فاٹاکاخیبرپختونخوامیں انضمام عوام کاخواب پوراہوگیا

*  فاٹا کے عوام کے لئے برابری کی بنیادپرترقی کے دروازے کھل گئے، بلدیاتی اورخیبرپختونخوااسمبلی کے نمائندے منتخب کرنے کاحق بھی مل گیا۔

* قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے وفاقی اورصوبائی حکومت اربوں روپے فراہم کرے گی۔

* ان علاقوں کے عوام انصاف کے لئے ہائیکورٹ اورسپریم کورٹ بھی جاسکیں گے۔

* ان علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کی حکمرانی ختم ہوگئی ہے اوروہاں عوام کی حکمرانی قائم کردی گئی ہے۔

* کسی گریٹرگیم اورسازش سے بچنے کے لئے فاٹاکاخیبرپختونخوامیں انضمام ضروری تھا۔

* فاٹاکے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل ہوکرپاکستان کی ترقی کے لئے کام کرنے کاموقع ملے گا۔

* بدقسمتی سے ماضی میں کسی حکومت نے فاٹاکے مسائل حل کرنے پرتوجہ نہیں دی، حکمرانوں نے عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے بجائے چند سرداروں سے ڈیل کرناآسان سمجھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

قبائلی علاقے جنھیں حرف عام میں علاقہ غیربھی کہاجاتاتھااب غیرنہیں رہے بلکہ اپنے بن گئے ہیں۔ان علاقوں کے رہنے والوں کاایک عرصے سے مطالبہ تھاکہ انھیں بھی پاکستان کامکمل شہری تسلیم کیاجائے اوروہ تمام حقوق دیئے جائیں جودوسرے علاقوں میں رہنے والوں کوحاصل ہیں ،حکومت نے جاتے جاتے عوام کامطالبہ تسلیم کرلیااورفاٹاکے خیبرپختونخوامیں انضمام کے لئے 31ویں آئینی ترمیم کی دوتہائی اکثریت سے منظوری دے دی گئی ،یوں فاٹااور پاٹا میں رہنے والے قومی دھارے میں شامل ہوگئے۔24مئی کوقومی اسمبلی نے یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیاجبکہ 25 مئی کوایوان بالا(سینیٹ) نے بھی اس آئینی ترمیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔اس آئینی ترمیم کی ماسوائے دو جماعتوں کے تمام جماعتوں نے حمایت کی۔ فاٹاکے قومی دھارے میں شامل ہونے کے ثمرات نہ صرف یہاں کے رہنے والوں کوملیں گے بلکہ اس کافائدہ پورے ملک اور خطے کو ہو گا۔فاٹاکے عوام کوجہاں اپنے بلدیاتی اورصوبائی نمائندے منتخب کرنے کاحق مل گیاہے،وہیں انھیں انصاف کے حصول کے لئے اعلیٰ عدالتوں تک رسائی بھی مل گئی ہے ،جس سے عوام کوسستااورفوری انصاف مل سکے گا۔ اب کوئی پولیٹیکل ایجنٹ ان کاسیاسی ومعاشی استحصال نہیں کرسکے گا۔ ایف سی آرکالے قانون کے تحت ڈیڑھ سوسال سے جوظلم ہورہاتھااس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تاریخی دن تھا۔مسلم لیگ ن،پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی،عوامی نیشنل پارٹی اورایم کیوایم سمیت کئی جماعتوں نے ا س بل کی حمایت کی۔بعض لوگوں کاخیال ہے کہ یہ بِل اچانک پیش کیاگیااورفوری طورپرمنظورکرلیاگیا،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چارسال سے اس بل کے مختلف پہلوؤں پرکام جاری تھا۔مختلف جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے طویل مذاکرات کے بعد یہ بل سب کے لئے قابل قبول بنایا جا سکا۔آئینی ترمیم کے بعد ان علاقوں کوبہت سی مراعات مل گئی ہیں،ان علاقوں کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے بھی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

  یہاںکے عوام کاایک عرصے سے مطالبہ تھاکہ انھیں بھی پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح مساوی حقوق دئیے جائیں،تاکہ وہ ملک وقوم کی ترقی میں اپنابھرپورکردار اداکرسکیں،لیکن سیاسی وجوہات کے باعث کسی حکومت نے اُن کے مطالبے پرسنجیدگی سے غورنہیں کیا۔عالمی برادری میں بھی اس بات کو بڑی حیرت سے دیکھاجاتاتھاکہ پاکستان میںبعض علاقے ایسے ہیں جہاں پاکستان کاآئین وقانون مکمل طورپرنافذنہیں ،یہ صورتحال پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کاباعث بھی بن رہی تھی کہ ایک خودمختاراورآزاد ریاست اپنے بعض علاقوں پرمکمل عمل داری کے لئے اقدامات نہیں کررہی۔پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کے خطرناک ترین علاقے بن چکے ہیں جہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔اب اصل تصویریہ ہے کہ فاٹامیں امن لوٹ آیاہے ،یہ علاقے بھی پاکستان کے آئین وقانون کے تحت آگئے ہیں۔ ان علاقوں کوپہلے ہی دہشت گردوں سے پاک کردیاگیاہے۔ اس عمل میں مقامی آبادی نے پاک فوج اورسکیورٹی فورسز کابھرپورساتھ دیا۔

قومی دھارے میں شامل ہونافاٹاکے نوجوانوں کاخواب تھا، جو پورا ہو گیا ہے۔ وہ ایک عرصے سے مطالبہ کررہے تھے کہ ان سے امتیازی سلوک نہ کیا جائے، اُن کے لئے بھی تعلیم وصحت کے دروازے کھولے جائیں۔یہ درست ہے کہ حکومت کی کمزوری کے باعث بعض معاملات میں سول افسرشاہی نے قبائلی نوجوانوں کے ساتھ ہتک آمیزرویہ اختیارکیا،جس کے باعث ان کاغم وغصہ بڑھ گیا۔ قبائلی خواتین کوبھی شکایت تھی کہ انھیں ہرمرحلے میں نظراندازکیاجاتاہے ،تاہم وہ اپنے قبائلی سرداروں سے زیادہ نالاں نظرآتی ہیں، جوانھیں مشاورت کے عمل سے باہررکھتے تھے۔آئینی ترمیم کے بعد یہاں کی خواتین کوبھی مساوی حقوق اورجائیدادمیں حق مل گیاہے،نوجوانوں کی طرح خواتین بھی اس فیصلے پرخوش ہیں۔خواتین اب ووٹ بھی ڈالیں گی اورچاہیں تو الیکشن بھی لڑسکیں گی۔ تاہم ان علاقوں میں رہنے والے بعض لوگوں کی مخصوص سوچ کوبدلنے کے لئے ابھی کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے وفاقی اورصوبہ خیبرپختونخواکی حکومت کوٹھوس بنیادوں پرکام کرناہوگا۔تعلیمی اداروں اورہسپتالوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتراورانفراسٹرکچرکے قیام کی بھی ضرورت ہے۔فاٹاکے خیبرپختونخوامیں انضمام کے حقیقی ثمرات اس وقت ہی عوام تک پہنچیں گے جب انھیں تمام سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ ایسا کرنا اب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 

   پاکستان کی تاریخ اٹھاکردیکھیں توان قبائل کی وفاداری اورپاکستان سے محبت کی ان گنت داستانیں ملیں گی۔ فاٹاکوایف سی آرجیسے قانون کے تحت چلانا کسی طرح بھی درست نہیںتھا۔ہم جانتے ہیں بعض دشمن طاقتیں چاہتی تھیں کہ فاٹا اصلاحات نہ کی جائیں اورپاکستان کے قبائلی علاقوں کوکسی گریٹر گیم کاحصہ بنایا جائے۔دشمنوں کے کہنے پرہی بعض علاقوں میں چند نوجوانوں کی طرف سے ایسے نعرے لگائے گئے جنھیں سن کردل کو ٹھیس پہنچی۔یہ نعرے کسی گیم کاحصہ ہی محسوس ہوتے تھے۔جن کامقصد نوجوانوںکوریاست کے خلاف اُکسانا تھا۔ تاہم فاٹااصلاحات سے ان نوجوانوں کااحساس محرومی ختم ہوگااوران میں یہ احسا س پیداہوگاکہ وہ بھی پاکستان کے مکمل شہری ہیں، انھیں بھی وہ حقوق حاصل ہیں جودوسرے علاقے کے رہنے والوں کوہیں۔ایک خطرناک سازش کونہایت خوش اسلوبی سے ناکام بنادیاگیاہے۔

قومی اسمبلی میں فاٹاکے لئے بارہ سیٹیں مختص تھیں،جوبرقراررہیں گی۔ان سیٹوں پرماضی میںزیادہ تر آزادامیدوارکامیاب ہوتے رہے ہیں جوجیتنے کے بعد حکومت بنانے والی سیاسی جماعت میں شامل ہوجاتے یاآزاد حیثیت میں اس کی حمایت کرتے۔ لیکن اب سیاسی جماعتیں اپنے امیدوارنامزدکریں گی، اسی طرح بلدیاتی انتخابات بھی جماعتی بنیادوں پرہوں گے،جواس سال اکتوبر میں کرائے جائیں گے۔خیبرپختونخوااسمبلی میں ان علاقوں کے لئے بیس نشستیں مخصوص کی گئی ہیں جن پراگلے سال عام انتخابات ہوں گے۔ایف سی آرکومکمل طور پرختم کرکے وہ تمام قوانین نافذ کردئیے گئے ہیں جوپاکستان کے دوسرے علاقوں اورشہروں میں ہیں۔جن کے تحت بلاامتیازجنس ،ذات پات،فرقے اور مذہب کے تمام پاکستانی برابرہیں۔ایک اہم بات یہ ہے کہ آئندہ دس سال میں ان علاقوں میں تعمیرات کے لئے اربوںروپے دئیے جائیں گے۔این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن )سے ہرسال تین فیصد رقم ملے گی جوان علاقوں پرہی خرچ کی جائے گی۔حکومت عام اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کرے گی،تاکہ لوگوں کوریلیف ملے۔فاٹاکے انضمام کے لئے ماضی میں جتنے بھی اجلاس یاجرگے ہوئے ،نوے فیصد عوام نے فاٹاکی خیبرپختونخوامیں شمولیت کی حمایت کی۔

فاٹااصلاحات سے یہاںکے عوام کی زندگیوں میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں آئیں گی اوراس کے مثبت اثرات پورے ملک اوراس خطے پرپڑیں گے،ہمارے قبائلی علاقوں کے حوالے سے عالمی سطح پربہت منفی پروپیگنڈا کیا جاتارہاہے،جس کاازالہ ضروری تھا۔ پروپیگنڈے کے باعث یہ سمجھا جا رہا تھا کہ شاید قبائلی علاقوں میں صرف غیرقانونی کام ہوتے ہیں اوریہ علاقے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جس سے پوری دنیا کوخطرہ ہے۔آپریشن ردالفساد اوراس سے قبل ہونے والے کامیاب آپریشنز کے باعث دہشت گرد گروپوں کاخاتمہ ہوگیاہے اورقبائلی علاقوں میں امن لوٹ آیا ہے۔یہ بات ضروری ہے کہ فورسزکے جوانوںاورشہریوں نے جان ومال کی جوگراں قدر قربانیاںدی ہیں انھیں ضائع نہ ہونے دیاجائے۔

آئینی ترمیم کے بعد یہ قبائلی علاقے بھی عام پاکستانی علاقوں کی طرح ہو گئے ہیں جہاں آئین وقانون پوری طرح نافذ ہے۔ماضی میں مخصوص قوانین کے باعث یہاں رہنے والوں کو ایک اذیت سے گزرناپڑتاتھا۔ایک اندازے کے مطابق فاٹاکی آبادی 47لاکھ کے قریب ہے،جس میں پندرہ سے پچیس سال کے نوجوانوں کی تعدادآٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔یہ نوجوان پاکستان کامستقبل ہیں جنھیں اب اپنی صلاحیتوں کے اظہارکاپورا موقع ملے گا۔

قبائلی علاقوںسے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں لیکن عام نوجوانوں کوانتظامی معاملات اورمشاورت کے عمل سے لاتعلق رکھاجاتا ہے، حکومت بات کرتی ہے توقبائلی سرداروں یا عمائدین اور اُن کے رشتہ داروں سے،جن کے اپنے اپنے مفادات اور کاروبار ہیں۔ اب نوجوانوں کے پاس کھلے مواقع ہیں، انھیں قومی دھارے میں شامل ہونے اوراپنے علاقے کے مسائل خود حل کرنے کاموقع ملے گا۔بعض نوجوانوں نے ایف سی آرقانون ختم کرانے میں اہم کرداراداکیاانہوں نے گھرگھرجاکررائے عامہ کوبیدارکیا،سوشل میڈیا کوبھی اپنی مہم کے لئے خوب استعمال کیا۔فاٹامیں رہنے والوں کو بتایاکہ آج کے ترقی یافتہ دورمیں ایف سی آر جیسے کالے قانون میں زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ ہوناتویہ چاہئے تھاکہ انگریزوں کے ساتھ ان کے اس کالے قانون کوبھی رخصت کردیاجاتا،بہرحال دیرآیددرست آید کے مصداق یہ اچھافیصلہ ہے۔

ماضی میں قبائلی علاقوںسے تعلق رکھنے والے کسی ایک شخص کی غلطی یاجرم کی سزاپورے خاندان اورقبیلے کودی جاتی تھی۔فاٹاکے رہنے والوں کوشہری حقوق حاصل نہیں تھے ،غریب قبائلیوں سے برُاسلوک کیاجاتاجبکہ چند سردار ،حکومت اورانتظامیہ کی آنکھ کاتاراہوتے تھے۔لیکن اب وقت بدل گیاہے،قانون کی نظرمیں عام آدمی اورقبائلی سرداربرابرہیں۔جوقانون شکنی کرے گااسے اس کی سزا ملے گی۔پاکستان کے دوسرے شہروں میں رہنے والوں کاان علاقوں کے بارے میں عام تصوریہ تھاکہ یہاں سے غیرقانونی اسلحہ آسانی سے خریدا جا سکتا ہے، اسمگلنگ شدہ اشیاء یہاں تک کہ کاریں بھی مل جاتی ہیں۔لیکن اب ان تمام معاملات کوقانون کے دائرے میں لایاجائے گا۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے لے کرزمینوں کی ملکیت تک سب کے دستاویزی ثبوت ہوں گے،اس پرکام کاآغازہوگیاہے۔ان علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کی حکمرانی ختم ہوگئی ہے اور وہاں عوام کی حکمرانی قائم کردی گئی ہے ، وہاں کے رہنے والے عام قبائلیوں کوتمام حقوق اوراختیارات مل گئے ہیں۔

 فاٹاکے خیبرپختونخوامیںانضمام سے پوری دنیامیں اس علاقے کامثبت امیج جائے گا۔ دنیاکومعلو م ہوگیاہے کہ اب پاکستان میںکوئی علاقہ غیرنہیں بلکہ تمام علاقے ریاستی عملداری میں آچکے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہاں کے رہنے والے بھی پاک فوج کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرکھڑے ہیں۔اب دشمن یہ پروپیگنڈا نہیں کرسکے گاکہ پاکستان میں بعض علاقوں میں قانون کی حکمرانی نہیں اوروہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان ومال کی قربانیاں بھی دی ہیں اورجہاں جہاں قانونی وآئینی اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے،وہ اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اتنی منظم اورمربوط اصلاحات اور اقدامات کسی اورملک نے نہیں اٹھائے۔پاکستان آج دنیا کے لئے ایک اچھی مثال بن گیاہے۔


مصنفاخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP