہیرو یا ولن اگر جیل میں ہو تو جیل اس کے لئے کسی فایئو سٹار ہوٹل سے کم نہیں ثابت ہوتی تھی۔ یہاں ولن عام طور پہ جیلر سے یوں بات کرتا جیسے جیلر اس کا لنگوٹیا یاریا مامے کا پتر لگا ہو۔

فلمی پولیس:  فلم میں ہماری پولیس کے بس دوہی کام ہوتے تھے۔ ایک فلم کے بیچوں بیچ ، شادی والے گھر میںیہ کہہ کر'' یہ شادی نہیں ہو سکتی'' شادی رکوا نا، اور دوسرا کام فلم کے آ خر ی سین میںعین اسوقت نمودار ہو جانا جب ہیرو اپنی ماں، بہن یا ہیروئن کی عزت بچانے اور ولن کو چنگی پھینٹی لگانے کے بعد اسے جان سے مارنے لگتا ہے۔اکثر فلموں میں ایک ''نیک اور پرہیزگار''پولیس افسر کسی سازش کے تحت نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور پھر انتقاماً ڈاکو بن جاتا ہے۔حالانکہ اس ڈرامائی تبدیلی میں کوئی انوکھی بات ثابت کرنے والی نہیں ہوتی۔ انوکھی بات یہ لگتی ہے کہ پولیس افسر اپنی نوکری چھوڑنے کے بعد ایسا کرتا ہے۔ کسی نے 'سرگم' سے پوچھا کہ ہماری فلمیں معاشرے کی عکاسی کیوں نہیں کرتیں تو سرگم نے جواب دیا کہ معاشرے کی پچاس سالہ خرابیاں دو ڈھائی گھنٹوں میں دکھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

فلمی بابے:ہماری فلموں میں ایک آدھ غریب سا بابا بھی ہوتا ہے جو چوکیدار یاپہاڑی مقام پہ ہیرو کے ڈاک بنگلے کا مالی ہوتا ہے۔ بابے کی ایک جوان بیٹی بھی ضرور ہوتی ہے جو بدتمیزی کی حد تک شوخ بھی ہوتی ہے اورہمیشہ چھٹیوں پہ آنے والے شہری بابو کے عشق میںپہلی ہی نظر میں یوں گرفتار ہو جاتی ہے جیسے اسی کا انتظار کر رہی ہو۔ بابے کی بیٹی اور شہری بابو دونوں مری یا سوات کے سبزہ زاروں میںکھلم کھلا ناچتے گاتے ہیں مگر انہیں آس پاس کو کوئی بندہ تک نہیں دیکھتا۔ یوں لگتاہے جیسے ہیرو کے پہاڑی مقام پہ آتے ہی وہاں کے باشندے کہیں اورکوچ کرجاتے ہیں۔دیکھا جائے تو ہمارے مری یا سوات جیسے پس ماندہ علاقوں کو جتنا ماڈرن دکھانے میں ہمارے فلمسازوں نے کوشش کی ہے وہ امریکہ اور یورپ کے منہ پہ کسی طمانچے سے کم نہیں جو ان علاقوں کے باشندوں کو بیک ورڈاور دقیا نوسی سمجھتے ہیں۔ بہرحال گاتے گاتے اچانک شہری بابو کو اطلاع ملتی ہے کہ اس کی ماں شہر میں بیمار ہوگئی ہے اور اسے مجبوراًشہر جانا پڑ جاتا ہے اور وہ بابے کی بیٹی سے جلد واپس آنے کا فلمی وعدہ کرتا ہوا ..جدائی کا گانا سنتاہوا شہر چلا جاتا ہے اور وہاں جاتے ہی کسی قرض خور کی طرح اپنی یادداشت کھوبیٹھتا ہے۔ ہمارا فلمی بابا چاہے کتنا بھی غریب مالی یا چوکیدار ہو ، اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی حلال کی کمائی میں سے بیٹی کا قیمتی لباس اور زیور میک اَپ پورا کرتا ہے جو اس کے ناچ گانے میں کام آتا ہے۔ بلکہ بیٹی کے سُر میں گیت گانے سے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ اس نے غربت میں بیٹی کو موسیقی کی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

فلمی ہیروئن:  بقول انکل سرگم، ہماری ''فلمی ہیروئن'' اور ''چلمی ہیروئن'' میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہاکہ دونوں کا نشہ جواں نسل کو خراب کر سکتا ہے۔ فلمی ہیروئن فلم میں چاہے جتنی بھی غریب کیوں نہ ہو ، وہ ہمیشہ قیمتی کپڑے اور زیور پہنتی ہے۔ چونکہ ناچ گانا ہیروئن کا پیدائشی حق ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنا حق بھر پور انداز میںہردو چار سین کے بعدجتاتی بلکہ دکھاتی رہتی ہے جس کی بدولت مالک کی فلم ہٹ اور اس کی اپنی مالی حالت فٹ ہو جاتی ہے۔ فلم کی ہیروئن کو کبھی اپنے طبقے کے نوجوان سے عشق       نہیںہوتا۔ یا تو اپنے سے غریب یا کسی سیٹھ کے بیٹے سے ہی عشق ہونا لازمی ہوتا ہے۔ فلمی ہیروئن کوکبھی کوئی ملی نغمہ یا د نہیں ہوتا صرف دکھ سکھ کے گانے ہی یاد ہوتے ہیں۔ مثلاً، سہیلوں کے ساتھ کسی کے آنے کے انتظار کا گانا، ملاقات کی خوشی میں باغ کا گانا، چھوڑ نہ جانے کا وعدہ لینے کا گانا،وچھوڑ ے کا گا نا، کسی کی سالگرہ یا شادی کی پارٹی میں مہمانوں کو الو بناکر، ہیرو کو مخاطب کر کے، گانا ، وغیرہ وغیرہ۔

 فلمی گانے: ہماری جس فلم میں گانے نہ ہوں تو اس فلم کو تماش بین بالکل ایسے ہی سمجھتے ہیں کوئی سرکاری محکمہ کرپشن سے مبرا ہو۔ کافی عرصہ پہلے فلمی گانے نہ صرف ہیروہیروئن کا کام '' سُر انجام'' دیتے تھے بلکہ ٹیلی مواصلات بن کر ''کارڈ لیس، لانگ ڈسٹنس''فری کال کا کام بھی کرتے تھے۔ ہیرو اگر لاہور سے گاتا کہ '' آواز دے کہاں ہے'' تو اس کے جواب میںہیروئن کی پنڈی سے آواز آتی '' دُنیا تیری یہاں ہے''۔ٹیلی مواصلات کے ساتھ ساتھ فلمی گانے ''ایدھی ٹرسٹ'' یا'' انصار برنی'' کے اداروں والا رفاہی کام بھی کرجاتے ہیں۔ مثلاً، اگر بچپن میں بہن بھائی بچھڑ گئے ہیں تو فلم کے آخری سین میں اچانک ایک گلی میں ماں ایک ایسی فلمی لوری دیتی ہے جسے سنتے ہی بچھڑ ا ہوا خاندان گلی کے ہر گھرکے دروازے سے یکے بعد دیگرے نکل کر ایک دوسرے کے گلے لگ جاتا ہے۔ فلمی گانوںکا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ فلم میں گانے کے دوران سازندے اور اصل گانے والے نہیں دکھائے جاتے جس سے فلم کا مصنوعی حسن اور گلیمر فلم بینوں پہ قائم رہتا ہے۔ ہمارے فلمی گانوں نے نہ صرف گلو کاروں سازندوں ، بینڈ بازوں،کیسٹ سازوں اور صدا فروشوں کا رزق لگا رکھاہے بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات میںفلمی سا ماحول بھی بنا رکھا ہے جواب ''عروسی ثقافت'' کا لازمی آئٹم بن چکا ہے۔


مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف

Puppet

ٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP